بڑھاپے كے دو خاص مراحل

مصنف : نامعلوم

سلسلہ : طب و صحت

شمارہ : ستمبر 2025

طب  و صحت

بڑھاپے كے دو خاص مراحل

نا معلوم

بُڑھاپا ۔۔۔ عُمر کے دو مخصوص مراحل جب انسان زیادہ تیزی سے بوڑھا ہوتا ہے۔

بُڑھاپا عام طور پر ایک سست، بتدریج عمل سمجھا جاتا ہے — لیکن تحقیق بتاتی ہے کہ ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔ اگر آپ نے کبھی صبح اٹھ کر اپنے آپ کو آئینے میں دیکھا ہو اور آپ کو یوں لگا ہو جیسے اچانک آپ کی عمر تیزی سے بڑھ گئی ہے تو یہ آپ کا واہمہ نہیں ہے۔ ایک حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق، جس میں عمر رسیدگی سے منسلک مالیکیولر تبدیلیوں کا تجزیہ کیا گیا، تو سامنے آیا کہ انسانوں کو زندگی کے دو مخصوص مراحل پر اچانک اور تیز رفتار حیاتیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہوتا ہے:

پہلا مرحلہ تقریباً 44 سال کی عمر میں اور دوسرا تقریباً 60 سال کی عمر میں۔

اس تحقیق کی سربراہی کرنے والے مائیکل سنائیڈر، جو اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں جینیات کے ماہر ہیں، نے اس تحقیق کی اشاعت کے وقت کہا “ہم بتدریج تبدیل نہیں ہو رہے ہوتے — زندگی کے بعض حصوں میں جسم میں بہت ڈرامائی تبدیلیاں آتی ہیں۔ چالیس کے وسط اور ساٹھ کے اوائل میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، اور یہ بات مختلف مالیکیولز کی تمام اقسام میں دیکھی گئی ہے۔

عمر رسیدگی ایک پیچیدہ عمل ہے، جو مختلف بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرات سے منسلک ہے۔ اس تحقیق کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ انسانی حیاتیات میں عمر کے ساتھ کیا تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں اور انہیں کس طرح روکا یا بہتر کیا جا سکتا ہے۔ تحقیقی ٹیم نے 108 بالغ افراد کی ایک جماعت کا تجزیہ کیا، جنہوں نے کئی سالوں تک وقفے وقفے سے اپنے حیاتیاتی نمونے (جیسے خون، تھوک، جلد، آنتوں کی بیکٹیریا، وغیرہ) فراہم کیے۔ ہر شریک فرد نے اوسطاً 47 نمونے 626 دنوں میں فراہم کیے، جبکہ ایک فرد نے 367 نمونے دیے۔ تحقیق میں RNA، پروٹینز، لپڈز، اور جسم کے مختلف مائیکرو بایوم سمیت 135,239 اقسام کی حیاتیاتی خصوصیات کا تجزیہ کیا گیا۔ اس ڈیٹا سے محققین نے 246 ارب سے زائد ڈیٹا پوائنٹس اخذ کیے، جن میں عمر سے منسلک تبدیلیوں میں متشابہات تلاش کیے گئے۔

ماضی کی تحقیق نے بھی عمر سے منسلک حیاتیاتی تبدیلیوں میں عدم تسلسل (non-linear shifts) کی نشاندہی کی تھی — جیسا کہ چوہے، مکھی، مچھلیوں اور دیگر جانوروں میں مشاہدہ کیا گیا۔ اس تحقیق میں بھی یہ انکشاف ہوا کہ عمر کے دو مراحل پر مالیکیولز کی مقدار اور اقسام میں زبردست تبدیلی آتی ہے۔ تقریباً 81 فیصد مالیکیولز نے ان دو مراحل میں نمایاں تبدیلی دکھائیں۔

یہ تبدیلیاں:• پہلی بار چوالیس (44) سال کی عمر میں

اور دوسری بار ساٹھ (60) سال کی عمر کے آس پاس زیادہ شدت سے سامنے آئیں۔

1. چوالیس سال کے قریب آنے والی تبدیلیاں :

چکنائی، کیفین، اور شراب کے ہاضمے سے منسلک میٹابولزم میں تبدیلیاں

جلد اور پٹھوں کی کارکردگی میں بگاڑ

دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھنا

2. ساٹھ سال کی عمر کے قریب آنے والی تبدیلیاں:

مدافعتی نظام، گردوں کے افعال، اور جلد و پٹھوں میں مزید کمزوری

دل کی بیماریوں کی شدت میں اضافہ

چونکہ خواتین اس عمر میں عام طور پر مینوپاز یا پری مینوپاز سے گزرتی ہیں، اس لیے یہ سوال اٹھا کہ آیا ان میں یہ تبدیلیاں مینوپاز کی وجہ سے ہیں؟ لیکن تحقیق نے یہ بات مسترد کی کیونکہ مردوں میں بھی یہ تبدیلیاں اسی شدت سے رونما ہو رہی تھیں۔ اس تحقیق کے مرکزی مصنف ژیاؤ نے کہا:

یہ حقیقت کہ مرد اور خواتین دونوں میں یکساں تبدیلیاں ہو رہی ہیں، ظاہر کرتی ہے کہ مینوپاز ان تبدیلیوں کی واحد وجہ نہیں ہو سکتی۔ ہمیں دیگر اہم حیاتیاتی عوامل کی نشاندہی کرنی چاہیے جو اس عمل کو متاثر کرتے ہیں۔

البتہ محققین سمجھتے ہیں کہ ان کا نمونہ محدود یعنی 25 سے 70 سال کی عُمر کے لوگوں کا تجزیاتی مطالعہ تھا۔ اب وہ ان مراحل پر توجہ مرکوز کر کے بُوڑھا ہونے کے عمل کو سست کرنے والے عوامل پر کام کر رہے ہیں۔)ماخذ: یہ تحقیق معروف جریدے Nature Aging میں شائع ہوئی تھی۔ (اس ترجمے کے لیے جُزوی طور پر مصنوعی ذہانت کی مدد لی گئی ہے)