دين و دانش
نیکی کی اصل حقیقت
شاہ خان
نیکی کے مختلف درجے ہیں۔ نیکی کا پہلا درجہ یہ ہے کہ ہم کسی کے ساتھ زیادتی نہ کریں، کسی کا حق نہ ماریں اور کسی کو اپنے قول و فعل سے تکلیف نہ پہنچائیں۔ اگر کوئی ہمارے ساتھ زیادتی کرے تو ہمیں اپنے دفاع اور حق کے حصول کا حق حاصل ہے، لیکن اس حد سے آگے بڑھنا درست نہیں جو انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہو۔
نیکی کا اگلا درجہ یہ ہے کہ اختلافات، شکایات اور دوسروں کی زیادتیوں کے باوجود ہم انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ کسی سے ناراض ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے حقوق پامال کرنے لگیں، اس کے ساتھ ناانصافی کریں یا اس کی برائیوں کے جواب میں خود برائی پر اتر آئیں۔ نیکی کا اس سے بھی بلند درجہ یہ ہے کہ ہم ذاتی اختلافات اور شکایات کے باوجود دوسروں کے خیرخواہ رہیں، ان کے ساتھ بھلائی کریں اور جہاں ممکن ہو، ان کی مشکلات دور اور مسائل حل کرنے میں حتی الوسع ان کی مدد کریں۔
نیکی کا سب سے بلند اور مشکل درجہ یہ ہے کہ انسان دوسروں کی برائی کا جواب بھلائی سے دے، ان کی زیادتیوں کو معاف کرے، ان کے عذر قبول کرے، ان کے بارے میں حسنِ ظن رکھے اور بعض معاملات میں، جہاں انصاف اور دوسروں کے حقوق متاثر نہ ہوتے ہوں، اپنے حق سے دست بردار ہو کر معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص ماضی میں ہمارے ساتھ زیادتی کرتا رہا ہو، تب بھی جب وہ کسی حقیقی مشکل میں مبتلا ہو اور ہماری مدد کا محتاج ہو تو ہم اپنی استطاعت کے مطابق اس کی مدد کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔
یہ سب کام بظاہر سادہ معلوم ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ انسان کے لیے بڑے مشکل امتحانات ہیں۔ ان کے لیے اپنی انا، غصے، جذبات، ذاتی پسند، وقت اور مال کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ کسی سے بدلہ لینا آسان ہے معاف کرنا مشکل ہے؛ کسی کی برائی کا جواب برائی سے دینا آسان ہے بھلائی سے دینا مشکل ہے؛ اور اپنے مخالف اور حریف کو مشکل میں دیکھ کر خوش ہونا آسان ہے، اس کی مدد کے لیے آگے بڑھنا مشکل ہے۔
اصل نیکی اسی وقت ہے جب انسان کے پاس برائی کرنے کا موقع بھی ہو، بدلہ لینے کی طاقت بھی ہو، اپنی ناراضی کا اظہار کرنے کا جواز بھی ہو، لیکن وہ محض اپنی خواہش اور انا کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا، انصاف اور اخلاق کو ترجیح دے۔
اللہ تعالیٰ انسانوں کو مشکلات میں مبتلا کرکے ان کی تکلیف سے خوش نہیں ہوتا۔ زندگی کے حالات، باہمی تعلقات، اختلافات،محرومیاں اور دوسروں کے رویے بھی انسان کے امتحان کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ان حالات میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ انسان اپنے اختیار، طاقت، وسائل اور جذبات کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ آیا وہ غصے، انتقام، خود غرضی اور تکبر کے تابع ہو جاتا ہے یا صبر، عدل، رحم، احسان اور خیر خواہی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔
قرآن مجید نے نیکی کی اس بلند منزل کے لیے ’العقبۃ‘ یعنی دشوار گزار گھاٹی کی تعبیر استعمال کی ہے۔ سورۃ البلد میں غلام آزاد کرنے، بھوک کے دن کھانا کھلانے، یتیم اور محتاج کی مدد کرنے، پھر ایمان، صبر اور رحم کی تلقین کرنے کا ذکر ہے۔ گویا نیکی محض چند رسمی اعمال کا نام نہیں، بلکہ اپنی ذات سے آگے بڑھ کر دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے اور خیر بننے کا نام ہے۔
یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے۔ نماز، روزہ، تلاوتِ قرآن اور ذکر و اذکار یقیناً دین کی بنیادی اور ناگزیر عبادات ہیں۔ ان کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ لیکن ان عبادات کا ایک بنیادی مقصد انسان کے اندر وہ شعور، تقویٰ اور اخلاقی قوت پیدا کرنا بھی ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ بندوں کے حقوق ادا کرنے کے قابل بنائے۔ عبادات اگر ہمارے اندر سچائی، امانت، انصاف، برداشت، رحم اور انسانوں سے محبت اور خیر خواہی پیدا نہیں کرتیں تو ہمیں اپنے طرزِ عمل اور اپنی روحانی تربیت کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے-یہ کیسی عبادت ہے کہ انسان سجدے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکے، لیکن لوگوں کے سامنے اپنی انا سے دست بردار نہ ہو؟ زبان پر ذکرِ الٰہی ہو، لیکن دل نفرت، حسد اور انتقام سے بھرا رہے؟ ہم اللہ تعالیٰ سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگیں، لیکن خود دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنے کے لیے تیار نہ ہوں؟ ہم اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار ہوں، لیکن دوسروں کے لیے رحمت، عفو اور آسانی کا رویہ اختیار نہ کریں؟
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر زیادتی برداشت کی جائے، ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھائی جائے یا ظالم کو اس کے ظلم سے روکنے کی کوشش نہ کی جائے۔ معاف کرنا اور ظلم کو قبول کر لینا دو مختلف باتیں ہیں۔ انصاف کا تقاضا ہو تو اپنا حق حاصل کرنا اور دوسروں کو ظلم سے بچانا بھی نیکی ہے۔ اصل کمال یہ ہے کہ انسان حق کے لیے کھڑا ہو، مگر خود ناانصافی نہ کرے؛ اپنی حدود کی حفاظت کرے، مگر انتقام کی آگ میں اپنا کردار تباہ نہ کرے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ نیکی کا امتحان صرف اس وقت نہیں ہوتا جب ہم کسی ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں، کسی کو کھانا کھلاتے ہیں یا کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب سامنے والا ہمارا مخالف ہو، ہمارے ساتھ زیادتی کر چکا ہو، ہماری طبیعت اس کے خلاف ہو، اور اس کے باوجود ہم انصاف، رحم اور خیر خواہی کا راستہ اختیار کریں۔
نیکی صرف یہ نہیں کہ ہم کسی کو نقصان نہ پہنچائیں؛ نیکی یہ بھی ہے کہ جہاں ہم کسی کے لیے آسانی پیدا کر سکتے ہوں، وہاں اپنی انا، ناراضی اور خود غرضی کو رکاوٹ نہ بننے دیں۔
شاید یہی وہ دشوار گزار گھاٹی ہے جسے عبور کرنا ہماری اصل اخلاقی تربیت، ہماری عبادات کے حقیقی ثمرات اور ہمارے ایمان کا اہم امتحان ہے۔
