نعت


مضامین

مسند نشینِ عالمِ امکاں تمہیؐ تو ہو اس انجمن کی شمعِ فروزاں تمہیؐ تو ہو   صبحِ ازل سے شامِ ابد تک ہے جس کا نور وہ جلوہ زارِ حسنِ درخشاں تمہیؐ تو ہو   دنیائے ہست و بود کی زینت تمہیؐ سے ہے دونوں جہاں کے والی و سلطاں تمہیؐ تو ہو   تم کی...


جب شعور و فکر پر تاریکیوں کا راج تھا اک ہستی شمع کی مانند نور افشاں ہوئی   مطلع گیتی پہ ابھری بن کے خورشید سکوں قاصد خیر و سفیر رحمت یزداں ہوئی   ارض تشنہ کام پر برسا سحاب نور حق اس زمیں کو ایک انعام حسیں بخشا گیا   بول اے دلدادہ و ...


میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں پھر اُس کے بعد کاغذ پر نبی تحریر کرتا ہوں میں دھو لیتا ہوں جب قرطاس سارا آبِ گریہ سے تب اُس پر گنبدِ خضرا کو میں تصویر کرتا ہوں مرے آنسو مری فکر ِ سُخن کو غسل دیتے ہیں تو پھر میں نعت کہنے کی کوئی تدبیر...


  رؤف ایسا نہیں دیکھا ، رحیم ایسا نہیں دیکھا  کوئی انسان دل کا نرم اس درجہ نہیں دیکھا    کہا کرتے تھے انؐ کو دیکھ کر ام القری والے  امانت دار اتنا ، اس قدر سچا نہیں دیکھا    عداوت ، بدزبانی ، بے رخی ، اپنوں کا کٹ جانا  نبیؐ...


  آپؐ کا عہد گر ملا ہوتا میں ہمعصر کعبؓ کا ہوتا   بیعت عشق روز کرتا میں  ہاتھ میں ہاتھ آپؐ کا ہوتا   مجھ کو جینے کے ڈھنگ آ جاتے  میں بھی اک پیکر وفا ہوتا   زخم جو آپؐ کو احد میں لگا میرے ماتھے پہ وہ کھلا ہوتا   ...


  میرے احساس کے دریا میں روانی تجھ سے  اے گل جان میرے ہونے کی نشانی تجھ سے   موسم گل بھی ترا ، فصل خزاں بھی تیری میری آواز کے صحراؤں میں پانی تجھ سے    تجھ ہی سے میری تمناؤں نے وسعت پائی آنکھ کے رنگ ، سماعت کے معنی تجھ سے  ...


  جو فردوس تصور ہیں وہ منظر یاد آتے ہیں مدینے کے گلی کوچے برابر یاد آتے ہیں   جو لگتا ہے کوئی کنکر بدن پر دین کی خاطر تو دل کو وادی طائف کے پتھر یاد آتے ہیں   فضاؤں میں اگر کوئی پرندہ رقص کرتا ہے تو آنکھوں کو مدینے کے کبوتر...


  مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ جبیں افسردہ افسردہ ، قدم لغزیدہ لغزیدہ   چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانب طیبہ نظر شرمندہ شرمندہ ، بدن لرزیدہ لرزیدہ   کسی کے ہاتھ نے مجھ کو سہارا دے دیا ورنہ کہاں میں اور کہاں یہ ر...


  جہاں سے نقش خودی کے مٹا دیے تو نے  چراغ مجلس عرفاں جلا دیے تو نے    قدم قدم پہ تجلی کی روح دوڑا دی روش روش پہ گلستاں کھلا دیے تو نے    وہ سر کہ جن میں بھری تھی ہوائے کبر و غرور خدا کے سامنے لا کر جھکا دیے تو نے   عر...


  مرے دل کا نہاں خانہ ابھی تک چمک رہاہے  تری چاہتوں کا ہی نور ہے جو چھلک رہا ہے   جو دھواں سا نکلتا ہے مرے سینے سے ہمیشہ غم امت مرحوم اس میں ازل سے پک رہا ہے   کبھی تو مجھے بھی لے ہی جائے گا ترے مدینے وہ جو آسماں پر بیٹھا م...


  آپؐ آئے تو اندھیروں کا ہے چکر ٹوٹا گمرہی اور جہالت کا ہے امبر ٹوٹا   ٹوٹنا تھا جسے وہ کفر بھی آخر ٹوٹا بت کدے ٹوٹ گئے تیشہء بت گر ٹوٹا   بات مظلوم کی بن آئی بطفیل آقاؐ ظلم کی رات ڈھلی دست ستم گر ٹوٹا   جس سے صد چاک ...


  نعت کی فکر نے پیدا کیا منظر ایسا خانہ دل تو نہ تھا پہلے منور ایسا   جہل کا دور گیا ، عہد تدبر آیا رکھ دیا سارے زمانے کو بدل کر ایسا   شکم پاک سے باندھا تھا پیمبرؐ نے جسے  مجھ کو تکیہ کے لیے چاہیے پتھر ایسا   کشتیاں ...