خدا کے نام سے ہر ابتدائے کار کریں
اسی کی راہ میں ہر چیز کو نثار کریں
 
یہی تو دل کی سعادت ہے نطق کی معراج
خدا کی حمد کریں اور بار بار کریں
 
مسرتیں ہوں تو شکر خدا بجا لائیں
مصیبتیں ہوں تو ہم صبر اختیار کریں
 
یہ کیا کہا کہ نگاہ کرم نہیں ہوتی
گناہگار گناہوں کا بھی شمار کریں
 
اسی میں دل کا سکوں ہے یہی ہے عقل کی بات
خدا رسولؐ کی باتوں پہ اعتبار کریں
 
ہر ایک پھول چمن کا خدا کی آیت ہے 
اسی نگاہ سے نظارہ بہار کریں
ماہر القادری
انتخاب ، خضر حیات ناگپوری، حال مقیم ابوظبی

منظو ر حسین ماہر القادری اتر پردیش ( بھارت) کے ضلع بلند شہر کے ایک قصبے کسیر کلاں میں ۳۰ جولائی ۱۹۰۶ کو پیدا ہوئے ۔ قرآن حکیم اور اردو کی ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب سے حاصل کی ۔ اپنے والد معشوق علی سے فارسی کی کتابیں پڑھیں میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد ریاست حیدر آباد دکن کے محکمہ ڈاک میں کلرک کی ملازمت سے زندگی کی جدوجہد کا آغاز کیا۔ بعد کی عمر کراچی میں گزری اور وہاں سے جاری کردہ ادبی رسالہ ‘فاران’ ان کی پہچان ٹھہرا۔ماہر القادری ایک قادر الکلام شاعر اور پختہ قلم نثر نگار تھے اشتراکی ترقی پسند تحریک کے عین شباب کے زمانے میں ماہر نے صالح ، تعمیری ، اسلامی ادب کی آواز پوری قوت سے بلند کی ۔ انہوں نے ادب اور عقید ہ کے خوبصورت امتزاج سے ایک جاندار ادب تخلیق کیاجو اپنے جذبے کی سچائی ، خلوص کی گہرائی اور زبان و فن کی گیرائی کی وجہ سے حیات دوام کاحامل ہے ۔۱۲ ، مئی ۱۹۷۸ کو کعبۃ اللہ میں حاضری دینے کے بعد جدہ کے مشاعرے میں حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے ماہر کا انتقال ہوااور انہیں جنت معلی میں ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کی پائنتی دفن کیا گیا۔ (خضر حیات ناگپوری)