تھيلسيميا

مصنف : خطیب احمد

سلسلہ : طب و صحت

شمارہ : جون 2024

طب و صحت

تھيلسيميا

خطيب احمد

میرے دل کے بہت قریب ایک نیو بیاہتا جوڑا آج بہت پریشان ہے۔ تین سال کی ان تھک محنت کوشش اور قربانیوں کے بعد دونوں خاندانوں کو منا کر دسمبر میں اللہ اللہ کرکے شادی ہوئی۔ دو ماہ بعد حمل کی خبر آئی اور پیاری دلہن رانی کو ایک گائنی کلینک لے جایا گیا۔ الٹرا ساؤنڈ میں بھی حمل کنفرم ہوا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے حاملہ شہزادی کی بیس لائن ٹیسٹنگ کا کہا جس میں یورین کمپلیٹ ، ہیپا ٹائٹس،شوگر، اور CBC شامل تھے۔ جب ٹیسٹ کی رپورٹ آئی تو بلڈ رپورٹ میں RDw، Hcv, MCh لیولز کی مقدار گڑ بڑ تھی۔ hb یعنی ہیمو گلوبن کا لیول 7.3 تھا۔ ڈاکٹر نے جب رپورٹ دیکھی تو دلہن سے کہا کہ اپنے خاوند کا بھی CBc ٹیسٹ کرائیں۔ وہ کیونکہ ساتھ ہی تھے تو ٹیسٹ وہیں کروا لیا گیا۔ انکی رپورٹ میں بھی وہ تمام لیول ڈسٹرب تھے جو تھیلیسیمیا کے کیرئیر ہونے کا امکان ظاہر کرتے ہیں۔ یعنی آپ کو تھیلیسیمیا ہے تو نہیں مگر آپ اسے اپنے اندر کیری کیے ہوئے ہیں۔ جب ایسے دو لوگوں کی شادی ہوتی ہے تو ان کے بچوں میں ہر زچگی کے دوران 25% امکان ہوتا ہے کہ بچہ تھیلیسیمیا میجر کے ساتھ پیدا ہوگا۔ پچیس فیصد ہی چانس ہوتا ہے کہ بچہ بالکل ٹھیک ہوگا اور پچاس فیصد رسک ہوتا ہے بچہ والدین کی طرح تھیلیسیمیا کیرئیر ہوگا۔ میجر کیس میں مہینے میں دو تین بار خون لگے گا، اسکی گروتھ کم ہوگی، ہڈیاں کمزور ہونگی اور وہ بچپن میں ہی نو سے دس سال تک کی عمر میں وفات پا جائے گا۔

یاد رہے کہ تھیلیسیمیا خون کی خرابی کا ایک موروثی مرض ہے، جس میں انسانی جسم خون کے سرخ خلیوں کے لیے ناکافی ہیموگلوبن بنانے لگتا ہے۔ اس طرح جسم میں سرخ خلیوں کی تعداد کم ہونے لگتی ہے اور مریض کو ہر ماہ ایک یا دو مرتبہ خون چڑھانا ضروری ہوتا ہے۔

اس جوڑے کو شوکت خانم لیب سے ایک ٹیسٹ HB Electrophoresis کرانے کا کہا گیا۔ جس سے کنفرم ہوگا کہ آپ دونوں اس مرض کے کیرئیر ہیں یا نہیں۔ اس ٹیسٹ کی قیمت لگ بھگ آٹھ ہزار روپے ہے۔ دونوں وہاں سے شوکت خانم لیب  گئے اور بلڈ سامپل دے دیا۔ جب رزلٹ آیا تو نتیجہ وہی نکلا جس کا ڈر تھا۔ دونوں کیرئیر تھے۔ اور ماں کی کوکھ میں موجود نیا مہمان مشکوک ہوچکا تھا کہ  کیرئیر ہے یا میجر ہے۔ یعنی بیماری اسکے خون میں آچکی تھی۔ اب اگلا مرحلہ CVS کا تھا۔ Chronic villus sampling اس ٹیسٹ میں حمل کے تیسرے ماہ ماں کے پیٹ میں  ایک لمبی سوئی بھیج کر ساتھ ساتھ الٹرا ساؤنڈ کی مدد سے پلاسنٹا سے بلڈ سامپل لیا جاتا ہے۔ اور اسکے ٹیسٹ سے معلوم کیا جاتا ہے کہ بچہ تھیلیسیمیا میجر اور ایلفا بیٹا اقسام میں کس قسم کے ساتھ ہے۔ یا وہ کیرئیر ہے یا با لكل  ٹھیک ہے۔

پاکستان میں میجر کے ذیادہ تر کیسز beta کے ہی ہوتے ہیں۔ پاکستان بھر میں ہر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شادی سے پہلےتھیلیسمیا کی مکمل تشخیص اور کیرئیر ظاہر ہونے کی صورت میں سارے خاندان کی سکریننگ مکمل فری فراہم کر رہا ہے۔ یہ ایسی ٹیسٹنگ ہے جسے سو فیصد لازمی قرار دیا جانا چاہئیے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد 2022ء میں اپنی حکومت کے خاتمے تک تھیلیسیمیا ٹیسٹ کا قانون منظور کروانے کے لئے مسلسل متحرک رہی تھیں۔ 2016ء میں پاکستان سینیٹ میں خاندانی قوانین میں ترامیم کا ایک بل پیش کیا گیا تھا، جس کا مطابق ایڈز، تھیلیسیمیا، ہیپاٹائٹس اور خون سے متعلقہ دیگر موروثی/ جینیاتی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے شادی سے قبل خون کی سکریننگ لازمی قرار دینا تھا۔ آٹھ برس سے یہ بل متعقلہ کمیٹی کے پاس پڑا ہے مگر اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہ تو حال ہے ہماری حکومتوں اور سینٹرز کے شعور کا۔

ہمارے سامنے سعودی عرب، ایران اور متحدہ عرب امارات کی مثالیں موجود ہیں، جہاں شادی سے پہلے تھیلیسیمیا ٹیسٹ کو قانون میں لازمی قرار دے کر اس پر عملدرآمد کروا کر اس مرض کو قابو کر لیا گیا ہے۔ اور ہمارا حال یہ ہے کہ پاکستان میں تقریبا 98 لاکھ افراد تھیلیسمیا کا شکار ہیں جبکہ ہر برس نو ہزار بچے اس بیماری کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال بلوچ اور پختون اکثریتی علاقوں میں زیادہ سنگین ہے، یا پنجاب و سندھ کے ان خاندانوں میں جہاں خاندان سے باہر شادیاں نہیں کی جاتیں۔ یہ ایک کروڑ لوگ کل آبادی کا 11 فیصد بنتے ہیں۔ جو تھیلیسیمیا کے کیرئیر یا میجر مریض ہیں۔ مگر معلوم ان کو تب ہی ہوتا ہے جب اس موروثی مرض سے متاثرہ بچہ اس دنیا میں آجاتا ہے۔ بلکہ ایک ہی گھر میں دو تین چار بہن بھائی ہوتے ہیں۔ وجوہات میں نہ تو شادی سے پہلے سکریننگ کرانا اور نہ ہی دوران حمل ٹیسٹ کروانا۔

ایک تحقیق کے مصنف ڈاکٹر عنایت الرحمان کے مطابق پاکستان میں ہر برس نو ہزار بچے بیٹا تھیلیسیمیا کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں، جس کی بڑی وجہ خاندان میں شادیاں ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ بچوں میں تھیلیسیمیا کی جین منتقلی کے لیے ضروری ہے کہ ماں اور باپ دونوں یا دونوں میں سے کوئی ایک تھیلیسیمیا کیریئر ہو۔

پہلے پیرے میں ذکر کیا گیا جوڑا کل CVs کروائے گا۔ پریکٹیکل ہو کر سوچیں تو ہماری دعائیں اس بچے کی جینیاتی انفارمیشن کو نہیں بدل سکتیں۔ پھر بھی دعا ضرور کریں گے کہ اس جوڑے کے لیے اللہ رب العزت رحمت اور آسانی والا معاملہ فرمائے۔ آپ بھی دعا کیجئے گا۔

اول تو دو کیرئیر شادی کا فیصلہ نہ کریں۔ اس موضوع پر کھل کر بات کریں۔ اگر ایک فریق کو معلوم ہے کہ وہ کیرئیر نہیں ہے تو دوسرے فریق کے ٹیسٹ کے بغیر بھی شادی ممکن ہے۔ ہاں اگر لڑکا یا لڑکی خود کیرئیر ہیں تو دوسری پارٹی کا ٹیسٹ کرا کر ضرور جان لیں۔ کم پڑھے لکھے اور سادہ لوح لوگوں میں اس بات کو تصور بھی محال ہے کہ شادی سے پہلے ایسا کوئی ٹیسٹ کرانے کا دوسرے فریق سے کہا جائے۔ وہ رشتہ دیکھنا ہی گوارہ نہیں کریں گے۔ اس ایشو کو امام مسجد اساتذہ اور میڈیا پر زیادہ سے زیادہ ڈسکس کریں۔ آگہی پھیلائیں۔ اگر دو کیرئیر شادی کرنا بھی چاہیں تو Cvs کے ذریعے معلوم کرکے بچہ میجر ہو تو فوراًحمل ختم کروا سکتے ہیں۔  آپ کو اس مرض کی ایسی تفصیل پہلے معلوم تھی؟ اگر اب معلوم ہوگئی ہے تو اپنا سکریننگ ٹیسٹ کروائیں گے ناں؟ سو فیصد لوگ اس ٹیسٹ کو کرائیں۔ اگر آپ کے ایک دو بچے ہیں اور وہ بلکل ٹھیک ہیں تو بھی امکان ہے آپ دونوں یا ایک کیرئیر ہو سکتا ہے۔ بچے بھی کیرئیر ہو سکتے ہیں۔ انکے مستقبل کا فیصلہ ہم اپنی طرح اسباب سے منہ موڑ کر اللہ کے سپرد کرکے تو نہ کریں۔ جن گھروں میں تھیلیسیمیا کے مریض موجود ہیں ایک بار ان والدین سے مل کر دیکھیں۔ پھر شاید آپ کو میری بات اچھی طرح سمجھ آجائے۔ اور بلڈ ڈونیٹ بھی ضرور کیا کریں۔ آپ کا خون کسی بچے کو چند دن زندگی دے سکتا ہے۔