قرآن کے احکام

جواب : قرآن مجید کے متعدد مقامات پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ انھی آیات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جاری کردہ سنت پر عمل کا ماخذ قرار دیا جاتا ہے۔ مثلا یاایہا الذین آمنوا اطیعواللہ واطیعواالرسول……(النساء۴:۵۹) وغیرہ۔ اصل یہ ہے کہ جب کسی ہستی کو اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کی حیثیت سے مبعوث کرتے ہیں تو وہ دین میں ان پر ایمان لانے والوں کے مقتدا ہوتے ہیں۔یہ بات آپ سے آپ واضح ہے اس کے لیے کسی استدلال کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی حقیقت کو قرآن مجید میں وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ(النساء۴:۶۴) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

(مولانا طالب محسن)

 جواب :اللہ تعالیٰ اپنا پیغام دنیا تک پہنچانے کے لیے کوئی نئی زبان ایجاد نہیں کرتے، بلکہ جس قوم میں وہ اپنا پیغام نازل کرتے ہیں، اسی کی زبان کو اظہار کا ذریعہ بناتے ہیں۔ دنیا کی زبانوں میں مرد و عورت کو مشترک طور پر مخاطب کرنے کے لیے مذکر ہی کا صیغہ استعمال کیا جاتاہے۔ چنانچہ جب قرآنِ مجید یہ صیغہ استعمال کرتا ہے تو عورتیں مردوں کے ساتھ شامل ہوتی ہیں۔یہ بات بھی صحیح نہیں ہے کہ مردوں کے لیے جنت کی کچھ خاص نعمتیں ہیں۔ عورتوں کے لیے بھی اسی طرح جنت کی نعمتیں ہیں جس طرح مردوں کے لیے ہیں۔ جہاں تک ازواج کا تعلق ہے تو اس کے لیے قرآن نے ازواجِ مطہرہ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ طرفین کے لیے پاکیزہ جوڑے ہوں گے۔ اس کے بجائے اگر یہ بات کہی جاتی کہ وہاں عورتوں کو دس دس مرد ملیں گے تو آپ خود سوچیے کہ کیا یہ کوئی شایستہ اسلوب ہوتا؟میرا خیال ہے کہ ہماری بہنوں کو شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عفت کا لحاظ کرتے ہوئے ساری بات ایک جملے میں بیان کر دی ہے۔

(جاوید احمد غامدی)

ج: قرآن مجید نے جہاں جہاں تورات اور انجیل کا حوالہ دیا ہے، وہاں ظاہر ہے کہ تورات اور انجیل کے وہ مقامات سامنے لائے جائیں گے۔ سورۂ بقرہ کا معاملہ تو یہ ہے کہ اُس میں یہود کی پوری تاریخ سنائی گئی ہے اور اس میں قرآن مجید نے اُن واقعات کی طرف اشارات دیے ہیں، یعنی اجمال کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ اُن کی تفصیل آپ اگر تورات یا انجیل سے بیان کریں تو یہ بالکل ٹھیک ہے۔ یہ اللہ کی کتابیں ہیں۔ او رجب قرآن کی تائید ان کو حاصل ہو جائے تو پھر ان کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجایش باقی نہیں رہتی۔

(جاوید احمد غامدی)