آواز دوست
مٹی اور تكبر؟
محمد صديق بخاری
ان كا تعلق انڈين حيدر آباد سے تھا اور وہ پچھلے بيس برس سے متحد ہ عرب امارات كے ايك انٹر نيشنل سكول ميں اردو كی تدريس پر مامور تھے – ان كا كہنا تھا كہ انہوں نے اردو ميں ايم فل كر ر كھا ہے -جب ان سے كہا گيا كہ "خودی كا سر نہاں لاالہ الا اللہ" اس كا ترجمہ انگلش ميں كر ديں تو انہوں نے كہا ،كہ يہ كون سا مشكل ہے اور پھر انہوں نے فرمايا تھا كہ The head of khudi is la ilaha illallah - ان كے يہ كہتے ہی كمرے ميں مكمل خاموشی چھا گئی۔ کبھی کبھی خاموشی قہقہے سے زیادہ سنی جاتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے- وہ كچھ كہنا چاہ رہے تھے مگر كہہ نہيں پا رہے تھے – آخر ايك نے آہستہ سے پوچھا كہ كيا يہ واقعی اردو ميں ايم فل ہيں- تلبيس ِعلم يہی ہے كہ انسان كم جانتے ہوئے بھی يہ سمجھنے لگتا ہے كہ وہ سب سے زیادہ جانتا ہے-
انہيں رائی كا پہاڑ اور بات كا بتنگڑ بنانے ميں بھی يد ِطولی حاصل تھا، شايد اسی وجہ سے سكول انتظاميہ نے انہيں ٹيچرز ہاسٹل كا وارڈ ن بنا ديا تھا- بس پھر کیا تھا، جیسے کسی نے ایک چھوٹی سی مچھلی کو سمندر کا بادشاہ بنا دیا ہو۔ منصب ان کے کندھوں پر نہيں بلكہ سر پر چڑھ آيا تھا۔ انہیں محسوس ہونے لگا کہ اب ان کی آمد کسی انسان کی نہیں بلکہ ايك ادارے کی آمد ہے۔اساتذہ میں کچھ زندہ دل لوگ بھی تھے۔ انہوں نے سوچا کہ غرور کا علاج کبھی کبھی دلیل سے نہیں، آئینہ دکھانے سے ہوتا ہے۔ سب نے ايك خاموش معاہدہ كيا كہ ان كے غرور كے غبارے ميں اور ہوا بھرنی چاہيے تا كہ معلوم ہو سكے كہ اس كی پرواز كہاں تك ہے ۔ چنانچہ اب يوں ہونے لگا كہ جب وہ کمرے میں داخل ہوتے تو سب احترام سے کھڑے ہو جاتے اور جب تك وہ نہ بيٹھتے كوئی نہ بيٹھتا، ان کی ہر بات پر داد دی جاتی ، ان کے علم کی ایسی تعریف کی جاتی کہ گویا اردو زبان انہی کے دم سے زندہ ہے۔ وہ جاتے تو انہيں سليوٹ كيا جاتا اور لوگ دروازہ كھول كر اس وقت تك كھڑ ے رہتے جب تك وہ نگاہوں سے اوجھل نہ ہوجاتے- اور وہ بھی چند قدم چل كر پيچھے مڑ كر ديكھتے اور پھر ايك مہربان تبسم كے ساتھ رخصت ہو جاتے ۔دو مہینے گزرے تو تعریف کی اس مسلسل بارش نے ان کے اندر ایک ایسا باغ اُگا دیا جس کے ہر درخت پر "میں" کا پھل لگتا تھا۔پھر جيسے يہ "ڈراما" چپكے چپكے شروع ہوا تھا ، ایک دن چپكے سے ختم بھی ہو گیا۔نہ کوئی کھڑا ہوا، نہ کسی نے واہ واہ کی، نہ کسی نے دروازہ کھولا۔وہ حیران رہ گئے۔ آخر چند دن بعد كہہ اٹھے :"بھائی ،ميں وارڈن ہوں، میرے احترام میں آپ لوگ کھڑے کیوں نہیں ہوتے؟"یہ جملہ سن کر مجھے اپنے استاد ياد آئے جو كہا كرتے تھے کہ جوانسان اپنے لیے احترام مانگنے لگے تو سمجھ لیجیے احترام اس کے ہاتھ سے نكل چکا ہے۔ عزت وہ پرندہ ہے جو شور سے نہیں بلكہ خاموشی سے انسان کے کندھے پر آ كربیٹھتا ہے۔
اب انہيں سب سے شكايت رہنے لگی كہ لوگ ان كو عزت نہيں ديتے او ر ان كا كما حقہ احترام نہيں كرتے -اسی رنج ميں انہوں نے ذرا ذرا سی بات پر انتظاميہ كے پاس شكا يات كا انبار لگانا شروع كر ديا -اور شب و روز اتنی شكايات كيں كہ انتظاميہ كا ناك ميں دم كر ديا- بالآخر وہی ہوا كہ جو نوشتہ ديوارتھا كہ انتظاميہ نے انہيں اس ذمہ داری سے سبكدوش كر ديا اور وہ آسمان سے زمين پر آر ہے – منصب گیا تو معلوم ہوا کہ کرسی کے ساتھ جو قد بڑھا تھا، وہ اصل ميں کرسی کا تھا، اُن کا نہیں- لوگ سمجھتے ہیں کہ منصب انسان کو بڑا بنا دیتا ہے، حالانکہ اختيار و اقتدار، صرف یہ بتاتا ہے کہ انسان اندر سے کتنا بڑا یا کتنا چھوٹا ہے۔ اگر ظرف وسیع ہو تو اختیار خدمت بن جاتا ہے، اور اگر نفس بڑا ہو تو وہی اختیار تکبر کی سیڑھی بن جاتا ہے۔
ہمارے معاشرے ميں اس طرح كے كرداروں كی اكثريت اگرچہ سياسی اور مذہبی دنيا ميں پائی جاتی ہے ليكن باقی طبقات اور ديگر شعبہائے زندگی بھی اس سےخالی نہيں- اس طرح كے لوگوں كے نام كے ساتھ اگر كسی منصب كا ذرا سا بھی ٹيگ لگ جائے تو وہ آپے سے باہر ہو جاتے ہيں- ديكھنے والے يہ سمجھتے ہيں كہ وہ بدل گئے ہيں جبكہ وہ بدلتے نہيں بلكہ ان كاباطن آشكار ہو جاتا ہے –
ايسے لوگوں كو اس "مقام" تك پہنچانے ميں جہاں ان كی فطرت ، خاندان ، تعليم و تربيت اور ماحول كا دخل ہوتا ہے وہيں وہ لوگ بھی اس ميں شريك جرم ہوتے ہيں جو ان كو "بانس" پہ چڑھاتے ہيں- اسی ليے ہر وہ شخص جو اپنے ساتھ مخلص ہے اسے چاہيے كہ وہ چوكنا رہے -ايسا نہ ہو كہ لوگ جھوٹی خوشامد سے اُس كو غلط فہمی ميں مبتلا كر كے ہلاك كر ڈاليں-نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا، وہ کسی آدمی کی تعریف کر رہا تھااورتعریف میں اسے بہت بڑھا چڑھا رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس كا مفہوم يہ ہے كہ: ”تم لوگوں نے اس کو ہلاک کر ڈالا یا (فرمایا:) كہ تم لوگوں نے اس آدمی کی کمر توڑ دی۔“
جھوٹی تعریف بھی ایک نشہ ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اسے پینے والا خود کو کبھی نشے میں نہیں سمجھتا۔ خوشامد کرنے والا تو وقتی فائدہ لے لیتا ہے مگر جس کی خوشامد کی جاتی ہے، وہ اپنی آخرت كا نقصان كر بيٹھتا ہے -
انسان جب اپنی حقیقت بھول جاتا ہے تو اسے اپنا سایہ بھی پہاڑ دکھائی دیتا ہے۔ اور جب اپنی حقیقت پہچان لیتا ہے تو پہاڑ بھی اسے مٹی کا ڈھیر محسوس ہوتا ہے۔ہم سب مٹی سے بنے ہیں۔ مٹی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر چیز کو اپنے اوپر جگہ دیتی ہے، مگر کبھی اونچا ہونے کا دعویٰ نہیں کرتی۔ شاید اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہماری ابتدا بھی مٹی سے کی اور انجام بھی مٹی ہی کو بنایا۔﴿مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى﴾جب آدمی اس آیت کو اپنے دل میں اتار لیتا ہے تو پھر اسے کسی منصب، کسی کرسی اور کسی مصنوعی تعظیم کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ جسے اپنی حقیقت معلوم ہو جائے، وہ دوسروں سے برتر نہیں بلكہ بہتر بننے کی کوشش کرتا ہے۔