سائنس و ٹيكنالوجی
چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT): مکمل گائیڈ
عامر پٹنی
اپنے وقت کی انویسٹمنٹ کریں یہ تحریر طویل ضرور ہے، لیکن اس کا ایک ایک لفظ آپ کے وقت کی بہترین سرمایہ کاری ہے۔ ہم نے اس میں چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کے وہ طریقے بیان کیے ہیں جن سے 99% لوگ ناواقف ہیں۔ مضمون کے آخر میں آپ کے لیے ایک خصوصی PDF گائیڈ کا تحفہ بھی ہے، اسے حاصل کرنے کے لیے پورا مضمون توجہ سے پڑھیں۔
وارننگ: اس مضمون کو نظر انداز کرنے کا مطلب ہے 2026 کی ریس میں خود کو پیچھے دھکیلنا۔ فیصلہ آپ کا ہے: کیا آپ کے پاس سیکھنے کا حوصلہ ہے، یا آپ صرف عام صارفین کی بھیڑ کا حصہ بنے رہنا چاہتے ہیں؟
چیٹ جی پی ٹی 2026 میں صرف چیٹ بوٹ نہیں رہا، یہ ایک مکمل "ڈیجیٹل دماغ" کیوں بن چکا ہے؟سوچیں آپ کے پاس صرف ایک موبائل یا لیپ ٹاپ ہے، اور آپ کے سامنے ایک ایسا معاون بیٹھا ہے جو استاد بھی ہے، محقق بھی، ڈیزائنر بھی، مارکیٹنگ کنسلٹنٹ بھی، اور پلاننگ ایکسپرٹ بھی۔ آپ اسے ایک سادہ جملہ کہتے ہیں اور وہ آپ کے لیے پورا سبق، پوری رپورٹ، پورا ڈیزائن آئیڈیا، اور پورا پلان تیار کر دیتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں لوگ چونکتے ہیں کیونکہ یہ صرف "سوال جواب" نہیں، بلکہ کام کو انجام تک پہنچانے والی ذہانت ہے۔
چیٹ جی پی ٹی کی اصل طاقت یہ نہیں کہ وہ خوبصورت جملے بناتا ہے۔ اصل طاقت یہ ہے کہ آپ اسے اپنا مقصد بتائیں، وہ اس مقصد تک پہنچنے کے لیے صحیح ٹول، صحیح موڈ اور صحیح طریقہ اختیار کر کے نتیجہ دیتا ہے۔
چیٹ جی پی ٹی کیا ہے اور یہ “کیسے” کام کرتا ہے؟
چیٹ جی پی ٹی ایک AI سسٹم ہے جو بنیادی طور پر بڑے زبان ماڈلز (Large Language Models) پر چلتا ہے۔ سادہ الفاظ میں، یہ بہت بڑی مقدار میں متن پڑھ کر زبان کے پیٹرن سیکھتا ہے اور پھر آپ کے سوال کے مطابق معنی خیز جواب بناتا ہے۔ اسے گفتگو کے لیے بہتر بنانے کے لیے انسانی فیڈبیک کے طریقے استعمال کیے گئے، جنہیں RLHF کہا جاتا ہے، یعنی انسان یہ بتاتے ہیں کہ کون سا جواب بہتر ہے، پھر ماڈل اسی معیار کے قریب آتا جاتا ہے۔ یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ چیٹ جی پی ٹی "انسان کی طرح شعور"نہیں رکھتا، بلکہ یہ زبان اور معلومات کے پیٹرن کی بنیاد پر جواب بناتا ہے۔ اسی لیے بعض اوقات یہ بہت اچھا جواب دیتا ہے اور بعض اوقات غلط اعتماد کے ساتھ غلط بات بھی لکھ سکتا ہے۔ اسی مسئلے کو کم کرنے کے لیے ChatGPT میں “Search” اور “Deep Research” جیسے آپشنز دیے گئے تاکہ جب تازہ یا حوالہ جاتی معلومات چاہیے ہوں تو وہ ویب پر دیکھ کر سورس کے ساتھ جواب دے۔
چیٹ جی پی ٹی کیوں بنایا گیا؟ فائدہ کس کو اور کیسے ہوتا ہے؟
چیٹ جی پی ٹی کا بنیادی مقصد انسان کے علم اور کام کے درمیان رکاوٹ کم کرنا ہے۔ آپ کو ہر چیز کے لیے بیس ویب سائٹس کھولنے، نوٹس بنانے، پھر نتیجہ نکالنے میں گھنٹے لگتے ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی اسی کام کو "گفتگو" میں بدل دیتا ہے، یعنی آپ اپنا مقصد بولیں، وہ آپ کے لیے خلاصہ، منصوبہ، مثالیں، یا ڈرافٹ تیار کر دے۔ ChatGPT میں Search اور Deep Research اسی لیے لائے گئے کہ یہ صرف لکھنے والا ٹول نہیں رہے بلکہ تحقیق اور فیصلے میں بھی مدد دے سکے۔
پلس (+) بٹن کیا ہے؟ یہ چھوٹا سا نشان آپ کے لیے بڑا دروازہ کیوں ہے؟
چیٹ جی پی ٹی میں + یا Tools مینو اصل میں "ٹول باکس" ہے۔ یہاں سے آپ چیٹ جی پی ٹی کو صرف متن لکھنے کے بجائے مخصوص کام کرواتے ہیں، جیسے:
آپ تصویر بنوانا چاہتے ہیں تو Create image منتخب کرتے ہیں۔
آپ تازہ معلومات چاہتے ہیں تو Search یا Web Search استعمال کرتے ہیں۔
آپ مکمل تحقیقی رپورٹ چاہتے ہیں تو Deep Research لیتے ہیں۔
آپ خریداری میں کنفیوژن ختم کرنا چاہتے ہیں تو Shopping Research۔
آپ پڑھنا سیکھنا چاہتے ہیں تو Study and Learn (Study Mode)۔
آپ لمبی تحریر یا کوڈ کو پروجیکٹ کی شکل میں سنبھالنا چاہتے ہیں تو Canvas۔
یہ تمام آپشن میں آگے تفصیل سے بتاؤنگا-
سب سے ضروری مہارت: “صحیح پرامپٹ” کیسے لکھیں؟
اس کی کمپلیٹ گائڈ آپ کو میرے واٹس ایپ چینل پر پی ڈی ایف کی صورت مل جائیگی جو 50 صفحات پر مشتمل ہے کمنٹ میں چینل کا لنک ہے -
پرامپٹ صرف سوال نہیں، یہ ہدایات ہیں۔ ایک مضبوط پرامپٹ میں عموماً چار چیزیں واضح ہوں تو نتیجہ بہت بہتر ہو جاتا ہے:پہلی چیز، آپ چیٹ جی پی ٹی کو بتائیں آپ کیا بنوانا چاہتے ہیں۔دوسری چیز، کس کے لیے بنوانا چاہتے ہیں، یعنی آڈیئنس کون ہے۔تیسری چیز، انداز کیسا ہو، یعنی آسان اردو، بچوں والی زبان، یا پروفیشنل لہجہ۔چوتھی چیز، آؤٹ پٹ کی حد، یعنی کتنی لمبائی، کتنی مثالیں، اور کن نکات کے ساتھ۔
مثال کے طور پر اگر آپ صرف لکھیں": AI پر لکھو" تو جواب عام سا آ سکتا ہے۔
لیکن اگر آپ لکھیں: “آپ ایک استاد ہیں، آٹھویں جماعت کے بچے کو AI آسان اردو میں سمجھائیں، روزمرہ زندگی کی 6 مثالیں دیں، آخر میں 5 سوالات کا کوئز بھی ہو” تو جواب بالکل ٹارگٹڈ ہو جاتا ہے۔
موڈز اور ماڈلز کی سمجھ: Auto، Instant، Thinking، Pro، Legacy کیا ہوتے ہیں؟
یہ وہ جگہ ہے جہاں زیادہ لوگ الجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ چیٹ جی پی ٹی کے دماغ کے مختلف انداز ہیں۔
ہAuto موڈ میں سسٹم خود فیصلہ کرتا ہے کہ آپ کے سوال کے لیے تیز جواب کافی ہے یا گہری سوچ کی ضرورت ہے۔ یعنی آپ کو ماڈل چننے کی جھنجھٹ نہیں رہتی۔
ہInstant کا مطلب ہے فوراً جواب، جب آپ کو جلدی ہو۔ مثال کے طور پر آپ نے کہا: "ایک پوسٹ کے لیے 3 لائنیں بنا دیں" یا اس لفظ کا مطلب بتائیں تو Instant بہتر رہتا ہے۔
ہThinking کا مطلب ہے گہری reasoning، یعنی چیٹ جی پی ٹی جواب دینے سے پہلے مسئلے کو زیادہ تفصیل سے سمجھتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کہیں: میری آمدن بڑھ رہی ہے مگر بچت کم کیوں ہے، میری ماہانہ لسٹ بنا کر وجہ نکالیں تو Thinking موڈ زیادہ درست اور عملی نتیجہ دے گا۔
ہPro عام طور پر “research-grade intelligence” کے طور پر بتایا جاتا ہے، یعنی انتہائی سنجیدہ سطح کے کام کے لیے، مگر کچھ فیچرز ہر جگہ Pro کے ساتھ دستیاب نہیں ہوتے، مثلاً بعض پلانز میں Pro کے ساتھ Canvas یا image generation محدود ہو سکتے ہیں۔
Legacy Models کا مطلب پرانے یا سابقہ ماڈلز کی دستیابی ہے، کچھ ورک اسپیسز میں GPT-4o جیسے ماڈلز Legacy کے تحت دکھائے جا سکتے ہیں۔
GPT-4o کو OpenAI نے “omni” یعنی متن، تصویر اور آواز وغیرہ کے ساتھ بہتر reasoning کرنے والا ماڈل کہا ہے، اس لیے یہ اُن لوگوں کے لیے بہت مفید ہے جو تصویر دیکھ کر رائے، یا ملٹی میڈیا ورک فلو چاہتے ہیں۔
o3 اور o4-mini جیسے reasoning ماڈلز زیادہ تر گہرے تجزیے، منطق، اور visual reasoning جیسی چیزوں میں مدد کے لیے متعارف کرائے گئے۔
Create Image: چیٹ جی پی ٹی کو “تخلیقی آرٹسٹ” کیسے بنائیں؟
Create image وہ آپشن ہے جو الفاظ کو تصویر میں بدلتا ہے۔ آپ صرف سین کی وضاحت کرتے ہیں اور AI تصویر بنا دیتا ہے۔ ChatGPT میں image generation کو مزید بہتر بنانے کے لیے 4o image generation اور نئی Images experience کی اپڈیٹس بھی دی گئی ہیں، جن میں تیز رفتاری اور ایڈٹنگ کی بہتری شامل بتائی گئی ہے۔
اب اصل بات، اس کا صحیح استعمال کیسے ہو۔
اگر آپ لکھیں: “ایک بچہ روبوٹ کے ساتھ کتاب پڑھ رہا ہے” تو تصویر عمومی ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر آپ لکھیں: "6 سال کا بچہ، روشن کلاس روم، میز پر رنگین کتابیں، روبوٹ دوستانہ، نرم روشنی، بچوں کے لیے کارٹون اسٹائل "تو نتیجہ زیادہ کنٹرولڈ ہوگا۔
ایک اور عملی مثال، یوٹیوب تھمب نیل کے لیے: "ایک استاد ہاتھ میں مارکر لیے، بورڈ پر بڑے حروف میں ‘AI’ لکھا ہو، بچے حیران ہوں، رنگین مگر صاف کمپوزیشن، ہائی کونٹراسٹ، چہرے واضح"۔
اسی طرح لوگو کے لیے:"Minimal، flat design، دو رنگ، آئیکن اور ٹائپ، برانڈ نام واضح، سادہ لائنز"۔
یاد رکھیں: تصویر کے لیے "موضوع، ماحول، اسٹائل، روشنی، کیمرہ اینگل، اور مقصد" لکھیں تو آپ کا وقت بچتا ہے اور دوبارہ کوششیں کم ہوتی ہیں۔
Thinking یا Reasoning: یہ موڈ "مشیر" کی طرح کیوں کام کرتا ہے؟
Thinking موڈ کا فائدہ یہ ہے کہ جب مسئلہ سیدھا نہ ہو، بلکہ اس میں کئی وجہیں چھپی ہوں، تو وہ انہیں الگ الگ دیکھتا ہے۔
مثال کے طور پر آپ پوچھتے ہیں: "میری دکان پر رش ہے مگر منافع کم کیوں ہے"
Thinking موڈ آپ سے چند بنیادی چیزیں پوچھ سکتا ہے یا آپ خود دے دیں تو بہتر ہے، جیسے "اوور ہیڈ خرچ، قیمتیں، ڈسکاؤنٹ، ضائع ہونے والا مال، کریڈٹ سیل"۔ پھر وہ نتیجہ نکال کر کہتا ہے: "آپ کی سیل زیادہ ہے مگر مارجن کم ہے، یا اسٹاک ضائع ہو رہا ہے، یا ڈسکاؤنٹ بہت زیادہ ہے"۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے کوئی اکاؤنٹنٹ اور مارکیٹنگ والا مل کر آپ کی صورتحال دیکھ رہے ہوں۔
Deep Research: سطحی معلومات نہیں، مکمل "حوالہ جاتی رپورٹ" کیسے بنے؟
Deep Research اُن لوگوں کے لیے ہے جو صرف دو پیراگراف نہیں چاہتے بلکہ مکمل تحقیق چاہتے ہیں۔ OpenAI کے مطابق یہ فیچر multi-step طریقے سے ویب پر تحقیق کرتا ہے، معلومات اکٹھی کرتا ہے، موازنہ کرتا ہے اور پھر documented رپورٹ کی شکل میں نتیجہ دیتا ہے۔
مثال: آپ کہیں پاکستان میں الیکٹرک بائیکس کے مستقبل پر تحقیق کریں تو ایک اچھی Deep Research ریکویسٹ میں آپ یوں لکھیں:
"قیمتیں، بیٹری لائف، چارجنگ انفراسٹرکچر، حکومتی پالیسی، درآمدی ڈیوٹی، صارفین کے رجحانات، 2024 تا 2026 کی خبریں اور اعداد و شمار، اور آخر میں 5 بزنس مواقع اور 5 خطرات"۔
اس طرح آپ کو ایک ایسی رپورٹ ملتی ہے جسے آپ پریزنٹیشن یا مضمون میں بدل سکتے ہیں۔
Shopping Research: خریداری کا کنفیوژن ختم کرنے والا آپشن
Shopping research کا کام یہ ہے کہ آپ کی ضرورت سمجھ کر مختلف مصنوعات کا موازنہ کرے، اور پھر آپ کو فیصلہ آسان کر کے دے۔ سرکاری ہدایات کے مطابق آپ اسے + مینو سے کھول کر اپنی ضرورت بتاتے ہیں، اور یہ مزید سوالات کر کے آپ کی ترجیح واضح کرتا ہے، مثلاً بجٹ، برانڈ، سائز، کارکردگی، یا اسٹائل۔
مثال: آپ لکھیں "مجھے 60 ہزار کے اندر موبائل چاہیے، بیٹری بہترین ہو، کیمرہ مناسب ہو، اور اپڈیٹس اچھی ملیں" تو Shopping research آپ کے لیے چند آپشنز کا موازنہ کر کے بتا سکتا ہے کہ کس میں بیٹری مضبوط ہے، کس میں کیمرہ بہتر، کس میں ویلیو فار منی زیادہ۔یہ خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے قیمتی ہے جو مارکیٹ میں سیلز مین کے دباؤ یا زیادہ آپشنز کی وجہ سے غلط فیصلہ کر بیٹھتے ہیں۔
Study and Learn یا Study Mode: چیٹ جی پی ٹی کو “استاد” کیسے بنائیں؟
Study mode کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ صرف جواب نہ دے بلکہ آپ کو سکھائے، یعنی سوالات کرے، آپ کی غلطی درست کرے، اور قدم بہ قدم سمجھائے۔ اسے Tools میں “Study and learn” سے فعال کیا جا سکتا ہے، اور یہ ہوم ورک، ٹیسٹ پریپ اور نئے ٹاپکس سیکھنے میں خاص طور پر مفید بتایا گیا ہے۔
مثال: اگر بچہ کہتا ہےFraction سمجھ نہیں آتی تو Study mode میں آپ یوں کہیں: “مجھے 10 سال کے بچے کی سطح پر fraction سکھائیں، روٹی اور پیزا کی مثالیں دیں، پھر 10 سوالات کی پریکٹس کروائیں، اور ہر غلطی پر آسان وضاحت دیں۔ اس سے بچہ واقعی سیکھتا ہے، صرف رٹا نہیں لگاتا۔
Web Search یا ChatGPT Search: تازہ اور موجودہ معلومات کے لیے
جب آپ کو "آج" کی چیز چاہیے، جیسے تازہ خبر، اس سال کی ٹرینڈنگ اسکلز، مارکیٹ کی نئی پالیسی، یا کسی کمپنی کی نئی اپڈیٹ، تو صرف پرانی یادداشت کافی نہیں ہوتی۔ ChatGPT Search کو اسی مقصد کے لیے متعارف کرایا گیا کہ آپ کو fast اور timely جواب ملے اور ساتھ ذرائع کے لنکس بھی ہوں۔ Help Center کے مطابق ChatGPT بعض سوالات میں خود بھی ویب سرچ کر لیتا ہے، اور آپ چاہیں تو دستی طور پر Search ٹول منتخب کر سکتے ہیں۔
مثال: آپ پوچھیں 2026 میں کون سی ٹیک اسکلز زیادہ ڈیمانڈ میں ہیں؟ تو Search کے بغیر جواب اندازہ ہو سکتا ہے، لیکن Search کے ساتھ تازہ رپورٹس اور سورس کے مطابق بہتر جواب ملتا ہے۔
Canvas: لمبی تحریر، کتاب، اسکرپٹ یا کوڈ کا ورک اسپیس
Canvas ایک ایسا انٹرفیس ہے جہاں چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ آپ ایک ہی جگہ پر لکھتے بھی ہیں اور ایڈٹ بھی کرتے ہیں۔ یہ خاص طور پر اُن کاموں کے لیے ہے جو ایک پیغام میں نہیں سنبھلتے، جیسے کتاب، طویل مضمون، ریسرچ ڈرافٹ، یا سافٹ ویئر کوڈ۔ OpenAI کے مطابق canvas ایک الگ ونڈو میں کھلتا ہے، آپ براہ راست متن میں تبدیلی کر سکتے ہیں، اور ChatGPT سے مخصوص حصے بہتر بھی کرا سکتے ہیں۔
مثال: آپ کے پاس 30 صفحات کا مضمون ہے۔ آپ Canvas میں کہیں: پہلا باب زیادہ مضبوط intro کے ساتھ لکھیں، درمیان میں مثالیں بڑھائیں، اور آخر میں خلاصہ اور سوالات شامل کریں۔ پھر آپ اسی ڈاکیومنٹ میں live تبدیلیاں دیکھ سکتے ہیں۔
Explore Apps، Apps Directory اور Connectors: چیٹ جی پی ٹی کے اندر نئی دنیا--یہ واقعی چیٹ جی پی ٹی کو بہت آگے لے جاتی ہے۔ Apps in ChatGPT کا مطلب یہ ہے کہ آپ ChatGPT کو بیرونی ٹولز اور ڈیٹا کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں، تاکہ وہ صرف آپ کی باتیں نہ سنے بلکہ متعلقہ ایپس سے مدد لے کر جواب دے۔
Help Center کے مطابق آپ Apps directory سے ایپس براؤز کر سکتے ہیں، Settings > Apps میں جا کر Connect کر سکتے ہیں، اور پھر چیٹ میں @ mention یا Tools مینو سے انہیں استعمال کر سکتے ہیں۔
مثال: اگر آپ نے Slack یا کسی اور ایپ کو کنیکٹ کیا ہو تو آپ کہہ سکتے ہیں: پچھلے ہفتے کی میٹنگ کا خلاصہ نکال دیں” یا “پروجیکٹ کی آخری ڈیک تلاش کر کے پوائنٹس لکھ دیں۔ کچھ ایپس “sync” کے ساتھ بھی آتی ہیں، جن میں ChatGPT متعلقہ اندرونی معلومات استعمال کر کے جواب بہتر بناتا ہے، اور آپ چاہیں تو کہہ سکتے ہیں “don’t search internally”۔
Canva کے بارے میں سادہ اور درست بات یہ ہے کہ اگر آپ کے اکاؤنٹ میں Canva بطور App یا GPT دستیاب ہے تو آپ اسے Apps directory سے جوڑ کر ڈیزائن ورک فلو میں مدد لے سکتے ہیں، مثلاً پوسٹر، پریزنٹیشن، یا سوشل پوسٹ کے لیے کانسپٹ، کاپی اور لے آؤٹ گائیڈ۔ Apps directory اور apps submission کے اعلان کے بعد یہ ماڈل عام طور پر اسی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے کہ مخصوص کام مخصوص ایپس کے ذریعے آسان ہوں۔
Your Year with ChatGPT: یہ فیچر کیا دکھاتا ہے اور کس کے لیے ہے؟
Your Year with ChatGPT ایک recap تجربہ ہے جو آپ کی سال بھر کی سرگرمیوں کی جھلک دکھاتا ہے۔ Help Center کے مطابق اس کے لیے Memory اور Reference Chat History آن ہونا ضروری ہے، اور کچھ ممالک اور eligibility شرائط بھی ہیں۔
یہ فیچر اُن لوگوں کے لیے مفید ہے جو خود احتسابی چاہتے ہیں، مثلاً میں نے اس سال کیا سیکھا، کس موضوع پر زیادہ کام کیا، میرا فوکس کہاں تھا، اگلے سال کیا بہتر کرنا ہے۔
مختلف طبقے چیٹ جی پی ٹی سے کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں؟
اب اصل حصہ، یعنی آپ نے کہا الگ الگ کیٹیگری کے لوگ کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہاں میں ہر طبقے کے لیے سمجھ بوجھ والی مثالیں دے رہا ہوں، تاکہ بچہ بھی سمجھے اور بڑا بھی۔
طالب علم اگر چیٹ جی پی ٹی کو صرف جواب دینے والی مشین سمجھیں گے تو فائدہ کم ہوگا۔ لیکن اگر وہ Study mode میں اسے استاد بنا لیں تو یہ روزانہ کا ہوم ورک، ٹیسٹ پریپ، اور کمزور چیپٹرز کی پریکٹس میں کمال کر دیتا ہے۔
مثال کے طور پر: میری بایالوجی میں respiration کمزور ہے، مجھے 20 منٹ کا روزانہ پلان بنا دیں، پھر روز 10 MCQs لیں۔
اساتذہ کے لیے چیٹ جی پی ٹی ایک lesson planner ہے۔ وہ کہہ سکتے ہیں: ساتویں جماعت کے لیے بجلی کا سبق بنائیں، کلاس ایکٹیویٹی، ہوم ورک، اور 5 منٹ کا کوئز شامل کریں۔ پھر استاد اس میں اپنی مقامی مثالیں ڈال کر بہترین کلاس بنا سکتا ہے۔
والدین چیٹ جی پی ٹی کو بچوں کی پڑھائی، روٹین اور تربیت کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ مثال: میرے بچے کو موبائل کی عادت ہے، 14 دن کا اسکرین ٹائم کم کرنے کا پلان بنائیں، روزانہ متبادل سرگرمیوں کی فہرست دیں۔ یہاں Thinking موڈ زیادہ بہتر نتیجہ دے گا کیونکہ یہ عادت اور ماحول دونوں دیکھ کر پلان دیتا ہے۔
چھوٹے کاروباری افراد کے لیے چیٹ جی پی ٹی مارکیٹنگ اور آپریشن میں مدد کرتا ہے۔ مثال: میرے پاس جنرل اسٹور ہے، مجھے رمضان کے لیے آفر پلان، اسٹاک لسٹ، اور واٹس ایپ میسج ٹمپلٹس بنا دیں۔ یا: سیل کم ہے، 10 سوالات پوچھ کر میرے مسئلے کی جڑ نکالیں، پھر 7 دن کا ایکشن پلان دیں۔
کنٹینٹ کریئیٹرز کے لیے چیٹ جی پی ٹی اسکرپٹ رائٹر، تھمب نیل آئیڈیا جنریٹر اور کانٹینٹ ریسرچر ہے۔ وہ کہہ سکتے ہیں: اس موضوع پر 60 سیکنڈ کی ریل کا اسکرپٹ بنائیں، پہلے 3 سیکنڈ میں زبردست ہک ہو، آخر میں کال ٹو ایکشن۔ اور اگر ویژول چاہیے تو Create image سے کانسپٹ آرٹ یا تھمب نیل آئیڈیا بنوا سکتے ہیں۔
ڈاکٹرز، فارماسسٹ اور ہیلتھ پروفیشنلز چیٹ جی پی ٹی سے مریض ایجوکیشن میٹریل، ڈائٹ پلان کے ڈرافٹس اور سادہ زبان میں ہدایات بنا سکتے ہیں۔ مثال: ہائی بلڈ پریشر کے مریض کے لیے آسان اردو میں پرہیز اور روزانہ روٹین لکھیں، عام غلط فہمیاں بھی دور کریں۔ یہاں احتیاط لازم ہے، یعنی clinical فیصلے کے لیے ہمیشہ گائیڈ لائنز اور ماہر کی رائے مقدم رہے، جبکہ ChatGPT کو معاون ڈرافٹنگ ٹول سمجھیں۔
ریسرچرز اور طلبہ جب Deep research استعمال کرتے ہیں تو انہیں ایک documented رپورٹ مل سکتی ہے، خاص طور پر جب موضوع مارکیٹ، ٹیکنالوجی یا نئی تبدیلیوں سے متعلق ہو۔ مثال: پاکستان میں e-commerce logistics کے چیلنجز پر 2024 تا 2026 کے رجحانات کی تحقیق، مسائل، حل، اور کیس اسٹڈیز کے ساتھ رپورٹ بنائیں۔
سافٹ ویئر ڈیولپرز اور ٹیمز کے لیے Canvas اور Apps والا حصہ بہت قیمتی ہے، کیونکہ وہ ایک لمبے پروجیکٹ کو منظم طریقے سے لکھتے، ریفیکٹر کرتے اور ریویو کرتے ہیں، اور بعض صورتوں میں ایپس کے ذریعے اپنے کام کے مواد سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔
فری اور پیڈ ورژن کا عملی فرق
عام طور پر فری استعمال میں بنیادی چیٹ، محدود ٹول ایکسیس اور کچھ usage limits ہو سکتی ہیں، جبکہ پیڈ پلانز میں زیادہ فیچرز اور زیادہ ماڈلز کے انتخاب کی سہولت ملتی ہے۔ Deep research کے بارے میں OpenAI کی اپڈیٹس کے مطابق یہ وقت کے ساتھ مختلف پلانز تک پھیلتا رہا ہے۔
اگر کوئی شخص چیٹ جی پی ٹی کو کبھی کبھار استعمال کرتا ہے تو فری بھی کافی ہو سکتا ہے۔ لیکن جو شخص اسے تعلیم، بزنس، ریسرچ، یا کریئیٹو پروجیکٹس میں روزانہ استعمال کرتا ہے، اس کے لیے پیڈ ورژن اکثر وقت اور ذہنی دباؤ دونوں بچاتا ہے۔
ایک سادہ چیٹ جی پی ٹی ورک فلوجو ہر بندہ یاد رکھے
جب بھی آپ چیٹ جی پی ٹی کھولیں، اپنے آپ سے تین سوال کریں۔
کیا مجھے صرف جلدی جواب چاہیے؟ تو Instant یا Auto کافی ہے۔
کیا مجھے فیصلہ سازی، حساب یا پلاننگ چاہیے؟ تو Thinking بہتر ہے۔
کیا مجھے تازہ ڈیٹا یا حوالہ چاہیے؟ تو Search یا Deep research استعمال کریں۔
کیا مجھے لمبا پروجیکٹ لکھنا یا ایڈٹ کرنا ہے؟ تو Canvas پر جائیں۔
کیا مجھے تصویر، پوسٹر یا تھمب نیل چاہیے؟ تو Create image۔
چیٹ جی پی ٹی اب ٹول نہیں، ایک سسٹم ہے، مگر شرط یہ ہے کہ آپ اسے صحیح چلانا سیکھیں-