مقالہ نويسی ميں سپر وائزر اور سٹوڈنٹ كا تعلق  اوركردار

مصنف : ڈاکٹر طفیل ہاشمی

سلسلہ : تعلیم و تعلم

شمارہ : مارچ 2025

تعليم وتعلم

مقالہ نويسی ميں سپر وائزر اور سٹوڈنٹ كا تعلق  اوركردار

 طفيل ہاشمی

رہنمائے مقالہ نویسی پروگرام کی دوسری آن لائن نشست سے استاد محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر طفیل ہاشمی صاحب نے خطاب فرمایا اور اس کے بعد سوال و جواب کی نشست میں ملک بھر کی جامعات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے محققین کے سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے۔اس نشست میں دو سو تک ان سکالرز نے شرکت کی تھی۔ان میں بعض یونیورسٹیوں کے اساتذہ بھی شامل تھے۔ استاد محترم نے مقالہ نویسی کے عمل میں سٹوڈنٹ اور سپر وائزر کے کردار اور ان کے باہمی تعلق کی نوعیت کو واضح فرمایا۔مکمل لیکچر سننے والوں کے لیے ایک ایک جملہ غور طلب تھا۔ ایک طالب علم کے طور پر میں نے لیکچر میں فرمائی گئی مندرجہ ذیل باتوں کو انتہائی اہم پایا ہے-(سيد عديل گيلانی)

عام طور پر مقالہ لکھنے والا سکالر سپر وائزر کے انتخاب میں غیر سنجیدہ ہوتا ہے، اس کی نظر میں سپروائزر کی حیثیت نماز کے لیے سُترے جیسی ہوتی ہے۔

سپر وائزر کو چاہیے کہ وہ صرف اپنی فیلڈ کے موضوع پر مقالہ کے لیے سکالر کی نگرانی کرے۔

ہمارے ہاں ایک ہی فرد ہر موضوع پر گفتگو کر رہا ہوتا ہے۔ اس لیے ہر موضوع پر منعقعد ہونے والی کانفرنسز میں وہی فرد نظر آتا ہے۔اس کی مہارت کا میدان ایک ہوتا ہے لیکن وہ ہر موضوع پر ماہر تصور کیا جاتا ہے۔ لہذا ایسی کانفرنسز میں جانے والے شرکاء کچھ نہیں سیکھ سکتے۔

پروفیشنل سپر وائزر کی نشانی یہ ہے کہ وہ مقالہ کی نگرانی کی حامی بھرنے سے قبل سابقہ کتب، انسائیکلوپیڈیاز، مقالات اور آرٹیکلز میں موجود تحقیقات کا مطالعہ کرواتا ہے اور پھر تحقیقی خلا کی نشاندہی کروا کر اس پر کام کرنے کی تجویز دیتا ہے۔

پروفیسر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے فیلڈ کی تمام تحقیقات سے آگاہ ہوں۔ یہاں تک کہ ایک دن قبل آنے والی ریسرچ بھی آپ کے علم میں ہونی چاہیے۔ وہ شخص پروفیسری کے نام پر دھبہ ہے جس کو یہی علم نہ ہو کہ اس کی اپنی فیلڈ کی Latest ریسرچز کون کون سی ہیں۔ہر پروفیسر کو کم از کم تین یا چار ایسی زبانیں آنی چاہییں جن زبانوں میں اس کے مضمون پر کام ہو رہا ہے۔

مقالہ کے لیے موضوع دینا سپر وائزر کا کام نہیں ہے، یہ سکالر کا کام ہے۔ سپر وائزر موضوع کے بارے میں محض تجویز دے سکتا ہے۔اس سےیہ توقع رکھنا غلط ہے کہ وہ آپ کو موضوع دے گا۔ آپ خود موضوع تیار کریں اور پھر خود جا کر اس کو قائل کریں۔ اگر اس میں علم و تحقیق کی جھلک ہو گی تو وہ مان جائے گا۔

مغربی دنیا میں سپر وائزر کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ موضوع کو محض Refine کرتا ہے۔پھر وہ اس کو BASR سے منظور کرواتا ہے۔

خاکہ تحقیق بنانے کا طریقہ ہمارے ہاں غلط ہے. BASR میں عموما ًنالائق لوگ بیٹھے ہوتے ہیں اس لیے ان کو سمجھانے کے لیے تفصیلی خاکہ بنایا جاتا ہے۔ان لوگوں میں بعض صرف اپنی موجودگی باور کروانے کے لیے موضوع میں تبدیلی کروا دیتے ہیں۔ سپر وائزر کی ذمہ داری ہے کہ وہ موضوع کو BASR سے اسی طرح منظور کروائے جس طرح آپ سے بنوایا ہے، تبدیلی نہ کروائے۔

تحقیق کا خاکہ کبھی بھی حتمی نہیں ہو سکتا ہے۔ ابواب بندی میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ آخری وقت تک اس میں ترامیم جاری رہتی ہیں۔ میں (استاد محترم) نے 1982ء میں پی ایچ ڈی کی اور اس وقت بھی ابواب میں تبدیلی کر لی تھی۔

اگر آپ کا خیال یہ ہے کہ آپ کے خاکہ میں تبدیلی نہیں ہو سکتی تو اس كا مطلب یہ ہے کہ آپ پہلے ہی سب کچھ جانتے تھے اور اگلے تمام برس آپ نے ضائع کیے۔

دنیا بھر میں کہیں بھی اتنا تفصیلی خاکہ نہیں بنتا جو ہمارے ہاں بنتا ہے۔

اپنے مقالہ کے لیے کسی سے مواد مانگنا غلط ہے۔ اگر مواد کسی اور نے دینا ہے تو ڈگری آپ کو کیوں ملے؟ خود جا کر انسائیکلو پیڈیاز، کتب، آرٹیکلز وغیرہ کو پڑھ کر اپنی ببلیو گرافی تیار کریں۔ سپر وائزر کا کام بھی مواد مہیا کرنا نہیں ہے بلکہ وہ محض تجاویز دے سکتا ہے۔ سارا کام سکالر نے خود کرتا ہے۔

بالعموم ہمارے ملک میں سپروائزر علمی افلاس کا شکار ہیں۔ یہ کمی آپ نے پوری کرنی ہے۔

جو آپ لکھ کر لے جائیں گے سپر وائزر پوری جانچ پڑتال کے بعد اس کو منظور کرتا ہے۔ اس کا منظور کرنا بھی حتمی نہیں ہوتا بلکہ وہ بعد میں مناسبتوں کے اعتبار سے ترامیم کروا سکتا ہے۔

سکالر کی جانب سے یہ توقع غلط ہے کہ سپروائزر اپنے متساہل دوست ممتحن کو میرا مقالہ بھیجے۔ ہمارے ملک میں ایسے ممتحنین کے گینگز چل رہے ہیں جو ایک دوسرے کے سکالرز کے مقالات کو منظور کرتے ہیں۔وہ مقالہ پڑھتے نہیں ہیں بلکہ ایک بنی بنائی رپورٹ میں جزوی تبدیلیاں کر کے بھیج دیتے ہیں۔

ممتحن سے مثبت رپورٹ لکھوانا سپروائزر کا کام نہیں ہے۔دیانت دار ممتحن کو چاہیے کہ وہ درست تجزیہ پر مبنی رپورٹ لکھے۔ممتحن کا یہ کام بھی نہیں ہے کہ وہ مناقشہ میں سکالر کے کام کا دفاع کرےیہ کام سکالر نے خود کرنا ہے۔

بعض سپروائزر مادی فوائد کے طلب گار بھی ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ مطلوبہ فوائد غیر اخلاقی حدود تک بھی چلے جاتے ہیں۔ سکالر نے اس قباحت سے بھی اپنے آپ کو بچا کر رکھنا ہے۔

میں نے 1985ء میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی شروع کروائی اور یہ اصول بنا دیا کہ کوئی سپر وائزر کسی طالب علم سے چائے کا کپ بھی نہیں پیے گا۔

میرے نزدیک طالب علم سے مناقشہ وغیرہ کے موقع پر ضیافت کھانا خنزیر کا گوشت کھانے سے بھی زیادہ گھناؤنا کام ہے۔

بعض سپروائزر اپنے سکالر کا کام اپنے نام سے شائع کرواتے ہیں۔ اگر طالب علم کا نام آ بھی جائے تو وہ تیسرے چوتھے نمبر پر ہوتا ہے۔یہ ایک علمی خیانت ہے۔