حضورﷺ کی تلواریں

مصنف : سبوخ سید

سلسلہ : سیرت النبیﷺ

شمارہ : اگست 2014

پیغمبرﷺ کے پاس نو تلواریں تھیں جن میں سے دو انھیں وراثت میں ملیں اور تین مال غنیمت میں حاصل ہوئیں۔ عضب انھیں تحفے میں ملی تھی۔ ان نو میں سے آٹھ تلواریں ترکی کے شہر استنبول میں واقع توپ کاپی عجائب گھر میں محفوظ ہیں جب کہ ایک مصر کی ایک جامع مسجد میں موجود ہے۔

الم اثور:

اس تلوار کو ماثور الفجر بھی کہتے ہیں اور یہ پیغمبر اسلام کو اپنے والد سے وراثت میں ملی تھی۔ اس تلوار کا دستہ سونے کا اور اطراف سے مڑا ہوا ہے جس پر زمرد اور فیروزے جڑے ہیں۔ اس تلوار کی لمبائی 99 سینٹی میٹر ہے۔ یہ تلوار پیغمبرﷺ نے بعد میں اپنے چچا زاد بھائی علی بن ابی طالب کو دے دی تھی۔ اب یہ تلوار ترکی شہر استنبول کے عجائب گھر توپ کاپی میں موجود ہے۔
الرسّوب:

الرسّوب من السیوف کے معنی ہیں، اندر گھس جانے والی تلوار۔ اس کی لمبائی 140سینٹی میٹر ہے۔ اس تلوار کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ یہ نسل در نسل منتقل ہو تے پیغمبرﷺ تک پہنچی۔ اس تلوار پر سنہری دائرے بنے ہوئے ہیں جن پر امام جعفر الصادق کا نام کندہ ہے۔ یہ تلوار بھی ترکی کے توپ کاپی میوزیم میں محفوظ ہے۔
البتّار:

البتّار کا معنیٰ السیف القاطع یعنی کاٹ دینے والی تلوار ہے۔ روایات کے مطابق اس تلوار کا اصل مالک جالوت تھا جس کا حضرت داؤد نے سر قلم کر دیا تھا۔ تلوار پر ایک تصویر بھی بنی ہوئی ہے جس میں حضرت داؤد جالوت کا سر قلم کرتے دکھائے گئے ہیں۔ تلوار پر ایک ایسا نشان بھی بتایا جاتا ہے جو تراشیدہ چٹانوں کی وجہ سے منفرد شہرت حاصل کرنے والے اردن کے بترا نامی شہر کے تقریباً دو ہزار قدیم باشندے اپنی ملکیتی اشیا پر بنایا کرتے تھے۔
اس تلوار کو سیف الانبیا یعنی نبیوں کی تلوار بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس پر انبیا حضرات داوؤد، سلیمان، ہارون، یسع، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور پیغمبرِ اسلام نام کنندہ ہیں۔ اس تلوار کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ اسی تلوار سے دجال کا مقابلہ کریں گے۔101 سینٹی میٹر لمبی یہ تلوار پیغمبرِﷺ کو یثرب کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے مالِ غنیمت میں حاصل ہوئی اور اب توپ کاپی میں محفوظ ہے۔

 الحتف:

حتف کے معنیٰ ہیں مارنا، حتف السیف یعنی مار دینے والی تلوار۔ یہ تلوار یہودیوں کے قبیلے لاوی کے پاس بنی اسرائیل کی نشانیوں کے طور پر نسل در نسل محفوظ چلی آ رہی تھی۔ یہ بھی پیغمبر اسلام کو بنو قینقاع سے مالِ غنیمت میں حاصل ہوئی۔ روایات کے مطابق یہ تلوار حضرت داوؤد نے خود بنائی تھی۔ وہ لوہے کا ساز و سامان اور ہتھیار بنانے میں خاص مہارت رکھتے تھے۔یہ تلوار البتّار کی طرز پر ہی بنی ہوئی ہے لیکن سائز میں بڑی ہے۔ تلوار کی لمبائی 112 سینٹی میٹر اور چوڑائی آٹھ سینٹی میٹر ہے۔ یہ تلوار بھی اب توپ کاپی میں محفوظ ہے۔
القلعی:

خوبصورت میان والی یہ تلوار بھی البتّار اور الحتف کی طرح پیغمبر اسلام کو یثرب کے قبیلے بنو قینقاع سے مال غنیمت میں حاصل ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ اس تلوار کے بارے میں یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ نبیﷺ کے داداحضرت عبد المطلب نے اس تلوار کو اور ہرنوں کے سونے سے بنے ہوئے دو مجسموں کو چاہِ زمزم سے نکلوایا تھا اور یہ بھی کہ انھیں بنی اسماعیل کے سسرالی قبیلے نے دفن کیا تھا۔القلعی کے نام کی وجہ اس کا شام، ہندوستان یا چین کے سرحدی علاقے سے تعلق ہو سکتا ہے جب کہ محققین کا ایک حلقہ یہ دلیل بھی دیتا ہے کہ قلعی ایک قسم کی دھات کا نام ہے جو دیگر دھاتی چیزوں کو چمکانے یا ان پر پالش چڑھانے کے کام آتی ہے۔ اس تلوار کی لمبائی 100 سینٹی میٹر ہے۔ اب یہ تلوار بھی ترکی کے عجائب گھر میں محفوظ ہے۔
الذوالفقار:

اس تلوار کی شہرت دو دھاری ہونے اور اس پر بنے ہوئے دو نوک والے نقش و نگار کی وجہ سے ہے۔ یہ تلوار روایات کے مطابق جنگِ بدر میں مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی تاہم بعد میں حضورﷺ نے اسے علیؓ ابنِ ابی طالب کو دے دیا۔ اکثر حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تلوار ان کے خاندان کے پاس کئی نسلوں تک رہی تاہم اب یہ بھی توپ کاپی میں بتائی جاتی ہے۔
المِخذم:

اس کے معنیٰ بھی ہیں کاٹ دینے والی۔ اس تلوار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سیدنا علیؓ ابنِ ابی طالب کو شامیوں کے ساتھ ایک معرکے میں مال غنیمت کے طور پر ملی تھی۔ تاہم دوسری رائے یہ ہے کہ نبی ﷺنے یہ تلوار علیؓ ابنِ ابی طالب کو خود دی تھی جو ان کے ہاں نسل در نسل رہی۔ تلوار پر زین الدین العابدین کے الفاظ کنندہ ہیں۔اس تلوار کی لمبائی 97 سینٹی میٹر ہے اور یہ تلوار بھی توپ کاپی میں رکھی گئی ہے۔
القضیب:

قضیب کے معنیٰ ہیں کٹی ہوئی شاخ یا بغیر سدھائی ہوئی اونٹنی۔ یہ تلوار پتلی اور بہت کم چوڑائی والی ہے۔ یہ تلوار پیغمبر اسلام کے پاس تو ضرور رہی لیکن اس سے کوئی جنگ نہیں لڑی گئی۔ تلوار پر چاندی سے ‘لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب’ کے الفاظ کنندہ ہیں۔ تلوار ہمیشہ پیغمبرِ اسلام کے گھر میں موجود رہی۔کہا جاتا ہے کہ فاطمیوں کے عہد میں اس تلوار کو استعمال کیا گیا تھا۔ تلوار کی لمبائی 100 سینٹی میٹر ہے اور اس تلوار کی میان کسی جانور کی کھال کی بنی ہوئی ہے۔ یہ تلوار بھی ترکی کے توپ کاپی عجائب گھر، استنبول میں محفوظ ہے۔
العضب:

العضب کے معنی ہے تیز چلنے والی، تیز دھار والی تلوار۔ پیغمبر اسلام کو یہ تلوار ایک صحابی حضرت سعد بن عبادہ الانصاری نے غزوہ اْحد سے قبل بطورِ تحفہ دی۔ آپ نے جنگ اْحد میں یہی تلوار ابو دجانہ الانصاری کو لڑنے کے لیے عطا فرمائی۔ یہ تلوار مصر کے شہر قاہرہ کی مشہور جامع مسجد الحسین بن علی میں محفوظ ہے۔
ترک میوزیم

ترکی کے شہر استنبول میں واقع توپ کاپی عجائب گھر میں اسلام کے اولین دور سے متعلق بہت سے نوادرات محفوظ ہیں۔

٭٭٭