قرآن

جواب:اس میں شبہ نہیں کہ کاغذ بہت پہلے ایجاد ہو چکا تھا اور عربوں میں اس کے استعمال کے شواہد بھی ملتے ہیں۔ لیکن بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ عرب میں بآسانی دستیاب نہیں تھا۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ عربوں لکھنا جاننے والے لوگ بہت کم تھے۔چنانچہ جو لوگ لکھنا چاہتے تھے وہ اپنے ماحول میں دستیاب اشیاء ہی پر لکھنے پر مجبور تھے۔ خلافت راشدہ میں پورا قرآن مجید کاغذ پر لکھنے کا کام بھی کر دیا گیا تھا۔

(مولانا طالب محسن)

ج: قرآن مجید نے جہاں جہاں تورات اور انجیل کا حوالہ دیا ہے، وہاں ظاہر ہے کہ تورات اور انجیل کے وہ مقامات سامنے لائے جائیں گے۔ سورۂ بقرہ کا معاملہ تو یہ ہے کہ اُس میں یہود کی پوری تاریخ سنائی گئی ہے اور اس میں قرآن مجید نے اُن واقعات کی طرف اشارات دیے ہیں، یعنی اجمال کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ اُن کی تفصیل آپ اگر تورات یا انجیل سے بیان کریں تو یہ بالکل ٹھیک ہے۔ یہ اللہ کی کتابیں ہیں۔ او رجب قرآن کی تائید ان کو حاصل ہو جائے تو پھر ان کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجایش باقی نہیں رہتی۔

(جاوید احمد غامدی)