اصلاح و دعوت
سچے بنو ليكن ہر جگہ سچ ظاہر كرنا لازم نہيں
محمد اكبر
ایک بندے نے بیوی سے کہا کہ تم اللہ کے نام کی قسم کھا کر بتاؤ کہ مجھ سے محبت کرتی ہو۔ بیوی نے کہا کہ جہاں تک قسم کھانے کی بات ہے تو سن لو کہ میں تم سے محبت نہیں کرتی۔ بندہ بڑا پریشان ہوا کہ میں بیوی سے اتنی محبت کرتا ہوں لیکن وہ محبت ہی نہیں کرتی۔ فورا ًحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور واقعہ سنایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عورت کو بلا کر پوچھا تو عورت نے کہا کہ میں نے وہی بات کہی جو حقیقت تھی۔ کیا میں جھوٹ بولتی؟حضرت عمرؓ نے نہایت حکیمانہ انداز میں فرمایا:ہاں، تو جھوٹ بول دیتی نا! اگر تم میں سے کسی عورت کو اپنے شوہر سے محبت نہ بھی ہو، تو اسے یہ بات منہ پر نہیں کہنی چاہیے کیونکہ بہت کم گھر ایسے ہوتے ہیں جو صرف محبت پر قائم ہوں، لوگ زیادہ تر اخلاق اور احسان کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ (تهذيب الآثار، ابن جریر طبری:146)
اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ ہر جگہ فوراً سے جواب دینا کوئی دانشمندی نہیں ہے، بعض حقیقتیں سچی ہونے کے باوجود نہیں کہنی چاہیں کیونکہ وہ تیر بن کر دوسرے کے دل کو زخمی کر دیتی ہیں، ایسا دل جس نے آپ کے ساتھ کافی عرصہ رہنا ہے۔
یہاں حضرت عمر نے عورت کو دھوکہ یا جھوٹ نہیں سکھایا بلکہ احسن بات کرنا سکھائی کہ ایسے معاملات میں بد امنی کے بجائے سلامتی ، توڑ کے بجائے جوڑ ، بربادی کے بجائے آبادی اور نفرت کے بجائے پیار والی بات کہنی چاہیے۔ میاں بیوی کے تعلق کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةًؕاور اس نے تمہارے درمیان محبت و رحمت پیدا کر دی ہے۔ (سورت روم: 21)
زوجین کے درمیان یہ دونوں صفات ہونی چاہیں لیکن کبھی کبھار محبت ختم ہونے لگتی ہے ( خاص طور پر جب حسن ڈھلنے لگے، مال کم ہونے لگے، خوبصورتی بجھنے لگے، وقت زیادہ گزرنے لگے) تو ایسی صورت میں رحمت کو لازم پکڑ لینا چاہیے۔ صرف محبت کی وجہ سے رشتہ نبھانا بہت مشکل ہے کیونکہ محبت ایک جذبہ ہے اور جذبات جلدی ختم ہو جاتے ہیں، جب کہ رحمت ایک رویہ ہے اور رویہ ایک مرتبہ پختہ ہو جائے تو ختم نہیں ہوتا۔
ضروری نہیں ہے کہ ہر دل محبت کی شدت سے دھڑکے، بعض احترام اور قدر سے بھی دھڑکتے ہیں، کتنے ہی گھر ایسے ہیں جو عشق کی آگ پر تعمیر ہوئے لیکن رحمت نہ ہونے کی وجہ سے جلد راکھ بن گئے اور کتنے ہی گھر ہیں جن کی ابتدا میں جذبات سرد مہری کا شکار تھے لیکن رویوں میں رحمت نے انہیں پوری زندگی کےلیے آباد کر دیا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول کہ اکثر گھروں کی بنیاد محبت پر نہیں ہوتی، ان سب کے لیے تسلی ہے جنہیں لگتا ہے کہ وہ محبت کی کمی کا شکار ہیں، کیونکہ یہ جملہ بتاتا ہے کہ اصل پائیداری محبت میں نہیں ہے بلکہ سلامتی اخلاق، صبر، برداشت اور ایک دوسرے کے ساتھ نرم رویہ رکھنے میں ہے۔ ربِ محبت ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے کی توفیق بخشے اور ایسے جملوں سے بچائے جن سے گھر کا سکون چند لمحوں میں برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔