دين و دانش
"خاتَمَ النّبیین" کا مفہوم
ڈاکٹر عرفان شہزاد
کلام کو زبان و بیان کے مسلمہ قواعد کے مطابق سمجھا جاتا ہے۔ جن میں چند درج ذیل ہیں:
الفاظ و محاورات کے مطالب اُن کے مروَّجہ مفاہیم سے معلوم ہوتے ہیں۔ از خود اُن میں نئے معانی ایجاد نہیں کیا جا سکتے ، سوائے یہ کہ کوئی اصطلاح وضع کی جائے۔
کسی مسمّٰی کا کوئی استعمال اُس کے مطلب میں از خود شامل نہیں ہوتا۔ مثلاً، کرسی کا استعمال کہ وہ بیٹھنے کے کام آتی ہے، اُس کے معنی میں شامل نہیں۔ ایک متروک کرسی بھی کرسی ہی کہلائے گی۔ اُس کا استعمال بتانا مقصود ہو تو اُسے الگ لفظوں میں بیان کیا جائے گا۔
ایک جملے میں بیک وقت ایک لفظ کے ایک سے زائد معانی مراد نہیں ہو سکتے۔ مثلاً، "چشمہ" عینک کے لیے بھی مستعمل ہے اور پانی کے چشمے کے لیے بھی۔ ایک جملے میں اُن میں سے ایک ہی معنی مراد ہوگا، البتہ، اگر کوئی لطیفہ پیدا کرنا مقصود ہو تو اُس کا قرینہ موجود ہونا چاہیے۔
لفظ کا معنی جملے میں متعین نہ ہو سکے تو نظمِ کلام یا جملے کا سیاق و سباق فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔
زبان کے اِن مسلّمات کی روشنی میں آیتِ ختمِ نبوت میں "خاتَمَ النبیین" کی تفہیم پیش کی جاتی ہے:
آیت میں یہ لفظ "خاتَم" بفتحِ ت ہے، نہ کہ "خاتِم" بکسرِ ت۔ "خاتِم" کا لفظی مطلب ختم کرنے والا ہے، لیکن "خاتِمُ الشعرا' کی ترکیب میں اِس کا مروَّجہ مفہوم اعلی درجے کا شاعر ہے، نہ کہ شاعروں کو ختم کرنے والا، کیونکہ یہ منطقی مفہوم اُس کے مروَّجہ مطلب کے خلاف ہے۔ تاہم، آیتِ ختم ِنبوت میں یہ ترکیب استعمال ہی نہیں ہوئی۔ چنانچہ وہاں "خاتِمُ الانبیا" سے "افضلُ الانبیا" کا مفہوم مراد لینے کا امکان پیدا نہیں ہوتا کہ استدلال کیا جائے کہ آیت میں محمد رسول اللہ کی باقی انبیا پر افضلیت بیان ہوئی ہے، سلسلہ انبیا کا خاتمہ مراد نہیں ہے۔ اس لیے انبیا کا سلسلہ جاری رہے گا۔
"خاتَم"، بفتح ت کا مطلب مُہر بھی ہے اور انگوٹھی بھی۔ مُہر کو انگوٹھی بنا کر پہنا جاتا تھا اِس لیے یہ لفظ دونوں کے لیے مستعمل ہے۔ پھر یہ دونوں کے لیے الگ الگ بھی مروَّج ہو گیا۔ کسی جملے میں خاتَم کا معنی انگوٹھی ہے یا مہر؟ اِس کا فیصلہ جملہ اور اُس کا سیاق و سباق کرتا ہے۔ دونوں معانی بیک وقت مراد نہیں ہو سکتے، سوائے یہ کہ وضاحت کی جائے کہ خاتَم سے دونوں معانی مراد ہیں۔
آیتِ ختمِ نبوت کا سیاق و سباق یہ ہے کہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے منہ بولے بیٹے، حضرت زید رضی اللہ عنہ کی مطلَّقہ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے نکاح پر معترض ہو رہے تھے۔ یہ نکاح عرب کے رواج کے خلاف ہوا تھا۔ وہ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے اور اُس کی بیوی کو حقیقی بہو کی طرح سمجھتے تھے۔ اللہ تعالی نے اُن کی یہ خود ساختہ حرمت اِس سے پیشتر رد کی تھی۔ بتایا تھا کہ منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹے نہیں ہوتے، جس کا لازمی مطلب تھا کہ اُن کی بیویاں بھی حقیقی بہوویں نہیں ہیں کہ ان سے نکاح حرام ہو۔ مگر سماجی تشکیلات آسانی سے ختم نہیں ہوتیں۔ چنانچہ اللہ تعالی نے خود رسول اللہ ﷺ کے منہ بولے بیٹے کی مطلَّقہ سے اُن کا نکاح کرا کے عربوں ميں رائج اس خود ساختہ حرمت کی بدعت کا خاتمہ کرایا۔ جب یہ ہوا تو کچھ لوگوں نے حسبِ توقع اِس نکاح پر اعتراض کیا۔ اِس کے جواب میں ارشاد ہوا کہ محمد ﷺ تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ چنانچہ زید بھی اُن کے حقیقی بیٹے نہیں اور اُن کی مطلّقہ رسول کی حقیقی بہو نہیں کہ ان پر حرام ہوتیں۔ پھر بتایا گیا کہ وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے "خاتَم" ہیں۔ یہاں "اللہ کے رسول" اور "خاتَم النبیین" کے ذکر کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
آیت کے سیاق میں بتایا گیا تھا کہ اللہ تعالی رسولوں سے ایسی اصلاحات کے کام ماضی میں بھی لیتا رہا ہے اور وہ بلا خوفِ لومۃَ لائم اُنھیں انجام دیتے رہے ہیں۔
ارشاد ہوا ہے:مَّا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيمَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَّقْدُورًا الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللَّهِ وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ حَسِيبًا (سورہ احزاب 33: 38-39)
"نبی کے لیے جو بات اللہ نے ٹھیرا دی ہو، اُس میں اُس پر کوئی تنگی نہیں ہے۔ (اُس کے پیغمبر) جو پہلے گزرے ہیں، اُن کے معاملے میں بھی اللہ کی یہی سنت رہی ہے اور اللہ کا حکم ایک طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے۔ وہ جو اللہ کے پیغام پہنچاتے تھے اور اُسی سے ڈرتے تھے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔ (لہٰذا تم بھی اُسی سے ڈرو، اے پیغمبر، اور مطمئن رہو کہ) حساب کے لیے اللہ کافی ہے۔"
حضرت محمد ﷺ بھی چونکہ خدا کے رسول تھے، اِس لیے اُن سے یہ اصلاح کرائی گئی۔
اب خاتم النبین کا محل دیکھیے۔
یہاں یہ کہنے کی کوئی گنجایش نہیں ہے کہ محمد اللہ کے رسول اور "نبیوں کی انگوٹھی" ہیں، اِس لیے یہ اصلاح کرنا اُنھیں کا کام تھا۔ یہ بے جوڑ بات ہے۔ چنانچہ یہاں "نبیوں کی انگوٹھی" کا معنی لے کر اُس سے "نبیوں کی زینت" مراد لینے اور پھر اُس کی بنیاد پر "افضلُ الانبیا" کا مفہوم اخذ کرنے کی گنجایش نہیں ہے۔ اِس سے یہ طے ہو جاتا ہے کہ اِس کا ایک ہی معنی مراد لینا ممکن ہے، یعنی "نبیوں کی مہر"۔ تمام مترجمین اور مفسرین نے یہی معنی لیے ہیں۔
مہر کے استعمالات اُس کے مفہوم میں شامل نہیں ہو سکتے، جب تک کہ جملہ اور اُس کا سیاق و سباق ہی اُس کا استعمال بیان نہ کریں یا اس کی طرف اشارہ کریں۔
مہر کے دو استعمالات ہیں۔ مہر بند کرنا (Seal) مہر لگا کر تصدیق کرنا (Stamp)۔
"خاتَمَ النبیین" کا مطلب ماضی یا مستقبل کے نبیوں کی تصدیق کرنے والا لیا جائے تو موقعِ کلام سے اِس کی کوئی مطابقت معلوم نہیں ہوتی۔ یہ موقع منہ بولے بیٹے کی مطلَّقہ سے رسول اللہ ﷺ کے نکاح پر اعتراض کے جواب کا ہے۔ یہ کہنے کا کوئی محل نہیں کہ آپ ماضی اور مستقبل کے نبیوں کی تصدیق کرنے والے ہیں۔
یہاں یہ بات بے جا نہ ہوگی کہ ماضی کے انبیا کی تصدیق تو آپ نے کی، مگر مستقبل کے انبیا کی کوئی تصدیق نہیں کی اور نہ کوئی ایسا طریقہ ہی وضع کیا کہ آپ کی غیر موجودگی میں آنے والے نبی آپ سے اپنی نبوت کی تصدیق پاتے اور اُس تصدیق نامے کو لوگوں کو دکھا کر اُن پر حجت قائم کرتے۔ اِس لحاظ سے یہ معنی بے مصداق ہو جاتا ہے۔ عیسی ابن مریم علیھما السلام کی آمدِ ثانی کی خبر تو آپ سے منسوب ہو کر روایت ہوئی ہے، مگر اُن کے آنے پر آپ کی طرف سے اُن کی تصدیق کیسے ہوگی؟ اِس کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔
آیت ِختمِ نبوت میں مہر کا ایک ہی استعمال مراد لینا ممکن رہ جاتا ہے اور وہ ہے "نبیوں کا مہر بند"، یعنی سلسلہءِ انبیا پر مہر لگا کر اُسے بند کرنے والا۔ سیاق و سباق اِسی مفہوم کو قبول کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلَّقہ سے نکاح کر کے عربوں معاشرے میں رائج ایک خود ساختہ حرمت کی اصلاح کی ہے۔ ایسی اصلاحات گزشتہ رسول بھی کرتے رہے ہیں، اور چونکہ آپ بھی اللہ کے رسول، بلکہ آخری نبی ہیں، اِس لیے یہ اصلاح آپ ہی کو کرنی تھی، کسی آئندہ نبی کے انتظار میں اِسے موخر نہیں کیا جا سکتا۔
قرآن مجید نے نبیوں کی کوئی قسمیں نہیں بتائیں۔ خود ساختہ تقسیمات کی کوئی حیثیت نہیں۔ نبیوں کے سلسلے کے خاتمہ کا مطلب یہی ہے کہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ قرآن مجید میں تکمیلِ شریعت کے اعلان کے بعد بس یہی امکان باقی تھا کہ بغیر نئی شریعت کے انبیا آتے، جیسے بنی اسرائیل میں موسی علیہ السلام کے توسُّط سے شریعت مل جانے کے بعد بھی انبیا کا سلسلہ جاری رہا تھا۔ آیتِ ختمِ نبوت نے اِسی وہم کا خاتمہ کیا ہے کہ اب بغیر نئی شریعت کے انبیا بھی نہیں آئیں گے۔