ڈی اين اے سے نسب كا پتہ چلانا

مصنف : جويريہ بسالوی

سلسلہ : سائنس و ٹیکنالوجی

شمارہ : ستمبر 2026

سائنس و ٹيكنالوجی

ڈی اين اے سے نسب كا پتہ چلانا

جويريہ بسالوی

وہ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک گئی تو وہاں اس نے اپنا ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کروایا۔ اس کا خیال تھا کہ نسب کا سِرا عرب سے جا ملے گا، لیکن نتائج آئے تو معلوم ہوا کہ اس کا تعلق عرب سے نہیں بلکہ بھارتی ریاست گجرات سے ہے۔یوں سائنس نے اس جھوٹے خاندانی تفاخر کے چیتھڑے اڑا دیے جو اس کے آبا و اجداد نے اوڑھ رکھا تھا۔

اسے پہلے بھی شک تھا کہ ان کا خاندانی دعویٰ درست نہیں کیونکہ جو عالی نسب خاندانی روایات اور اعلیٰ اخلاقی خصلتیں ہیں جیسے مہمان نوازی، فصاحت و بلاغت، خاندانی وفاداری، پاسداریِ عہد، بہادری، غیرت اور سخاوت نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں لیکن بدقسمتی سے اسے اپنے خاندان میں ان میں سے ایک بھی صفت نظر نہیں آتی تھی۔ چنانچہ جب بیرونِ ملک ڈی این اے ٹیسٹ کا موقع ملا تو اس نے اس تاریخی گتھی کو سلجھانے میں ذرا دیر نہ کی۔جب رپورٹ آئی تو اس نے والد کو بتاتے ہوئے کہا کہ: "ابو! ہمارا تو دور دور تک سادات سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔" والد صاحب بولے: "بیٹی! میں نے بھی تم تک نسب کے معاملے میں وہی کچھ پہنچایا جو مجھے اپنے آباؤاجداد سے ملا تھا، اب تم سے گزارش ہے کہ اس معاملے کو یہی پر ختم کر دو۔ علاقے میں ہمارا ایک نام ہے، لوگ 'سید' ہونے کی وجہ سے ہمارا احترام کرتے ہیں۔ تم کیوں ہمارا تماشا بنوانا چاہتی ہو؟"

یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ ہماری معاشرتی نفسیات کا ایک گہرا المیہ ہے۔ انسان جس معاشرے میں رہتا ہے، وہاں دیکھتا ہے کہ بعض اوقات صرف 'نسب' کی بنیاد پر کسی شخص کو بلا چون و چرا قابلِ احترام سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ دیکھ کر دیگر لوگوں کے دل میں بھی یہ حسرت جاگتی ہے کہ کاش انہیں بھی ایسا ہی مقام ملے۔ اب جس جگہ انسان رہ رہا ہو، وہاں تو نسب بدلنا مشکل ہوتا ہے، لیکن جب کوئی شخص ہجرت کر کے کسی نئے علاقے یا شہر میں جاتا ہے تو اسے موقع مل جاتا ہے اور وہ اپنا نسب بدل کر خود کو سید کہلوانا شروع کر دیتا ہے۔خدا جانے کتنے ہی لوگوں نے ماضی میں یہ راہ چنی ہوگی اور اپنے نام کے ساتھ 'سید' جوڑ لیا ہو گا۔ یہ کوئی من گھڑت کہانی نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا واقعہ ہے جو ہمارے گاؤں بسال میں وقوع پزیر ہو چکا ہے اور شاید آپ میں سے بھی بہت سے لوگ ان اشخاص سے واقف بھی ہوں۔

برصغیر پاک و ہند میں نسب بدل کر اعلیٰ ذات ظاہر کرنے کے اس رویے پر فارسی کی ایک قدیم کہاوت بہت مشہور ہے:"اول قصاب بودم، بعدہ شیخ شدم، امسال غلہ گراں است اگر امسال غلہ گراں تر شود سید خواہم شد"یعنی پہلے میں قصائی تھا، پھر شیخ بنا، اس سال غلہ مہنگا ہوا تو سید بن گیا، اور اگر اگلے سال اور مہنگا ہوا تو پٹھان بن جاؤں گا۔"

یہ کہاوت ظاہر کرتی ہے کہ برصغیر میں معاشرتی یا معاشی مقام بدلنے کے ساتھ نسب بدلنے کا رجحان صدیوں پرانا ہے-

ڈی این اے (DNA) کے ذریعے آباؤ اجداد اور خاندانی تاریخ کا پتہ لگانے کا طریقہ آج کل پوری دنیا میں بہت مقبول ہے۔اسکے کئی مقاصد ہوسکتے ہیں لیکن ہم مقاصد کی بحث میں پڑے بغیر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ڈی این اے کی مدد سے آباؤاجداد کا پتہ لگانا کیسے ممکن ہو پاتا ہے۔

یہ عمل بہت سادہ ہے۔ کوئی بھی شخص جو اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کروانا چاہتا ہے، تو وہ کمپنی سے ایک کٹ (Kit) منگواتا ہے۔ اس کٹ کے ذریعے یا تو ایک چھوٹی سی ٹیوب میں تھوک جسے (Saliva) کہا جاتا ہے جمع کر کے دیا جاتا ہے، یا پھر روئی کے ایک خاص ٹکڑے کو گال کے اندرونی حصے پر رگڑ کر خلیات کا نمونہ لیا جاتا ہے اور اسے لیبارٹری بھیج دیا جاتا ہے۔

لیبارٹری میں اس نمونے سے ڈی این اے نکالا جاتا ہے۔ ہمارے ڈی این اے میں تقریباً 3 ارب بیس پیئرز ہوتے ہیں، لیکن یہ کمپنیاں پورے ڈی این اے کو نہیں پڑھتیں، بلکہ ڈی این اے کے کچھ خاص حصوں کا تجزیہ کرتی ہیں جنہیں SNPs (Single Nucleotide Polymorphisms) کہا جاتا ہے۔اس جگہ ایک انسان کا ڈی این اے دوسرے انسان سے مختلف ہوتا ہے۔

ڈی این اے کی تین مختلف اقسام ہیں جن میں سے پہلی ہے "آٹوسومل ڈی این اے" یہ سب سے عام ٹیسٹ ہے۔ یہ انسان کو ماں اور باپ، دونوں کی طرف سے ملنے والے ڈی این اے کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ پچھلی 5 سے 7 نسلوں کے بارے میں بتانے اور قریبی رشتہ داروں کو ڈھونڈنے کے لیے بہترین ہے یعنی ایک سو پچاس سال سے ڈھائی سو سال پیچھے تک پتہ لگایا جا سکتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس میں 50% ڈی این اے ماں کا اور 50% باپ کا ہوتا ہے۔ جیسے جیسے ہم نسلوں میں پیچھے جاتے ہیں (مثلاً آپ کے پردادا کے پردادا)، کسی ایک مخصوص جدِ امجد (Ancestor) کا ڈی این اے آپ کے اندر اتنا کم رہ جاتا ہے کہ اسے الگورتھم کے لیے پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے 8 نسلوں سے پیچھے جاکر کسی مخصوص کزن یا خاندانی شجرے کو جوڑنا اس ٹیسٹ سے تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

دوسری قسم ہے "وائی ڈی این اے" یہ ٹیسٹ صرف مردوں کا کیا جا سکتا ہے (کیونکہ Y کروموسوم صرف مردوں میں ہوتا ہے)۔ یہ صرف باپ دادا کی تاریخ جاننے کے لیے استعمال ہوتا ہے کہ پردادا اور ان کے اجداد کہاں سے آئے۔ اسکی مدد سے دس ہزار سے ایک لاکھ سال پیچھے تک معلوم کرایا جا سکتا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں ڈی این اے (یعنی دوسری اور تیسری قسم والے ڈی این اے)ہر نسل میں تقسیم یا مکس نہیں ہوتے، بلکہ ایک نسل سے دوسری نسل میں لگ بھگ جوں کے توں منتقل ہوتے ہیں۔ ان میں تبدیلی ہزاروں سال میں جا کر آتی ہے۔

اس کی تیسری قسم ہے "مائٹو کونڈریل ڈی این اے" یہ کروموسوم لڑکے اور لڑکیوں دونوں کو اپنی ماں سے ملتا ہے۔ اس لیے یہ ٹیسٹ نانی پرنانی کی تاریخ جاننے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اسکی مدد سے بھی دس ہزار سے ایک لاکھ سال پیچھے تک کی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

پہلی قسم کو Autosomal DNA دوسری كوY-DNAور تیسری کو mtDNA کہا جاتا ہے۔

دوسری اور تیسری قسم کے ٹیسٹ کے ذریعے آپ اپنے مخصوص ہیپلو گروپس (Haplogroups) کا پتہ بھی چل جاتا ہے۔ اس سے آپ یہ جان سکتے ہیں کہ آج سے دس یا بیس ہزار سال پہلے آپ کے آباؤ اجداد دنیا کے کس خطے میں رہتے تھے، اور انہوں نے براعظموں کے درمیان ہجرت کا کون سا راستہ اختیار کیا تھا۔ اس طریقے سے ماہرین موجودہ انسانوں کا تعلق قدیم غاروں سے ملنے والے ہزاروں سال پرانے انسانی ڈھانچوں سے بھی جوڑتے ہیں۔

یہ ہیپلو گروپ ہی مختلف ذاتوں کی درمیان لکیر کھینچتا ہے۔

اب سوال ہے  کہ یہ کمپنیاں کس طرح اس ٹیسٹ کے ذریعے آباؤاجداد کا پتہ لگاتی ہیں کہ کس کا تعلق کس سے اور کہاں سے ہے تو اسکا جواب ہے کہ ان کمپنیوں کے پاس دنیا بھر کے مختلف علاقوں اور نسلوں کے لوگوں کے ڈی این اے کا ایک بہت بڑا ڈیٹا بیس موجود ہوتا ہے جسے Reference Panel کہا جاتا ہے۔جب آپ کے ڈی این اے کا تجزیہ ہو جاتا ہے، تو اس کا موازنہ اس ڈیٹا بیس کے ساتھ کیا جاتا ہے:

کمپنی کا الگورتھم دیکھتا ہے کہ آپ کے ڈی این اے کے پیٹرنز (Patterns) دنیا کے کس علاقے کے لوگوں سے سب سے زیادہ ملتے ہیں۔اگر آپ کے ڈی این اے کا بڑا حصہ موجودہ دور کے کسی بھی علاقے کے لوگوں سے ملتا ہے، تو نتائج میں بتایا جائے گا کہ آپ کے آباؤ اجداد ان علاقوں سے ہجرت کر کے آئے تھے۔ان نتائج کو فیصد میں ظاہر کیا جاتا ہے جیسے 60% عرب، 20% برصغیر، اور 20% مشرقی یورپی وغیرہ۔

ایک اہم بات جو یہاں بتانا بہت ہی ضروری ہے کہ یہ ڈی این اے ٹیسٹ کے درست نتائج کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ کمپنی کا ڈیٹا بیس کتنا بڑا ہے۔ جیسے جیسے مزید لوگ اپنا ٹیسٹ کرواتے ہیں اور ڈیٹا بیس میں اضافہ ہوتا ہے، آپ کے نتائج (Ethnicity percentages) بھی اپڈیٹ ہوتے رہتے ہیں۔آپ میں سے بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہوں گے کہ اگر کوئی شخص اپنے خاندان سے باہر شادی کرے تو اسکا ڈی این اے بدل جاتا ہے تو بات ایسے ہے کہ اس طرح کی شادیوں سے صرف Autosomal DNA

بدلتا ہے جبکہ جس ڈی این اے کے ذریعے قدیم آباؤاجداد کا پتہ لگایا جاتا ہے یعنی

Y- DNA مردوں کاmt-DNA عورتوں کا یہ ہزاروں سالوں میں بھی جاکر نہیں بدلتا بلکہ جوں کا توں ایک نسل سے دوسری میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔

اگر کوئی معمولی تبدیلی واقع بھی ہوتی ہے تو وہ قدرتی جینیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہوتی ہے نہ کہ خاندان سے باہر شادی کرنے پر۔

سوال: اگر کسی کا تعلق سید خاندان سے ہے یا نہیں تو اسکا  کیسے پتہ چلے گا؟

جواب: ڈی این اے ٹیسٹ آپ کو کسی مخصوص شخص (جیسے حضرت علی علیہ السلام) کا نام تو پرنٹ کر کے نہیں دے گا، لیکن یہ آپ کو آپ کا جینیاتی گروہ (جسے Haplogroup کہتے ہیں) بالکل درست بتا دے گا۔سادات اور عربوں کا جینیاتی گروہ عموماً مختلف ہوتا ہے -مثال کے طور پر مشرق وسطیٰ کے مخصوص گروپس جیسے J1 یا J2 وغیرہ)۔مقامی ہندوستانی یا پاکستانی قبائل جیسے جٹ، گجر، راجپوت وغیرہ کے جینیاتی گروپس عموماً مختلف ہوتے ہیں (جیسے R1a, L, H یا Q)۔

جب آپ کا ٹیسٹ رزلٹ آئے گا، تو آپ کے ہیپلو گروپ سے یہ بالکل واضح ہو جائے گا کہ آپ کے باپ دادا ہزاروں سال پہلے عرب (جسے مشرق وسطی بھی کہتے ہیں) سے آئے تھے، یا ان کا تعلق برصغیر کے مقامی قبائل سے ہے۔