جس سے نيكی كرو اس كے شر سے بچو

مصنف : نامعلوم

سلسلہ : علم و دانش

شمارہ : اپريل 2026

علم و دانش

جس سے نيكی كرو اس كے شر سے بچو

نامعلوم

یہ ایک بہت مشہور قول ہے، "جس سے نیکی کرو اسکے شر سے بچو"۔ یہ قول بظاہر منفی لگ سکتا ہے، لیکن اس کے پیچھے گہری نفسیاتی اور سماجی حقیقتیں چھپی ہوئی ہیں۔ جو اس موضوع کی نفسیاتی، اخلاقی، اور فلسفیانہ پہلوؤں کا احاطہ كرتی ہيں-

​جس سے نیکی کرو اس کے شر سے بچو ایک گہری نفسیاتی تشریح

​ہم سب نے یہ سنا ہے: "جس سے نیکی کرو، اس کے شر سے بچو۔"

​پہلی نظر میں یہ بات بہت منفی، یہاں تک کہ بزدلانہ بھی لگتی ہے۔ کیا نیکی کا مطلب یہ ہے کہ ہم بدلے میں برائی کی توقع کریں؟ کیا ہمیں لوگوں کی مدد کرنے سے رک جانا چاہیے؟

​نہیں، ہرگز نہیں۔ اس قول کا مقصد نیکی کرنے سے روکنا نہیں، بلکہ اس انسانی نفسیات کو سمجھنا ہے جو نیکی کے عمل کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ یہ قول دراصل ہمیں اس پیچیدہ جذبات اور سماجی حرکیات سے آگاہ کرتا ہے جو نیکی حاصل کرنے والے اور نیکی کرنے والے کے درمیان پیدا ہو سکتی ہیں۔

​نفسیاتی زاویہ: احسان کے بوجھ سے نفرت

​جب ہم کسی کے ساتھ نیکی کرتے ہیں، تو ہم نادانستہ طور پر ان پر ایک اخلاقی بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ انسان فطرتی طور پر خود مختاری اور عزتِ نفس کو پسند کرتا ہے۔ جب وہ کسی سے مدد لیتا ہے، تو اسے لگتا ہے کہ اس کی کمزوری یا عاجزی ظاہر ہو گئی ہے۔

​احساسِ کمتری: مدد حاصل کرنے والا لاشعوری طور پر محسوس کرتا ہے کہ وہ نیکی کرنے والے سے "نیچے" ہے، کیونکہ وہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے قابل نہیں تھا۔ یہ احساسِ کمتری نفرت، حسد یا پھر دور ہو جانے کے جذبے میں بدل سکتا ہے۔

​احسان کا بوجھ: کچھ لوگ احسان کا بوجھ اٹھانے سے گھبراتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس بوجھ کو جلد از جلد اتار دیں، اور اگر وہ ایسا نہیں کر پاتے، تو ان کے اندر گھٹن پیدا ہو سکتی ہے، جو غصے یا شر میں بدل جاتی ہے۔

​مختلف مفکرین کی آرا

​فریڈرک نطشے (Friedrich Nietzsche):

"جب میں نے کسی کو محتاج دیکھا، تو میں نے اس کی مدد کی؛ لیکن اس کی وجہ سے اس کی خودداری کو جو زخم لگا، اس کی تلافی میں کبھی نہ کر سکا۔ وہ ہاتھ جو مدد کے لیے بڑھتا ہے، اکثر لینے والے کے دل میں ایک کانٹا چبھو دیتا ہے۔"

​خلاصہ: نطشے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نیکی کے عمل سے مدد لینے والے کی خودداری کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے، جس کا تدارک ناممکن ہے۔

​الفریڈ ایڈلر (Alfred Adler):

"انسان کے اندر برتری حاصل کرنے کی خواہش اتنی شدید ہوتی ہے کہ کسی دوسرے کا احسان اسے اپنی شکست محسوس ہوتا ہے۔ وہ شخص جو آپ کی مدد کرتا ہے، وہ دراصل آپ کے لیے آپ کی نااہلی کا زندہ اشتہار بن جاتا ہے، اور انسان اشتہاروں سے نہیں، سچائی سے ڈرتا اور نفرت کرتا ہے۔"

​خلاصہ: ایڈلر کے مطابق، نیکی کرنے والا دراصل مدد لینے والے کے لیے اس کی کمزوری کی علامت بن جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اس سے نفرت کرنے لگتا ہے۔

​تو، حل کیا ہے؟

​اس قول کا مقصد ہمیں نیکی کرنے سے روکنا نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ جڑی ہوئی نفسیات کو سمجھنا ہے۔ ہمیں نیکی خلوصِ نیت سے کرنی چاہیے، بدلے کی امید کیے بغیر، اور اس بات کا خیال رکھتے ہوئے کہ لینے والے کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔

​خلوصِ دل سے نیکی کریں: اگر نیکی صرف دکھاوے یا تعریف کے لیے کی جائے، تو لینے والے کو اس کا اندازہ ہو جاتا ہے، اور وہ اس نیکی سے نفرت کر سکتا ہے۔

​لینے والے کی عزت کا خیال رکھیں: نیکی کرتے وقت اس بات کا دھیان رکھیں کہ لینے والے کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔ مثال کے طور پر، نیکی چپکے سے کریں، یا پھر لینے والے کو یہ محسوس نہ کرائیں کہ وہ آپ کا مقروض ہے۔

​​نیکی ایک خوبصورت عمل ہے، لیکن اسے سمجھداری اور خلوص سے کرنا چاہیے۔ "جس سے نیکی کرو، اس کے شر سے بچو" کا مقصد یہ نہیں کہ ہم نیکی کرنا چھوڑ دیں، بلکہ یہ کہ ہم نیکی کے عمل کے ساتھ جڑی ہوئی پیچیدہ نفسیات کو سمجھیں اور اس کے مطابق عمل کریں۔