شوہروں كے كچھ نصيحتيں

مصنف : سكندر حيات بابا

سلسلہ : اصلاح و دعوت

شمارہ : اپريل 2025

اصلاح و دعوت

شوہروں كے كچھ نصيحتيں

سكندر حيات بابا

نصيحت نمبر ايك

بہت سے مرد کہتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کو خوش رکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، اچھا خرچ دیتے ہیں، اچھے کپڑے لے کر دیتے ہیں، کھانے پینے کا بھرپور خیال رکھتے ہیں، مگر پھر بھی ان کی بیوی خوش نہیں ہوتی۔ وہ یہ سمجھ نہیں پاتے کہ ان کی بیوی کو کون سی چیز تکلیف دے رہی ہے؟

اگر دو باتیں کسی بھی مرد میں ہيں تو اسکی بیوی کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتی ،چاہے وہ مرد خرچ کرنے ہے معاملے میں سب سے زیادہ سخی انسان کیوں نہ ہو -

نمبر ایک -ہر لڑائی میں بات بات پر بیوی کو طلاق کی دھمکی دینا –

نمبر دو -اپنی گزری ہوئی محبتوں کا ذکر کرنا۔ یا موجودہ دور کی کسی خاتون کی ایسی تعریفیں کرنا جس سے اپنی بیوی کو آپ شعوری یا لاشعوری طور پر تکلیف دے رہے ہوں -

عورت کی نظر میں سب سے کم عزت والا مرد وہ ہوتا ہے جس میں چار باتیں جمع ہوجائیں

بات بات پر اسے میکے کے طعنے دینا،اپنی کمائی کا احسان جتانا،اسے چھوڑنے کی دھمکیاں لگانا،اسکے سامنے اپنی معاشقوں کا ذکر کرنا یا دوسروں عورتوں کی تعریفیں کرتے رہنا

آپ میں اگر یہ عادتیں ہیں تو انہیں ترک کرکے دیکھئے ، آپ کی بیوی ٹماٹر کی سادہ چٹنی کھا کر بھی خوش نہ رہے تو پھر کہئیے گا -

 

نصیحت نمبر 2

اکثر مرد یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اپنی بیوی کے لیے اچھے کپڑے خرید لیں، اچھا کھانا کھلا دیں، کبھی سیر و تفریح پر لے جائیں تو انہوں نے اپنی بیوی کا پورا حق ادا کر دیا۔ پھر وہ حیران ہوتے ہیں کہ "آخر میری بیوی خوش کیوں نہیں؟ میں تو اس کا بہت خیال رکھتا ہوں۔اصل میں وہ ایک چھوٹی سی مگر بہت اہم بات نظر انداز کر بیٹھتے ہیں: نقد خرچ دینا۔

بیوی کو اپنے طور پر خرچ کرنے کے لیے پیسے دینا، اس کی عزتِ نفس اور اعتماد کو بڑھاتا ہے۔آپ دنیا بھر کی شاپنگ کروادیں لاکھوں روپے خرچ کردیں اور اس سب کے بدلے اسے چند ہزار دے کر اپنی مرضی سے خرچ کرنے دیں یا خوشی کے اعتبار سے اسکے لئیے زیادہ بہتر ہے -میں نے اچھے خاصے بظاہر سمجھدار لوگوں کو بھی اس نا سمجھی میں مبتلا یہ کہتے ہوئے دیکھا ہے کہ تم جو کہو میں لا تو دیتا ہوں -ارے بھائی خوشی کا راز اس چھوٹی سی بات میں مضمر ہے ،چاہے آپ کی مالی حیثیت معمولی ہو، مگر جتنا ممکن ہو سکے، تھوڑا بہت نقد اس کے ہاتھ میں ضرور دیجئے، تاکہ وہ بھی کبھی کسی کے لیے تحفہ لے سکے، ماں باپ یا بہن بھائی کو کچھ بھیج سکے، یا اپنی چھوٹی موٹی خواہشیں خود پوری کر سکے۔گھر برے رویوں سے کم خراب ہوئے ہیں ،ان چھوٹی چھوٹی نادانیوں اور بیوقوفیوں سے زیادہ ڈسٹرب ہوئے پڑے ہیں –

نصيحت نمبر 3

اکثر مرد جب گھر جاتے ہیں تو تھکے ہوئے، مصروف، یا کسی الجھن میں ہوتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چونکہ ہم گھر کا خرچ دے رہے ہیں، بچوں کی ضروریات پوری کر رہے ہیں، تو ہمارا فرض ادا ہو گیا۔مگر سچ یہ ہے کہ بیوی کا دل جیتنے کے لیے صرف خرچ دینا کافی نہیں، تھوڑی سی محبت کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔کبھی سوچا ہے؟

اگر آپ دفتر سے، دکان سے، یا کہیں سے واپسی پر بیوی کے لیے صرف ایک چاکلیٹ، ایک بسکٹ، یا 50 روپے کی لِیز کا پیکٹ بھی لے جائیں… اور جب گھر آئیں تو بچوں سے چھپا کر نرمی سے بیوی کے ہاتھ پر رکھ کر کہیں:"یہ صرف تمہارے لیے لایا ہوں… اور یہ تم ہی نے کھانا ہے!"تو یقین کریں، وہ چھوٹی سی چیز، آپ کی محبت اور توجہ کا اتنا بڑا پیغام بن جاتی ہے کہ بیوی کا دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔اس سے محبت، قدر، اور تعلق میں گہرائی پیدا ہوتی ہے۔یہ چھوٹا سا عمل آپ کے رشتے میں مسکراہٹیں، نرمی، اور اپنائیت پیدا کرتا ہے۔یاد رکھیے، محبت کے اظہار کے لیے تحفہ مہنگا ہونا ضروری نہیں, بلکہ میں تو کہونگا روایتی فلمی انداز کے مہنگے تحائف کی تو ضرورت ہی نہیں … کوشش کرکے بچوں والی چیزیں یا اسطرح کی اشیاء خصوصی طور پر بیوی کو لے جاکر دیا کریں اور سختی سے تاکید کیا کریں کہ یہ صرف آپ کے لئے ہے -آزما کر دیکھیں ،تب آپ مانیں گے کہ 100 روپے کی چیز میں وہ تاثیر ہوتی ہے جو 10 ہزار کی شاپنگ میں نہیں ہوتی۔آج سے عادت بنالیں -زندگی بھر مجھے دعا ؤں میں یاد رکھیں گے -

چوتھی نصیحت

آپ کی ازدواجی زندگی کا سب سے بڑا دشمن آپ کا موبائل ہے ،عجیب ہی کوئی بیہودہ منظر ہے کہ میاں بیوی ایک ہی کمرے میں موجود ہیں اور ہر ایک اپنے اپنے موبائل میں سوشل میڈیا کو سکرول کئے جارہا ہے -گھر میں ایک جگہ مختص کریں جہاں آپ کو موبائل سے کال ٹون سنائی دے سکے اور گھر داخل ہوتے ہی موبائل کو وہاں رکھہ دیں ،جب تک کوئی کال نہ آئے کسی صورت موبائل نہ اٹھائیں -آپ سارا دن کماتے ہیں ،باہر لوگوں میں مصروف رہتے ہیں اور گھر آکر کسی احمق کی طرح ایک بار پھر باہر کی دنیا سے جڑ جاتے ہیں -اپنے بچوں کے ساتھ کھیلیں ،اپنی بیوی کو مکمل توجہ اور وقت دیں ،آپ اپنے بیوی بچوں کو لاکھوں روپے کما کر دیتے ہیں لیکن ان کے ساتھ گھر میں ہونے کے باوجود درحقیقت ان کے ساتھ نہیں ہوتے تو اس کمائی کا کوئی مطلب نہیں -