میں شہر ورنگل کے ایک بڑے تاجر کے گھر میں اب سے تقریباً ۵۱ سال پہلے ۳۱ اگست ۱۹۵۴ میں پیدا ہوا۔ نام انل راؤ رکھا گیا۔ پانچ سال کی عمر میں اسکول میں داخل ہوا۔ ۱۹۵۹ء میں ہائی اسکول ، پھر ۱۹۶۱ء میں بارہویں کلاس سائنس سے پاس کی، اس کے بعد ۱۹۶۴ء میں بی ایس سی اور ۱۹۶۶ء میں فزکس سے ایم ایس سی کیا اور اس کے بعد Ph.D میں رجسٹریشن کرا لیا۔

ہوا یہ کہ میرے والد صاحب میری شادی کرنا چاہتے تھے، مگر نہ جانے کیوں میرا دل اس طرح جھمیلوں سے گھبراتا تھا۔ میرے پتا جی (والد صاحب) نے شادی کے لیے دباؤ ڈالا تو میں گھر سے فرار ہو گیا۔ میں نے ہردوار کا رخ کیا۔ میں نے ارادہ کر لیا کہ مجھے برہم چریہ (تجرد) کی زندگی گزارنی ہے۔ ہمارا گھرانا آریہ سماجی تھا۔ ہردوار میں میں ایک کے بعد ایک اچھے آشرموں میں رہا، مگر مجھے وہاں کا ماحول نہ بھایا۔ ہردوار میں ایک انجینئر صاحب بی ایچ ایل میں ملازمت کرتے تھے اور وجے واڑہ کے رہنے والے تھے، میری ان سے اچھی دوستی ہو گئی۔ انھوں نے میری بے چینی دیکھ کر مجھے مشورہ دیا کہ مجھے رشی کیش میں شانتی کنج میں جانا چاہیے یا وہیں کسی اور سماجی آشرم کو تلاش کرنا چاہیے۔ میں نے رشی کیش جا کر تلاش شروع کی۔ بہت تلاش کے بعد میں نے شری نیتا نند کے ستیہ پرکاش آشرم کو اپنے لیے مناسب سمجھا، جہاں پر اکثر پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ آدمی رہتے تھے، اور سوامی نتیا نند جی خود بہت پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ تھے۔ وہ الٰہ آباد یونیورسٹی سے سنسکرت میں ڈاکٹریٹ کر کے ایک زمانے تک وہاں ریڈر اور پھر پروفیسر رہ چکے تھے۔ چھ سال تک میں وہاں برہم چاری (زاہد مرتاض) رہ کر گیان (معرفت) سیکھتا رہا۔ چھ سال کے بعد سوامی جی نے مجھے پریکشا (امتحان) کے لیے یگیہ کرائے اور مجھے شاستری کی پدوی (سند) پردان (عطا) کی۔ شاستری بننے کے بعد میں نے سات سال میں چوبیس یگیہ کیے، جن میں بڑا امتحان تھا، مگر میں سب کچھ تیاگ (چھوڑ) کر اپنے مالک کو پانے کے لیے آیا تھا، اس لیے میں نے مشکل سے مشکل وقت میں ہمت نہ ہاری۔ وارنگل سے آنے کے سات سال بعد میرے بڑے بھائی اور پتا جی (والد صاحب) مجھے ڈھونڈتے ہوئے رشی کیش پہنچے اور مجھے نہ جانے کس طرح تلاش کر لیا۔ آشرم میں آئے، ایک ہفتے تک میری خوشامد کرتے رہے، اور مجھے واپس گھر لے جانے کے لیے زور دیتے رہے، لیکن میرا دل گھر جاتے ہوئے گھبراتا تھا۔ میں نے اپنے والد اور بھائی کی بہت خوشامد کی۔ مجھے ایشور (خدا) کو پانے تک وہاں رہنے کی اجازت دیں۔ وہ مجھے چھوڑ کر اس شرط پر چلے گئے کہ میں اپنے خرچ پر آشرم میں رہوں گا اور دان وغیرہ یعنی صدقہ خیرات نہیں کھاؤں گا، اور آشرم میں انھوں نے اندازے سے اب تک کا خرچ بھی جمع کیا اور ایک بڑی رقم آئندہ کے لیے جمع کرا کے چلے گئے۔

اصل میں جس سچے مالک کی تلاش میں وارنگل چھوڑا تھا، اس کو مجھ پر ترس آیا اور اس نے میرے لیے راستہ خود نکال لیا۔ آریہ سماج، ہندو دھرم کی بہت سنشو دھت (اصلاح شدہ) شکل ہے۔ اس میں ایک نراکا (غیر مرئی) خدا کی عبادت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ مورتی پوجا اور پرانی دیو مالائی باتوں کا رد کیا گیا ہے۔ اس مذہب کی اصل کتاب یا گرنتھ ‘‘ستیارتھ پرکاش’’ ہے، جو سوامی دیانند سرسوتی کی تصنیف ہے۔ اس مذہب کے بانی سوامی دیانند اسلام اور اس کی تعلیمات سے بہت متاثر ہوئے اور انھوں نے ہندوؤں کو مسلمان بننے سے روکنے کے لیے ہندو مذہب کو عقل کے مطابق بنانے کے لیے آریہ سماج کی بنیاد رکھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ آریہ سماج سو فی صد ویدک دھرم ہے، جو ترکوں (دلائل) پر مبنی ہے اور بالکل سائنٹیفک اور لوجیکل (منطقی) ہے، مگر جب میں نے آریہ سماج کو پڑھا تو میرے دل میں بہت سی باتیں کھٹکتی تھیں۔ ۱۳ سال کی سخت تپسیا (مجاہدے) کے باوجود میں اپنے اندر کوئی تبدیلی محسوس نہیں کرتا تھا۔ میں کبھی کبھی سوامی نیتا نند جی کے قریب ہونے کی کوشش کرتا تو میں ان کو بہت الجھا ہوا انسان پاتا۔ میں نے جب بھی ان کے سامنے اپنے اشکالات رکھے تو وہ جھنجھلا جاتے۔ مجھے افسوس ہوتا کہ یہ خود ہی اپنی بات سے مطمئن نہیں ہیں۔ ۱۹۹۲ء میرے لیے بہت سخت گزرا۔ ماں باپ کو دکھ دے کر تیرہ سال کے سنیاس (خلوت نشینی) کے بعد ا س کے علاوہ کہ لوگ شاستری جی کہنے لگے تھے، میں نے اپنے اندر کے انسان کو پہلے سے کچھ گرا ہوا ہی پایا۔ طرح طرح کے خیالات میرے دل میں آئے۔ بعض دفعہ کئی روز تک میری نیند اڑ جاتی، کبھی خیال آتا کہ خدا کو پانے کا یہ راستہ ہی غلط ہے۔ مجھے کسی اور راستے کو تلاش کرنا چاہیے۔ کبھی یہ خیال آتا کہ میری آتما (روح) میں گندگی ہے، اس لیے مجھ پر کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے۔ جب کبھی رات کو مجھے نیند نہ آتی تو میں اٹھ کر بیٹھا جاتا، او رمن ہی من میں اپنے مالک سے دعائیں کرتا کہ سچے مالک! اگر تو موجود ہے او رضرور موجود ہے تو اپنے انل راؤ کو اپنا راستہ دکھا دے۔ توخوب جانتا ہے کہ میں نے سب کچھ صرف اور صرف تجھے پانے کے لیے چھوڑا ہے۔ اس دوران اتر کاشی میں سخت ترین زلزلہ آیا۔ پورا ہردوار اور رشی کیش ہل گیا۔ میرا دل اور بھی ڈر گیا، اسی طرح کسی دن میں بھی کسی حادثے میں مر گیا تو میرا کیا ہو گا؟ ۱۷ دسمبر ۱۹۹۲ء کی رات تھی۔ مجھے سوامی جی نے بلایا او رکہا کہ ہریانہ کے ضلع سونی پت کے علاقے رائی میں ایک بڑا آریہ سماج آشرم ہے۔ وہاں وہ لوگ پچاس سالہ سماروہ (جشن) منا رہے ہیں۔ مجھے وہاں جانا تھا، مگر میری طبیعت اچھی نہیں۔ یوں بھی اب آپ کا تعارف کرانا چاہتا ہوں۔ وہاں پروگرام کی صدارت اور یگیہ کے لیے کل آپ کو وہاں جانا ہے۔ مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی کہ سوامی جی مجھ سے کتنا پریم (محبت ) کرتے ہیں۔ خوشی خوشی کمرے میں آیا۔ سفر کی تیاری کی، مگر رات کو بستر پر گیا تو میرے من میں آیا کہ اس سنسار (دنیا) کے سامنے تعارف اور نام ہو بھی جائے تو کیا اسی لیے تو نے ورنگل چھوڑا تھا، ماں باپ، بھائی بہن سب کچھ تیاگ (چھوڑ) کر کیا اسی نام کے لیے آیا تھا؟ میرا دل بہت دکھا۔ میری نیند اڑ گئی۔ میں بستر سے اٹھا۔ آنکھ بند کر کے مالک سے پراتھنا (دعا) کرنے لگا: میرے مالک! تو سب کچھ کرنے والا ہے۔ مجھے گرو (استاد) کی آگیا (حکم) ہے تو جانا ہے۔ میرے مالک! کب تک میں اندھیرے میں بھٹکتا رہوں گا۔ مجھے سچی راہ دکھا دے۔ وہ راہ جو تجھے پسند ہو، وہ راستہ جس پر چل کر تجھے پایا جا سکے۔ خوب رو رو کر میں دعا کرتا رہا۔ روتے روتے میں سو گیا۔ میں نے خواب میں دیکھا، میں ایک مسجد میں ہوں۔ وہاں ایک خوبصورت مولوی صاحب ہیں۔ ایک سفید چادر اوپر، اور ایک نیچے لنگی باندھے تکیہ لگائے بیٹھے ہیں۔ بہت سارے لوگ ادب کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ لوگوں نے یہ بتایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ میں نے لوگوں سے سوال کیا کہ وہ محمد صاحب جو مسلمانوں کے دھرم گرو (مذہبی رہنما) ہیں؟ تو خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: نہیں نہیں، میں صرف مسلمانوں کا دھرم گروہ (مذہبی رہنما) نہیں ہوں، بلکہ میں تمھارا بھی رہنما و رسول ہوں۔ میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے پاس بٹھایا، اور بڑے پیار سے مجھے گلے لگا لیا ور فرمایا کہ جو تلاش کرتا ہے، وہ پاتا ہے۔ تمھیں کوئی ہمدرد ملے تو قدر کرنا۔ آج کا دن تمھارے لیے عید کا دن ہے۔ میری آنکھ کھل گئی۔ میرے دل کا حال عجیب تھا۔ گدگدی سی ہو رہی تھی۔ آپ ہی خوش ہو رہا تھا۔ میرے ساتھیوں نے مجھے اتنا خوش کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ کہنے لگے کہ سوامی جی اپنی جگہ ادھیکشتا (صدارت) کے لیے بھیج رہے ہیں۔ واقعی آپ کو خوش ہونا ہی چاہیے۔ ان کو کیا معلوم تھا کہ میں کیوں خوش ہو رہا ہوں! صبح سویرے اٹھ کر میں رشی کیش اڈے پر پہنچا۔ وہاں سے سہارن پور پہنچا۔ بس اڈے کے سامنے ایک مسجد دکھائی دی۔ میں مسجد کے اندر گیا۔ لوگ مجھے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ میں نے کہا کہ مالک کے درشن (زیارت) کرنے کے لیے آیا ہوں۔ میں نے مسجد کے اندر جا کر چاروں طرف تلاش کیا کہ رات والے لوگوں میں سے کوئی ملے، مگر مسجد خالی تھی۔ مسجد سے واپس آیا اور بڑوت کی بس میں بیٹھ گیا۔ بڑوت سے مجھے ہریانہ کے لیے بس لینی تھی۔ سونی پت جانے والی ہریانہ روڈ ویز میں سوار ہوا۔ آگے کی سیٹ پر پھلت کے مولوی کلیم صدیقی صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے معلوم کیا کہ آپ کے پاس کوئی اور بیٹھا ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، کوئی نہیں۔ آپ تشریف رکھیے۔ بہت خوشی کے ساتھ بٹھایا۔ مولوی صاحب نے مجھ سے معلوم کیا پنڈت جی! کہاں سے آ رہے ہیں؟ میں نے کہا: رشی کیش ستیہ پرکاش آشرم سے۔ انھوں نے سوال کیا کہ سونی پت جا رہے ہیں؟ میں نے کہا کہ رائی میں آریہ سماج آشرم کے پچاس سالہ جشن میں یگیہ کے لیے جا رہا ہوں۔ انھوں نے پوچھا کہ آریہ سماجی ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ مولوی صاحب نے اخلاق کے ساتھ خیر خیریت معلوم کر کے تھوڑی دیر میں مجھ سے کہا: بہت روز سے مجھے کسی آریہ سماجی گرو (استاد) کی تلاش تھی۔ اصل میں دھرم (مذہب) میری کمزوری ہے اور میں ہر مذہب کو پڑھتا ہوں۔ مجھے خیال ہوتا ہے کہ جو ہمارے پاس ہے، وہ ستیہ (سچ) ہے، یہ خیال تو اچھا نہیں۔ جو سچ ہے، ہمارا ہے، وہ کہیں پر بھی ہو۔ یہ اصل سچائی کی بات ہے۔ میں نے ‘‘ستیارتھ پرکاش’’ بھی پڑھی اور بار بار پڑھی۔ کچھ باتیں سمجھ میں نہیں آئیں شاید میری عقل موٹی ہے۔ اگر آپ برا نہ مانیں تو آپ سے معلوم کر لوں؟ میں اعتراض کے طور پر نہیں، بلکہ سمجھنے کے لیے معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: ضرور معلوم کیجیے۔ مولوی صاحب نے سوالات کرنا شروع کیے۔ میں جواب دیتا رہا۔ ایک کے بعد ایک سوال کرتے رہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مولوی صاحب سوال کرتے تھے۔ مجھے ایسا لگتا تھا کہ مولوی کلیم صاحب انل راؤ سے سوال نہیں کر رہے ہیں، بلکہ انل راؤ سوامی نیتا نند جی سے سوال کر رہا ہے۔ بالکل وہی سوالات جو میں اپنے استاد سے کرتا تھا اور وہ مجھے جواب نہ دے سکے تھے۔ مجھ پر رات کے خواب کا اثر تھا۔ میں نے چار پانچ سوالوں کے بعد ہتھیار ڈال دیے اور مولوی صاحب سے کہا کہ مولوی صاحب! یہ سوالات سارے میرے دل میں بھی کھٹکتے تھے اور میرے استاد سوامی نیتا نند جی اس کا اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے، پھر میں آپ کو کس طرح مطمئن کر سکتا ہوں۔ تھوڑی دیر خاموش رہ کر مولوی صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں ایک مسلمان ہوں، اسلام کے بارے میں سب کچھ تو میں بھی نہیں جانتا، مگر کچھ جاننے کی کوشش کی ہے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں کچھ اسلام کے بارے میں آپ کو بتاؤں اور اسلام کے بارے میں کچھ اشکال یا سوال آپ کے دل میں یا عقل میں آتا ہو، آپ بغیر جھجک کے مجھ سے سوال کر سکتے ہیں، مجھے کوئی ناگواری نہیں ہو گی۔ میں اسلام کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا، اس لیے سوال کیا کرتا، بس ‘‘ستیارتھ پرکاش’’ میں کچھ پڑھا تھا، مگر وہ بات میرے دل کو نہیں لگتی تھی۔ میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ آپ اسلام کے بارے میں مجھے ضرور بتائیں اور اگر محمد صاحب کے جیون (زندگی) کے بارے میں مجھے بتائیں گے تو مجھ پر بڑا احسان ہو گا۔ مولوی صاحب نے مجھے بتانا شروع کیا اور سب سے پہلے مجھے بتایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پریچے (تعارف) کے لیے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف مسلمانوں کے مذہبی رہنما ہیں، حالانکہ قرآن میں جگہ جگہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار بتایا ہے کہ وہ پوری انسانیت کی طرف بھیجے گئے آخری رسول ہیں۔ وہ جس طرح میرے رسول ہیں، اسی طرح آپ کے بھی ہیں۔ اب جو میں ان کے بارے میں بتاؤں تو آپ یہی سمجھ کر سنیں۔ آپ کو زیادہ آنند (مزہ) آئے گا۔ مولوی صاحب نے یہ کہا تو مجھے رات کا خواب یاد آیا، اور مجھے ایسا لگا کہ رات محمد صاحب نے جن کے بارے میں تاکید کی تھی، وہ ہمدرد یہی ہیں۔ مولوی صاحب نے ایسے پیار سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ، انسانیت پر ان کے ترس، اور ان کو راستہ دکھانے کے لیے قربانیوں اور اپنوں اور غیروں کی دشمنی کا حال کچھ اس طرح بتایا کہ میں بار بار رویا۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کا سفر پتا بھی نہ لگا کہ کب پورا ہو ا۔ بہال گڑھ آ گیا۔ مجھے بہال گڑھ اتر کر دوسری بس لینی تھی۔ مولوی صاحب کو سونی پت جانا تھا، مگر وہ ٹکٹ چھوڑ کر میرے ساتھ بہال گڑھ اتر گئے۔ مجھ سے کہا: سردی کا موسم ہے، ایک کپ چائے ہمارے ساتھ پی لیں۔ میں نے کہا: بہت اچھا۔ میں نے سامنے ایک ریسٹورنٹ کی طرف اشارہ کیا کہ چلیں، مگر مولوی صاحب نے کہا کہ یہاں ایک دوست کی دکان ہے۔ وہیں چائے منگا لیتے ہیں۔ ہم دونوں وہاں پہنچے۔ چائے منگائی گئی۔ میں مولوی صاحب کو دیکھتا تو بار بار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد آتا: کوئی ہمد در ملے تو قدر کرنا۔ میں نے مولوی صاحب سے معلوم کیا کہ آپ لوگوں کو مسلمان بناتے ہیں تو کیا رسم ادا کرتے ہیں؟ مولوی صاحب نے کہا: اسلام میں کوئی رسم نہیں۔ یہ مذہب تو ایک حقیقت ہے، بس دل میں اللہ کو سچا جان کر اس کو خوشی او رراضی کرنے کے لیے اور اس کے آخری سچے رسول کے بتائے طریقے پر زندگی گزرانے کا عہد کرنے والا مسلمان ہوتا ہے، بس! میں نے کہا: پھر بھی آپ کچھ تو کہلواتے ہوں گے۔ انھوں نے کہا: ہاں، اسلام کا کلمہ پڑھواتے ہیں۔ میں نے کہا آپ مجھے بھی پڑھوا سکتے ہیں؟ مولوی صاحب نے کہا: بہت شوق سے پڑھیں: ‘اشہد ان لا الہ الا اللّٰہ واشہد ان محمدا عبدہ ورسولہ’۔ مولوی صاحب نے اس کا ترجمہ بھی ہندی میں کہلوایا۔ میں زبان سے اس حال کو بیان نہیں کر سکتا کہ اس کلمے کو پڑھنے کے بعد میں نے اپنے اندر کیا محسوس کیا۔ بس ایسا لگتا تھا کہ انسان بالکل اندھ کار (اندھیرے) اور گھٹن سے مکمل پرکاش (روشنی) اور اجالے میں آ گیا، او راندر سے جیسے نہ جانے کتنے بندھن سے آزاد ہو گیا۔ مجھے جب بھی وہ کیفیت یاد آتی ہے تو مجھے خوشی اور مزے کا ایک نشہ سا چھا جاتا ہے۔ ایمان کے نور کا مزہ اللہ اللہ، یہ بیان کرتے وقت بھی میرا رواں کھڑا ہو گیا ہے۔

مولوی صاحب نے مجھے مبارک باد دی او رگلے لگا لیا۔ مجھ سے پتا وغیرہ لیا اور سونی پت جانے لگے۔ وہاں سے مرتدوں کے ایک گاؤں بھورا رسول پور جانا تھا، جہاں کے لوگ ۱۹۴۷ء میں مرتد ہو گئے تھے اور خاندانی ہندوؤں سے بھی زیادہ سخت ہو گئے تھے۔ میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ آپ مجھے کہاں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ اب آپ کو مجھے بھی ساتھ لینا ہے۔ مولوی صاحب نے کہا کہ واقعی اب آپ کو میرے ساتھ ہی جانا، بلکہ رہنا چاہیے، مگر رائی کے پروگرام کا کیا ہو گا؟ میں نے کہا کہ اب مجھے اس پروگرام میں شریک ہونا اچھا لگے گا؟ مولوی صاحب میرے اس خیال سے بہت خوش ہوئے۔ پیلے کپڑوں، ماتھے پر تلک اور ڈمرو ہاتھ میں لیے میں بھی مولوی صاحب کے ساتھ ہو لیا او رہم لوگ بھورا رسول پہنچے۔ مولوی صاحب نے بتایا کہ اس علاقے کے لوگ اسلام کو جانتے نہیں تھے۔ ان کو ایمان کی قدر و قیمت معلوم نہیں تھی، اس لیے ۱۹۴۷ء میں فسادات سے گھبرا کر یہ مرتد (ہندو) ہو گئے تھے۔ چھوٹے بچے کے ہاتھ میں ہیرا ہو، اس کو ہیرے کی قیمت کیا معلوم! اب اگر اس کوکوئی ڈرا دھمکا دے تو وہ ہیرا د ے دے گا کہ یہ پتھر ہے۔ اگر وہ ہیرا جوہری کے ہاتھ میں ہو تو وہ جان دے دے گا، مگر ہیرا نہیں دے گا۔ اب ہم لوگ ان کو ایمان کی اہمیت اور قدر و قیمت بتا کر دوبارہ اسلام میں لانے کی کوشش میں ہیں۔ بھورا گاؤں میں ایک مسجد تھی، بالکل ویران۔ مولوی صاحب نے بتایا کہ یہاں اب صرف ایک گوجر گھر مسلمان ہے، حالانکہ ۱۹۴۷ء سے پہلے یہ پورا گاؤں مولا جاٹ مسلمانوں کا تھا۔ اب یہ مولا جاٹ ایسے سخت ہو گئے ہیں کہ چند سال پہلے یہاں ایک تبلیغی جماعت آئی تھی، مسجد میں قیام کیا۔ یہ بے چارہ گوجر مسلمان ان کو لے کر مولا جاٹوں میں آ گیا، بس گاؤں میں فساد ہو گیا۔ ان مرتدوں نے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا کہ شر پھیلانے کے لیے یہ ہمارے یہاں ملاؤں کو لے کر آیا ہے۔ مقدمہ چلا اور اس بے چارے گوجر کو ایک گشت کی رہبری کی قیمت مقدمے میں تقریباً بیس ہزار روپے لگا کر چکانی پڑی۔

اتر کاشی زلزلے کے جھٹکے یہاں تک آئے تھے۔ لوگوں کے دل ذرا ڈرے ہوئے اور نرم تھے۔ مولوی صاحب نے مسجد کے امام صاحب سے کہا کہ کوشش کرو، کچھ ذمہ دار لوگوں کو مسجد میں بلاؤ، کچھ مشورہ کرنا ہے۔ کم از کم اسی بہانے لوگ اللہ کے گھر میں آ جائیں گے۔ امام صاحب نے کہا بھی کہ یہ لوگ مسجد میں نہیں آئیں گے، مگر مولوی صاحب نے کہا: کوشش کریں، اگر آ گئے تو اچھا ہے، ورنہ پردھان کے گھر میں لوگوں کو بلائیں گے۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ لوگ مسجد میں آ گئے۔ میں نے مولوی صاحب سے پہلے کچھ کہنے کی خواہش ظاہر کی۔ مولوی صاحب نے اجازت دے دی۔ میں نے لوگوں سے اپنا تعارف کرایا کہ ورنگل کے بہت بڑے تاجر کا بیٹا ہوں۔ ایم ایس سی کرنے کے بعد پی ایچ ڈی مکمل کرنے والا تھا، کہ گھر والوں نے شادی کے لیے دباؤ ڈالا۔ میں دنیا کے جھمیلوں سے بچ کر ہردوار آ گیا۔ ایک کے بعد ایک تقریباً ہر آشرم کو دیکھا، بعد میں رشی کیش رہا۔ وہاں بھی بہت سے آشرموں میں رہا۔ تیرہ سال وہاں تپسیا (مجاہدے) کرتا رہا۔ ۱۳ سال میں مجھے ہندو دھرم (مذہب) کے مرکز میں اس کے علاوہ کچھ نہ ملا کہ لوگ مجھے شاستری جی کہنے لگے۔ اس کے علاوہ شانتی (سکون) جس کا نام ہے، اس کا کہیں پتا نہیں لگا۔ مالک کی مہربانی ہوئی۔ مولوی صاحب کے ساتھ بڑوت سے بہال گڑھ تک کا سفر کیا۔ سچی بات کہتا ہوں، جو شانتی (سکون) مجھے ڈیڑھ گھنٹہ اسلام کی باتیں سن کر بڑوت سے بہال گڑھ تک مولوی کے ساتھ سفر کر کے اور کلمہ پڑھ کر ملی، وہ ۱۳ سالوں میں مجھے نہیں ملی۔ میرے بھائیو! ایسے شانتی (سکون) اور سچے دھرم (مذہب) کو چھوڑ کر اس بے چینی میں آپ کیوں واپس جا رہے ہیں! یہ کہتے ہوئے مجھ سے رہا نہ گیا اور میری ہچکیاں بندھ گئیں۔ میری اس سچی اور درد بھری بات کا وہاں کے لوگوں پر بڑا اثر ہوا او روہاں کے لوگوں نے اسلامی اسکول قائم کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کی، بلکہ اس کے لیے چندہ بھی دیا۔ ا س میں سب سے زیادہ دلچسپی گاؤں کے پردھان کرن سنگھ نے دکھائی، جو سب سے زیادہ اسلام مخالف تھا۔ مولوی صاحب بہت خوش ہوئے او رمجھے مبارک باد دی اور کہنے لگے: آپ کا اسلام ان شاء اللہ نہ جانے کتنے لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنے گا۔

مولوی صاحب کے ساتھ پھلت واپس آیا۔ کپڑے اتارے چوٹی کٹوائی۔ خط بنوایا اور حلیہ ٹھیک کرا کے مولوی صاحب نے مجھے جماعت میں چلہ لگانے کے لیے بھیج دیا۔ ہمارا چلہ متھرا کے علاقے میں لگا۔ مجھے اپنے اسلام کی بہت خوشی تھی۔ بار بار میں شکرانے کی نماز پڑھتا تھا۔ میرے اللہ نے میری مراد پوری کی، مگر جب میں ہندوؤں کو دیکھتا کہ بے چارے راستہ نہ معلوم ہونے کی وجہ سے کفر اور شرک کے لیے کیسی کیسی قربانیاں دے رہے ہیں تو مجھے خیال ہوتا کہ یہ تو مسلمانوں کا ظلم ہے۔ کتنے لوگ کفر و شرک پر مر کر ہمیشہ کی دوزخ کا ایندھن بن رہے ہیں۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ کام سب مسلمانوں کے ذمے سونپا تھا۔ میں اس سلسلے میں بہت سوچنے لگا۔ اور میری خوشی ایک طرح پھر غم کی طرف لوٹ آئی۔ اس غم میں گھلتا تھا کہ کس طرح لوگوں تک حق پہنچے۔ میں نے متھرا مرکز سے علی میاں کا پتا لیا اوران کے نام اس حال کے لیے خط لکھا۔(وہ خط ذیل میں دیا جا رہا ہے)

‘‘السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آدرنیہ (محترم) جناب مولانا علی میاں صاحب!

آپ کو یہ معلوم ہو کر آشچریہ (تعجب) ہو گا کہ میں آپ کا نیا سیوک (خادم) ہوں۔ مولوی کلیم صدیقی صاحب کے ساتھ سفر کیا اور وہاں اسلام قبول کیا۔ جماعت میں جا رہا ہوں۔ وہاں سے آ کر ہردوار میں کام کرنے کا ارادہ ہے۔ وہاں پر شانتی (سکون) کی تلاش میں آئے مجھ جیسے کتنے لوگ بھٹک رہے ہیں۔ آپ میرے لیے دعا کریں۔ ایک پرشن (سوال) غلطی کی معافی کے ساتھ آپ سے کرتا ہوں: جو لوگ اسلام کی دعوت نہ دینے کی وجہ سے اسلام سے دور رہ کر دنیا سے چلے گئے اور سدا کے لیے نرک (جہنم) کا ایندھن بن گئے، ان کی ذمہ داری کس پر ہو گی؟ آپ سے دعا کی امید ہے۔

آپ کا سیوک (خادم)

عبد الرحمن (انل راؤ شاستری)’’

میں نے جماعت میں ارادہ کیا تھا کہ ہردوار راشی کیش جا کر دعوت کا کام کروں گا۔ کتنی بڑی تعداد میں حق کے متلاشی ہندو بھائی سیدھی راہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے وہاں بھٹک رہے ہیں، بلکہ اب تو بڑی تعداد انگریزوں اور یہودیوں کی بھی وہاں رہنے لگی ہے۔ مجھے ایسے بھٹکے لوگوں کو راستہ دکھانا ہے۔ میں جماعت سے واپس آیا تو مولوی صاحب نے مجھ سے کہا: آپ کا میدان تو ہردوار اور رشی کیش ہی ہے، مگر پہلے اپنے گھر والوں کا حق ہے۔ آپ ایک آدھ سال وارنگل جا کر رہیں۔ میں وارنگل گیا۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ میرے والد اور والدہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ وہ آخر وقت تک مجھے یاد کرتے رہے اور تڑپتے رہے۔ ابھی تک مجھے غیر متعلق ہندوؤں کے کفر و شرک پر مرنے کا غم سوار تھا، مگر اب میری ماں جس نے مجھے جنم دیا، جس نے مجھے اپنے خون سے بنا دودھ پلایا، جس نے میرا پیشاب پاخانہ صاف کیا۔ میرے پیارے والد مجھے اپنی آنکھوں کا تارا سمجھ کر پالتے، پوستے رہے۔ میرے گھر سے جانے کے بعد پانچ سال تک سارے دیش میں مجھے تلاش کرتے رہے، اور روتے پھرتے رہے۔ میرے ایسے محسن ماں باپ ایمان سے محروم کفر و شرک پر مر گئے اور وہ دوزخ میں جل رہے ہوں گے۔ بس یہ خیال میرے سینے کا ایسا زخم ہے، یہ وہ زخم ہے جس کا کئی مرہم نہیں اور ایسا درد ہے جس کی کوئی دوا نہیں۔ اور جب میں سوچتا ہوں کہ مسلمانوں نے ان کو ایمان نہیں پہنچایا تو میں سوچتا ہوں کہ ایسے ظالموں کو کیسے مسلمان کہوں؟ یہ بات بھی ہے کہ مجھ بھٹکے کو مسلمان نے ہی راستہ دکھایا، مگر شاید میرے لیے میرے ایمان سے زیادہ ضروری میرے ماں باپ کا ایمان تھا، جبکہ وہ اسلام سے بہت قریب تھے۔ میرے والد اپنے گھر میں مسلمان ملازم رکھتے تھے۔ ڈرائیور ہمیشہ مسلمان رکھتے۔ بیٹری کی فیکٹری میں سارے کام کرنے والے مسلمان تھے۔ ہندو دھرم (مذہب) میں ان کو ذرا بھی یقین نہ تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میں پہلے جنم میں مسلمان رہا ہوں گا، اس لیے مجھے صرف اسلام کی باتیں بھاتی ہیں۔ ایک روز وہ اپنے ڈارئیور سے کہنے لگے کہ کسی برے کرم (عمل) کی وجہ سے میں اس جنم میں ہندو پیدا ہو گیا۔ اگلے جنم میں امید ہے کہ میں مسلمان ہوں گا۔ میں بیان نہیں کر سکتا کہ اس غم میں کس قدر گھلتا ہوں اور مجھے کبھی کبھی مسلمانوں پر حد درجہ غصہ بھی آتا ہے۔ کاش! میں پیدا ہی نہ ہوتا، آپ ذرا تصور کریں اس بیٹے کے غم او رزندگی کا دکھ، جس کو یقین ہو کہ اس کے پیارے مشفق و محسن باپ دوزخ میں جل رہے ہیں۔

الحمد للہ، میرے بڑے بھائی، بھابھی اپنے دو بچوں کے ساتھ مسلمان ہو گئے ہیں۔ والد کے انتقال کے بعد کاروبار پر بہت برا اثر پڑا۔ فیکٹری بند ہو گئی۔ انھوں نے گھر بیچ کر اب گلبرگہ میں مکان خریدا ہے اور کاروبار شروع کیا ہے۔

میری طبیعت ذمہ داری سے گھبراتی ہے، اس لیے اندر سے دل شادی کے لیے آمادہ نہیں تھا۔ مجھ جیسے معذور کے لیے شاید شریعت میں گنجائش بھی ہوتی، مگر مولوی صاحب نے نکاح کے سنت ہونے اور اس کے فضائل کچھ اس طرح بیان کیے کہ مجھے اس میں عافیت معلوم ہوئی۔ میں نے ایک غریب لڑکی سے شادی کر لی، الحمد للہ، وہ بہت نیک سیرت اور حد درجہ خدمت گزار ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں دو بچے ایک لڑکا اور ایک لڑکی عطا فرمائے ہیں۔

والد اور والدہ کے کفر و شرک پر مرنے کے غم نے مجھے نڈھال کر دیا تھا۔ ایک زمانے تک ہوش و حواس ختم ہو گئے تھے۔ نیم پاگل جنگلوں میں رہنے لگا۔ بھائی صاحب مجھے پکڑ کر لائے۔ علاج وغیرہ کرایا۔ کئی سال میں جا کر طبیعت بحال ہوئی۔ تین سال پہلے میں رشی کیش گیا۔ ستیہ پرکاش آشرم پہنچا۔ سوامی نیتا نند جی سے ملا۔ کچھ کتابیں میرے پاس تھیں۔ مولوی صاحب کی ‘‘آپ کی امانت ، آپ کی سیوا میں’’ ان کو بہت بھائی۔ وہ بہت بیمار تھے، ان کے غدود میں کینسر ہو گیا تھا۔ ایک روز انھوں نے مجھے تنہائی میں بلایا، اور مجھ سے کہا کہ میرے دل میں بھی یہ بات آئی ہے کہ اسلام سچا مذہب ہے، مگر اس ماحول میں میرے لیے اس کو قبول کرنا سخت مشکل ہے۔ میں نے ان کو بہت سمجھایا کہ آپ اتنے پڑھے لکھے عالم ہیں۔ اپنے مذہب کو ماننے اور اس کو پورے سنسار (دنیا) کے لوگوں کے سامنے ظاہر کرنے کا ہر انسان کا قانونی حق ہے۔ آپ کھل کر اعلان کریں، مگر وہ ڈرتے رہے۔ بار بار مجھ سے اسلام پر یقین کا ذکر کرتے۔ میں نے ان کو قرآن شری ہندی ترجمے کے ساتھ لا کر دیا۔ وہ ماتھے اور آنکھوں سے لگا کر روز پڑھتے تھے۔ ان کی بیماری بڑھتی رہی۔ میں نے اس خیال سے کہ کفر پر مرنے سے بچ جائیں، کلمہ پڑھنے کے لیے کہا، چاہے لوگوں میں اعلان نہ کریں۔ دلوں کابھید جاننے والا تو دیکھتا اور سنتا ہے۔ وہ اس پر راضی ہو گئے۔ میں نے ان کو کلمہ پڑھوایا، او ران کا نام عثمان رکھا۔ موت سے ایک روز پہلے انھوں نے آشرم کے لوگوں کو بلایا اور ان سے اپنے مسلمان ہونے کا کھل کر اعلان کیا اور کہا کہ انھیں جلایا نہ جائے، بلکہ اسلامی طریقے پر دفنایا جائے۔ لوگوں نے اسلامی طریقے تو پر نہیں، بلکہ ہندوؤں کے طریقے پر ان کو بٹھا کر سمادھی بنائی۔ اللہ کا شکر ہے کہ وہ یہاں کی آگ سے بچ گئے۔ ان کے مسلمان ہونے پر رشی کیش میں بہت سے لوگ میرے مخالف ہو گئے۔ مجھے وہاں رہنے میں خطرہ محسوس ہونے لگا۔ میں نے پھلت آ کر پورے حالات بتائے، مولوی صاحب نے میرا حوصلہ بڑھایا اور بتایا کہ داعی کو ڈرنا نہیں چاہیے، قرآن کا ارشاد ہے: اَلَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اﷲِ وَیَخْشَوْنَہٗ وَلَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اﷲَط وَکَفٰی بِاﷲِ حَسِیْبًا. (الاحزاب ۳۳: ۳۹) ‘‘یہ سب لوگ (انبیا) اللہ کاپیغام پہنچاتے ہیں، اور اس سے ڈرتے ہیں، اللہ کے سوا کسی اور سے نہیں ڈرتے، ان کے حساب کے لیے اللہ کافی ہے۔’’

اللہ کی مدد ہمیشہ داعیوں کے ساتھ رہی ہے۔ کچھ روز گلبرگہ رہ کر میں نے پھر رشی کیش کا سفر کیا۔ ہمارے آشرم میں کئی ذمہ دار اب میرے اور اسلام کے بہت قریب ہیں۔ اور دوسرے آشرموں میں بھی لوگ مانوس ہو رہے ہیں۔ شانتی کنج کے تو بہت سے لوگ اسلام کو پڑھ رہے ہیں۔ امید ہے کہ دعوت کی فضا ضرور بنے گی۔ اب کافی لوگ میری باتیں محبت سے سنتے ہیں۔ میرا ارادہ مستقل وہیں رہ کر کام کرنے کا ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے ہمت عطا فرمائے۔ آمین!

بس مسلمان بھائیوں سے تو میری درخواست یہی ہے کہ ہم جیسے دکھیاروں کے غم کو سمجھیں، جن کو اللہ نے ہدایت دی، مگر ان کے ماں باپ دوزخ میں جل رہے ہیں۔ ذرا گہرائی سے اس غم کو سمجھنے کی کوشش کریں ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ذمہ داری ہم مسلمانوں کے ذمہ سپرد کی ہے، اس کے لیے فکر کریں۔

٭٭٭