مرتبے کی فضیلت اور کسی معاملے کا بہتر فہم، الگ الگ چیزیں ہیں

مصنف : ڈاکٹر مولانا محمد عمار خان ناصر

سلسلہ : دین و دانش

شمارہ : اكتوبر 2026

دين و دانش

مرتبے کی فضیلت اور کسی معاملے کا بہتر فہم، الگ الگ چیزیں ہیں

عمار خان ناصر

قبیصہ بن ذویب کہتے ہیں کہ ایک عورت نے منت مان لی کہ اگر اس نے فلاں کام کیا تو وہ کعبہ کے پاس اپنے بیٹے کو ذبح کرے گی۔ پھر اس نے وہ کام کر لیا اور اب فتویٰ پوچھنے کے لیے مدینہ آئی۔ عبد اللہ بن عمرؓ نے اس سے کہا کہ منت پوری کرنا اللہ کا حکم ہے اور انسان کو قتل کرنے سے اللہ نے منع کیا ہے۔ (یعنی انھوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا)۔ پھر وہ ابن عباسؓ کے پاس گئی تو انھوں نے کہا کہ عبد المطلب نے اپنے بیٹے عبد اللہ کو ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو پھر ان کی جگہ سو اونٹ ذبح کیے تھے، اس لیے تم بھی منت پوری کرنے کے لیے سو اونٹ ذبح کرو۔

مروان بن الحکم اس وقت مدینے کے امیر تھے۔ ان تک دونوں کا فتویٰ پہنچا تو انھوں نے کہا کہ ان دونوں نے درست فتویٰ نہیں دیا، کیونکہ گناہ کے کام کی منت مانی جائے تو وہ معتبر نہیں ہوتی۔ مروان نے اس عورت سے کہا کہ اللہ سے توبہ اور استغفار کرو اور کفارے کے طور پر صدقہ وخیرات اور نیکی کے جو کام کرنے کی استطاعت ہو، وہ کرو۔

راوی کہتے ہیں کہ مروان کے اس فتوے پر سب لوگ بہت خوش ہوئے اور انھیں لگا کہ مروان کا فتویٰ درست ہے اور پھر اس کے بعد اہل علم یہی فتویٰ دینے لگے کہ گناہ کے کام کی منت کا کوئی اعتبار نہیں۔ (تاریخ الطبری)

واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ رتبے اور درجے کی فضیلت کا مطلب لازماً‌ یہ نہیں ہوتا کہ ہر معاملے میں آدمی کو اصابتِ رائے بھی حاصل ہو۔ قرآن نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کی مثال سے واضح کیا ہے کہ ایک خاص معاملے میں حضرت سلیمان کو اللہ نے بہتر معاملہ فہمی سے نوازا۔ حضرت عمرؓ اسی لیے اکابر مہاجرین وانصار کی مجلس میں عبد اللہ بن عباسؓ جیسے نوجوان کو شریک کیا کرتے اور ان کی رائے کو خاص وزن دیتے تھے۔ یہی علمی ثقافت صحابہ وتابعین کے عہد میں عموماً‌ قائم رہی۔

واقعے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اجتہادی معاملات میں امیر یا صاحبِ امر کو اپنے منصب کی وجہ سے ایک خاص اتھارٹی حاصل ہے۔ اسے اکابر اہل علم کا کوئی فتویٰ یا اجتہاد مزاج شریعت یا عام لوگوں کی مصلحت کے منافی محسوس ہو تو وہ حسبِ موقع اپنے فہم کے مطابق اس کے خلاف لوگوں کو بہتر فتویٰ دے سکتا ہے-