چقچن مسجد خپلو گلگت بلتستان

مصنف : ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

سلسلہ : پاکستانیات

شمارہ : ستمبر 2025

پاكستانيات

چقچن مسجد خپلو گلگت بلتستان

رابعہ خرم درانی

1370ء میں مشہور ایرانی مبلغ اسلام میر سید علی ہمدانی نے یہ مسجد تعمیر کی ۔ اس کے فن تعمیر میں مغل تبتی اور ایرانی فن تعمیر کی جھلک ملتی ہے ۔

یہ مسجد نور بخشی فقہ سے تعلق رکھتی ہے اسی مسجد کے نچلے ہال کو اثنا عشری شیعہ مسلمانوں کی نماز کے لیے مختص کیا گیا ہے ۔ جب ہم وہاں پہنچے تو موذن نے عشاء کی آذان شروع کی بروز جمعہ اندھیرے اور آدھی ادھوری انرجی سیورز کی روشنی میں چقچن مسجد کی اونچی اونچی سیڑھیاں نظر پڑیں تو ڈاکٹر صاحب نے سوال کیا رابعہ آپ یہ سیڑھیاں چڑھ لو گی منہ سے تو ان شاءاللہ نکلا لیکن دل نے یہ جملہ ادا کیا۔ "یہ سیڑھیاں میں نے تھوڑی چڑھنی ہیں یہ منزل تو عشق نے پار کرانی ہے۔ " اور بس پھر پتا ہی نہ چلا کیسے اوپر پہنچے ۔ دل امید و بیم کی کیفیت میں تھا ۔ سبز پوش سیڑھیوں پر جوتے اتارے جو ہماری واپسی تک کسی نے سیڑھیوں سے ہٹا کر اسٹینڈ میں رکھ دیے تھے ۔ برآمدے میں داخل ہوئی تو رنگ برنگی جانماز اور سبز لکڑی کے جھروکے نیم تاریک روشنی میں خوش آمدید کہہ رہے تھے ۔ چونکہ تصاویر میں مسجد خوب پہچان رکھی تھی اس لیے اپنائیت کا احساس دامن گیر تھا یا شاید یہ تاریخی مسجد ہر کسی کا یونہی کھلے دل استقبال کرتی ہو۔ شوق نے ساتھی بھلا دیے ۔ میں سب سے آگے تھی اور بس میں اور مسجد ہی باقی تھے ۔ مین برآمدے میں ایک نمازی اذان مکمل ہونے کے انتظار میں جھروکے سے لگے کھڑے تھے ۔ ایک پینٹ کوٹ میں ملبوس صاحب دروازے سے اسی لمحے باہر آئے ۔ ہلکی ڈاڑھی اور پینٹ کوٹ میں تعلیم یافتہ ہستی کو مسجد میں دیکھ کر نامعلوم سی روحانی خوشی محسوس ہوئی ۔ دروازے کے سامنے ہی موذن کی پشت نظر آ رہی تھی اور اذان کی آواز تمام ماحول پر حاوی تھی ۔ میں ہال میں یوں داخل ہوئی جیسے کوئی اپنی جگہ پر بےجھجک داخل ہوتا ہے سرکشی کی کیفیت تھی یا سرشاری و وارفتگی لاعلم ہوں لیکن یہ جانتی تھی کہ یہ جگہ میرے لیے اجنبی نہیں ۔ موذن کی اذان کے دوران میں نے ہال کی قدآدم طاق نما کھڑکیوں میں جلتا دیا ،دیواروں پر موجود لائٹس ،چھت کے فانوس، رنگ برنگ جانماز ،منبر ،مائک غرض ہر چیز کا ایک طائرانہ جائزہ لیا اور چند تصاویر بنائیں ۔ ایک طاق میں مقامی بلتی کھانا موجود تھا جس میں ایک موٹی روٹی کے سینٹر میں روغن رکھا جاتا ہے مجھے اس کا بلتی نام بھول گیا ہے ۔ وہ غالباً مسجد کے خادمین کا کھانا تھا ۔

اتنی دیر میں باقی فیملی ممبر بھی وہاں آئے ۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے تصاویر بنانے سے منع کیا کہ شاید اسے پسند نہ کیا جائے ۔ میں نے اپنا سیل فون انہیں دیا اور ایک چار لفظی جملہ کہا۔ "دو رکعت فرض بس " اسے اجازت لینا کہیں یا اطلاع دینا لیکن یہ فرمائش تھی تو حتمی تھی  ڈاکٹر صاحب میری کیفیت سمجھ کر سر کے اشارے سے اجازت دے کے پلٹ گئے ۔

سفر میں با وضو رہنا عادت ہے سو محبوب کے گھر میں موجود ہوتے ہوئے،محبوب کے دربار میں داخلہ کے لیے صرف نیت شرط تھی ۔ ایک طاق نما جھروکے کے سامنے ہال کی سب سے عقبی صف میں نیت باندھ لی۔ یہاں یہ بات واضح کرتی چلوں کہ مسجد میرے لیے میرے اللہ کا گھر ہے ۔ کسی فرقے کا نہیں سو نماز پڑھنے میں کوئی رکاوٹ مانع نہ تھی ۔ مسجد کس مخصوص فرقے کی ہے یہ بات ویسے بھی مجھے بعد میں پتا چلی ۔

میرے دو رکعت قصر نماز عشا ادا کرتے کافی نمازی آ چکے تھے ۔ اور جماعت کھڑی ہونے ہی والی تھی ۔ دل ابھی راضی نہ تھا ۔ تسلی نہیں ہوئی تھی یہ خیال بھی تھا کہ ہم سفر سے صرف دو رکعت کی اجازت لی ہے ۔ دل ابھی غیر مطمئن سا وہیں بیٹھنے یا باہر نکلنے کے شش و پنج میں مبتلا تھا کہ دیکھتی ہوں ہمارے میزبان جماعت کی پچھلی صف میں نماز ادا کر رہے ہیں۔ دل مزید مہلت ملنے پر رضامند تھا۔ راستے میں نمازمغرب سفر میں گزار آئی تھی ۔ اسی کی قضا کی نیت کی اور مزید تین فرض گویا بادلوں میں تیرتے ہوئے ادا کیے ۔ اسی دوران میری ایک رکعت اور جماعت کی ایک رکعت کی تلاوت بالکل یکساں فریکوئنسی پر آ گئی ۔ وہ رکعت میں نے خاموش رہ کر "امام" کی تلاوت سنتے ہوئے مکمل کی۔ تب یوں لگا جیسے وقت کی بساط موڑ کر دو ٹائم زون یکجا ہو گئے ہوں۔ مسجد کی پہلی صف میں موجود امام میر سید علی ہمدانی تھے جو 1370ء میں نماز کی امامت کر رہے تھے اور آخری صف میں موجود واحد نمازی اکیسویں صدی کی ایک متلاشی روح تھی جو رستے کی کھوج میں یہاں وہاں گھومتی ہے۔یہ کیفیت اگرچہ لمحاتی تھی لیکن یادگار ہے۔

مسجدمیں ایک ایسی مودب فضا تھی کہ اتنے مرد نمازیوں کے عقب میں بہت سی خالی صفوں کے فاصلے سے میں واحد خاتون نمازی تھی لیکن میری موجودگی گویا معدوم تھی۔ مجھے کوئی جھجک نہ تھی اور نہ ہی کسی کے کسی رویے سے بھی ایسا لگا کہ ان میں سے کسی کو میرے ہونے کا احساس تھا ۔شاید یہ بہترین معاشرتی اقدار کا اظہار تھا یا یہ وہاں کی عمومی روٹین تھی یا شاید نسبتاً ایک تاریک جھروکے میں ہونے کی وجہ سے میں نگاہ سے اوجھل تھی ۔ بہرحال یہ "عدمء وجود " جو بھی تھا بہت سکون آور تھا کہ محبوب کے دربار میں محب کا اپنا وجود بھی اضافی ہوتا ہے ۔

آوسجدہ کریں اک عالم مدہوشی میں--لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں

نماز پڑھ کر چپ چاپ بیٹھی جماعت مکمل ہوتے دیکھ رہی تھی کہ ہم سفر نے باہر آنے کا اشارہ کیا اور میں نے جھٹ دعا کے لیے ہاتھ پھیلا دیے ۔ پھیلے ہاتھ ،خالی ذہن اور خواہشات سے بھرا لیکن خاموش دل اور خاموش زبان نے اگر کچھ مانگا ہو تو کچھ یاد نہیں۔

" نہ" دعا یاد ، اور حرف دعا یاد نہیں (ساغر سے معذرت )

پھر جماعت کے سلام پھرنے پر خالی ہاتھ چہرے پر پھیر کر خالی دل و ذہن کے ساتھ باہر آ گئی ۔ دروازے کی تصویر اس وقت کھینچی جب نماز کی مزید رکعتیں شروع ہو چکی تھیں۔

اس زنجیر نے دل کو کھینچا اسے چھونے کی طلب بھی ہوئی لیکن ہمسفروں کی موجودگی میں ایک سیاح فوٹوگرافر اس روحانی وجود پر حاوی آ چکا تھا سو میں نے صرف تصویر کھینچنے پر اکتفا کیا شاید جب ہم اکیلے نہیں ہوتے تب ہمارے ساتھ کا اثر ہمارے اصل کو ملفوف کر دیتا ہے ۔اظہار سے روک کر کوکون میں بند کر دیتا ہے محتاط کر دیتا ہے بےخودی سمٹ کر خودی کو راہ دے دیتی ہے ۔بساط بدل جاتی ہے ۔

بعد میں ایک خپلو باسی نے بتایا کہ اس زنجیر کو پکڑ کر جو دعا مانگیں سنا ہے وہ پوری ہوتی ہے اور دوبارہ چقچن مسجد میں آنا بھی کنفرم ہو جاتا ہے۔ میری یہ ساعت تو انجان ہی گزر گئی ۔ اللہ جانے کب دوبارہ ملاقات ہو اور ہو بھی یا نہیں-

برآمدے کے سب سے آخری کونے سے چند تصاویر مزید لیں اور واپسی کی راہ لی ۔ سیڑھیوں پر بیٹھ کر جوتے پہننے کے وقفے میں ہمارے میزبان بھی نماز مکمل کر کے ہم سے آن ملے ۔ چونکہ کسی نے ہمارے جوتوں کی جگہ تبدیل کر دی تھی تو ایک ساتھی نے مذاقاً کہا کہ کہیں جوتے کسی نے اٹھا تو نہیں لیے ۔ میزبان نے پرسکون لہجے اور دھیمی مسکراہٹ میں مذاق سمجھتے ہوئے جواب دیا "نہیں یہاں ایسا نہیں ہوتا" !

جب ہم سیڑھیاں اتر رہے تھے تو چند نوجوان مہک آور خوان پوش تھامے اوپر چڑھ رہے تھے کیا ہی اشتہا انگیز مہک تھی ۔ بےساختہ منہ سے ماشاءاللہ نکلا ۔ وہ اوپر چلے گئے تو خیال گزرا تبرک ہی لے لیتی لیکن لمحہ گزر چکا تھا ۔ڈاکٹر صاحب نے میزبان سے پوچھا یہ کیا معاملہ ہے تو جواب ملا "نیاز ہو گی" ۔

مسجد کے مین دروازے پر مسجد کا نام اور مختصر تاریخ کے ساتھ ساتھ میر سید علی ہمدانی اور محمد نور بخش کا نام درج ہے ۔ اس نام پر ٹارچ کی روشنی ڈال کر تصاویر لے رہی تھی کہ دو تین نوجوان ایک ہتھ گاڑی میں ایک بڑا دیگچہ لیے وہاں پہنچے ۔ اب یہ لمحہ گزرنے نہیں دینا تھا ۔ میں نے ان سے پوچھا بھیا یہ چاول ہیں انہوں نے کہا جی باجی ۔ میں نے ایک لقمہ لینے کی اجازت مانگی ۔ انہوں نے چاولوں سے لبالب بھرے دیگچے کا ڈھکن سرکا دیا اور کہا باجی آپ خود چاول لیں ۔ میں نے انہیں کہا آپ دے دیں لیکن ان کے اصرار پر انہیں یہ بتاتے ہوئے کہ میں با وضو ہوں ۔ لیکن پھر بھی اپنے ہاتھ کو اپنے دوپٹے سے پونچھ کر ایک لقمہ نمکین چاول اٹھا لیے ۔ ان محترم بلتی نوجوانوں نے بےحد اصرار کیا کہ آپ کو کھانا ساتھ دیتے ہیں لیکن مجھے اس سے انکار تھا ۔ مجھے تبرک میں سے تبرک جتنا ہی حصہ درکار تھا جو ملنا تھا اسی میں مل جانا تھا اتنا ہی کافی تھا۔ ان سب کو رزق حلال میں خیر و برکت کی دعا دی مسجد پر ایک الوداعی نگاہ ڈالی ۔ نماز کی رکعت کے امام سید علی ہمدانی صاحب کی شبیہ خیال میں لہرائی ان سے اجازت لی اور لوٹ آئی ۔

یہ لکھتے ہوئے سوچ رہی ہوں کہ خدا جانے لوٹ آئی ہوں یا ابھی وہیں ہوں۔ کچھ لے آئی ہوں یا خالی ہاتھ ہوں۔ خدا جانے وہی خاموش کی پکار سنتا ہے وہی مخفی کو دیکھتا ہے ۔ وافوض امری الی اللہ ان اللہ بصیر بالعباد