حمد کرتا ہوں باوضو تیری
روز پڑھتا ہوں گفتگو تیری
اے جمال جہان کے خالق
ہے نگاہوں کو جستجو تیری
ماسوا تیرے کون ہے قیوم
ہے سوا سب سے آبرو تیری
رنگ پھیلے ہیں باغ میں تیرے
خار زاروں میں بھی ہے بوُ تیری
بحر و بر ہیں ترے کرم کے نقیب
حمد ہوتی ہے چار سو تیری
ذکر ہوتا ہے جا بجا تیرا
یاد ہوتی ہے کوُ بکُو تیری
لب پہ جاری ہے تیرا نام سدا
دل میں ازہر کے آرزو تیری
