حدیث کے مسائل

جواب :اس روایت کے حوالے سے دو رائیں اختیار کی جا سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس واقعے ہی کو سرے سے نہ مانا جائے۔ اس کے قرائن بھی اس روایت میں موجود ہیں۔ سب سے قوی قرینہ یہ ہے کہ کاغذ اور قلم نہ لانے کی بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منسوب کی جارہی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شخصیت کو مطعون کرنا ایک زمانے میں باقاعدہ مسئلہ رہا ہے۔ ممکن ہے یہ واقعہ بھی اسی جذبے کے تحت تخلیق کیا گیا ہو۔ دوسرا قرینہ یہ ہے کہ یہ واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ وفات سے تین چار دن پہلے پیش آیا اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم واقعۃ کوئی چیز لکھوانا چاہتے تھے تو آپ وہ چیز دوبارہ کہہ کر لکھوا سکتے تھے۔ تیسرا قرینہ یہ ہے کہ اس روایت کے راویوں میں ابن شہاب بھی ہیں۔ حضرت عمر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں وہ روایات جن میں ان کی کوئی نہ کوئی خرابی سامنے آتی ہو ان کی سند میں بالعموم یہ موجود ہوتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس واقعے کو درست مان لیا جائے۔شارحین نے اس واقعے کو درست مانتے ہوئے اس اعتراض کو رفع کرنے کی کوشش کی ہے کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہیں مانی۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ کچھ صحابہ نے یہ رائے قائم کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات ان کی طرف سے جاری کردہ کوئی امر نہیں تھا بلکہ محض ایک مشورہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ کو افاقہ بھی ہوا تو آپ نے یہ خواہش دوبارہ نہیں کی۔میں ذاتی طور پر یہی محسوس کرتا ہوں کہ یہ واقعہ قابل قبول نہیں ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

(مولانا طالب محسن)

جواب: تفصیلی معلومات کے لیے آپ مولانا فہیم عثمانی صاحب کی کتاب حفاظت وحجیت حدیث کا مطالعہ فرمائیں۔ مختصراً عرض ہے کہ تاریخ میں متعدد صحابہ کے نام آتے ہیں جن کے پاس لکھی ہوئی احادیث کا ذخیرہ موجود تھا۔اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض لوگوں کو لکھنے کی اجازت دی اور بعض لوگوں کی لکھ کر دینے کی فرمایش بھی پوری کی۔بہر حال دور اول کی جو تصنیف اب بھی دستیاب ہے وہ موطا امام مالک رحمہ اللہ ہے۔

(مولانا طالب محسن)

جواب: دور اول کی تصنیفات میں سے موطا امام مالک رحمہ اللہ ہی دستیاب ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ کا سال وفات۱۷۹ھ ہے۔ غرض یہ کہ یہ دوسری صدی ہجری کی تصنیف ہے۔ کتب حدیث کا ماخذ مختلف راوی ہوتے ہیں۔ بعض راوی ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے پاس احادیث لکھی ہوئی صورت میں بھی ہوتی تھیں۔

(مولانا طالب محسن)

جواب: قرآن اس امت کواجماع وتواتر سے منتقل ہوا ہے اور حدیث خبر واحد ہے۔ قرآن قطعی ہے اور حدیث ظنی ہے۔ حدیث سے قرآن کے لفظ ومعنی میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی جبکہ قرآن کی روشنی میں حدیث کو سمجھا جائے گا اور تطبیق کی کوئی صورت پیدا نہ ہو تو اسے مخالف قرآن قرار دیا جائے گا اور اس سے دین میں استشہاد نہیں کیا جائے گا۔ اس تفصیل سے واضح ہے کہ کوئی حدیث قرآن کی کسی آیت کا متبادل نہیں ہو سکتی۔سوال: امام بخاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے کتنے سال بعد بخاری لکھی اور اس کا ماخذ کیا تھا؟جواب:امام بخاری کا سال وفات۲۵۶ھ ہے۔ اس طرح یہ تیسری صدی ہجری کے نصف اول کی تصنیف معلوم ہوتی ہے۔امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی یہ کتاب رواۃ سے احادیث لے کر مرتب کی ہے۔

(مولانا طالب محسن)

جواب:بخاری کی حدیثوں کی گنتی میں فرق ہے ۔ ابن حجررحمہ اللہ کی گنتی کے مطابق بخاری میں ۵۷۵۶روایات ہیں۔ چند روایات کو چھوڑ کر بخاری کی روایات صحیح کے محدثانہ معیار پر پوری اترتی ہیں۔

(مولانا طالب محسن)

جواب: حدیث اور قرآن میں تضاد کی بیشتر مثالیں بالعموم قرآن کی روشنی میں حدیث کو حل نہ کرنے سے پیدا ہوئی ہیں۔ مزید برآں کلام فہمی کے جو اصول بعض فقہا کے پیش نظر رہے ہیں وہ بھی اس کا باعث بنے ہیں کہ بعض چیزوں کو متضاد یا مختلف قرار دے دیاجائے۔ ہمارے خیال میں صحیح روایت اور قرآن مجید میں تضاد ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ البتہ بطور اصول یہی بات کہی جائے گی کہ جو حدیث قرآن سے ٹکرا رہی ہو وہ قبول نہیں کی جا سکتی۔

(مولانا طالب محسن)

جواب: کتب حدیث میں کچھ روایات کو چھوڑ کر تمام روایات روایت بالمعنیٰ ہیں۔ مراد یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کو راوی نے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ حدیث کہنے کی وجہ یہ ہے کہ محدث کے نزدیک وہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ہے۔یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ جب کوئی فن مرتب ہو جاتا ہے تو اس کے بنیادی الفاظ اصطلاح کے طور استعمال ہو رہے ہوتے ہیں۔ ان کا لغوی مفہوم پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

(مولانا طالب محسن)

جواب: روایت کا لفظ راوی کی نسبت سے بولا جاتا ہے اور حدیث کا لفظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے۔ یعنی موقع استعمال کے پہلو سے یہ دو لفظ ہیں۔یہ اطلاق کے پہلو سے انھیں مترادف ہی قرار دیا جائے گا۔

(مولانا طالب محسن)

جواب : تفصیلی معلومات کے لیے آپ مولانا فہیم عثمانی صاحب کی کتاب حفاظت وحجیت حدیث کا مطالعہ فرمائیں۔ مختصراً عرض ہے کہ تاریخ میں متعدد صحابہ کے نام آتے ہیں جن کے پاس لکھی ہوئی احادیث کا ذخیرہ موجود تھا۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض لوگوں کو لکھنے کی اجازت دی اور بعض لوگوں کی لکھ کر دینے کی فرمایش بھی پوری کی۔بہر حال دور اول کی جو تصنیف اب بھی دستیاب ہے وہ موطا امام مالک رحمہ اللہ ہے۔

(مولانا طالب محسن)

جواب : دور اول کی تصنیفات میں سے موطا امام مالک رحمہ اللہ ہی دستیاب ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ کا سال وفات۱۷۹ھ ہے۔ غرض یہ کہ یہ دوسری صدی ہجری کی تصنیف ہے۔ کتب حدیث کا ماخذ مختلف راوی ہوتے ہیں۔ بعض راوی ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے پاس احادیث لکھی ہوئی صورت میں بھی ہوتی تھیں۔

(مولانا طالب محسن)

جواب : حدیث اور قرآن میں تضاد کی بیشتر مثالیں بالعموم قرآن کی روشنی میں حدیث کو حل نہ کرنے سے پیدا ہوئی ہیں۔ مزید برآں کلام فہمی کے جو اصول بعض فقہا کے پیش نظر رہے ہیں وہ بھی اس کا باعث بنے ہیں کہ بعض چیزوں کو متضاد یا مختلف قرار دے دیاجائے۔ ہمارے خیال میں صحیح روایت اور قرآن مجید میں تضاد ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ البتہ بطور اصول یہی بات کہی جائے گی کہ جو حدیث قرآن سے ٹکرا رہی ہو وہ قبول نہیں کی جا سکتی۔

(مولانا طالب محسن)

جواب : کتب حدیث میں کچھ روایات کو چھوڑ کر تمام روایات روایت بالمعنیٰ ہیں۔ مراد یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کو راوی نے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ حدیث کہنے کی وجہ یہ ہے کہ محدث کے نزدیک وہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ہے۔یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ جب کوئی فن مرتب ہو جاتا ہے تو اس کے بنیادی الفاظ اصطلاح کے طور استعمال ہو رہے ہوتے ہیں۔ ان کا لغوی مفہوم پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

(مولانا طالب محسن)

جواب : روایت کا لفظ راوی کی نسبت سے بولا جاتا ہے اور حدیث کا لفظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے۔ یعنی موقع استعمال کے پہلو سے یہ دو لفظ ہیں۔ اطلاق کے پہلو سے انھیں مترادف ہی قرار دیا جائے گا۔

(مولانا طالب محسن)

 جواب : فن حدیث میں روایت ہی کو بطور حدیث قبول کیا جاتا ہے۔ اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ راوی کے الفاظ کو حضور کے الفاظ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے تو آپ کی بات درست ہے۔ لیکن محدثین نے واضح درست اور عملی وجوہ کے تحت اس بات پر اصرار نہیں کیا کہ صرف وہی روایت قبول کی جائے گی جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے الفاظ روایت ہوئے ہوں۔

(مولانا طالب محسن)

جواب:دارقطنی سمیت کسی حدیث کی کتاب میں یہ روایت نہیں ملی۔ البتہ تاریخ بغداد میں یہ روایت منقول ہے۔حرف العین من آباء الحسنین میں رقم۳۸۷۴کے تحت یہ روایت فیرزان کے قول کی حیثیت سے نقل ہوئی ہے اس کتاب میں یہ روایت جس صورت میں موجود ہے وہ کسی طرح بھی قابل اعتنا نہیں ہے۔دارقطنی حدیث کی کمزور کتب میں شمار ہوتی ہے۔

(مولانا طالب محسن)

جواب: کسی حدیث کی صحت یا عدم صحت جانچنے کے لیے محدثین کرام نے مختلف اصول وضع کیے ہیں۔ ان کا تعلق روایت سے بھی ہے اور درایت سے بھی۔ مثلاً سند حدیث میں کسی راوی کا نام چھوٹ گیا ہو یا کسی راوی کا حافظہ کمزور ہو یا اس نے ضبط الفاظ میں تساہل سے کام لیا ہو یا اس کا اخلاق و کردار مشتبہ ہو یا وہ اپنی روز مرہ کی زندگی میں جھوٹ بولتا ہو تو اس کی روایت کو ضعیف کی اقسام میں شمار کیا گیا ہے۔ اسی طرح روایتوں کی داخلی شہادتوں سے بھی انھیں پرکھا گیا ہے۔ مثلاً کسی روایت میں لفظی یا معنوی رکاکت پائی جائے، وہ حکمت و اخلاق کی عام قدروں کے منافی ہو، حس و مشاہدہ اور عقل عام کے خلاف ہو، اس میں حماقت یا مسخرہ پن کی کوئی بات کہی گئی ہو، اس کا مضمون عریانیت یا بے شرمی کی کسی بات پر مشتمل ہو وغیرہ تو اس کا ضعیف و موضوع ہونا یقینی ہے۔حرمت سود کی شناعت بیان کرنے والی جو حدیث اوپر سوال میں نقل کی گئی ہے، اس کا موضوع ہونا کس اعتبار سے ہے؟ اس کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ انداز سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پر نقد درایت کے پہلو سے ہے۔ لیکن اس بنیاد پر اسے موضوع قرار دینا درست نہیں۔ ماں کی عزت و احترام انسانی فطرت میں داخل ہے۔ تما م مذاہب میں اس پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ تقدس کا رشتہ استوار ہوتا ہے، زنا و بدکاری تو دور کی بات ہے، کوئی سلیم الفطرت انسان اپنی ماں کی طرف بری نظر سے دیکھ بھی نہیں سکتا۔ سود کے انسانی سماج پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کا شکار ہونے والوں کی زندگیاں برباد ہوتی ہیں اور سودی کاروبار کرنے والوں کے اخلاق و کردار پر خراب اثر پڑتا ہے۔ اس کی خباثت و شناعت واضح کرنے کے لیے اسے ‘‘ماں کے ساتھ زنا’’ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس میں عریانیت یا ناشائستگی کی کوئی ایسی بات نہیں، جس کی بنا پر اس کو موضوع قرار دیا جائے۔ ایک زمانے میں منکرین حدیث نے یہ وتیرہ بنا لیا تھا کہ جو حدیث بھی کسی وجہ سے انھیں اچھی نہ لگے، اسے بلا تکلف موضوع قرار دے دیتے تھے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اپنی مایہ ناز تصنیف ‘‘سنت کی آئینی حیثیت’’ میں ان کا زبردست تعاقب کیا ہے اوران کے نام نہاد دعووں کا ابطال کیا ہے، جن لوگوں کے ذہنوں میں ایسے اشکالات پیدا ہوتے ہیں، جن کی ایک مثال اوپر درج سوال میں پیش کی گئی ہے، انھیں اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔

(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)