اشعار كا دوسرا مصرعہ – ضرب المثل بن گيا

مصنف : اسلم ملک

سلسلہ : شعر و ادب

شمارہ : ستمبر 2026

شعر وادب

اشعار كا دوسرا مصرعہ – ضرب المثل بن گيا

اسلم ملك

*وہ اشعار جن کا دوسرا مصرعہ ضرب المثل کی حد تک مشہور ہوا جبکہ پہلا وقت کی دھول میں کہیں کھو گیا*

ابن عبداللہ

ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام

*بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا*---مصطفیٰ خان شیفتہ

گلہ کیسا حسینوں سے بھلا نازک ادائی کا

*خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے*---سرور عالم راز سرور

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

*تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے*---مصطفیٰ زیدی

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

*دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے*---مرزا غالب

قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو

*خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو*---میانداد خان سیاح

غم و غصہ، رنج و اندوہ و حرماں

*ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے*---حیدر علی آتش

مریضِ عشق پہ رحمت خدا کی

*مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی*---شاد لکھنوی

آخر گِل اپنی صرفِ میکدہ ہوئی

*پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا*---مرزا جواں بخت جہاں دار

نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی

*بہت دیر کی مہرباں آتے آتے*---داغ دہلوی

غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سنا تم نے

*کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا*---چراغ حسن حسرت

پھول تو دو دن بہارِ جاں فزاں دکھلا گئے

*حسرت اُن غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے*---شیخ ابراھیم ذوق

کی میرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ

*ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا*---مرزا غالب

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

*صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں*---داغ دہلوی

چل ساتھ کہ حسرت دلِ مرحوم سے نکلے

*عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے*---فدوی لاہوری

مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا

*اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا*---میر طاہر علی رضوی

لائے اس بت کو التجا کر کے

*کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے*---پنڈت دیال شنکر نسیم لکھنوی

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

*شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات*---علامہ اقبال

جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو

*جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی*---علامہ اقبال

اب اداس پھرتے ہو، سردیوں کی شاموں میں

*اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں*---شعیب بن عزیز

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں

*بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے*---پروین شاکر

برباد گلستاں کرنے کو، بس ایک ہی الو کافی تھا

*ہر شاخ پہ الّو بیٹھا ہے، انجام گلستاں کیا ہو گا*---شوق بہرائچی