اصلاح و دعوت
چوہے كا پھندا—ايك اصلاحی كہانی
انگريزی سے ترجمہ
ایک ننھا سا چوہا، جو اپنے بل میں چھپا بیٹھا تھا، باورچی خانے کی میز پر کسان اور اُس کی بیوی کو ایک پیکٹ کھولتے دیکھ رہا تھا۔تجسس کے مارے اُس نے جھانک کر دیکھا… اور اُس کا ننھا دل ڈوب گیا۔وہ ایک چوہے دان لائے تھے-ڈر کے مارے وہ فوراً بھاگا تاکہ گھر کے باقی جانوروں کو خبردار کر سکے۔سب سے پہلے وہ مرغی کے پاس گیا۔"گھر میں چوہا دان لگ گیا ہے!" وہ چیخا۔مرغی نے کندھے اچکائے، "یہ میری پریشانی نہیں ہے۔"پھر وہ دُم ہلاتا بھیڑ کے پاس دوڑا۔"گھر میں چوہا دان لگ گیا ہے!"بھیڑ نے نرمی سے کہا، "میں تمہارے لیے دعا کروں گی، لیکن میں کر کچھ نہیں سکتی۔"مجبور ہو کر وہ گائے کے پاس پہنچا۔
"گھر میں چوہا دان لگ گیا ہے!"گائے نے آہ بھری، "معاف کرنا پیارے… یہ تمہاری مشکل ہے، میری نہیں."مایوس اور بے بس چوہا واپس اپنے بل میں لوٹ آیا…
اسی رات گھر میں ایک آواز گونجی: چٹاخ!لیکن پھندے نے چوہے کو نہیں… ایک زہریلے سانپ کی دُم کو پکڑ لیا تھا۔کسان کی بیوی اندھیرے میں پھندہ دیکھنے گئی تو سانپ نے اُس کے ہاتھ پر کاٹ لیا۔اُسے فوراً اسپتال لے جایا گیا۔ گھر لوٹی تو تیز بخار میں تپ رہی تھی۔اُسے صحت یاب کرنے کے لیے کسان نے مرغی ذبح کی تاکہ اُس کے لیے سوپ بنایا جا سکے۔مگر بخار نہ اترا۔دوست اور پڑوسی تیمار داری کے لیے آنے لگے، تو کسان نے اُن کی خاطر تواضع کے لیے بھیڑ کو قربان کر دیا۔اور جب آخرکار کسان کی بیوی کا انتقال ہو گیا…تو غم زدہ اور مالی طور پر ٹوٹا ہوا کسان، اُس کے جنازے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے گائے کو بھی بیچنے پر مجبور ہو گیا۔اور ننھا چوہا؟وہ اپنے بل سے یہ سب کچھ دیکھتا رہا… مگر کچھ کر نہ سکا۔
سبقِ داستان:
اس لیے…جس کا ہاتھ تھام سکتے ہو، آج ہی تھام لو۔