اصلاح ودعوت
فسادی مشورے اور تبصرے
نامعلوم
مشتاق احمد یوسفی لکھتے ہیں کہ شائستہ آدمی کی پہچان یہ ہے کہ اس کے سامنے کسی بیماری کا ذکر کیا جائے تو وہ آگے سے کوئی نسخہ تجویز نہ کرے-
ہم لوگ ویسے تو نہایت شائستہ اور مہذب ہوتے ہیں. ہمیں سارے انگریزوں والے ایتھیکس اور مینرز بھی پتا ہوتے ہیں. لیکن جس ایک چیز پر ہم خاموش نہیں رہ سکتے، وہ ہے کسی معاملے میں اپنی رائے دینا. چاہے آپ سے پوچھا گیا ہے یا نہیں پوچھا گیا.
پہلا سین: ساری زندگی کرائے پر رہنے کے بعد بالآخر چھوٹا سا نیا گھر بنایا ہے. آپ بے تحاشا خوش ہیں کہ چلو بچوں کو کم از کم اپنی چھت تو میسر آئی. رشتے دار دیکھنے آئے ہیں اور کچھ اس طرح کے تبصرے سننے کو ملے ہیں :مکان کا فرنٹ تو بہت ہی کم ہے. بالکل ہی چھوٹا سا لگتا ہے. بڑا اندھیرے اندھیرے والا گھر نہیں بنایا؟ کوئی کھلی جگہ چھوڑتے، بڑی کھڑکیاں بناتے. کم از کم وینٹی لیشن تو اچھی رہتی. بھئی تم نے تو ڈھانچہ کھڑا کر کے شفٹ ہونے کی جلدی كی. زرا رنگ و روغن کروا لیتے ٹائل پتھر لگ جاتا پھر آ جاتے.آپ کھسیانے سے ہو جاتے اور سوچتے ہیں کہ انہیں کیا پتا ساری عمر کرائے پر رہنے والوں کو اپنے گھر آنے کی کتنی جلدی ہوتی ہے-
دوسرا سین: عیدالاضحٰی ہے. آپ نے بمشکل پیسے جمع کر کے بچوں کی خوشی کے لئے بکرا لیا ہے. بچے گلی میں خوشی خوشی لے کر گھوم رہے ہیں. ہمسائے نے پوچھا ہے بھائی کتنے کا لیا؟ آپ نے بتایا ہے. اگلا جواب آیا ہے، مہنگے میں لے لیا. ابھی تو منڈی والے لُوٹ رہے ہیں. آپ چاند رات کو جاتے تو اس سے آدھی قیمت میں مل جاتا. دوسرا ہمسایہ آتا ہے. بکرے کے دانت چیک کرتا ہے اور کہتا ہے، بھائی مجھے لگ رہا ہے آپ کے ساتھ تو ہاتھ ہو گیا ہے. بیوپاری نے بکرے کا وزن دکھا کر آپ کو کَھیرا بکرا دے دیا ہے. اس کی تو قربانی ہی جائز نہیں. اب نہ آپ واپس کر سکتے ہیں. نہ ہی ہمسائے کو غلط کہہ سکتے ہیں-قربانی تو آپ اسی بکرے کی کر لیتے ہیں لیکن سارا سال الجھے رہتے ہیں کہ پتا نہیں قربانی ہوئی بھی یا نہیں.
تیسرا سین: آپ نے نئی گاڑی خریدی ہے. دوستوں کو اس کی پارٹی دی ہے. بعد میں سب گاڑی دیکھ رہے ہیں کہ ایک بولا ہے، یار ویسے اب تم نے لے لی ہے. کہنا نہیں چاہیے لیکن گاڑی مہنگی لی ہے تم نے. جس بندے نے سودا کروایا ہے میں اسے پرانا جانتا ہوں. وہ ایک نمبر کا فراڈی ہے. مجھے تو دیکھتے ہی پتا چل گیا تھا کہ وہ کوئی ہاتھ کرے گا لیکن میں نے سوچا چلو اب کیا ہو سکتا ہے. دوسرا دوست ہاتھ سے گاڑی کا روغن چیک کرتا ہے اور کہتا ہے، گاڑی پینٹ ہوئی ہے. یا تو بمپر نیا ڈلا ہے یا ساری گاڑی کا رنگ ہی نیا کروایا ہے. باڈی اوریجنل نہیں ہے-آپ کی خوشی جو ایک گھنٹے پہلے آسمانوں کو چھو رہی تھی، اب بالکل مدہم پڑ چکی ہے.
چوتھا سین: بیٹی یا بیٹے کی بڑی اچھی جگہ شادی کی ہے. وہ بھی خوش ہیں. آپ بھی مطمئن ہیں کہ چلو فرض ادا ہو گیا. کچھ دن بعد کوئی دوست ملنے آتا ہے جو شادی میں شریک نہیں ہو سکا تھا. بچوں کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں. وہ پوچھتا ہے کہ شادی کہاں کی، آپ تفصیل بتاتے ہیں. اس کے سسرال کے سارے خاندان کی تفصیل جاننے کے بعد وہ کہتا ہے: یار مشورہ تو کر لیتے. عجیب سا خاندان ہے. میرے بہنوئی کی چھوٹی بہن اس محلے میں رہتی تھی. آج سے بیس سال پرانی بات ہوگی لیکن تب تو یہ بڑے غریب ہوتے تھے. اب ہو سکتا ہے کوئی معاشی حالات بہتر ہو گئے ہوں. مجھے تو لگ رہا ہے تمہاری دولت دیکھ کر ہی ان کی رال ٹپکی ہے.آپ چپ سے ہو گئے ہیں. جن لوگوں سے کوئی مسئلہ نہیں تھا، دل میں اچانک سے ان کی بے ضرر باتیں آنے لگی ہیں. اس کے تاثرات یہ کیوں تھے، اس نے فلاں بات اس انداز میں کیوں کی تھی وغیرہ وغیرہ.
پانچواں سین. بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے. کافی شدید چوٹیں لگی ہیں. بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے اور آپریشن کے بعد راڈ ڈالاگيا ہے. لوگ عیادت کرنے آ رہے ہیں. آپ کا قریبی دوست یا رشتے دار آتا ہے. وہی ساری کہانی پوچھتا ہے کہ کیا ہوا، کیسے ہوا. کس ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے. کتنے پیسے لگے. آپ تفصیل بتاتے ہیں. اور چونکہ خرچے سے خود بھی پریشان ہیں اس لئے سب کچھ ہی بتا دیتے ہیں. وہ سن کر حوصلہ دینے کی بجائے کہتا ہے: یہ تم کس قصائی کے پاس چلے گئے تھے. اس آپریشن کے تو بیس ہزار نہیں بنتے اور تم نے ایک لاکھ بیس ہزار دیا ہے. تم مجھے ایک کال کرتے، فلاں ہسپتال میں میرا جاننے والا ہے وہاں سے تمہارے بیٹے کا آپریشن ہو جانا تھا. پیسے بھی آدھے لگنے تھے اور دوائیوں کا خرچہ بھی نہیں ہونا تھا. بندہ مشورہ ہی کر لیتا ہے -آپ کو دکھ لگ جاتا ہے کہ شاید واقعی میں مشورہ کر لیتا تو کچھ بچت ہو جاتی. لیکن آپ یہ بھول جاتے ہیں کہ بیٹے کے ایکسیڈنٹ کا سن کر آپ کی دماغی حالت کیا تھی اور آپ کچھ سوچنے سمجھنے کی پوزیشن میں نہیں تھے.
یہ سب وہ مشورے ہیں جو ہم مہذب اور شائستہ لوگ دوسروں کو دیتے ہیں اور خود کو دنیا کی سب سے عقلمند اور دوسروں کا خیال کرنے والی ہستی سمجھتے ہیں.نہیں، مشورہ دینے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن ایک بار پھر وہی بات کہ کوئی موقع محل دیکھ لیا کریں.
جب گھر بن چکا ہے، اس کو توڑ کر دوبارہ نہیں بنایا جا سکتا. جب قربانی خرید لی گئی ہے، واپس نہیں کروائی جا سکتی. جب گاڑی لے لی گئی ہے، اور فوراً بیچی نہیں جا سکتی. جب شادی ہو گئی ہے، اور رشتہ توڑا نہیں جا سکتا.-جب پیسے ایک جگہ لگ چکے ہیں، اور واپس نہیں آ سکتے.
تو ایسے مواقع پر مشورہ مت دیا کریں. جو ہو گیا سو گیا، اب وہ ٹھیک نہیں ہو سکتا. آپ کے مشورے سے اگلے بندے کا محض دل برا ہوگا اور کچھ نہیں ہوگا.
بولنے سے پہلے بس ایک بار سوچ لیا کریں کہ میں جو بول رہا ہوں، کیا یہ چیز کسی نے مجھ سے پوچھی ہے؟ اگر پوچھی ہے تو بہترین جواب دیں. اور اگر نہیں پوچھی تو وہیں رک جایا کریں. خود کو وہیں پر بولنے سے روک لیں. ہماری یہ خود کلامیاں کبھی کبھار دوسرے لوگوں کا بہت ذہنی نقصان کرتی ہیں-