عورت کے نامناسب لباس کے مرد پر اثرات (تین تحقیقات)

مصنف : محمد عبيد

سلسلہ : فکر و نظر

شمارہ : مارچ 2025

فكر ونظر

عورت کے نامناسب لباس کے مرد پر اثرات (تین تحقیقات)

محمد عبيد

یاد رہے کہ اس میں ایک ڈیٹا پوائنٹ بھی ایسا نہیں ہے جس کا مطلب پوری تحقیق میں کچھ اور بن رہا تھا اور میں اس سے کوئی اور مطلب نکال رہا ہوں۔ یہ سارا ڈیٹا مکمل طور پر ویلڈ اور مستند ڈیٹا ہی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اس ایک ڈیٹا سے ہی مختلف نتائج نکلیں۔ اس لیے میں اس ڈیٹا سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کر رہا ہوں بلکہ محض اسے رپورٹ ہی کر رہا ہوں۔ باقی ہر انسان خود سمجھدار ہے۔

پہلی تحقیق

سال 1984 میں امریکہ میں محققین نے مختلف مردوں اور عورتوں کو 40 مختلف قسم کے ڈریسز دکھائیں کہ ان میں سے کونسے ڈریس مردوں کو جنسی لحاظ سے برانگیختہ کر سکتے ہيں۔ سروے میں شامل تقریباً سارے مردوں اور ساری عورتوں نے ان ڈریسز کے حوالے سے ایک جیسا ہی جواب دیا (r= 0.85) جس سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ مرد کس قسم کے لباس سے جنسی طور پر برانگیختہ ہوتے ہیں یا ہو سکتے ہیں۔حیران کن طور پر سروے کے دوسرے حصے میں خوبصورت اور نسوانی حسن رکھنے والی خواتین میں سے اکثریت (r= 0.80) نے وہی والا لباس پہننا پسند کیا جس سے مرد جنسی طور پر برانگیختہ (Turn on) ہوتے ہیں۔

دوسری تحقیق

اسی طرح سال2010 میں مقبوضہ فلسطین (اسرائیل) میں کی گئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ عورت کو نامناسب لباس (ایسے قسم کا لباس جس میں اس کا بدن نظر آئے) یعنی کہ Revealing Clothes میں دیکھ کر 100 فیصد میں سے تقریباً 95 فیصد مرد مزے ضرور لیتے ہیں اور اسی طرح تقریباً 88 فیصد مردوں کے جنسی جذبات بھڑک اٹھتے ہیں۔

ان میں سے 48.4 فیصد مرد تو ہر بار اور ہر قسم کے موقع پر ہی عورت کو نامناسب لباس میں دیکھ کر اس سے مزے لیتے ہیں اور اسی طرح 30 فیصد مردوں کے ہر قسم اور ہر موقع پر ہی عورت کو ایسی حالت میں دیکھ کر جنسی جذبات بھڑک اٹھتے ہیں۔ باقی 48 کے مقابلے میں 46 فیصد مرد ہر موقع پر تو نہیں لیکن اکثر مواقع پر عورت کے نامناسب لباس کی وجہ سے اس کے نظر آنے والے بدن سے مزہ ضرور لیتے ہیں اور اسی طرح ان 30 فیصد مردوں کے برخلاف جن کے ہر موقع پر ہی عورت کو نامناسب لباس میں دیکھ کر جنسی جذبات بھڑک اٹھتے ہیں، تقریباً 58 فیصد مردوں کے اگرچہ ہر بار تو نہیں لیکن "اکثر" اوقات عورت کو ایسے نامناسب لباس میں دیکھ کر جنسی جذبات ضرور بھڑکتے ہیں۔

تیسری تحقیق ( کیا مرد جھوٹ بول رہا ہے)

اگر ایک مرد جنسی جذبات کے پیدا ہونے کو رپورٹ کر رہا ہے یا پھر اگر ایک عورت ایسا کہ رہی ہے تو کیا وہ سچ بول رہی ہے؟ اس کو ہم مرد اور عورت کی شرمگاہ کو مشینوں(¹) (²) کے ساتھ کنکٹ کر کے معلوم بھی کر سکتے ہیں اور ایسا حقیقت میں ہوا بھی ہے۔

دنیا بھر میں ہوئی اس قسم کی 132 مختلف تحقیقات کے Meta Review سے پتہ چلتا ہے کہ جب مرد جنسی جذبات کے پیدا ہونے کو زبانی رپورٹ کرتا ہے تو مشین بھی ایسا ہی بتلاتی ہے (r=0.66) اور وہ سچ بول رہا ہوتا ہے اور اس بات کا بہت کم امکان ہوتا ہے کہ اس کو دھوکہ لگا ہے یا اس نے جھوٹ بولا ہے اور اسی طرح جب عورت جنسی جذبات کو رپورٹ کرتی ہے تو مشین بھی اکثر ایسا ہی بتلاتی ہے یعنی وہ بھی سچ ہی بولتی ہے (r= 0.26) لیکن عورت کے کیس میں بہرحال یہ امکان مرد سے زیادہ ہوتا ہے کہ شاید اس کو غلطی لگی ہو یا وہ جھوٹ بول رہی ہے۔ اسی Meta Review کے مطابق جب ریسرچ میں مردوں کو آدھی ننگی یعنی کم لباس پہنے ہوئی مختلف عورتوں کی تصاویر دکھائی گئی تو انہوں نے اس کو دیکھنے کے بعد نہ صرف زبانی اپنے اندر جنسی جذبات کے پیدا ہونے کو رپورٹ کیا بلکہ ان کی شرمگاہ پر لگی مشین نے بھی ان کی Penis میں ہونے والی تبدیلی کو نوٹ کیا (اس میں خون کی مقدار بڑھ گئی تھی اور اس کا سائز بڑھ گیا تھا) یعنی کہ وہ سچ ہی بول رہے تھے۔جب عورتوں کو محض مردوں کی آدھ ننگی تصاویر دکھائی گئی تو انہوں نے کسی قسم کے جنسی جذبات کے پیدا ہونے کو رپورٹ نہیں کیا اور نہ ہی ان کے Vagina میں موجود مشین نے کسی قسم کی تبدیلی کو رپورٹ کیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ مردوں کے مقابلے میں عورتوں کو نظر آنے والا Visual Stimulus زیادہ اٹریکٹ نہیں کرتا ہے۔اس تحقیق میں مختلف تناظر سے اس حوالے سے بات ہوئی ہے لیکن وہ اس وقت موضوع بحث نہیں ہے۔

(¹) Penile plethysmography

کسی شخص کے تصویر یا کوئی بھی دوسرے قسم کے جنسی Stimulus کو دیکھ کر Penis میں خون کی مقدار کے بڑھنے سے اور Penis کے Circumference میں اضافہ ہونے سے اس کے جذبات کی شدت کو معلوم کرتا ہے۔

(²) Vaginal photoplethysmography/

Labial Thermistor

اول الذکر محض روشنی کے انعکاس سے Vagina میں خون کے مقدار کو معلوم کر کے اس سے جذبات کی شدت کو معلوم کرتا ہے جبکہ دوسرا یعنی کہ Labial Thermistor ویجائنا اور اس کے ہونٹوں کی گرمائش سے جذبات کی شدت کو معلوم کرتا ہے۔