دين و دانش
اَہْلُ السُّنَّۃ وَالْجَمَاعَۃ کون؟ ۔
مفتی منیب الرحمٰن
حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خَاتِمُ الْاَنْبِیَآئِ وَالْمُرْسَلِیْن سیدنا محمد رسول اللہﷺ تک تمام انبیائے کرام و رُسلِ عظام علیہم السلام دینِ اسلام کے داعی اور علمبردار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بے شک اللہ کے نزدیک (پسندیدہ) دین اسلام ہے‘‘ (آل عمران: 19)، نیز فرمایا: ''اور جو اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے گا تو اُس سے وہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا‘‘ (آل عمران: 85)۔ الغرض دین ہمیشہ ایک ہی رہا ہے اور وہ ہے اسلام؛ البتہ مختلف انبیائے کرام و رُسُلِ عظام کے ادوار میں شرعی احکام میں حذف و اضافہ، ترمیم و تنسیخ اور ارتقا کا سلسلہ جاری رہا ہے تاآنکہ خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہﷺ تشریف لائے۔ اب آپﷺ کی شریعت تمام سابقہ شرائع کی خاتِم ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ناقابلِ تبدیل، حتمی، قطعی اور آخری منشورِ حیات ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''اس نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جو ہم نے وحی کے ذریعے آپ کی طرف بھیجا اور اسی کا حکم ہم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا تھا (اور تاکید کی تھی) کہ تم اس دین کو قائم رکھنا اور اس کے بارے میں تفرقہ نہ ڈالنا، جس دینِ (توحید) کی طرف آپ مشرکوں کو بلارہے ہیں، وہ اُن پر بہت بھاری (اور شاقّ ) ہے، اللہ جسے چاہتا ہے اس دین پر جمع فرمادیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اِس دین کی طرف اُس کی رہنمائی فرماتا ہے‘‘ (الشوریٰ: 13)۔
اللہ تعالیٰ نے حجۃ الوداع کے موقع پر تکمیلِ دین کا اعلان فرمایا: ''آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند فرما لیا ہے‘‘ (المائدہ: 3)، نیز فرمایا: ''اُس نے اس سے پہلے اور اس قرآن میں بھی تمہارا نام مُسلم رکھا ہے تاکہ رسول تم پر گواہ ہوں اور تم لوگوں پر گواہ ہو جائو‘‘ (الحج: 78)۔
جب اعلانِ نبوت ہوا تو حجاز میں تین بڑے گروہ یہود، نصاریٰ اور مشرکینِ مکہ اپنے آپ کو ملتِ ابراہیمی کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کا ردّ کرتے ہوئے فرمایا: ''ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ نصرانی، بلکہ وہ ہر باطل سے یکسو ہو کر خالص مسلمان تھے اور وہ مشرکوں میں سے (بھی ) نہ تھے‘‘ (آل عمران: 67)۔ اسی طرح تعمیرِ کعبہ کے بعد حضرات ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام نے دعا کی: ''اے ہمارے رب! اور ہمیں خاص اپنی فرمانبرداری (اسلام) پر برقرار رکھ اور ہماری اولاد میں سے (بھی) امتِ مسلمہ پیدا فرما‘‘ (البقرہ: 128)، آیت میں ''مُسْلِمَیْن‘‘ اور ''اُمَّۃً مُّسْلِمۃً‘‘ کے کلمات ارشاد فرمائے گئے ہیں۔
جب ہم ''اَھلُ السُّنَّۃ وَالْجَمَاعَۃ‘‘ کا عنوان اختیار کرتے ہیں تو لبرل سادہ لوح لوگوں کوگمراہ کرتے ہیں کہ گویا یہ اسلام کے مقابل کوئی تصورِ دین ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے! بلکہ ہمارے نزدیک یہ دینِ اسلام کی صحیح ترین تعبیر ہے جو حدیثِ مبارک سے اخذ کی گئی ہے۔ جب نبی کریمﷺ نے پیش گوئی فرمائی کہ پچھلی امتوں کی طرح میری امت بھی فرقوں میں بٹ جائے گی تو آپﷺ سے سوال ہوا: ''ان میں سے نجات پانے والا فرقہ کون سا ہو گا‘‘، آپﷺ نے فرمایا: ''مَا اَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِیْ‘‘، جو میری اور میرے اَصحاب کی راہ پر چلے گا، (ترمذی: 2641)۔ ''مَا اَنَا عَلَیْہِ‘‘ کو سنّت سے تعبیر کیا گیا ہے اور ''اَصْحَابِی‘‘ کو جماعت سے تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ اس امت میں انبیائے کرام اور ذاتِ رسالت مآب عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد انسانیت کا سب سے قیمتی اثاثہ صحابہ کرام کی جماعت ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبِ مکرّمﷺ کی صحابیت کے شرف سے مشرّف فرمایا، ان میں وہ اہلِ بیت اطہار بھی شامل ہیں جو رسول اللہﷺ کی حیاتِ ظاہری میں موجود تھے اور آپﷺ سے نسبتِ قرابت کے ساتھ ساتھ شرفِ صحابیت سے بھی مشرّف ہوئے۔ اسی عہد کو رسول اللہﷺ نے خَیْرُ الْقُرُوْن سے تعبیر فرمایا۔ احادیثِ مبارکہ میں ہے: (1) ''اللہ تعالیٰ کا دستِ تائید جماعت پر ہے‘‘ (نسائی: 4020)، (2) ''جماعت سے وابستگی کو لازم پکڑو‘‘ (ترمذی: 2165)، (3) ''بے شک میری امت (بحیثیتِ مجموعی) گمراہی پر جمع نہیں ہو گی، پس جب تم اختلاف دیکھو تو سوادِ اعظم سے وابستہ رہو‘‘ (ابن ماجہ: 3950)، (4) ''بے شک شیطان انسان کے لیے بھیڑیا ہے، جیسے بکریوں کے لیے بھیڑیا، وہ اُس بکری کو شکار کرتا ہے جو ریوڑ سے دور چلی جاتی ہے اور ایک جانب نکل جاتی ہے، پس تم گروہ بندی سے بچ کر رہو اورجماعت و عَامّۃ المسلمین اور مسجد کو لازم پکڑو‘‘ (مسند احمد: 22029)۔
امام احمد رضا قادری نے بطورِ تفاخر وتشکُّر اہلِ سنّت کے عنوان کو اختیار کیا ہے:
اہل سنّت کا ہے بیڑا پار، اصحابِ حضور--نجم ہیں اور نائو ہے، عترت رسول اللہ کی
آج کل بھی ہم بعض اوقات اختصار کے طور پر ''اہلسنّت‘‘ کا عنوان اختیار کرتے ہیں، اس سے مراد اہلسنّت و جماعت ہی ہوتا ہے۔ امام اہلسنّت کا یہ شعر دو حدیثوں کا مجموعہ ہے: (1) ''میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں، تم جس کی بھی پیروی کرو گے، ہدایت یافتہ ہو گے‘‘، یہ حدیث معنی کی وحدت اور الفاظ کے فرق کے ساتھ متعدد کتبِ احادیث میں روایت کی گئی ہے۔ (2) ''میرے اہلِ بیت کی مثال کشتیِ نوح کی سی ہے، جو اس میں سوار ہوا، نجات پا گیا اورجو اس سے پیچھے رہ گیا، وہ ہلاک ہو گیا‘‘ (المستدرک: 3312)۔ ''سنّت سے مراد دین پر چلنے کی وہ راہ ہے، جو رسول اللہﷺ نے اپنے اقوالِ مبارکہ، افعالِ مبارکہ اور احوالِ مبارکہ کے ذریعے امّت کی اتباع کے لیے مقرر فرمائی‘‘۔ اہلسنّت و جماعت اس آیت کا بھی مصداق ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''اور جو شخص اپنے اوپر ہدایت واضح ہونے کے باوجود رسول اللہ کی مخالفت کرے اور وہ مسلمانوں کے راستے سے ہٹ کر الگ راستے پر چلے تو ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور (قیامت کے دن) اسے جہنم میں جھونک دیں گے اور وہ کیسا برا ٹھکانا ہے‘‘ (النسآء: 115)۔ اس آیت میں بھی اتباعِ سنّت اور سبیلِ مومنین سے انحراف کرنے والے کو جہنم کا سزاوار قرار دیا گیا ہے۔
بریلی امام احمد رضا قادری کا وطنِ مالوف اور جائے پیدائش ہے۔ یہ مذہب و مسلک کا نام نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے مسلک کا تعارف اہلسنّت و جماعت کے عنوان سے کرنا چاہیے۔ اس پر ایک بزرگ نے‘ اللہ انہیں صحت و سلامتی کے ساتھ درازیِ عمر عطا فرمائے‘ ناراضی کا اظہار فرمایا۔ سو اُن کے اطمینانِ قلب کے لیے ہم اکابرِ اہلسنّت کے چند شواہد پیش کر رہے ہیں:
نبیرۂ امامِ اہلسنّت، تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں القادری الازہری نے اپنے عربی رسالے ''حَقِیْقَۃُ الْبَریلَوِیّہ‘‘ میں لکھا: ''اہلسنّت و جماعت کو بریلویت سے منسوب کرنا ہندوستان کے دیوبندی حضرات اور جو اہلسنّت کی عداوت میں اس راہ پر چلے‘ اُن سب کا طریقۂ کار ہے، الحمدللہ! ہم اس تہمت سے بری ہیں اور ہم بریلویت کو دین اور ملتِ جدیدہ کے طور پر اختیار نہیں کرتے، ہم سیّد المرسلینﷺ کی روشن ملّت کا حصہ ہیں، جس کی رات دن کی مانند روشن ہے، ہم ہمیشہ سے اہلسنّت رہے ہیں، اہلسنّت کے اندر شامل رہے ہیں اور اہلسنّت کے ساتھ رہے ہیں‘‘۔ مزید لکھتے ہیں: ''ہم صوفیہ صافیہ ہیں اور اہلسنّت و جماعت کا سوادِ اعظم ہیں، سلَف سے خَلَف تک جو اہلسنّت طریقۂ صوفیہ پر رہے ہیں، اگرچہ ان سب کا بریلی کے علماء سے نہ تَلَمُّذ کا رشتہ ہے، نہ طریقت کا، بس انہوں نے امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان قادری بریلوی کی طرف منسوب کر کے ''بریلویہ‘‘ کہنا شروع کر دیا‘‘ (الحق المبین (عربی)، ص: 3)۔
تاج الشریعہ سے سوال ہوا: ''پاکستان میں بعض لوگ اپنے آپ کو بریلوی کہتے ہیں اور بعض دیو بندی، کیا یہ اچھی بات ہے؟‘‘، انہوں نے فرمایا: ''بریلوی کوئی مسلک نہیں ہے، ہم مسلمان ہیں، اہلسنّت و جماعت ہیں، ہمارا مسلک یہ ہے کہ ہم حضورﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں، اصحابِ رسول کا ادب کرتے ہیں، اہلِ بیتِ اطہار سے محبت کرتے ہیں، اولیاء اللہ سے عقیدت رکھتے ہیں، فقہ میں ہم امام اعظم ابوحنیفہ کے مقلّد ہیں، ہم اپنے آپ کو بریلوی نہیں سمجھتے، ہمارے مخالف ہمیں ''بریلوی‘‘ کہتے ہیں‘‘ (ضیائے حرم لاہور، ص: 14، فروری 1986ء)۔ سعودی عرب میں گرفتاری کے بعد وہاں کی ایجنسی سے گفتگو کے دوران انہوں نے فرمایا: ''ہم پر کچھ لوگ یہ تہمت لگاتے ہیں کہ ہم اور قادیانی ایک ہیں، یہ غلط ہے اور وہی لوگ ہمیں بریلوی بھی کہتے ہیں، جس سے وہم ہوتا ہے کہ بریلوی کسی نئے مذہب کا نام ہے، ایسا نہیں ہے، بلکہ ہم اہلسنت و جماعت ہیں‘‘۔ مزید لکھتے ہیں: ''بریلویت کوئی نیا مذہب نہیں ہے، ہم لوگ اپنے آپ کو اہلسنت و جماعت کہلوانا ہی پسند کرتے ہیں‘‘ (حیات تاج الشریعہ، ص: 42، بحوالہ عرفان مسلک و مذہب، ص: 45)۔
علامہ محمود احمد رفاقتی اشرفی قادری لکھتے ہیں: ''1960ء کے ماہنامہ پاسبان الٰہ آباد کے باب الاستفتاء میں حضرت سیدی مفتی اعظم ہند قدس سرہٗ کا فتویٰ شائع ہوا تھا، اس میں حضرت نے تحریر فرمایا تھا: ''جب اہلِ سنت کو بریلوی کہہ کر خطاب کیا جائے تو اس جدید خطاب سے شدّت کے ساتھ انکار کیا جائے، ہم وہی چودہ سو سالہ قدیم اہلسنّت و جماعت ہیں، مخالفین اہلسنّت کو بریلوی کہتے ہیں‘‘ (اہلسنت میں اختلاف و تفریق کے المناک واقعات، ص: 136)۔
پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد لکھتے ہیں: ''امام احمد رضا پر ایک الزام یہ ہے کہ وہ ''بریلوی‘‘ فرقے کے بانی ہیں۔ تاریخ میں بریلوی کوئی فرقہ نہیں، بلکہ سوادِ اعظم اہل سنّت کے مسلکِ قدیم کو عُرفِ عام میں ''بریلویت‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ عرف بھی پاک و ہند میں محدود ہے۔پروفیسر ڈاکٹر جمال الدین (جامعہ ملیہ، دہلی) نے بھی اپنے ایک تحقیقی مقالے میں یہی تحریر فرمایا ہے: ''یہ نام مخالفین کا دیا ہوا ہے‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ امام احمد رضا خاں بریلوی نے پوری قوت کے ساتھ سوادِ اعظم اہل سنّت کے اس عالمی مسلک کی حفاظت اور مدافعت فرمائی اور اس کو دشمنوں کے ہاتھوں برباد نہیں ہونے دی۔ (آئینۂ رضویات، ص: 300، مطبوعہ: ادارہ تحقیقات امام احمد رضا)۔
25تا27اگست 2016ء کو ریاستِ چیچنیا کے دارالحکومت ''گروزنی‘‘میں علمائے اسلام کی ایک عالمی کانفرنس''اَلْمُؤْتَمَرُ الْعَالَمِی لِعُلَمَائِ الْمُسْلِمِیْن‘‘ منعقد ہوئی۔اس کانفرنس کاموضوع تھا:''مَنْ ھُمْ اَھْلُ السُّنَّۃ وَالْجَمَاعَۃ ؟‘‘،یعنی ''اَہلُ السُّنَّۃ والجماعۃکون ہیں؟‘‘،بالفاظِ دیگر اہلُ السُّنَّۃ والجماعۃ کی متفقہ تعریف مقصود تھی۔اس کانفرنس میں شیخ الازہر ڈاکٹر محمد احمد الطیب ، جامعہ الازہر کے ریکٹر شیخ ابراہیم،مفتی اعظم چیچنیا شوکی الیَم،ڈاکٹر شیخ سعید عبداللطیف فُودہ (اردن)، شیخ الحبیب علی الجُفری (یمن)، شیخ ابوبکر (کیرالہ،انڈیا) اور دیگر علمائے کِبار شریک تھے۔چیچنیا کے صدر رمضان قدیروف نے اس کانفرنس کی صدارت کی ۔ کانفرنس کی قرارداد اور اعلامیہ حسبِ ذیل ہے :
اہل السنۃ والجماعۃ اعتقادی یعنی کلامی مسائل میں اَشاعِرہ (جو امام ابوالحسن الاشعری کی طرف منسوب ہیں)،ماتُریدیہ (جو امام ابومنصور ماتریدی کی طرف منسوب ہیں)اور ''اَھْلُ الْحَدِیْثِ الْمُفَوِّضَہ‘‘شامل ہیں (یعنی وہ اہلِ حدیث جو اعتقادی مسائل میں صفاتِ الٰہی سے متعلق آیاتِ متشابہات پر ایمان لاتے ہیں اور اُن کے مرادی یا حقیقی معنی کو اللہ تعالیٰ کے علم کی طرف تفویض کردیتے ہیں،یعنی وہ ان الفاظ کے ظاہری معنی مراد نہیں لیتے ۔ان آیاتِ متشابہات میں اللہ تعالیٰ کے لیے ''یَدْ،وَجْہ،ساق، نفس، عَین اور جہت وغیرہا‘‘ کلمات آئے ہیں ۔پس جن اہلِ حدیث نے اِن کلمات کو اعضاء وجوارح (Organs)کے معنی میں لیا ہے، اس کانفرنس کی قرارداد کی رُو سے انہیں ''اہلُ السُّنَّۃ والجماعۃ‘‘ سے خارج قرار دیا گیا ہے، اس فکر کے حاملین کو علمائے علم الکلام نے ''مُجَسِّمین‘‘ سے تعبیر کیا ہے)۔ ان میں چار فقہی مذاہب کے ماننے والے حنفیہ ،مالکیہ، شافعیہ اور حنابلَہ شامل ہیں اور ان کے علاوہ سید الطائفہ امام جُنید اورعلم ،اَخلاق اور تزکیہ میں اُن کے طریقِ اصلاح کے حامل ائمّہ ھُدیٰ شامل ہیں۔یہ علمی مَنہَج اُن علوم کا احترام کرتا ہے جو، وحیِ ربّانی کو سمجھنے کے لیے خادم کا درجہ رکھتے ہیں اور نفس وفکر کی اصلاح ،دین کو تحریف اور بے مقصد باتوں سے محفوظ رکھنے اور اموال اور آبرو کی حفاظت اور نظامِ اخلاق کی حفاظت کرنے میں ،اس دین کی اَقدار اور مقاصد کو واضح کرتے ہیں۔
قرآنِ کریم کی حدود ہیں اور یہ تمام دینی علوم اس معنی میں بطورِ خادم اُس کا احاطہ کیے ہوئے ہیں کہ جو اُس کے معنی ومراد کو سمجھنے میں مددگار ہوتے ہیں اورحیات ،تمدُّن ،آداب واخلاق ،رحمت وراحت ،ایمان وعرفان اور دنیا میں امن وسلامتی کے فروغ سے متعلق قرآن میں ودیعت کیے ہوئے اِن علوم کا استخراج (Deduction) کرتے ہیں اور اِس کے سبب اقوامِ عالَم ،مختلف طرزِ بودوباش رکھنے والوں اورمختلف تہذیب وتمدُّن کے حاملین پر یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ دین تمام جہانوں کے لیے رحمت ہے اور دنیا اور آخرت کی سعادت کا باعث ہے ۔
اَھْلُ السنّۃ والجماعۃ کامَنْہَج تمام مَناہِجِ اسلام میں سے زیادہ جامع ،زیادہ ثِقہ ،زیادہ مضبوط ، علمی کُتب اور تدریس کے اعتبار سے شرعِ شریف کے مقاصدکے ادراک اور عقلِ سلیم کے لیے صحیح تعبیر کا حامل ہے اور تمام علوم اورحیاتِ انسانی کے تمام شعبوں میں بہترین ربط اور حسنِ تعلق کا آئینہ دار ہے۔اَہل السّنّہ والجماعہ کی علمی درس گاہوں نے صدیوں سے ہزاروں عُلَماء اورفُضَلاء پیدا کیے ہیں جو سائبیریا سے نائجیریا تک اور طنجہ(جبرالٹر کے بالمقابل مراکش کاساحلی شہر) سے جکارتا تک پھیلے ہوئے ہیں اور اِفتاء، قَضاء، تدریس اورخطابت کے شعبوں میں اعلیٰ ترین مناصب پر فائز رہے ہیں ۔اِن کی برکت سے انسانی معاشرت کو امان ملی ،فتنوں اور جنگوں کی آگ بجھی ،ممالک میں قرار وسکون آیا اور علم وعلوم کی اشاعت ہوئی۔
اَھل السنّۃ والجماعۃ اپنی پوری تاریخ میں اسلام کی صحیح تعبیر کر کے انحرافی فکر سے اِس کی حفاظت کرتے رہے ہیں ،وہ مختلف فرقوں کے نظریات اور مفاہیم کا جائزہ لیتے ہیں اور اُن کے لیے علم، نقد وجرح اورثبوت کے معیارات مقرر کرتے ہیں ،اِلحاد وانحراف کی کوششوں کا سدِّ باب کرتے ہیں ،تحقیق وتنقیح کے شِعار کے ذریعے خطا وصواب میں امتیاز کرنے کے لیے علوم کی ترویج کرتے ہیں ۔انہی کے منہَجِ علمی کے فروغ کے باعث انتہا پسندی کا سدِّ باب ہوااور امتِ محمدیہ کے تمدُّن کو فروغ ملا ۔اسی طبقے میں اسلام کے وہ عَبقری علماء پیدا ہوئے، جنہوںنے الجبرا،ریاضی، جیومیٹری، لوگارتھم، انجینئرنگ ،طب و جراحت، فارمیسی، حیاتیات، ارضیات، کیمیا، طبیعیات، فلکیات ،صوتیات وبصریات اور دیگر علوم میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں ۔
انحرافی فکر کا فتنہ ہر دور میں سر اٹھاتا رہا ہے ،یہ لوگ ہردور میں اپنی فکر کو قرآن وسنت کی طرف منسوب کرکے صحیح مَنہَجِ علمی کو مٹانے کی کوشش کرتے رہے ہیں،ان کی وجہ سے عام لوگوں کا امن وسکون غارت ہوجاتا ہے ،ایسی ہی گمراہ فکر کے حاملین قدیم دور کے خوارج تھے جن کاتسلسل ہمارے عہد کے وہ خوارج ہیں جو اپنے آپ کو سَلَفیت کی طرف منسوب کرتے ہیں اور مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں ۔ داعش اور اُن کی انتہا پسندانہ فکر کی حامل ساری تنظیموں میں یہ چیز بھی مشترک ہے کہ وہ دین کی مُسَلَّمہ اور مُتفقہ تعلیمات میں تحریف کرتے ہیں ، انتہا پسند ہیں ،جہالت پر مبنی باطل تاویلات کو دین سے منسوب کرتے ہیں ،اس کے نتیجے میں مسلمانوں میں فکری انتشار پیدا ہوتا ہے۔ اِن باطل تاویلات کے بَطن سے تکفیری اور تباہ کُن فکر،خوں ریزی اور تخریب وفساد جنم لیتا ہے اور اسلام کا نام بدنام ہوتا ہے۔اِن کی برپاکردہ جنگوںاور حق سے تجاوز کا تقاضا ہے کہ دینِ حنیف کے حاملین برملا اِن سے برائت کا اعلان کریں اور یہ رسول اللہﷺ کی اس حدیث کا مصداق ہوگا:''بعد میں آنے والوں میں سے اس دین کے حامل وہ انتہائی منصف مزاج علماء ہوں گے، جواِس دین کو انتہا پسندوں کی تحریف ، باطل پرستوں کی بے اصل باتوں اور جاہلوں کی تاویلوں سے پاک کریں گے،(شرح مشکل الآثار:3884) ‘‘۔
اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ کانفرنس ایسا سنگِ میل ثابت ہوگی جو اِلحادی فکر کی اصلاح کرے گی اور انتہا پسندوں کے باطل اجتہاد ات وتاویلات کے ذریعے اھل السّنّۃ والجماعۃ کے لیے جو خطرات پیدا ہوچکے ہیں ،اُن سے نجات کا باعث ہوگی۔اس کا احسن طریقہ یہ ہے کہ ہماری بڑی درس گاہوں میں اس اِنحرافی فکر کو رد کرنے کے لیے مضبوط علمی استدلال کا طریقہ اختیار کیا جائے اورتکفیر اور انتہاپسندی سے نجات پانے کے لیے امن وسلامتی کے اسلامی پیغام کو پورے عالَمِ انسانیت کے لیے عام کیا جائے تاکہ ہمارے ممالک سب کے سب ہدایت کے سرچشمے اور مَنارۂ نور بنیں ۔
یہ تفصیلات میں نے سہل انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ امتِ مسلمہ میں عالَمی سطح پر جو اضطراب ہے ، تمام مذہبی طبقات کو اس کا صحیح ادراک ہوجائے ۔میری دانست میں اِس کی ضرورت، دورِ حاضر میں بعض لوگوں کے خود وضع کیے ہوئے جہادی اور تکفیری کلچر کے نتیجے میں، محسوس کی گئی ہے ،کیونکہ اس تخریب وفساد کا نشانہ سب سے زیادہ خود مسلم ممالک بن رہے ہیں ۔اس کانفرنس کے اعلامیے سے روس اور ایران کی دلچسپی شام کے حالات کے تناظر میں واضح ہے اور چیچنیا میں بھی کسی نہ کسی سطح پر جہادی فکر موجود ہے،اگرچہ جوہر دودائیف کے زوال کے بعد اسے دبادیا گیا ہے۔حال ہی میں ایک امریکی پروفیسر عمر نے بتایا کہ خلیفہ کے لیے قرشی ہونے کی شرط کے سبب داعش کے لوگ افغان طالبان کے امیر کی بیعت سے کنارہ کش ہوگئے ہیں۔سعودی عرب کے علماء جو ایک وقت میں اس تصورِ جہاد کے حامی تھے اور وہاں سے اِن گروہوں کو اعانت بھی مل رہی تھی ،اب وہ برملا اِس سے برائت کا اعلان کر رہے ہیں اوراس طبقے کوتکفیری اور خارجی قرار دے رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ گروزنی کی اس عالمی کانفرنس کو اختلاف کی خلیج کو وسیع کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے بلکہ سعودی عرب سمیت تمام علمائے امت کو اِس سے استفادہ کرتے ہوئے دین کے مُسلَّمہ اور مُشتَرکہ اصولوں پر اجماع کے قیام کے لیے استعمال کیا جائے۔سعودی عرب جو اپنے دینی نظریات کے فروغ کے لیے بے پناہ سرمایہ خرچ کرتا تھا،اب وہ خود اِن فسادیوں کے نشانے پر ہے ۔لہٰذا انہیں اب یہ مصارف دین اور امت کی وحدت کے لیے استعمال کرنے چاہییں اور امت میں تفریق کے اسباب کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ حقیقی معنی میں اتحادِ امت کا خواب اپنی تعبیر کو پاسکے-