قرآن اور تھیوری

ج: یہ چیز قرآن کا براہ راست موضوع نہیں کہ وہ اس پر گفتگو کرے البتہ قرآن کے اشارات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تخلیق کے دو ادوار رہے ہیں۔ایک دور وہ ہے جس میں تمام جانداروں کی تخلیق کا عمل براہ راست زمین کے پیٹ میں ہوتا تھااور تناسل کا سلسلہ اللہ تعالی نے جاری نہیں کیا تھا۔ اس مرحلے میں بڑی بڑی مخلوقات پیداہوئی ہیں اور انسان سے ملتی جلتی مخلوقات بھی۔ ایک حیوانی وجود جس طرح ماں کے پیٹ میں پرورش پاتا ہے اسی طرح زمین کے پیٹ میں مختلف مراحل سے گزرتا تھا اور پھر زمین کے پیٹ کو شق کر کے باہر آجاتا تھا ۔ ایک لمبے عرصے تک تخلیق کا یہ طریقہ رہا ہے ۔ اصل میں اسی کے مطالعے نے ڈارون کو بعض ایسے مقامات میں سرگرداں کیا اور موجودہ زمانے کا علم بھی سرگرداں ہے کہ جس میں وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ایک کے بعد دوسری مخلوق زمین کے اندر سے پھوٹ رہی ہے ۔دوسرا دور وہ ہے جس میں تناسل کا سلسلہ کر دیا گیا ۔یعنی جو پراسس زمین میں ہوتا تھا اس کو condense کر کے انسان کے ا پنے وجود میں رکھ دیا گیا ۔ پہلے مرحلے میں جو مخلوقات وجود پذیر ہوئی ہیں وہ ایک تدریجی ارتقا کے ساتھ وجود پذیر ہوئی ہیں۔ تناسل کے بعد معاملے کی نوعیت اس سے ذرا مختلف لیکن دوسرے طریقے کے ارتقا پر آگئی کہ جس میں ایک قطر ہ آب مختلف مراحل سے گزر کر ایک جیتا جاگتا انسان بن جاتا ہے ۔ میرے نزدیک یہ مراحل قرآن کے اشارات سے معلوم ہوتے ہیں اور اگر اس بات کو صحیح طرح سمجھ لیا جائے تو علم جدید کی بہت سی الجھنیں دور ہو جاتی ہیں۔

(جاوید احمد غامدی)