عدت اور ميڈيكل رپورٹ

مصنف : مبين قريشی

سلسلہ : دین و دانش

شمارہ : مارچ 2026

دين و دانش

عدت اور ميڈيكل رپورٹ

مبين قريشی

سوال : عدت کیا ہے اور کیا یہ میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر ختم کی جاسکتی ہے ؟

اسلامی خاندانی قانون میں عدت کا تصور اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ ایک ایسے معاشرتی ماحول میں نازل ہوا جہاں پہلے سے قوانین موجود تھے۔ قبل از اسلام عرب معاشرے میں بیوہ کی عدت ایک سال ( حول) سمجھی جاتی تھی۔ دوسری طرف یہودیت کے ربانی قانون میں طلاق یافتہ اور بیوہ دونوں عورتوں کے لیے ایک ہی مدت مقرر کی گئی، یعنی تین مہینے۔ یہ قانون مشنا 4:10 میں بیان ہوا ہے:

ہر عورت (بیوہ یا مطلقہ) کو دوبارہ نکاح سے پہلے تین مہینے انتظار کرنا ہوگا۔

تلمود اس کی علت بیان کرتا ہے کہ اس سے معلوم ہو سکے کہ اگر بچہ پیدا ہو تو وہ پہلے شوہر کا ہے یا دوسرے کا (Babylonian Talmud, Yevamot 42a)۔ اس طرح ربانی یہودیت میں اصل معیار تین مہینے کی مدت بن گیا، چاہے عورت کی حیاتیاتی حالت کچھ بھی ہو۔

قرآن مقدس نے اسی مسئلے کو ایک مختلف زاویے سے حل کیا اور عدت کو محض کیلنڈر کے وقت سے انتظار نہیں بلکہ اس کے مقاصد اور انسانی حیاتیات سے مربوط کر دیا۔ اس نظام کا بنیادی مقصد حفظِ نسب ہے، یعنی یہ یقینی بنانا کہ نکاح کے اختتام کے بعد اگر عورت حاملہ ہو تو بچے کی نسبت میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ ماں کا تعین ہمیشہ واضح ہوتا ہے کیونکہ بچہ کسی کا بھی ہو اسی کے جسم سے پیدا ہونا ہوتا ہے۔ عدت اگرچہ عورت نے گزارنی ہے مگر اس کا اصل تعلق نسب کی وجہ سے مرد سے متعلق ہے۔ میاں اور بیوی جس میثاق غلیظ کے بندھن میں بندھے تھے اس میں سے نکلتے وقت عدت مرد یا اسکے ورثاء کا right اور مطلقہ یا بیوہ کی obligation ہے۔ جہاں کسی کے right کی حفاظت پر قانون بنا ہو وہاں obligation والی پارٹی کے پاس اختیار نہیں ہوتا کہ وہ فطری و قطعی طریقے سے حاصل ہونے والے اطمينان کو ترک کرکے ایسا طریقہ اختیار کرلے جو دوسروں کے لئے شک کا موجب بن سکتا ہو۔ میثاق کی obligation میں بندھے فریق کو اپنے اطمینان کی نہیں بلکہ فریق ثانی کے اطمینان کو دیکھنا ہوتا ہے۔

قرآن مقدس نے طلاق یافتہ عورت کی عدت کے لیے بنیادی معیار حیض کے چکر کو بنایا۔ قرآن کہتا ہے:“والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء” (البقرة 228)۔

یہاں تین حیض اس بات کو واضح کرنے کے لیے مقرر کیے گئے کہ عورت حاملہ ہے یا نہیں۔ چونکہ حیض عورت کے جسمانی نظام کا ایک واضح مرحلہ ہے اس لیے یہ نسب کے احتمال کو جانچنے کا فطری معیار بن جاتا ہے۔ اس طرح تلمود کی ہر صورت تین ماہ والی عدت کے برعکس یہاں اصل معیار عورت کے حیاتیاتی نظام کے ساتھ مربوط ہوتے مقصد عدت کو ایڈریس کر رہا ہے۔لیکن ہر حالت میں حیض کو معیار بنانا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی لیے قرآن نے ان صورتوں کا بھی ذکر کیا جہاں حیض کے ذریعے عدت کا حساب نہیں لگایا جا سکتا۔ سورہ الطلاق میں فرمایاواللائي يئسن من المحيض من نسائكم إن ارتبتم فعدتهن ثلاثة أشهر واللائي لم يحضن” (الطلاق 4)۔

یہاں وہ عورتیں مراد ہیں جن کا حیض بند ہو چکا ہے یا جنہیں حیض کی عمر کو پہنچ جانے کے باوجود بھی کسی وجہ سے حیض آتا ہی نہیں۔ ان دونوں صورتوں میں حیض کو معیار بنانا ممکن نہیں تھا، اس لیے قرآن نے اس موقع کے لئے اہل کتاب کے قانون کو باقی رکھتے عدت کو تین مہینوں سے ناپ دیا۔ گویا جہاں حیض کا معیار فطری طور پر دستیاب تھا وہاں اہل کتاب کی شریعت میں نسخ واقع کردیا اور جہاں فطری طور پر موجود نہ تھا وہاں اس قانون کو باقی رکھا۔ یہاں بھی ضروری پہلو یہ ہے کہ فطری طریقے سے ہٹنے کو صرف اسی صورت تسلیم کیا کہ جب اس کا وقوع ممکن ہی نہ رہا۔

اسی طرح حمل کی حالت میں حیض کا معیار بے معنی ہو جاتا ہے کیونکہ حمل خود نسب کی وضاحت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس لیے قرآن نے اس صورت میں اہل کتاب کے قانون عدت میں نسخ کرتے اس کا معیار بدل دیا اور فرمایا:وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن” (الطلاق 4)۔یعنی حاملہ عورت کی عدت بچے کی پیدائش تک ہے۔ اس طرح عدت کے نظام میں ایک واضح اصول سامنے آتا ہے کہ جہاں حیض موجود ہے وہاں حیض معیار ہے، جہاں حیض ممکن نہیں وہاں مہینے معیار ہیں، اور جہاں حمل موجود ہے وہاں ولادت معیار بن جاتی ہے۔

بیوہ کی عدت اس نظام کے ایک اور پہلو کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ قرآن مقدس کہتا ہے:

والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجاً يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشراً” (البقرة 234)۔یہاں عدت کو چار ماہ دس دن سے ناپا گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ طلاق کے برعکس موت کسی منظم حیاتیاتی مرحلے پر واقع نہیں ہوتی۔ طلاق دیتے وقت طہر کا لحاظ رکھا جاتا ہے، مگر موت کسی بھی وقت اچانک واقع ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے عورت ابھی طہر میں آئی ہو اور مباشرت کے فوراً بعد شوہر کی وفات ہو جائے۔ ایسی صورت میں صرف تین حیض کا انتظار نسب کے احتمال کو قطعی طور پر واضح کرنے کی بجائے قضیہ کی گنجائش پیدا کرسکتا ہے۔اسی لیے احتیاط کے طور پر اس مدت میں اضافہ کیا گیا اور اسے چار ماہ دس دن مقرر کر دیا گیا۔

اس پورے نظام کو سمجھنے کے لیے ایک اور بنیادی اصول کو سامنے رکھنا ضروری ہے، اور وہ یہ کہ عدت عورت کا حق نہیں بلکہ اس پر عائد ایک ذمہ داری ہے۔ اگر یہ عورت کا ذاتی حق ہوتا تو وہ کسی دوسرے ذریعہ سے اپنے اطمینان کے مطابق اسے ترک بھی کر سکتی تھی۔ بلکہ اسے تو کسی آخری موقع مباشرت کا ہونا اور نہ ہونا یا کسی پروٹیکشن کے ساتھ ہونا یا نہ ہونا ویسے ہی معلوم ہوتا ہے اس لئے اپنے علم کی بنیاد پر عدت کی ضرورت اور عدم ضرورت کا فیصلہ کرسکتی تھی۔ مگر عدت کا تعلق عورت سے نہیں بلکہ اس نکاح والے میثاق غلیظ کے قانونی نتائج سے ہے جہاں ضروری ہے کہ متوفی کے ورثاء یا متعلقین میں بھی نسب کے بارے میں کسی قسم کا شبہ باقی نہ رہے اور خود اس پر بھی کوئ سوال نہ کھڑا ہو۔ یہاں صرف طہر کے میسر ہوسکنے یا نہ ہوسکنے کی وجہ سے اضافہ کرنا واحد مقصد نہیں تھا ورنہ تین حیض کو ہی بڑھا کر چار حیض کردیا جاتا۔ بلکہ یہاں فریق ثانی کا کامل اطمینان مطلوب تھا اس لئے حیض کے فطری طریقے ( جسکی گواہ صرف عورت خود ہوتی ہے ) کا بھی نسخ کردیا۔

اس وجہ سے عدت کا معیار ایک ایسا تعبدی اور معروضی قانون بنایا گیا ہے جسے ذاتی دعوے یا کسی وقتی اطمینان سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اسے کسی میڈیکل رپورٹ کے ذریعے ختم کرنے کی اجازت دے دی جائے تو نسب کے باب میں وہ قطعی وضاحت باقی نہیں رہے گی جسے شریعت نے محفوظ کرنا چاہا ہے۔ چنانچہ بیوہ عورت متوفی کے پسماندگان کو کوئی طبی رپورٹ دکھا کر اس ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہو سکتی، کیونکہ عدت کا مقصد صرف اس کا ذاتی اطمینان نہیں بلکہ نسب کے معاملے کو فطری اور قانونی طور پر بالکل واضح کر دینا ہے۔