موسی عليہ السلام كی دعا(رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ)

مصنف : ڈاكٹر عمر مسعود

سلسلہ : دین و دانش

شمارہ : اپريل 2026

دين و دانش

موسی عليہ السلام كی دعا(رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ)

ڈاكٹر عمر مسعود

یہ عظیم دعا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لبوں سے اُس وقت نکلی جب وہ زندگی کے ایک نہایت نازک موڑ پر تھے۔ مصر سے ہجرت کرکے مدین کی طرف نکلے، راستے میں بھوک، پیاس، تنہائی، خوف اور بے یقینی کے احساسات اُن کے ہمسفر تھے۔ وہ کسی کے تعارف کے محتاج نہ تھے، مگر حالات نے انہیں اجنبی زمین پر اجنبی انسان بنا دیا تھا۔ اسی سفر میں ایک کنویں پر پہنچے جہاں چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے اور ایک طرف دو باحیا لڑکیاں اپنے ریوڑ کے ساتھ کھڑی تھیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: تم پیچھے کیوں کھڑی ہو؟ انہوں نے کہا: ہم مردوں کے ختم ہونے کے بعد ہی پانی پلاتے ہیں، اور ہمارے والد بوڑھے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کی مدد کی، ان کے جانوروں کو پانی پلایا، پھر تھکے ہارے درخت کے سائے تلے جا بیٹھے۔ وہاں انہوں نے یہ الفاظ کہے:

"رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ"یعنی: "اے میرے رب! میں اس خیر کا محتاج ہوں جو تو میری طرف نازل کرے"۔

عاجزی اور انکساری کا درس

یہ دعا ایک بندے کے مکمل فقر اور محتاجی کا اعلان ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے سامنے اپنی ضرورت کو یوں پیش کیا کہ گویا کہہ رہے ہوں: یا اللہ! میں تیرے کسی بھی عطیے، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، کا محتاج ہوں۔ یہ انداز ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دعا میں سب سے پہلے عاجزی اور دل کی ٹوٹ پھوٹ ہونی چاہیے۔

پہلے خدمت، پھر دعا

یہاں ایک بڑا سبق یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی ذاتی ضرورت سے پہلے دوسروں کی ضرورت پوری کی۔ وہ بھوکے پیاسے تھے، خود مسافر تھے، مگر دو خواتین کی مدد کو ترجیح دی۔ اس کے بعد جب دعا کی تو اللہ نے اس کا جواب بھی فوراً عطا فرمایا۔ یہ اصول ہے کہ جو انسان دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، اللہ اس کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے۔

دعا کی جامعیت

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی دعا میں خیر کی کسی خاص صورت کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ کہا: "جو بھی خیر تو نازل کرے"۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن اپنے رب کے فیصلے پر مکمل بھروسہ کرتا ہے، اور جانتا ہے کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ میرے لیے کیا خیر ہے۔ اس طرح کی دعا ہمیں تقدیر پر راضی رہنا اور اللہ کے فیصلے پر اعتماد کرنا سکھاتی ہے۔

مشکلات میں اللہ کی طرف رجوع

یہ دعا ایک ایسے وقت میں کی گئی جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس نہ رہائش تھی، نہ کھانا، نہ جان پہچان، نہ کوئی سہارا۔ اس حالت میں انہوں نے کسی انسان سے نہیں، بلکہ براہِ راست اپنے رب سے مانگا۔ یہ دعاہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سب سے پہلا دروازہ جو کھٹکھٹانا چاہیے، وہ اللہ کا دروازہ ہے، کیونکہ باقی سب دروازے اسی وقت کھلتے ہیں جب وہ چاہے۔

دعا کے بعد کی عنایات

اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی اس دعا کو رد نہ کیا۔ فوراً ان لڑکیوں میں سے ایک شرم و حیا سے چلتی ہوئی آئیں اور کہا: "میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ آپ کو آپ کی مدد کا بدلہ دیں"۔ یہ ملاقات نہ صرف اُن کی بھوک اور پیاس مٹانے کا ذریعہ بنی بلکہ آگے چل کر وہ اسی گھر کے داماد بنے، کام ملا، رہائش ملی، اور سکون نصیب ہوا۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ جب اپنی رحمت کے دروازے کھولتا ہے تو محض ایک ضرورت نہیں پوری کرتا بلکہ کئی خیر کے دروازے بیک وقت کھول دیتا ہے۔

عملی زندگی میں اطلاق

آج کے دور میں جب ہم کسی مشکل میں پھنس جاتے ہیں تو اکثر پہلا قدم ہم لوگوں کے پاس مدد مانگنے کے لیے اٹھاتے ہیں، یا خود کو مایوسی میں ڈال لیتے ہیں۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ سب سے پہلے اپنے رب کے سامنے ہاتھ پھیلاؤ، عاجزی سے اپنی حالت بیان کرو، اور خیر کی کسی بھی صورت کو قبول کرنے کے لیے تیار رہو۔

دعا کا روحانی اثر

یہ دعا بندے کو عاجزی، شکرگزاری، صبر، اور قناعت کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ دل میں یہ یقین پیدا کرتی ہے کہ میرا رب سن رہا ہے، دیکھ رہا ہے، اور وقت آنے پر سب کچھ بہتر بنا دے گا۔ انسان کا دل ہلکا ہو جاتا ہے جب وہ جان لیتا ہے کہ وہ خود کچھ نہیں کر سکتا، اصل کارساز صرف اللہ ہے۔

خلاصہ

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ دعا ہر اس شخص کے لیے ہے جو زندگی کے کسی موڑ پر بے سہارا، بے وسیلہ، یا تنہا محسوس کرتا ہے۔ یہ الفاظ صرف زبان سے نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلیں تو اللہ کی مدد ضرور آتی ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ خیر کی طلب میں، عاجزی، خدمت، بھروسہ اور قناعت کو اپنا لینا ہی کامیابی کا اصل راز ہے۔