دين و دانش
فرض نماز كے بعد اجتماعی دعا
فہد حارث
دوست نے سوال کیا کہ پاکستان و ہندوستان میں اکثر مساجد میں فرض صلٰوۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا مانگنے کا رواج ہے جہاں امام صلٰوۃ ختم کرنے کے ساتھ ہی ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتا ہے اور مقتدی ان کے پیچھے آمین کہتے ہیں۔ کیا یہ عمل مشروع ہے کیونکہ سعودیہ عربیہ اور خلیجی ممالک میں مساجد میں ایسا کچھ دیکھنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا۔
اس پر ہم نے ان کی جناب میں عرض کیا کہ دراصل اس سوال کے دو جز ہیں:ایک دعا میں ہاتھ اٹھانا اور دوسرا فرض صلٰوۃ کے بعد دعا میں ہاتھ اٹھاکر انفرادی و اجتماعی دعا کا اہتمام کرنا۔ جہاں تک پہلے جز یعنی دعا میں ہاتھ اٹھانے کا سوال ہے تو نبی ﷺ سے مختلف مواقع پر دعا میں ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ طفیل بن عمرو الدوسی ؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دوس قبیلے نے انکا رکیا اور نافرمانی کی تو انہیں بددعا دیں ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رُو متوجہ ہوئے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، لوگوں نے سمجھا کہ وہ اُنہیں بددعا دیں گے، لیکن اُنہوں نے کہا: اے اللہ! دوس کو ہدایت دے اور اُنہیں واپس لے آ۔
اسی طرح سے غزوہ بدر کے موقع پر آپ ﷺ کا دعا میں ہاتھ اٹھانا ملتا ہے۔ حتیٰ کہ محدثین و علماء نے اس بابت تواتر معنوی کی تصریح کی ہے جیسا کہ ڈاکٹر محمود الطحان اپنی کتاب تیسیر مصطلح الحدیث میں متواتر معنوی کی مثال دیتے ہوئے تدریب الراوی جلد ۲ صفحہ ۱۸۰ کے حوالہ سے فرماتے ہیں کہ متواتر معنوی کی مثال دعا میں ہاتھ اٹھانے کی احادیث ہیں۔ نبی ﷺ سے اس بارے میں کوئی سو کے قریب احادیث مروی ہیں، ان میں سے ہر حدیث میں یہی ہے کہ آپﷺ نے دعا میں ہاتھ اٹھائے مگر معاملات و واقعات اور قضیے مختلف ہیں تو ا ن میں سے ہر واقعہ اور قضیہ متواتر نہیں اور ان سب میں جو قدر مشترک ہے وہ ہے دعا میں ہاتھ اٹھانا، جو کہ مجموعی اسناد کے اعتبار سے تواتر سے ثابت ہورہی ہے۔ (تیسیر مصطلح الحدیث صفحہ ۲۵ )
سو اس تفصیل سے اتنا تو معلوم ہوا کہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھانا بدعت نہیں بلکہ مشروع عمل ہے۔ اب آجائیں اصل مسئلہ کی طرف کہ کیا نبی ﷺ نے فرض صلٰوۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی و انفرادی دعا کبھی کی۔ جب اس بابت ہم کتب حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ فرض صلٰوۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا تو دور کی بات آپ ﷺ اذکار کی ادائیگی کے بعد اپنی جگہ تشریف فرما تک نہ رہتے تھے۔ بلکہ جیسے ہی آپ ﷺ سلام پھیرتے، آپ ﷺ تین مرتبہ استغفراللہ (صحیح مسلم)، ایک مرتبہ اللھم انت السلام و منک السلام ۔۔۔ (صحیح مسلم)، ایک مرتبہ اللھم لا مانع ۔۔۔ (صحیح مسلم) ۳۳ مرتبہ الحمداللہ، ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ ، ۳۳ مرتبہ اللہ اکبر اور ساتھ میں لا إله إلا اﷲ وحدہ لا شریك له،له الملك وله الحمد وهو علی کل شيء قدیر (صحیح مسلم) اور دیگر اذکار ادا کرکے اپنی جگہ سے اٹھ جاتے۔ (بخاری، باب صلٰوۃ النساء خلف الرجال)۔
اسی طرح سے سیدنا انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کسی (صلٰوۃ میں ) دعا میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے، سوائے دعائے استسقاء کے اور اس میں بھی آپﷺ اتنے ہاتھ اٹھاتے کہ آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی ( صحیح بخاری۔ باب صلٰوۃ الاستسقاء)۔ یہی وجہ ہوئی کہ صحابہ کرام ؓ جو کہ آپ ﷺ کی ایک ایک بات کو نقل کرتے ہیں لیکن کسی ایک صحابی نے اس بات کو نقل نہیں کیا کہ آپ ﷺ تسبیحات سے قبل یا بعد میں دعا کے لئے ہاتھ اُٹھاتے اور ان کے ساتھ تمام مقتدی 'آمین' کہا کرتے۔ بلکہ مصنف ابی شیبہ میں مختلف صحابہؓ کے کئی آثار ملتے ہیں کہ نبی ﷺ کی پیروی میں وہ سب سلام کے بعد بغیر دعا میں ہاتھ اٹھائے اپنی جگہ چھوڑ دیا کرتے تھے، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
الاسود عامری ؓ فرماتے ہیں کہ میں فجر کی صلٰوۃ میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا، آپ ﷺ نے سلام پھیرا اور اپنی جگہ چھوڑدی۔ اسی طرح عبداللہؓ بن مسعود جونہی نماز ختم کرتے یا تو کھڑے ہوجاتے یا ہٹ جاتے۔ ابن عمرؓ نے کہا کہ امام سلام کے بعد اُٹھ کھڑا ہو یا ہٹ جائے۔ ابو رزین نے کہا کہ میں نے حضرت علیؓ کے پیچھے نماز پڑھی، اُنہوں نے دائیں اور بائیں سلام پھیرا، پھر یک دم اُٹھ گئے۔ ( ثُمَّ وثب کما هو)
حضرت عمرؓ نے کہا کہ سلام کے بعد امام کا بیٹھے رہنا بدعت ہے۔ابوحفصؓ نے کہا کہ ابوعبیدہؓ بن جراح جب سلام کہہ چکتے تو وہ اُٹھنے کے لئے اتنی جلدی مچاتے جیسے دہکتے کوئلوں پر بیٹھے ہوں۔ (کأنه علی الرضف حتی یقوم)
سو المختصر فرض صلاة کے بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی و انفرادی دعا کرنا بدعت ہے جسکا کوئی ثبوت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خیرالقرون کے دور سے نہیں ملتا۔ البتہ دوسرے اوقات میں دعا مانگتے ہوئے ہاتھ اٹھانا مشروع عمل ہے کیونکہ اس متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات مروی ہیں۔ تاہم اگر کوئی غیر مستقل طور پر کبھی کبھار فرض صلاةیا نوافل کے بعد ہاتھ اٹھا کر انفرادی طور پر دعا مانگ لے تو اس میں مضائقہ نہیں، البتہ اس کو معمول بنا لینا یا مستقل طور سے کرنا جیسا کہ ہمارے ہاں رواج پذیر ہے تو یہ بدعت ہوگا۔
یاد رہے کہ فرض صلٰوۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے سے متعلق مصنف ابوبکر ابن ابی شیبہ اور دوسری کتب سے چند روایات نقل کی جاتی ہیں لیکن ان میں سے کوئی روایت بھی ایسی نہیں جو کہ ضعف سے خالی نہ ہو۔ (دیکھئے فتاویٰ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز)
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس بابت جید علماء کی تصریحات بھی نقل کردی جائیں تو بہتر رہیگا۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب اپنی تحریر احکام الدعاء میں رقم طراز ہیں:
’’ نبی ﷺ اور صحابہ و تابعین اور آئمہ دین میں کسی سے یہ صورت منقول نہیں کہ نمازوں کے بعد وہ دعا کریں اور مقتدی آمین کہتے رہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ طریقہ مروجہ قرآن کے بتائے ہوئے طریقہ دعا کے بھی خلاف ہے۔ ‘‘
علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں:’’کسی نے بھی یہ نقل نہیں کیا کہ نبی ﷺ جب لوگوں کو صلٰوۃ پڑھاتے تو صلٰوۃ سے فارغ ہونے کے بعد مقتدیوں کے ساتھ مل کر اجتماعی دعا کرتے، نہ فجر میں اور نہ عصر میں اور نہ کسی دوسری صلٰوۃ میں یہ بات ثابت ہے۔ بلکہ آپﷺ سے یہ ثابت ہے کہ آپﷺ صلٰوۃ کے بعد اپنے صحابہؓ کی طرف رخ کرتے اور اللہ کا ذکر کرتے تھے اور وہ انہیں صلٰوۃ سے فارغ ہونے کے بعد اذکار سکھاتے تھے۔‘‘ (المجموع الفتاویٰ جلد ۲، صفحہ ۴۶۷)
علامہ عمرو بن عبدالمنعم بن سلیم اپنی کتاب ‘‘عبادات میں بدعات اور سنت نبویﷺ سے ان کا رد‘‘ میں رقم طراز ہیں:’’لوگوں کے درمیان مشہور بدعت دعا کے لئے اکٹھا ہونا ہے ۔۔۔ عام طور پر یہ بدعت فرض نمازوں کے بعد ہوتی ہے۔۔۔ نبی ﷺ سے اس بارے میں کوئی صحیح یا حسن حدیث مروی نہیں اور نہ کسی سلف صالحین سے یہ فعل ثابت ہے۔‘‘ (صفحہ ۲۷۵)اسی طرح سے سعودیہ کی دائمی فتویٰ کمیٹی سے جب فرض صلٰوۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے سے متعلق فتویٰ طلب کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا:
’’ ہاتھ اٹھا کر فرض نمازوں کے بعد دعا کرنا مسنون عمل نہیں ہے، چاہے یہ عمل امام اکیلا کرے یا مقتدی اکیلا کرے، یا سب اجتماعی طور پر کریں، بلکہ یہ عمل بدعت ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام سے ایسا عمل ثابت نہیں ہے‘‘ (فتاوى اللجنة الدائمة جلد ۷ صفحہ ۱۰۳)
ایک دوست نے بتایا کہ فرض صلٰوۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے سے متعلق کچھ اسی طور کے تحفظات کا اظہار مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب نے بھی کیا تھا لیکن چونکہ راقم نے اس بابت ان کی ایسی کوئی تحریر نہیں پڑھی اس لئے یقینی طور پر اس فتویٰ کو ان سے منسوب کرنا درست نہیں سمجھتا، البتہ جناب مسعود احمد و ظفر احمد صاحب شائد اس بابت کوئی رہنمائی کرسکیں۔
یہ یاد رہے کہ عبادات توقیفی ہیں اور جو کچھ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کرکے دکھایا، وہ سنت بن گیا اور جس بات کو چھوڑ دیا حالانکہ اس کے کرنے کی طلب بھی تھی تو اس کا چھوڑنا ہی سنت ٹھہرا۔ سو اپنی اس تحریر کو ہم مفتی اعظم سعودی عربیہ شیخ ابن باز کے اس فتویٰ پر ختم کرتے ہیں:
دو سجدوں کے درمیان ، سلام سے پہلے، اور آخری تشہد میں [دعا کرتے ہوئے] بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ نہیں اٹھائے، چنانچہ ہم بھی ان مقامات پر ہاتھ نہیں اٹھائیں گے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جگہوں پر ہاتھ نہیں اٹھائے۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی عمل کرنا بھی حجت ہے، اور نہ کرنا بھی حجت ہے، یہی صورتِ حال پانچوں نمازوں کے بعد ہاتھ اٹھانے کے بارے میں ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شرعی اذکار کرتے وقت ہاتھ نہیں اٹھایا کرتے تھے، لہذا ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے ہوئے فرض نمازوں کے بعد ہاتھ نہیں اٹھائیں گے۔تاہم ایسی جگہیں جہاں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے ہیں، اس بارے میں سنت یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں ہم بھی ہاتھ اٹھائے گے، کیونکہ ان جگہوں پر ہاتھ اٹھانا قبولیت کے اسباب میں سے ہے۔ (فتاویٰ شیخ ابن باز جلد ۶ صفحہ ۱۵۸)