اصلاح و دعوت
جسم نزديك ، دل دور
مظہر صديقی
گزشتہ رات کا ایک منظر میرے ذہن پر نقش ہو کر رہ گیا۔ یہ ہمارے پڑوس کے ایک گھر کے داخلی دروازے کا منظر تھا، جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ میں رات گئے دیر تک سوچتا رہا کہ ہم چند ہی برسوں میں کس قدر بدل گئے ہیں۔ ہم ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی الگ الگ دنیاؤں کے باشندے بن چکے ہیں۔ ایک ساتھ رہتے تو ہیں مگر ایک وسرے سے کٹتے جا رہے ہیں۔
ملک صاحب برسوں سے رات کو سونے سے پہلے نیند کی دوا لیتے ہیں۔ کل رات نو بجے کے قریب انہیں یاد آیا کہ دوا ختم ہو چکی ہے۔ بغیر کسی جھجک کے انہوں نے ایک نجی کمپنی کی ایپ سے دوا آرڈر کر دی۔اسی وقت ان کے برابر والے کمرے میں بڑے صاحبزادے کو بھوک لگ گئی۔ بیگم صاحبہ میکے گئی ہوئی تھیں، سو انہوں نے بھی ایک فوڈ ایپ کھولی اور اپنے لیے برگر آرڈر کر دیا۔ملک صاحب کے منجھلے بیٹے کو عین انہی لمحات میں سینے میں شدید درد محسوس ہوا، جو دل کی طرف جا رہا تھا۔ اس نے فوراً 1122 پر کال کی اور مدد طلب کی۔چند منٹ ہی گزرے تھے کہ ایک عجیب سا سماں بن گیا۔ فارمیسی کا رائیڈر دوا لے کر پہنچا۔ فوڈ کمپنی کا رائیڈر برگر لیے دروازے پر تھا۔ اور اسی دوران 1122 کے دو موٹر سائیکل سوار بھی امداد کے لیے پہنچ گئے۔تین بائیکس، تین مختلف ضرورتیں، تین الگ الگ دنیائیں… مگر ایک ہی دروازہ۔۔۔۔ سب اپنی اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے باری باری ڈور بیل بجا رہے تھے۔میں یہ منظر دیکھ کر حیرت میں ڈوب گیا۔ یہ صرف ایک گھر کا منظر نہیں تھا، یہ ہمارے عہد کی تصویر تھی ،جہاں ضرورتیں فوری پوری ہو جاتی ہیں مگر دلوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔شکر ہے کہ ملک صاحب کے بیٹے کو بروقت علاج کے بعد افاقہ ہو گیا، مگر یہ منظر میرے ذہن میں کئی سوال چھوڑ گیا ہے۔ ہم کب اتنے بدل گئے؟ کب ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی ہم ایک دوسرے سے اتنے دور ہو گئے؟