آواز دوست
ريٹائرڈ شوہر
محمد صديق بخاری
ميں نے كہا جی ذرا سنيے --- جی فرمائيے ، وہ سبزی لانے كا وقت ہو گيا ہے – ميں ذرا مصروف ہوں ، آج دال چاول پكا لو---اب آپ كو كيا مصروفيت ہے ، آپ تو ريٹائر ہيں ، جب بھی كہوں آپ مصروف ہوتے ہيں- آج دال چاول نہيں پك سكتے – سبزی لائيے – خاوند خاموشی سے اٹھا اور سبزی لينے چلا گيا- سبزی ليتے ہوئے اسے خيال آيا كہ آلو تو بہت سی سبزيوں كے ساتھ پكائے جا سكتے ہيں ، اس ليے دوكلو يہ بھی لے ليتے ہيں ،اسی طرح پياز بھی – وہ خوشی خوشی سبزی لے كر گھر آيا كہ بيگم اس كی عقل مندی كی تعريف كرے گی كہ اُس كے كہے بغير ہی آلو اور پياز لے آئے – جوں ہی بيگم كی نظر آلو اور پيازكے تھيلوں پر پڑی تو فوراً بولی ، يہ كس نے كہا تھا، لانے كو ؟ خاوند نے عرض كيا كہ جی يہ تو ہر سبزی كی ضرورت ہے – جواب ملا، ان كو ميں ركھوں گی كہاں ؟ آپ كو نظر نہيں آتا كہ جگہ ہے نہيں ، اب يہ ڈھير ميں كہاں سنبھالتی پھروں؟پہلے آلو پياز پڑے گل سڑ رہے ہيں- خاوند منہ لٹكائے كمرے ميں چھپ گيا، البتہ اسے دير تك بڑبڑ انے اور بولنے كی آوازآتی رہی-
خاوند نہا دھوكر ،نئے كپڑے پہن كر شاور سے باہر نكلا،اس كا خيال تھا كہ نئے كپڑے ديكھ كر بيگم تعريف كر ے گی مگر جوں ہی بيگم كی نظر پڑی تو بولی ، يہ كپڑے كيوں پہنے ؟ آپ كو معلوم نہيں كہ يہ كپڑے صرف مہمان بن كر جانے كے ليے ہيں- آخر آپ كو سمجھ كيوں نہيں آتی كہ كچھ كپڑے گھر ميں پہننے كے ليے نہيں ہوتے - خاوند نے عرض كی ليكن بيگم ، گھر ميں بھی تو اچھے كپڑ ے پہنے جا سكتے ہيں؟ہاں ہاں ،باتيں بنانا تو كوئی آپ سے سيكھے – گھر ميں پہن پہن كر خراب كر ليں اور پھر باہر جاتے ہوئے منہ نيچے كر كے كھڑے ہو جاتے ہيں كہ كوئی بہتر كپڑ ے نہيں ہيں كيا؟– اب نہ مجھ سے كہنا كہ اچھے كپڑ ے لاؤ ، سنا آپ نے --- خاوند نے آہستہ سے كہا جی جی ، اور اپنے كمرےميں گھس گيا- اگلے دن اس نے اسی رنگ كے پرانے كپڑے پہن ليے ، بيگم نے ديكھا تو گويا ہوئی ، چلو لوگ كہيں گے كہ روز ايك ہی كپڑے پہن كر آ جاتے ہيں – ليكن بيگم يہ تو دوسرے ہيں كل والے تو نہيں – ليكن رنگ تو وہی ہے نا ، آپ كو رنگو ں كی ذرا بھی تميز نہيں – ايك دن اگر گہرے رنگ كے كپڑ ے ہوں تو اگلے دن ہلكے رنگ كے كپڑے پہنا كريں – كتنی بار سمجھا چكی ہو ں ليكن آپ نے تو جيسے نہ ماننے كی قسم كھا ركھی ہے – يہ سن كر بيچارے خاوند نے پھر اپنے كمرے ميں پناہ لے لی -
خاوند نے ناشتے كے وقت كہا كہ بيگم آج تو پراٹھے كو جی نہيں چاہ رہا ، ذرا بريڈ تو گرم كر ديں اچھا تو آج آپ نے بريڈ كھانی ہے--- ، واہ ، تو ميں اُس آٹے كا كيا كروں جو اتنا سارا گوندھ ركھا ہے – يہ تو خراب ہو جائے گا – بريڈ نہيں مل سكتی --- روٹی كھائيں چپ كر كے – خاوند جی كہہ كے چپ ہو رہا –
گھر ميں داخل ہوتے ہی بيگم نے پوچھا ، اتنی دير كہاں رہے ؟ گھر ميں سو كام ہوتے ہيں كب سے آپ كا انتظا ر كر رہی ہوں – بيگم وہ نماز پڑھنے گيا تھا ايك دوست مل گئے ، ان كے پاس ذرا ٹھہر گيا تھا- ايك تو آپ كے دوستوں نے جان كھا ركھی ہے ،ہر وقت چمٹے ہی رہتے ہيں – نہيں بيگم ، ان صاحب سے تو پورے ايك ماہ بعد ملاقات ہوئی تھی او رويسے بھی تم ہی نے تو كہا تھا كہ كبھی باہر بھی چلے جايا كرو ، ہر وقت گھر ہی پڑے رہتے ہو – بس كريں بس ، اپنی غلطی ماننے كے بجائے الٹا مجھے ہی الزام ديے جا رہے ہيں – اس سے قبل كہ بيگم كو مزيد جلال آتا ،خاوند نے اپنے كمرے ميں پناہ لی اور دروازہ بند كر ليا ،اگرچہ بيگم نے دروازہ زور سے بند كرنے كا نوٹس بھی لے ليا تھا-
ميرا دوست اس طرح كی بہت سی باتيں سنا كر خاموشی سے ميرے چہرے كی طرف ديكھنے لگا – ميں نے پوچھا ،كب سے ايسا ہو رہا ہے ، اس نے كہا كہ يار، زندگی كے چاليس بر س تو بہت خوب گزرے – ايسےمواقع آئے ضرور ،مگر شاذ ونادر ہی، البتہ جب سے ميں ريٹائر ہواہوں ، تب سے تو روز ہی ايسا ہو نے لگ گيا ہے -پھر وہ پوچھنے لگا كہ كيا سب ريٹائرڈ شوہروں كے ساتھ ايسے ہی ہوتا ہے ؟ ميں نے كہا ، جی بالكل ، كم و بيش ايسا ہی--- وہ چونكا ، اور كہنے لگا كہ آخر كيوں؟ميں نے كہا دوست اگرچہ ہر گھر ميں مختلف وجہ ہو سكتی ہے ليكن اصل ميں وہ ان تين بڑی وجوہا ت كی ہی فرع ہوتی ہے اور وہ تين وجوہات يہ ہيں-
پہلی بات تو يہ ہے كہ ريٹائر ہوتے ہی گھر كا مركز و محور بدل جاتا ہے – پہلے ہر كام شوہر كے اوقات كا ر اور اس كی مصروفيت كو سامنے ركھ كر ڈيزائن كيا جاتا ہے جبكہ ريٹائرہوتے ہی يہ محور خاتون خانہ كی طرف منتقل ہو جاتا ہے -بچے تو پہلے ہی اس مركز كے گرد گھوم رہے ہوتے ہيں ، اب موقع ملتے ہی بيوی شوہر كو بھی گھما ديتی ہے -
دوسری وجہ بچوں كا بڑے ہوجانا اور بيوی كا بطور ماں establishہو جانا ہے -اسلامی تہذيب كی خوبصورتی ہی يہ ہے كہ جوں جوں عورت كی عمر بڑھتی جاتی ہے اس كی اہميت اور قدر بھی بڑھتی جاتی ہے – اس كے برعكس مغربی تہذيب ميں عورت كی عمر كا ہر سال اس كی قدر كا ايك درجہ كم كرتا چلا جاتا ہے – اور مسلمانوں كے ہاں ماں بن جانے كا شرف اتنا بڑا ہے كہ شوہر اگر نہ بھی چاہے ،تو بھی ، اس منصب كا احترام كرنے پہ مجبور ہو جاتا ہے
اور تيسری وجہ وہی ہے جو ہمارے استاد كہا كرتے تھے كہ جب مرد بوڑھا ہو جاتا ہے تو بيوی پہ امومت كا جذبہ اتنا غالب آ جاتا ہے كہ خاوند بھی گويا اس كا "بڑابيٹا" بن جاتا ہے اور وہ اس كو ويسے ہی ڈانٹ ليتی ہے جيسے بيٹوں كو- اور ميں نے كہا كہ دوست تمہارے معاملے ميں مجھے لگتا ہے كہ يہی تيسری وجہ ہی سب سے مضبوط وجہ ہے --- -كيا خيال ہے ؟ ؟وہ مسكرايا اور كہنے لگا كہ كيا تمہارے ہاں يہ وجہ نہيں---؟؟ ميں نے كہا ہاں شايد، ليكن صرف ميرے او رتمہارے ہاں نہيں بلكہ اكثر مردوں كے ہاں بھی -----