لسانيات
اردو كا جنازہ
اسلم ملك
ایک عزیز نے اپنے ایک استاد کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ بہت "دیدہ دلیر" ہیں.اس پر مجھے وہ نوجوان یاد آیا جسے احمد ندیم قاسمی صاحب کی کوششوں سے ملازمت مل گئی تو اس نے قاسمی صاحب کو لکھا، یہ آپ کی مہربانیوں اور ریشہ دوانیوں کا نتیجہ ہے، ورنہ میں کس قابل ہوں-کوئی صاحب اپنے سینئر افسر سے کہنا چاہ رہے تھے "سر آپ کسر نفسی سے کام لے رہے ہیں " بولے "سر آپ احساس کمتری سے کام رہے ہیں" (حمید رازی)
مشاعرے میں ایک شاعر نے اپنے ہی شعر کی تعریف شروع کردی تو دوسرے شاعر نے کہا ذرہ نوازی ہے آپ کی، ورنہ شعر تو کس قابل ہے. (عاصم الدین)
ہمارے گاؤں میں ایک صاحب نے تحصیل دار کی دعوت کی ۔ کھانے کے بعد تحصیل دار نے کھڑے ہو کر حاضرین کے سامنے میزبان کا شکریہ ادا کیا ۔ میزبان جو زیادہ پڑھے لکھے نہ تھے ، فوراً بولے " جناب ! میں کس قابل ہوں ، یہ سب تو آپ کی بدعنوانیوں کا نتیجہ ہے"( محمد اقبال اولکھ)
تاجروں کا ایک اجلاس یاد آگیا، جو ایک ہڑتال کے بعد گرفتار تاجر راہنماؤں کی رہائی پر منعقد کیا گیا تھا۔ جب ایک مقرر نے تیسری بار میری جانب اشارہ کر کے کہا کہ یہ رہائیاں “اس ناچیز” کی مدد کے بغیر ممکن نہ تھیں ، تو میں ہال سے باہر آ گیا۔(شعیب بن عزیز)
ایک غزل گو کے بارے میں سنا جاتا ہے کہ جب ان کے ایک دوست نے کوئی چیز ان کے پاس امانت کے طور پر رکھوانے کی کوشش کی تو انھوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ نا بھائی، میں اولوالعزم قسم کا آدمی ہوں، کہیں رکھ کے بھول جاؤں گا۔(اجمل کمال )
مجھے اپنے کزن کی پکنک بارش کے باعث خراب ہونے کا احوال یاد آ گیا جس نے کہا: "سارا لطف ہی اندوز ہو گیا"(سجاد انور منصوری)
میرے ایک دوست نے کہا " میں بہت شقی القلب ہوں۔ مجھے پہلے ہی شک ہوگیا تھا۔"
ایک روز ٹیلی ویژن پر ٹکر چل رہا تھا -" کرپشن کرنے والوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔"
(حافظ محمد قاسم مغیرہ)
میرے ایک دوست نے ایک دفعہ کسی جگہ کے بارے میں بتاتے ہوئے مجھے کہا کہ یہ گنجان و بیابان جگہ ہے-(نديم صادق
ایک دفعہ میں بیمار ہوئی تو میرا ایک کولیگ جو جانتا ہے میں تھوڑا بہت لکھتی ہوں تو میرے ساتھ خالص اردو بولنے کی کوشش کرتا ہے کہنے لگا کل میں نے آپ کو تعزیت کے لئے فون کیا تھا آپ نے اٹھایا ہی نہیں- (ہما فلك
ایک تقریب میں ہمارے ایک جاننے والے بات کرتے ہوئے کہہ ریے تھے کہ "میں پہلے بھی یہاں تشریف لاچکا ہوں"(شہباز چوہان
ھمارے استاد محترم حکیم محمد ابوبکر نقشبندی ایک دن مطب پر ذرا جلدی آگئے
تو ایک مقامی بے روزگار شاعر نے مطب کھلا دیکھا تو اندر آگئے-حکیم صاحب نے بڑے سوالیہ انداز میں خوش آمدید کہا-مدعا سمجھتے ھوئے-انہوں نے بڑا خوبصورت جملہ گوش گزار کیا بولے-فارغ بیٹھا تھا-میں نے سوچا چلو حکیم صاحب سے تھوڑی صحبت ھی کر لیں (سرفراز مرزا
ایک جاننے والے نے نائب قاصد کی آسامی کی درخواست میں اپنی غربت کا ماجرا یوں بیان کیا کہ سائل کے والدین کی کوئی کمی بیشی نہیں ہے۔ایک دوست سے جو ریسٹ کر رہے تھے فون پر پوچھا کہ کیا ہو رہا ہے،کہنے لگے کہ بس ذرا رحلت فرما رہا ہوں-(مظہر فاروق--میرے شہر کے تاجر رہنمانے ایک پولیس افسر کا کام ہونے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا چوہدری صاحب میں آپ کے اعزاز میں آموں کی ٹی پارٹی کرنا چاہتا ہوں۔(طارق عزيز---میں چونکہ بہت کم عمری میں ، بہت کم تعلیم کے باوجود صرف مطالعہ اور قلم کاری کے بل بوتے پر اخبارات و رسائل میں آگیا تھا اور کام بھی بہت کرنا پڑتا تھا اس لیے روانی میں کئی بار اسی طرح مضحکہ خیز جملے لکھ گیا۔ جیسا کہ پٹرولیم مصنوعات کے تاجروں کی ایک تنظیم کے جنرل سیکرٹری نے مجھے انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ پٹرولیم کمپنیاں ہمیں بلیک میل کرتی ہیں اور ایک پراڈکٹ کی خریداری پر دوسری پراڈکٹ زبردستی آرڈر میں شامل کرنے پر مجبور کرتی ہیں جیسا کہ پٹرول کے ساتھ تارکول۔ اب مجھے لکھتے ہوئے سمجھ نہ آئی اور میں ان کی طرف سے لکھ دیا کہ" پٹرولیم کمپنیاں ہمیں بلیک میل کرتی ہیں اور پٹرول میں زبردستی تارکول ڈال کر ہمیں بیچنے پر مجبور کرتی ہیں"(شہباز اكبر
یہ 1997ء کی بات ہے ۔ انٹرویو چھپنے کے بعد جب وہ تاجر رہنماء اس جملے پر پہنچے تو سر پیٹ کر رہ گئے ۔