فكر ونظر
تاويلات اور شيعہ سنی فرقے
ہمايوں كامران
اثنا عشریوں کے ہاں امام کو معصوم عن الخطا مانا گیا ہے۔ ان کے نزدیک دین کے فہم و تشریح میں امام کی رائے سے خطا کا صدور محال ہے۔ امام کا ارشاد عین اسی طرح حق ہے، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان حق ہے۔
اہلِ تصوف کے نزدیک شیخ کا الہام وحیِ باطن کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ حق کا تابع نہیں بلکہ گویا حق ہی اس کا تابع قرار پاتا ہے۔ جس طرح جبرائیل علیہ السلام وحی کے امین ہیں، اسی طرح شیخ الہام کے امین ہوتے ہیں۔ جس طرح شیطان کو جبرائیل کے نزولِ وحی میں دخل اندازی کی اجازت نہیں، ویسے ہی شیخ کے الہام میں بھی شیطانی وساوس کی راہ نہیں پاتی۔ نتیجتاً ان کے نزدیک فہمِ شریعت و طریقت شیخ کی وساطت سے ہر خطا سے منزہ و مبرّا ہے۔
اہلِ سنت کے ہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابۂ کرام، تابعین اور تبع تابعین کی ایک عظیم تاریخ موجود ہے۔ فقہاء نے اسی تاریخ سے دینی فہم و ادراک اخذ کیا ہے اور اس عمل کو “روایت” کا نام دیا گیا ہے۔ یہاں اس روایت سے ماخوذ علمی نتائج کو گویا عصمت کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اس روایت سے اختلاف کو دین سے انحراف کے ہم معنی سمجھا گیا ہے۔ یوں روایت سے اخذ شدہ فہم کو اس مقام پر لا کھڑا کیا گیا ہے کہ اس میں کسی قسم کی خطا کا احتمال باقی نہیں رہتا۔
ہر علمی منہج اپنے ساتھ تاویلات کا ایک ہمہ گیر نظام بھی پیدا کرتا ہے۔ جس طرح اہل سنت روایت کی عصمت پر دلائل رکھتے ہیں، اسی طرح اثنا عشری اور اہل تصوف بھی اپنے منہج کی تاویلات رکھتے ہیں۔ اس لیے اصل اہمیت تاویلات کی نہیں بلکہ ان کے عملی نتائج کی ہے۔ اور یہ نتائج تینوں مناہج میں یکساں طور پر پائے جاتے ہیں-