مشاہير ملت
محمد علی كلے
ڈاكٹر تنوير زبيری
شاہ معظم! مجھے آپکے اٹھائیس ارب روپے - سعودی شہریت اور مرتبہ سفارت قبول نہیں
مسلم دنیا کی سب سے معتبر اور دنیا کی سب سے دولتمند شخصیت۔ خادم حرمین شریفین شاہ خالد بن عبدالعزیز بن سعود یہ سن کر سکتے میں آگئے۔ کافی دیر بعد شاہی محل کےنقرئی دبیز صوفے میں فروکش شاہ خالد۔ نے خاموشی توڑی اور محمد علی سے اتنی عظیم الشان شاہی پیشکش رد کرنے کا سبب دریافت کیا۔۔
یہ سال 1978 کا ذکر ہے۔۔ محمد علی قبول اسلام کے بعد متعدد بار حجاز مقدس آچکے تھے۔ شاہ فیصل کے شاہی مہمان کی حیثیت سے انہیں 1972 میں حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ آج وہ دوبارہ شاہی مہمان بنے۔اس ملاقات کے لئے سعودی عرب کا واشنگٹن میں سفارت خانے کافی دیر سے منصوبہ بندی میں مصروف تھا۔
باکسنگ اور کھیلوں کے بلا شرکت غیرے سرتاج۔ محمد علی۔ 36 برس کے تھے۔ اسی برس انہوں نے تیسری مرتبہ ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپئن شپ کا اعزاز انسابقہ ورلڈ چیمپئن لیون سپینکس کو ہرا کر حاصل کیا تھا۔۔ بلاشبہ اس وقت محمد علی دنیائے سپورٹس کا سب سے بڑا نام تھے۔ مگر انکے مالی حالات مثالی نہ تھے۔ آج کے ناقابل یقین معاوضوں کے مقابلے میں تب سٹار کھلاڑیوں کو کافی کم معاوضہ ملتا تھا۔اپنے کیریئر کے عروج کے دنوں جیل بھگتنے۔ اور پابندیوں کے نتیجے میں انہیں لاکھوں ڈالرز کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ جسکا انہوں نے کبھی ملال نہ کیا ۔ محمد علی نے کبھی مال و زر سے دل نہ لگایا۔ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ اپنے بڑے خاندان کی فلاح اور خیراتی کاموں میں تعاون کی صورت صرف کرتے۔
شاہ خالد محمد علی کو بحیثیت باکسنگ چیمپئن قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ مگر ان کے دل میں ان کا اصل مقام قبول اسلام کے نتیجے اور ویت نام کی جنگ میں شرکت سے انکار کی پاداش میں باکسنگ چیمپئن شپ کے ٹائٹل اور مراعات کے چھن جانے پر صبر۔ استقامت اور جرات مندی سے اسلام کا دفاع کرنا تھا۔ انکے کردار کے اس دلکش پہلو۔۔ نے انہیں امت مسلمہ کی آنکھوں کا تارا بنا دیا تھا۔ یہ انکے کیریئر کے عروج کے آخری ایام تھے۔
ہیرے ۔ جواہرات اور سونے سے جڑے اس خوبصورت اور مرصع محل کے اس پرسکون گوشے میں مترجم اور شاہ کے خواص ہی موجود تھے۔ شاہ نے علی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ آپ کی ویت نام کی جنگ کے دوران جرات مندی۔ اپنے دین اور عقیدہ کی حفاظت اور پاسداری کو۔ عالم اسلام محبت اور عقیدت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ آپ دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کے دل موہ لئے ہیں ۔ محمد علی نے تشکر بھرے لہجے میں اسے محض اللہ پاک کی کرم نوازی گردانا۔ شاہ نے گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھایا اور بولے۔ کہ میں آپ اور آپکی آئندہ نسلوں کے مالی تحفظ کیلئے ایک آفر آپکے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔شاہ کا ایک نائب آگے بڑھا اور نوٹوں سے بھرا ایک بڑا بیگ میز پہ رکھ دیا اور ایک بریف کیس کھول کر شاہ خالد کے سامنے رکھ دیا ۔ شاہ نے محمد علی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ۔ میں آپ کو ایک سو ملین ڈالرز (آج کے اٹھائیس ارب روپے ) آپکی اسلام کیلئے بیش بہا خدمت پر ہدیہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ ہمارے سفیر ہوں گے اور آپ کو سالانہ دس لاکھ ڈالرز(28 کروڑ روپے ) معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ ایک پرائیویٹ جیٹ آپکی ملکیت ہوگا۔ اور ریاض میں ایک عالی شان محل آپکی تصرف میں ہوگا۔ اسکے عوض آپ مغربی ممالک اور بقیہ دنیا میں مسلمانوں اور سعودی عرب کے نمائندے کے طور پر سفر کریں گے اور تقریبات میں سعودی عرب اور اسلام کی نمائندگی کرینگے۔ وہ چھ ماہ سعودی عرب میں قیام رکھیں گے۔ انہیں سعودی شہریت عطا کی جائے گی۔ مگر انہیں امریکی شہریت سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ اتنی شاندار آفر محمد علی۔ انکی اہلیہ ویرونیکا اور وفد کیلئے ناقابل یقین تھی۔ اتنی دولت تو محمد علی اور اتنی سات پشتون کی پرتعیش زندگی کیلئے کافی تھی۔ محمد علی دم بخود تھے۔ کچھ توقف کے بعد بولے ۔۔ شاہ معظم۔۔ مجھے سوچنے کا موقع دیجئے۔
شام کو انکی اہلیہ اور فنانشل ایڈوائزر انہیں بتا رہے تھے کہ باکسنگ کے کیرئیر سے انہوں نے چند لاکھ ڈالر ہی پس انداز کئے۔ اپنی دولت کا بڑا حصہ انہوں نے اپنے خاندان کی مالی امداد اور خیراتی مد میں خرچ ڈالا تھا۔ اور اب انکا کیرئیر ختم ہونے کے قریب ہے۔ مشیر نے کہا کہ وہ سو مرتبہ بھی چیمپئن بن جائیں تو اسکا عشر عشیر نہیں پاسکتے۔ انکی اور آئندہ نسلوں کے لیے مالی آسودگی کا اس سے دلکش پیکج ناقابل تصور ہوگا
۔محمد علی عالم اضطراب میں شاہی مہمان خانہ کے آراستہ کمرے کے چکر لگا رہے تھے اور گہری سوچ میں گم تھے ۔ انکی اہلیہ نے انکی یہ حالت پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ انہوں نے علی کا ہاتھ تھام لیا اور بولی۔۔ میں آپ کی آزمائش اور راحت۔ دونوں کی ساتھی ہوں۔مجھے یاد ہے کہ ویت نام کی جنگ میں جبری شرکت سے انکار پر آپ کو جیل میں قید کر دیا گیا تھا۔ مگر تب آپ بہت پرسکون تھے۔ آپ کے لئے شاید آج فیصلہ کرنے میں دشواری ہورہی ہے۔ مگر خدارا صرف وہ کیجئے۔ جو آپ کے دل اور ضمیر کی آواز ہے۔
اگلے دوز دن کی روشنی میں شاہ خالد کا شاہی کمرہ سورج کی روپہلی کرنوں میں اور بھی پرشکوہ لگ رہا تھا۔ شاہ خالد۔ محمد علی اور انکے وفد کے استقبال کے لئے چشم براہ تھے۔ شاہ نے محمد علی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ میں نے آپ کے انعام میں بیس لاکھ ڈالرز کا مزید اضافہ کردیا ہے اور ایک خوبصورت اور پرشکوہ مسجد آپ کی پسند کے ملک اور شہر میں آپ کے نام پر تعمیر کی جائے گی۔۔ شاہ دل میں سوچ رہے تھے کہ کون اتنی عالیشان اور فیاضانہ پیشکش کو مسترد کر سکتا ہے۔ شاہ خالد نے استفسار کیا کہ انہوں نے کیا فیصلہ کیا ہے۔
محمد علی پراعتماد اور پرسکون لہجے میں بولے۔۔ شاہ معظم! میں آپ کی عنایات اور انتہا درجے کی فیاضی اور محبت کے احسان تلے دبا ہوں۔ آپ کی جانب سے مجھ ناچیز کو کی گئی پیشکش غیر معمولی اور ناقابل یقین حد سے بھی بڑھ کر ہے۔ بادشاہ غور سے سن رہے تھے۔ محمد علی نے کچھ توقف اختیار کیا اور ادب سے بولے۔۔ حضور میں آپ سے معذرت خواہ ہوں۔ میں آپ کی پیش کش قبول نہیں کرسکتا۔۔ کمرے میں موجود سب لوگوں کو گویا سانپ سونگھ گیا ۔ ترجمان نے علی سے پوچھا آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟
محمد علی بولے ۔ شاہ معظم میں نے اسلام اسکی عالمی حقانیت اور اللہ پاک کا پسندیدہ دین سمجھ کر اختیار کیا ۔ گزشتہ برسوں میں میں نے قرآن پاک کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔۔ میں نے شعوری طور پر اسلام قبول کیا ہے نہ کہ اس سے کوئی مالی منفعت کی طلب گاری رکھوں۔ اگر آج میں آپ کی یہ پیشکش قبول کر لوں تو لوگ سوال کریں گے کہ میں نے انعام واکرام اور جاہ وجلال کیلئے اپنا مذہب ترک کیا ۔ میں دنیا میں اسلام کا سفیر بحیثیت کنٹکی۔ امریکہ کے محمد علی کلے کرنا چاہوں گا۔ میں انہیں بتانا چاہوں گا کہ میں ایک امریکی ہوتے ہوئے ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہوں۔ میں انہیں یہ باور کراونگا کہ اسلام امریکہ میں اجنبی نہیں بلکہ امریکہ کا حصہ ہے۔
بادشاہ کیلئے یہ سب ناقابل یقین تھا۔ انکے نزدیک اربوں روپے اور اتنی دلکش مراعات کو کون ٹھکرا سکتا ہے۔
میری زبان سے اسلام کی حقانیت اور عالمگیر سچائی عام لوگوں میں اور نکھر جائے گی اور میری بات میں وزن ہوگا۔ محمد علی نے سلسلہ کلام جاری رکھا۔ ۔۔ اگر آپ مجھ سے سوال کریں کہ اسلام نے مجھے کیا دیا ہے۔ اس میں سب سے بڑھ کر میرا امریکی ہونے کے ناطے اسلامی تشخص اور شناخت ہے ۔۔ جسکی قیمت میری دانست میں اربوں روپے سے زیادہ ہے۔ آپ کا دیا گیا محل بلاشبہ بہت خوبصورت ہوگا۔ مگر کنٹکی میں میرا درمیانہ درجے کا گھر ایک مضبوط امریکی مسلمان کا قلعہ ہے۔ میں امریکی لوگوں سے آپ سے پیسے لیکر اور سعودی شہریت اختیار کر نے کے بعد کیسے بات کرسکوں گا۔ میں امریکہ میں انصاف اور برابری کی بات ایک امریکی کی حیثیت میں بہتر انداز میں کرسکتا۔ میں مغرب اور اسلام کے درمیان ایک پل کی طرح رہنا چاہتا ہوں۔ جسکی جڑیں دونوں اطراف میں ہوں۔ دیرپا اور مضبوط۔ شاہ کے مصاحبین سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کوئی شخص بادشاہ کی اتنی بڑی پیشکش کو اصولوں کی بنیاد پر ٹھکرا سکتا ہے۔ شاہ خالد محمد علی کی جامع اور مدلل گفتگو سنکر گہری سوچ میں پڑ گئے۔
انہوں نے جذبات بھرے لہجے میں کہا۔ میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ کسی شخص کو اتنی عالیشان آفر واپس کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ آپ کے عمل نے یہ ثابت کیا کہ آپ کا عقیدہ اور اللہ پاک کی ذات میں یقین ہم پیدائشی مسلمانوں سے زیادہ ہے۔ آپ نے میری پیشکش ٹھکرا کر میری نظر میں اپنی قدرومنزلت اور بھی بڑھا لی ہے۔ میں اپنی پیشکش واپس لیتا ہوں۔ مگر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اسلام کی ترویج کے لیے آپ جو خواہش کریں گے اس کو پورا کرنا میرے لئے فرض عین ہوگا۔ آپ کی صورت اللہ رب العزت نے مجھے ایک بھائی عطا فرمایا ہے اور آپ سے عقیدت اور محبت کا تعلق میری زندگی کا سرمایہ ہوگا۔ شاہ خالد نے اپنے الفاظ کا پاس رکھا اور اپنی زندگی میں محمد علی کو سعودی عرب میں شاہی خواص کا درجہ دئے رکھا۔
محمد علی نے اپنی زبان کی لاج رکھی اور اپنی بقیہ زندگی میں دنیا بھر میں مسلمانوں کے سفیر اور نمائندہ کے طور پر سفر کیا اور ایک دنیا کو اسلام کی دعوت سے روشناس کرایا۔ امریکہ میں افریقی امریکی آبادی میں قبول اسلام کا اہم کلیدی حصہ محمد علی کی ذات کے گہرے نقوش کا ہے۔ محمد علی 80 کی دھائی میں باکسنگ کی دنیا سے دستبردار ہو گئے۔۔ اگلے برسوں میں انکے مالی اثاثے سکڑنے لگے۔ چند برس بعد انہیں رعشہ Parkinsonism کا عارضہ لاحق ہوگیا۔ انکے علاج معالجہ پر بہت خرچہ اٹھا۔ مگر محمد علی نے اپنی مبلغ اسلام کی سرگرمیوں میں کمی نہ آنے دی ۔سال 1996 میں اٹلانٹا اولمپکس کی شمع انکے ہاتھ سے روشن کروائی گئی اور اس حقیقت کا برملا اظہار ہوا کہ وہ اس صدی کے سب سے معزز نمایاں اور کامیاب اتھلیٹ ہیں۔ سعودی حکومت نے سب سے پہلے اس کامیابی پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ امریکہ میں انہیں انسانی حقوق۔ برابری۔ انصاف اور استحصال مخالف تحریک کا سرخیل قرار دیا۔ تاریخ نے اربوں روپے کی رقم ٹھکراتے کے اس درویشانہ فیصلے کی تائید کی۔محمد علی کلے نے امریکی تاریخ میں ایک مسلمان حق گو اور راست باز رہنما کے طور اتنا بڑا نام بنایا جسے آج تک کوئی سر نہیں کرپایا۔۔ واقعی محمد علی نے اپنے نام کی لاج رکھی ۔ وہ روز قیامت۔ نبی کریم اور علی حیدر کرار کے مقربین میں شامل ہوگا۔ میرا سوہنا رب وہاں بھی اس نام کی لاج رکھے گا۔ ۔
عشق نبرد پیشہ طلب گار مرد تھا --زنداں میں بھی خیال بیابان نورد تھا
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا --