اصلاح و دعوت
تين عادتيں
انعام الحق
تين ایسی عادتیں جنہیں اپنانے والے کو کبھی پچھتاوا نہیں ہوا-
1-جب سمجھ نہ آرہا ہو کہ کیا کیا جائے ، تب ذکر الہیٰ میں مشغول ہو جانا۔اللہ سے لو لگانا اس سے بہت بہتر ہے کہ تم سوشل میڈیا پر ریلز دیکھو یا کہیں فضول کی بحث میں خود کو الجھاؤ یا پھر سوچ کی وادیوں میں گم ہوکر وقت برباد کرو۔
2-اوروں کے لیے ، ان کے بن مانگے ، انہیں بنا بتائے یا جتائے ، مخلص ہوکر دعا کیا کرو۔ سوچو ، کہ نہ صرف تمہاری بے غرض دعائیں کسی کے حق میں قبول ہوکر انہیں نفع پہنچائیں گی ، بلکہ اللہ کتنا خوش ہوگا کہ میرا یہ بندہ صرف اپنے لیے نہیں مانگتا میرے بندوں کی پیٹھ پیچھے بھی ان کا خیر خواہ ہے۔ عین ممکن ہے کہ اللہ کو آپ کی ایسی ادائیں اتنی پسند آجائیں کہ وہ بن مانگے ہی جو آپ کے حق میں بہتر ہو اس سے نواز کر آپ کے وارے نیارے کردے۔۔ بلاشبہ آپ کا ہر ایسا عمل بہترین صدقہ ہے۔اگر کبھی محسوس ہو کہ کسی کے لیے کچھ نہیں کر سکتا تو جان لیں کہ آپ دعا تو کر ہی سکتے ہیں۔ اور اس سے بڑی نیکی اور کیا ہوگی کہ کسی کے حق میں اپنا وقت لگائیں۔ اس ذریعے سے در حقیقت آپ بھی دونوں جہانوں میں بہت کچھ کما سکتے ہیں۔
3- مشکل آن پڑی ہے؟ پریشان ہونا چھوڑ دیجیے۔ جو چیز اختیار میں ہے اس کا حل تلاش کریں۔ جو کچھ اختیار میں نہیں وہ معاملہ مختار کُل کے حوالے کر دیجیے اور بے فکر ہوکر سکون سے سو جائیں۔ ایمان رکھیں کہ اگر کوئی حاجت آپ کے حق میں بہتر ہوئی تو دنیا یہاں سے وہاں ہو جائے پر اللہ عزوجل نے آپ کی بگڑی بنا دینی ہے-یا اللہ میں تیرے ہر فیصلے پر راضی ، بس تو مجھ سے راضی ہوجا۔