شعر وادب
اشعار كا دوسرا مصرعہ – ضرب المثل بن گيا
اسلم ملك
*وہ اشعار جن کا دوسرا مصرعہ ضرب المثل کی حد تک مشہور ہوا جبکہ پہلا وقت کی دھول میں کہیں کھو گیا*
ابن عبداللہ
ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
*بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا*---مصطفیٰ خان شیفتہ
گلہ کیسا حسینوں سے بھلا نازک ادائی کا
*خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے*---سرور عالم راز سرور
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
*تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے*---مصطفیٰ زیدی
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
*دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے*---مرزا غالب
قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو
*خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو*---میانداد خان سیاح
غم و غصہ، رنج و اندوہ و حرماں
*ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے*---حیدر علی آتش
مریضِ عشق پہ رحمت خدا کی
*مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی*---شاد لکھنوی
آخر گِل اپنی صرفِ میکدہ ہوئی
*پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا*---مرزا جواں بخت جہاں دار
نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی
*بہت دیر کی مہرباں آتے آتے*---داغ دہلوی
غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سنا تم نے
*کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا*---چراغ حسن حسرت
پھول تو دو دن بہارِ جاں فزاں دکھلا گئے
*حسرت اُن غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے*---شیخ ابراھیم ذوق
کی میرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ
*ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا*---مرزا غالب
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
*صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں*---داغ دہلوی
چل ساتھ کہ حسرت دلِ مرحوم سے نکلے
*عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے*---فدوی لاہوری
مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا
*اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا*---میر طاہر علی رضوی
لائے اس بت کو التجا کر کے
*کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے*---پنڈت دیال شنکر نسیم لکھنوی
انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
*شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات*---علامہ اقبال
جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
*جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی*---علامہ اقبال
اب اداس پھرتے ہو، سردیوں کی شاموں میں
*اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں*---شعیب بن عزیز
جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
*بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے*---پروین شاکر
برباد گلستاں کرنے کو، بس ایک ہی الو کافی تھا
*ہر شاخ پہ الّو بیٹھا ہے، انجام گلستاں کیا ہو گا*---شوق بہرائچی