حمد رب جليل

مصنف : جگر مراد آبادی

سلسلہ : حمد

شمارہ : فروری 2026

حمدرب جليل

تجھی سے ابتدا ہے، توہی اك دن انتہا ہو گا--صدائے ساز ہو گی اور نہ ساز ِبے صدا ہو گا

ہميں معلوم ہے ، ہم سے سنو، محشر ميں كيا ہو گا--سب ا س كو ديكھتے ہو ں گے ، وہ ہم كو ديكھتا ہو گا

سرِ محشر ہم ايسے عاصيوں كا اور كيا ہو گا--درِ جنت نہ وا ہوگا،درِ  رحمت تو واہو گا

جہنم ہو كہ جنت، جو بھی ہو گا فيصلا ہوگا--يہ كيا كم ہے ؟ہمارا اور ان كا سامنا ہو گا

ازل ہو يا ابد ، دونوں اسير ِ زلفِ حضرت ہيں--جدھر نظريں اٹھاؤ گے ، يہی اك سلسلا ہو گا

يہ نسبت عشق كی بے رنگ لائے رہ نہيں سكتی --جو محبو ب خدا كا ہے ، وہ محبوبِ خدا ہو گا

اسی اميدپر ہم طالبان ِ درد جيتے ہيں--خوشا دردے كہ تيرا درد ، درد ِ لا دوا ہو گا

نگاہ ِ قہر پہ بھی جان و دل ، سب كھوئے بيٹھا ہے --نگاہ مہر عاشق پر اگر ہو گی تو كيا ہو گا

يہ مانا بھيج دے گا ہم كو محشر سے جہنم ميں --مگر جو دل پہ گزرے گی ، وہ دل ہی جانتا ہوگا

سمجھتا كيا ہے تو ديوانگانِ عشق كو ، زاہد--يہ ہو جائيں گے جس جانب ، اسی جانب خدا ہو گا

جگر كا ہاتھ ہو گاحشر ميں اور دامن حضرت--شكايت ہو كہ شكوہ، جو بھی ہو گا برملا ہو گا

جگر مراد بادی