پاكستانيات
ناموں كی تبديلی
ابو الحسین آزاد
لاہور میں ناموں کی حالیہ "تبدیلی" اس اساس پر ہو رہی ہے کہ لوگوں کی زبانوں پر آج بھی ان جگہوں کے پرانے نام ہی رائج ہیں اور شہر کی متعدد تاریخی اور ادبی جہتیں بھی انھی ناموں سے وابستہ ہیں۔ یوں اپنی اصل کے لحاظ سے یہ تبدیلی نہیں بلکہ بحالی ہے۔ اس لیے ہماری رائے میں یہ کوئی قابل حرج بات نہیں ہے، نیز یہ انتہائی محدود پیمانے پر ہو رہا ہے، ورنہ صرف لاہور میں سینکڑوں نئے نام مل جائیں گے۔
اس سے ہٹ کر جگہوں کے ناموں کی تبدیلی کا معاملہ ایسا ہے کہ عموماً اس سے مطلوبہ مقاصد بھی حاصل نہیں ہوتے اور ایک یا دو نسلیں ایک عجیب الجھن کا بھی شکار رہتی ہیں۔ یہ بالکل وہی گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کرنے اور "نیا ٹائم یا پرانا ٹائم؟" والا قصہ ہے۔
صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی اس کی ایک زندہ مثال ہے، 65 سال بعد نام کیوں بدلا گیا؟ ہم اس بحث میں نہیں جاتے، نام بدلنے کے ساتھ ہی ہزارہ کے احتجاج میں بیسیوں لوگوں کی ہلاکت کے سوا کیا فائدہ حاصل ہوا؟ ہم اس سوال کو بھی نہیں اٹھاتے۔ صرف یہ بتائیے کہ صوبے کو جو نام دیا گیا تھا اس کی طوالت اور مجموعی طور پر پاکستانیوں کے لیے الفاظ کی نامانوس ترکیب بندی اس بات کی متحمل تھی کہ وہ زبانوں پہ جاری ہو سکے؟ اتنی بڑی حقیقت کو فراموش کر کے جو نام دیا گیا آج اس کی جگہ سب KPK کہتے ہیں، اگر انگریزی کے یہی تین حرف ہی دینے تھے تو سرحد نام میں کیا مضائقہ تھا؟ وہ اس سے تو زیادہ بامعنی اور تاریخی نام تھا۔
اصل بات یہ ہے کہ جگہوں کا نام اسمِ علم ہوتا ہے، اسم علم سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی لغوی و معنوی جہتیں محو ہو جاتی ہیں اور اس کا واحد معنی اس جگہ اور اس کی خصوصیات کے ساتھ وابستہ ہو جاتا ہے۔ کتنے لوگوں کو اسلام آباد کا لفظ سن کر اسلام کا خیال آتا ہے، فیصل آباد سے کتنے لوگ شاہ فیصل کو یاد کرتے ہیں اور ہری پور کہاں تک راجہ ہری سنگھ کی یاد دلاتا ہے؟ اب ان لفظوں کے اصل معانی ان کی زمینی اور تاریخی خصوصیتوں کے ساتھ ہی وابستہ ہيں۔ بس لائل پور کو مکمل فیصل آباد بننے کے لیے ابھی تیس چالیس سال اور درکار ہیں۔
پھر ایک ہوتی ہے بڑی، بامعنی اور شایان شان نام سازی، جیسے ملک کے دار الحکومت کا نام اسلام آباد رکھنا، اسم علم کی خصوصیات سے قطع نظر یہ ایک تہذیبی، باوقار اور شناخت کا پتا دینے والی نام سازی ہے لیکن ہمارے ہاں اسلامائزیشن، تنظیمیت اور تحریکیت کے جو سیاسی جھکڑ چلے اور ان کے تحت چوکوں، چوراہوں، محلوں اور بستیوں کو جس بڑے پیمانے پر اسلامیایا گیا اس سے اسلام کو ہرگز کوئی قوت نہیں ملی۔ پلاسٹک شاپروں، کول ڈرنکس کی بوتلوں، حجام کی دکان سے باہر گرے بالوں، پھلوں کے چھلکوں اور نالی کے پانی سے کانوں کان سڑک کے گڑھوں سے لبریز چوک کو آپ ختم نبوت یا میلاد چوک کہہ کر کیا کمال کر رہے ہیں؟ آپ دین اور اس کے تقدس کا کیا تصور قائم کر رہے ہیں؟ عقیدہ ایسی سڑکوں سے عبارت ہے، نہ ان پہ لگے زنگ آلود بل بورڈز سے۔
پھر اس سے بڑی قیامت یہ ہے کہ تازہ تازہ کلمہ پڑھائے گئے ان چوراہوں یا محلوں کو کوئی ان کے پرانے ناموں سے پکار دے تو دو چار ٹوکنے والے بھی موجود ہوتے ہیں: بھائی! جہاز چوک کیوں کہتے ہو؟ صدیق اکبر چوک کہو، عقیدے کا عقیدہ ہے اور ثواب کا ثواب۔
جہاں ثواب اور عقیدے کا معیار یہ بن جائے وہاں کرنے کو کوئی بات بھی باقی نہیں رہتی۔ بس اتنی گزارش ہی ہو سکتی ہے کہ جگہ جس فطری نام سے وجود میں آئی ہے، اگر کوئی ناگزیر ضرورت نہیں ہے تو اسے اسی نام کے ساتھ رہنے دیں۔ ثواب کمانے کے اور بہت طریقے ہیں۔