وہ میری بزم سے کیو ں اٹھ گیا خوشی سے 
نہ جانے کون سی بات اس کو نا گوار لگی
 
اٹھے جو ہاتھ کبھی آسمان کی جانب
حیات اپنی خطاؤں پہ شرمسار لگی