دين و دانش

اسلام ميں عورت كی اہميت

سيد ثمر احمد

كم علم اور كم فہم لوگ يہ اعتراض كرتے ہيں كہ اسلام نے خاوند كو مجازی خدا كہا ہے حالانكہ اسلام نے کہیں شوہر کو مجازی خدا نہیں کہا۔ یہ ویدانت/ ہندومت کے بگڑے فلسفے سے برآمد ہو کے ہمارے ہاں در آیا۔ یہ پَتِی پرمیشوَر کا ترجمہ ہے۔۔۔ اسلام میں انسانی شرف کے معاملہ میں مرد اور عورت برابر ہیں۔ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں- ​​لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ ۖ بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ

"تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو میں ضائع نہیں کروں گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم سب باہم ایک دوسرے سے ہو"

- ​مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

"جو شخص بھی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور انہیں ان کے بہترین اعمال کا اجر عطا فرمائیں گے"

- ​وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا

"اور جو کوئی نیک اعمال کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، جب کہ وہ مومن بھی ہو، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر تل کے برابر (کھجور کی گٹھلی کے شگاف یا جھِلی برابر) بھی ظلم نہیں کیا جائے گا"

- ​مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزَىٰ إِلَّا مِثْلَهَا ۖ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ

"جس نے کوئی برائی کی تو اسے اتنی ہی سزا دی جائے گی، اور جس نے نیک عمل کیا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اور وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے جہاں انہیں بغیر حساب کے رزق دیا جائے گا۔"

- ​لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوا ۖ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ

"مردوں کے لیے اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا (یعنی جن اعمال کا اکتساب کیا) اور عورتوں کے لیے اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا۔"

- ​أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ۔ وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ۔ وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ

"کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اور انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی، اور اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی"

پھر دیکھو جو تاکیدات عورت کے ساتھ احترام، محبت اور حسنِ سلوک سے متعلق آئی ہیں وہ مرد کے بارے میں نہیں آئیں۔ مردوں کو پابند کیا گیا ہے:

- ​وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا

"اور ان عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو۔ پھر اگر تم انہیں ناپسند کرو تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بڑی بھلائی رکھ دے"

اب دیکھو ہمارے آقا و مولاﷺ نے دنیا کی سب سے حسین مخلوق عورت کے بارے میں کیا کہا ہے:- ​خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي

"تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں"

- أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ

"مومنوں میں سے کامل ترین ایمان اس شخص کا ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں، اور تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لیے (اخلاق و سلوک میں) سب سے بہتر ہوں"

​حُجَّۃُ الوداع کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:

- ​فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللَّهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ

"عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو! تم نے انہیں اللہ کی امان کے ساتھ اپنے عقد میں لیا ہے اور اللہ کے کلمے کے ذریعہ ان کے جسموں کو اپنے لیے حلال کیا ہے"

- ​اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا

"عورتوں کے ساتھ خیر خواہی اور حسنِ سلوک کرنے کی میری وصیت قبول کرو"

اب جانو کہ خدائے رحمٰن صراحت سے خواتین پر ظلم و ستم پر کیا وعیدات و تنبیہات نازل کر رہا ہے:

- وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِالمَعْرُوفِ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِالمَعْرُوفِ ۚ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوا ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِك فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ"اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت کے قریب پہنچ جائیں، یا تو انہیں اچھے طریقے سے (نکاح میں) روک لو یا اچھے طریقے سے رخصت کر دو، اور انہیں تکلیف پہنچانے کی غرض سے نہ روکو تاکہ تم ان پر زیادتی کرو۔ اور جو شخص ایسا کرے گا تو اس نے درحقیقت اپنے ہی اوپر ظلم کیا"

- ​فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ المَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ"پس (کسی ایک بیوی کی طرف) اس طرح بالکل ہی نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر ادھر لٹکتی ہوئی (معلق) چھوڑ دو"

- ​وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ-"اور عورتوں کو اس لیے تنگ نہ کرو کہ جو کچھ تم نے انہیں دیا ہے (مہر وغیرہ) اس کا کچھ حصہ واپس لے اڑو"

​- ​أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُم مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ--"ان کو اپنی استطاعت کے مطابق وہیں رکھو جہاں تم خود رہتے ہو اور انہیں تنگ کرنے کے لیے تکلیف نہ پہنچاؤ"

اب پھر جانو کہ ہمارے ہادی و رہبر،  حضورِ اعلیٰﷺ کس قدر ناراضی ظالم مردوں پہ دکھا رہے ہیں:- ​لَا يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ ثُمَّ يُجَامِعُهَا فِي آخِرِ الْيَوْمِ

"تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو غلام کی طرح نہ مارے کہ پھر دن کے اختتام پر اس سے صُحبت بھی کرے"

- ​ایک صحابی نے پوچھا اے اللہ کے رسول! ہم پر ہماری بیویوں کا کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:​أَنْ تُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَتَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ، وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحْ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ--"یہ کہ جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے چہرے پر نہ مارو، اسے برا بھلا (یا لعن طعن) نہ کہو اور گھر کے علاوہ اس سے علیحدگی اختیار نہ کرو"

- ​وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ--"اور مظلوم کی آہ سے بچو، کیوں کہ اس اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ یا رکاوٹ نہیں ہوتی"

(یعنی اگر شوہر بیوی پر ظلم کرے گا تو وہ بھی مظلوم کے زمرے میں آئے گی اور اس کی بددعا مقبول ہوگی)

- ​مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ فَمَالَتْ إِلَى إِحْدَاهُمَا، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ مَائِلٌ

"جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ (عدل کرنے کے بجائے) کسی ایک کی طرف جھک جائے، تو قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ فالج زدہ (جھکا ہوا) ہو گا"

​- لقَدْ أَطَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ، لَيْسَ أُولَئِكَ بِخِيَارِكُمْ--​"محمد کے گھر والوں کے پاس بہت سی عورتیں اپنے شوہروں کی شکایت لے کر آئی ہیں، (یاد رکھو!) جو لوگ اپنی بیویوں کو مارتے ہیں وہ تم میں سے اچھے لوگ نہیں ہیں"

- ​كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ--"آدمی کے گنہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو ضائع کر دے جن کی روزی کا وہ ذمہ دار ہے"

- ​اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ: الْيَتِيمِ، وَالْمَرْأَةِ--"اے اللہ! میں ان دو کمزوروں: یتیم اور عورت کے حق (تلف کرنے یا ان پر ظلم کرنے) کو سخت گناہ اور قابلِ مؤاخذہ قرار دیتا ہوں"

- ​وَلَا تُقَبِّحْ--"(اپنی بیوی کو) برا بھلا نہ کہو اور نہ ہی اس کی تحقیر کرو"

برا ہو ان فیمینسٹس اور میلچونِسٹس کا جن کی وجہ سے لوگ دین کے روشن چہرے پہ معترض ہوتے ہیں۔ اور تُف خود پر بھی کرو۔۔۔ براہِ کرم جتنا ٹائم اِدھر اُدھر ضایع کرتے ہو، تھوڑا سا قرآن و سنت بھی پڑھ لیا کرو۔۔۔ خدا پر بہتان نہ باندھا کرو۔ یہ بدترین اور ہلاکت خیز جرم ہے-

https://www.facebook.com/maamirhashim.khakwani/posts/pfbid02o6tBJxTrcXsNKE2bUvZoyEWmEvfDoodrMcroQjUoQ4tQmUE1EDmYG4eR9WqST8LLl

 

بشکریہ : https://www.facebook.com/maamirhashim.khakwani/posts/pfbid02o6tBJxTrcXsNKE2bUvZoyEWmEvfDoodrMcroQjUoQ4tQmUE1EDmYG4eR9WqST8LLl