علم و دانش
بے برکتی کے تین اسباب
قاسم علی شاہ
(1)کمانے کی جگہ کی برائی کرنا
آپ نے معاشرے میں ایسے لوگ ضرور دیکھے ہوں گے جو اپنے دفتر اورکمپنی وغیرہ کی برائی کرتے رہتے ہیں۔”یہ ادارہ ٹھیک نہیں“،”یہاں کسی کی قدر نہیں“،”میری قسمت خراب ہے جو مجھے یہ جگہ ملی“،”معلوم نہیں کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں“ جیسے جملے ہم آئے روز سنتے رہتے ہیں۔
اللہ کی ذات انتہائی رحیم ہے۔وہ انسان کی محنت کا صلہ صرف پیسوں کی شکل میں نہیں بلکہ بہت سی دیگرشکلوں میں بھی دیتی ہے۔جب بندہ اپنے کمانے کی جگہ کاگلہ شروع کردیتاہے تو وہاں سے اسے پیسے ضرور ملتے ہیں لیکن رحمت، برکت اور سکون و اطمینان ملنا بند ہوجاتاہے۔جس کا نتیجہ یہ نکلتاہے کہ پیسہ کمانے کے باوجود بھی اس کی زندگی میں فراوانی نہیں آتی، وہ تنگی کاشکارہوتاہے اور یہ چیز اسے بے سکونی اور ذہنی اضطراب میں مبتلا کردیتی ہے۔جیسے جیسے یہ عادت بڑھتی ہے اس کی زندگی میں بے سکونی بھی بڑھتی ہے۔وہ سوچتاہے کہ میں اچھا خاصا کمارہا ہوں، اس کے باوجود بھی گھر کے اخراجات پورے نہیں ہوتے۔وہ اس چیز کو اپنے کام کی جگہ سے جوڑتاہے اور سمجھتا ہے کہ اگرمیں کہیں اور ہوتاتو زیادہ کمارہا ہوتا اوریہ مسائل بھی نہ ہوتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اگرموجودہ پوزیشن سے بہتر پوزیشن پر بھی چلاجائے تب بھی مسائل و مشکلات اس کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے،کیوں کہ وہ ایسی جگہ کی ناقدری کررہا ہے جہاں سے اسے رزق مل رہا ہے۔یہ ایسا ہے گویا اپنی کشتی میں اپنے ہاتھوں سے سوراخ کرنا۔جس کانتیجہ ڈوبنے کے سوا کچھ نہیں۔
یہاں ایک فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ایک ہے گلہ شکوہ یعنی ہروقت اپنے حالات پرروتے رہنا،ہر محفل میں شکایت کرتے رہنا اور ہر نئے شخص کو دکھڑے سناتے رہنااور اپنی منفی توانائی دوسروں میں منتقل کرتے رہنا۔جب کہ دوسری چیز ہے Went out(دل کا بوجھ ہلکا کرنا) یعنی اس نیت سے اپنی مشکل کسی سمجھ دار انسان کو بتانا کہ وہ آپ کو اچھا مشورہ دے، کوئی راستہ بتائے جس سے آپ کے لیے آسانی پیدا ہو۔ یہ کیفیت اگر کبھی کبھار ہوتواس میں حرج نہیں لیکن اگریہ معمول بن جائے تویہ گلہ بن جاتاہے۔
دوسروں کے سامنے گلہ شکوہ کرتے کرتے انسان اپنے ساتھ بھی ایسی باتیں کرنا شروع کردیتاہے۔منفی خودکلامی کی یہ شکل انتہائی خطرناک ہے۔“میں کچھ نہیں کرسکتا ” ،“ میرے ساتھ ہمیشہ برا ہی ہوتا ہے”جیسے جملے انسان کی ہمت توڑدیتے ہیں۔ایسا شخص مواقع میں بھی مسائل تلاش کرتاہے اور اپنے اوپر ترقی کے دروازے بند کردیتاہے۔
(2)خود ترسی
برکت ختم کرنے والی دوسری چیز کا نام خودترسی ہے۔خودترس انسان احساس محرومی سے بھراہوتاہے۔ اسے لگتا ہے کہ دنیا اس کے ساتھ انصاف نہیں کررہی، لوگ اس کی قدر نہیں کرتے اور اس کی قسمت بہت بری ہے۔ایسا شخص سوچتاہے،”میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟“،”میں سب سے زیادہ محنت کررہا ہوں، مگر مجھے کچھ نہیں ملتا“،”ہر شخص میرے ساتھ زیادتی کررہا ہے“۔لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔
خود ترسی کی جڑیں اکثر بچپن میں پیوست ہوتی ہیں۔ اگر بچپن میں کسی انسان کوکمتری کااحساس دیاگیا ہو یا اسے مشروط محبت ملی ہوتو اس کے اندر ایک مستقل خلا پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ بڑا ہوکر بھی ہر کامیابی کو ناکافی اور ہر ناکامی کو ذاتی توہین سمجھتا ہے۔ وہ سیکھنے اور آگے بڑھنے کی نیت سے محنت نہیں کرتابلکہ اس سوچ کے ساتھ کرتاہے کہ میں نے ثابت کرنا ہے کہ میں محروم ہوں۔ایسا شخص محنت تو کرتاہے لیکن اس کی توجہ مواقع پر نہیں بلکہ محرومیوں پر ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کی توانائی شکایت میں ضائع ہوتی رہتی ہے اوراس کی زندگی سے سکون واطمینان ختم ہوجاتاہے۔
(3)اپنے کام کی عزت نہ کرنا
معاشرے میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو کام تو کرتے ہیں مگر دل سے اسے قبول نہیں کرتے۔ ان کے اندریہ بات چل رہی ہوتی ہے کہ ”میں اس سے بڑے کام کے لیے بنا ہوں“،”یہ کام میرے معیار سے کم ہے“،”اگر ادارے اور لوگوں نے میرے راستے میں رکاوٹ نہ ڈالی ہوتی تو آج میں ترقی کی معراج پر ہوتا“،بہ ظاہریہ سوچ خوداعتمادی والی لگتی ہے لیکن در حقیقت یہ خودفریبی ہوتی ہے۔اپنے کام کی عزت نہ کرنے والا شخص اپنے حال کو قبول نہیں کرتا۔ وہ اپنی ذمہ داری کو کمتر سمجھتاہے جس کی وجہ سے اس کی کارکردگی کمزور ہوتی جاتی ہے۔اس کا کام شوق و لگن سے خالی ہوتاہے اسی لیے معیاری بھی نہیں ہوتا جس کی وجہ سے اسے آگے بڑھنے کے مواقع نہیں ملتے اور اس بات پر بھی وہ ہمیشہ شکوہ کرتارہتاہے۔
اس رویے کی ایک بڑی وجہ موازنہ ہے۔ سوشل میڈیاپردوسروں کی شان دار زندگی دیکھ کریہ شخص سوچتاہے کہ میں بھی کسی سے کم نہیں ہوں۔یہ بات درست ہے، کوئی انسان کسی سے کمتر نہیں، ہر شخص صلاحیتوں سے مزین ہے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ کوئی فرد اپنے کام کو حقیر جانے۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا ہر بڑا انسان چھوٹے کام سے گزر کر بڑے کام تک پہنچا ہے۔ چھوٹے کام بہترین انداز میں کرنے والے شخص کو ہی اللہ تعالیٰ بڑے کام کاموقع دیتاہے۔
جب یہ منفی سوچ بار بار دماغ سے ٹکراتی ہے تو دماغ میں اسی کی مقناطیسیت پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر انسان کو ہر جگہ ناانصافی نظر آتی ہے، ہر کامیابی میں سازش دکھائی دیتی ہے۔ وہ اپنی توجہ سیکھنے اور بہتر ہونے پر نہیں بلکہ اپنی بڑائی ثابت کرنے پر لگا دیتا ہے جس کی وجہ سے زندگی میں برکت ختم ہوجاتی ہے۔
اپنی زندگی میں برکت، سکون اور اطمینان لانے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے کام کواہمیت دیجیے،اسے عزت دیجیے اور محبت و شوق کے ساتھ اسے انجام دیجیے، کیوں کہ کام کے ذریعے ملنے والے پیسوں سے آپ کھاناکھاتے ہیں، لباس پہنتے ہیں اور اپنے بچوں کی پرورش کرتے ہیں۔اب اگراپنے کام کو حقیر سمجھیں گے توحقارت کی یہ نحوست آپ کے تمام معاملات میں شامل ہوجائے گی اور آپ کی زندگی پریشانیوں سے بھر جائے گی۔
کام، اللہ کا انعام ہے۔ کہتے ہیں کہ کام سے محبت، محبت سے کام کرنا سکھا دیتی ہے۔ جب کام محبت بن جائے تو پھر گلہ شکوہ نہیں رہتا اور یہیں سے برکت اور خوش حالی شروع ہوجاتی ہے۔