فرشتوں کے قیدی

مصنف : نعیم احمد بلوچ

سلسلہ : ناول

شمارہ : دسمبر 2004

قسط ۔ ۲

شر اور خیر کی ازلی دشمنی’ دور جدید کی مادیت پرستی سے اکتا کر ماضی کی ساد ہ زند گی کی طرف پلٹنے کی تمنا اور فطر ت میں ودیعت انسانی جذبوں کی شکست و ریخت کی تحیرخیز داستاں۔

            مسافروں کی چیخیں بلند ہوئیں اور پورے ہال میں ایک بھگڈر سی مچ گئی ۔فلپ کی نگاہیں ایڈگربل اور اس کے ساتھیوں پر مرکوز تھیں ۔اسی لمحے اس نے بل کے ایک ساتھی کو اپنی جیب سے ایک گول مول چیز نکالتے دیکھا ۔وہ جان گیا کہ ایک اور پٹاخہ چلنے والا ہے ۔وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا’ لیکن دو مسافر اس سے ٹکرائے۔ وہ گرتے گرتے بچا ۔اس دوران دوسرا دھماکہ ہو چکا تھا اور گیس تیزی سے پھیلنے لگی تھی ۔اس کی نظریں ایک مرتبہ پھر بل کے ساتھیوں کو ڈھونڈ رہی تھیں ۔جلد ہی اس نے بل کو تلاش کر لیا ۔ وہ کپتان کی طرف بڑھ رہا تھا ۔اس نے منہ پر گیس ماسک چڑھا رکھا تھا اور ایک ہاتھ جیب میں تھا ۔جب وہ کپتان کے بالکل قریب پہنچا تو اس نے ہاتھ جیب سے باہر نکال لیا ۔فلپ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی سرنج دیکھ رہا تھا ۔وہ سمجھ گیا کہ بل کپتان کو زہریلا انجکشن دینے والا ہے۔ وہ دیوانہ وار اس کی طرف لپکا۔ اسے اپنی یہ پھرتی بے سود لگ رہی تھی ۔بل نے ایک قدم اور آگے بڑھا کر کپتان کی طرف سرنج والا ہاتھ سیدھا کر دیا تھا’مگر اس نے دیکھا کہ عین اسی لمحے ایک سیکورٹی گارڈ کپتان کو کھینچ کر دروازے کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ امید کی کرن نظر آنے پر اس کی رفتار تیز ہو گئی۔ مسافروں کو پیچھے ہٹاتے ’ گرنے والوں کو پھلانگتے وہ بل کے قریب پہنچ گیا تھا۔ کپتان اب دھویں کی وجہ سے نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا ’ لیکن بل اس کی پہنچ میں تھا ۔ اس نے چند لمحے رک کر صورت حال کا جائزہ لیا اور جیسے ہی اس نے بل پر چھلانگ لگانا چاہی’اس کے سر پر زور دار ضرب لگی ۔اسے اپنا سارا وجود اندھیروں میں ڈوبتا نظر آیا اور اگلے ہی لمحے وہ کٹے ہوئے تنے کی مانند فرش پر گرپڑا ۔

             جب سے یہ ہنگامہ شروع ہواتھا ’بلال کی نظریں فلپ پر لگی تھیں ۔جب فلپ نے کپتان کی طرف دوڑ لگائی تو وہ اسی وقت اس کے پیچھے لپکا تھا لیکن ہجوم میں پھنس کر رہ گیا ۔جسمانی طور پر وہ خاصا مضبوط تھا ’مگر اس کے راستے میں تین چار خواتین آ گئیں ۔ اس کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ وہ چیختی چلاتی خواتین کو دھکے دیتا آگے بڑھے ۔ ویسے بھی اس وقت تک پورا ہال دھویں سے بھر چکا تھا اور ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا ۔اچانک اسے ایک زور دار دھکا لگا اور وہ ایک میز سے ٹکراتا ہوا نیچے گر پڑا ۔ اس نے اپنے حواس قائم رکھے اور پاؤں تلے روندے جانے سے قبل تیزی سے قریب کی میز کے نیچے لڑھک گیا ۔ یہ جگہ اسے محفوظ محسوس ہوئی ۔وہ میز کے نیچے چوپایوں کی طرح چلنے لگا ۔اس کا رخ دروازے کی طرف تھا ۔ ایک سے نکل کر وہ دوسری میز کے نیچے گھس گیا اور وہاں سے تیسری کے نیچے ۔ایسا کرتے ہوئے اسے دوسروں کے پاؤں کی زور دار ٹھوکریں کھانی پڑی تھیں’لیکن اب وہ دروازے کے قریب والی میز تک پہنچ چکا تھا ۔وہ ایک آدھ منٹ وہیں بیٹھا مناسب وقت کا انتظار کر رہا تھا کہ اسے کوئی شخص فرش پر گرا ہوا محسوس ہوا ۔

             گیس ہوا سے ہلکی تھی اس لیے اس کا ارتکاز اوپر کی جانب زیادہ تھا اور نیچے کم ’لیکن پھر بھی فضا اتنی صاف نہیں تھی کہ وہ گرے ہوئے کو پہچان پاتا۔ وہ شخص قریب تھا اور بلال اسے کھینچ سکتا تھا ۔ گرے ہوئے شخص کا کندھا اس کے دونوں ہاتھوں کی پہنچ میں تھا ۔ اس نے پورا زور لگایا اور اسے میز کے نیچے گھسیٹ لیا ۔نبض دیکھی تو چل رہی تھی ۔ کچھ لمحے اسے اپنے حواس درست کرنے میں لگے پھر اچانک یکے بعد دیگرے تین فائر ہوئے۔فوراً بعد کئی خواتین کی چیخیں بلند ہوئیں۔ اس وقت ڈائننگ ہال میں شور اپنے عروج پر تھا کہ ایک آواز بلند ہوئی ...‘‘مائیک’دروازہ کھول دو...’’

            جونہی دروازہ کھلا ہال کی فضا صاف ہونا شروع ہو گئی ۔مسافر پہلے سے زیادہ دھکم پیل کرتے ہوئے باہر نکلنے لگے۔بلال میز کے نیچے بیٹھا راستہ ملنے کا انتظار کر رہا تھا ۔چند منٹوں بعد دھواں اس قدر کم ہو چکا تھا کہ اس نے میز کے نیچے گھسیٹ کر لانے والے شخص کو پہچان لیا ۔یہ فلپ ٹرنٹ تھا ۔ اس کا چہرہ لہو لہان تھا ۔سر کی پچھلی جانب بھی ایک زخم نظر آرہا تھا۔ وہ اب تمام لوگوں کے باہر جانے کا انتظار کرنے لگا ۔

             مسافروں کو ڈائننگ ہال سے باہر جانے کے لئے خاصا وقت لگا ۔جان ہر ایک کو عزیز تھی۔ اس سے ہاتھ دھونے کے خوف نے سبھی کو جلدی میں مبتلا کر دیا تھا ۔ نتیجہ ہنگامے ’ چیخ و پکار اور دھکم پیل کی صورت میں نکلا ۔ خدا خدا کر کے بلال کا انتظار ختم ہوا تو وہ اپنی پناہ گاہ سے باہر آ گیا ۔ ڈائننگ ہال کا جو منظر اس نے اب دیکھا تھا وہ خون منجمند کر دینے کے لئے کافی تھا ۔ ہال میں کئی لوگ بے سدھ پڑے ہوئے تھے ۔ اس کی نظر جب کپتان پر پڑی۔ وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا تو ایک کرخت آواز نے اس کے قدم روک لیے:‘‘ٹھہرو مسٹرــــ...تمہاری بلا اجازت حرکت موت کا پیغام بن سکتی ہے!’’بلال نے چونک کر بولنے والے کی طرف دیکھا ۔ ایڈگربل اس سے مخاطب تھا ۔ اس کے علاوہ اس کے تینوں ساتھی بھی اس کے ہمراہ موجود تھے ۔ دو کے ہاتھوں میں بندوقیں تھیں ۔ بلال جانتا تھا کہ یہ دونوں بندوقیں سیکورٹی گارڈز کی ہیں ۔ اس خیال کے آتے ہی اس کی توجہ گرے ہوئے لوگوں کی طرف مبذول ہو گئی ۔ دونوں سیکورٹی گارڈ اسے خون میں لت پت نظر آئے ۔ کپتا ن کے علاوہ عملے کے تین اور افراد بھی اسے ساکت پڑے نظر آئے ۔ اس کے قدم ایک مرتبہ پھر بے اختیار گرے ہوئے افراد کی طرف اٹھ گئے ۔ وہ اپنی حس مسیحائی کے ہاتھوں مجبور تھا ’ مگر دوبارہ تحکمانہ آواز نے اسے رک جانے پر مجبور کر دیا ۔

            اس دفعہ بل کے بجائے ولف نے اسے ٹوکا تھا ۔ ‘‘کیا یہ تمہارے رشتے دار ہیں؟ کیوں ان سے گلے ملنے کے لئے بے تاب نظر آتے ہو؟’’

             ‘‘میں ڈاکٹر ہوں ...ہو سکتاہے کہ ان میں سے کوئی زندہ ہو!’’ بلال نے متفکر آواز میں کہا ۔ ‘‘ڈاکٹر !’’ بہت اچھا ...چلو پھر دیکھو ان کی نبضیں۔ بل نے کہا۔ اسے بلال کے ڈاکٹر ہونے کی اطلاع پر بڑی خوشگوار حیرت ہوئی تھی ۔ بلال سب سے پہلے کپتان کی طرف بڑھا ۔ اس کی نبض رک چکی تھی اور منہ سے جھاگ بہ رہا تھا ۔ سیکورٹی کے دونوں افراد کے علاوہ عملے کے باقی لوگ بھی مہلک زہر سے مرے تھے ۔ جب بلال باری باری سب کی نبضیں ٹٹول چکا تو بل نے روائتی غنڈوں کی طرح فاتحانہ مسکراہٹ سے اس کی طرف دیکھا اور بلال کے چہرے پر نظریں گاڑتے ہوئے ولف سے مخاطب ہوا ‘‘ میرے خیال میں یہ ایشیائی ٹھیک رہے گا ’ تم عملے کے ڈاکٹر کی بھی چھٹی کرا دو ۔’’

             ‘‘آخر تم یہ قتل و غارت گری کیوں کر رہے ہو؟ کون ہو تم لوگ؟ ’’ بلال کی آواز میں احتجاج بھی تھا ’ بے بسی بھی اور غصے کی دبی دبی چنگاریاں بھی ۔ بل یا اس کے کسی ساتھی کے بولنے سے پہلے ہال میں سے کراہنے کی آواز بلند ہوئی ۔سب نے چونک کر دیکھا۔ ولف نے فلپ کی طرف نفرت سے دیکھا اور منہ سے کف اڑاتا کہنے لگا‘‘اوہ یہ ابھی زندہ ہے ! بل ’ جب تم کپتان کا شکار کر رہے تھے تو اس نے تم پر حملہ کیا تھا ۔ اگر کلارک اس کے سر پر بوتل نہ مارتا تو ہماری پلاننگ خاصی خراب ہو سکتی تھی ۔’’

             ‘‘اسے فوراً گولی سے اڑا دو ۔’’بل نے کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر حکم صادر کر دیا ۔ اس کی گھاگ نگاہوں نے فلپ کے چہرے پر لکھی اپنے لئے خطرے کی تحریر پڑھ لی تھی ’ لیکن بندوق برداروں نے جیسے ہی اپنی بندوقیں اس کی طرف سیدھی کیں ’ بلال لپک کر فلپ کے سامنے آ گیا اور قطعی بے خوفی سے بولا ‘‘نہیں ...تم اسے نہیں ماروگے ۔ اس کی زندگی کے عوض میں تمہارے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہوں ۔’’ بل نے ہاتھ اٹھا کر اپنے گماشتوں کو گولی چلانے سے روکا اور بلال سے پوچھا ‘‘کیا یہ تمہارا ساتھی ہے ؟’’بلال کچھ توقف کے بعد بولا ‘‘ہاں ....یہ میرا دوست ہے !’’

             ‘‘تو گویا یہ بھی ڈاکٹر ہے ’’ بل کے لہجے میں حیرت تھی ۔‘‘نہیں ’ یہ ڈاکٹر نہیں بلکہ یہ آرکیٹکٹ ہے۔..’’جھوٹ بولتے ہوئے بلال کا لہجہ خاصا غیر یقینی ہو گیا تھا ۔ ‘‘دیکھ لو... تمہاری بات جھوٹی نکلی تو اس کے ساتھ تمہیں بھی جہنم کی سیر کرنی پڑے گی۔’’ ‘‘مگر تم لوگ بھی اچھی طرح سن لو میں صرف اسی صورت میں تعاون کروں گا جب تم فلپ سمیت کسی مسافر کو بھی نقصان نہ پہنچانے کا وعدہ کرو گے۔ ’’بلال نے مضبوط لہجے میں کہا ۔ ‘‘بل ...مجھے تو یہ ڈاکٹر خاصا مہنگا لگتا ہے ۔ اس کے لہجے میں زندگی سے بیزاری صاف جھلک رہی ہے ...’’ولف کا لہجہ بڑا تضحیک آمیز تھا ۔

             ‘‘نہیں...اسے ایک موقع دینا چاہئے ۔تم ذرا اس آرکیٹکٹ کی جیب سے پر س نکالو۔ اگر اس کا یہ بیان درست ہوا تو اسے ہم ساتھ رکھیں گے ۔ ورنہ مجھے اپنے الفاظ کا پالن کرنا بہت اچھی طرح آتا ہے۔’’بل نے جیسے ہی بات ختم کی ’ ولف آگے بڑھا ۔ اتنی دیر میں فلپ کے حواس خاصے بحال ہو چکے تھے ۔

             وہ کراہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور نقاہت بھری آواز میں بولا‘‘میرے پاس اس وقت کوئی سروس کارڈ نہیں ۔ تم تصدیق کرنا چاہو تو ولنگٹن میں میری فرم’ نیوارا آرکیٹکچر سے فون نمبر732301 پر بات کر سکتے ہو۔ وہاں پر مسٹر تھامس ....’’فلپ کی بات بل کے قہقہے کی نظر ہو گئی۔ ‘‘بیوقوف...یہ فیری اغوا ہو چکی ہے ۔ اس کا رابطہ تمام دنیا سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کٹ چکا ہے۔’’ ‘‘اغوا ...اف میرے خدایا ۔ میری پیاری بیوی مارتھا اور بچے...’’فلپ نے اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا ۔

             بلال حیران تھا کہ وہ اداکاری کر رہا ہے یا واقعی اس قدر بزدل ہے ۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر بل کے علاوہ باقی غنڈے ہنسنے لگے۔ جان چھوٹتی دیکھ کر بلال نے کہا ‘‘اب تو آپ کو یقین آگیا نا ۔ میرے خیال میں’ میں اسے کیبن میں لے جا کر اس کی مرہم پٹی کرتا ہوں ۔’’ بل کا شک ابھی ختم نہیں ہواتھا ’مگر اس نے انہیں جانے کی اجازت دے دی۔ ان کے باہر نکلتے ہی اس نے ولف سے کہا ‘‘تم ان دونوں کی خفیہ نگرانی کرو گے ۔ان کی غیر موجودگی میں ان کے کیبن میں ٹیپ ریکارڈر بھی فٹ کر دو۔ مجھے یہ آدمی بہت خطرناک معلوم ہوتا ہے’ لیکن محض اس وجہ سے چھوڑ رہا ہوں کہ ہوسکتا ہے یہ واقعی آرکیٹکٹ ہو۔ اس صورت میں یہ آرکیٹکٹ ہمارے لئے مستقبل میں خاصے کام کی چیز ثابت ہو سکتا ہے۔’’

٭٭٭

             چند گھنٹوں بعد اولینا فیری مکمل طور پر ایڈگربل اور اس کے پانچ ساتھیوں کے قبضے میں جاچکی تھی ۔ عملے کے افراد میں ملاح کے علاوہ باقی تمام ہلاک کر دیئے گئے تھے ۔ان کی لاشیں سمندر میں پھینکیں جا چکی تھیں اور تمام مسافروں کو اطلاع دے دی گئی تھی کہ فیری کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ انہیں سختی سے ہدایت کر دی گئی کہ اگلے حکم تک وہ اپنے اپنے کیبن سے باہر نہ آئیں۔ خلاف ورزی کی سزا موت مقرر ہوئی ۔ مسافروں کے کیبن دو منزلوں میں تھے۔ ہر منزل میں بل کا ایک آدمی بندوق لیے پہرا دے رہا تھا ۔ کئی مسافر باہر جھانک کر اندازہ کر چکے تھے کہ کہیں مجرموں نے انہیں خالی خولی دھمکی تو نہیں دی’مگر خونخوار پہریداروں کی راہداری میں مٹر گشت ان کے حسن ظن کو غلط ثابت کر رہی تھی ۔بلال ولف کی خصوصی اجازت سے فلپ کے کمرے میں آ گیا اور فلپ کی مرہم پٹی کے بہانے ابھی تک وہیں تھا ۔ جب کہ ولف اس دوران بلال کے کیبن کی اچھی طرح تلاشی لے چکا تھا اور بل کے کہنے کے مطابق ایک ٹیپ ریکارڈر بھی فٹ کر چکا تھا ۔ اگلے مرحلے میں وہ یہی کچھ فلپ کے کمرے کے ساتھ کرنا چاہتا تھا۔

٭٭٭

             بل اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ فیری کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد ملاح کے کیبن میں پہنچا ۔ وہاں فلپ کے سر پر بوتل مارنے والا شخص پہلے سے موجود تھا ۔ بل کپتان کی یونیفارم میں تھا ’ اس لئے ملاح کو اسے پہچاننے میں دیر نہ لگی ۔‘‘ہیلو مسٹر جون فیڈم ! کیا حال چال ہیں تمہارے؟’’ بل نے ملاح کا نام لے کر اس کے کندھے کو تھپتھپایا۔وہ حیران تھا کہ وہ اس کا نام کیسے جانتا ہے ۔ اس کی حیرت میں مزید اٖضافہ کرتے ہوئے بل نے کہا : ‘‘گھبراؤ نہیں دوست! مجھے معلوم ہے تم میامی کے رہنے والے ہو اور تمہارا آگے پیچھے کوئی نہیں ہے اس لئے تمہیں اگلے جہان پہنچا بھی دیا جائے تو اتنے گناہ کی بات نہیں ہوگی !’’ملاح نے بڑے غصے سے بل کی طرف دیکھا۔شاید زندگی میں پہلی دفعہ کوئی کپتان اس سے یوں مخاطب ہوا تھا ۔ بل اس کی کینہ توز نگاہوں میں جھانکتا دوبارہ اس سے مخاطب ہوا ‘‘ایک بات اور یاد رکھنا ...یہ جو تمہاراباڈی گارڈ ہے نا ! اس کا نام کلارک ہے اور اسے فیری چلانے کا پانچ سالہ تجربہ ہے ۔ اس کے علاوہ اسے لوگوں کی کھوپڑیاں چٹخانے کا بہت شوق ہے’ اسے پورا اختیار ہے کہ ذرا بھی چوں چراں کرنے پر تمہاری چھٹی کرا دے۔’’

             ‘‘میراکام کپتان کا حکم ماننا ہے۔ میری بلا سے تم اسے جہنم میں لے جاؤ۔’’ملاح نے بڑی مشکل سے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا ۔ ‘‘ٹھیک ہے ابھی تمہاراامتحان ہو جاتا ہے !’’اور بل نے کلارک کو اشارہ کیا ۔ اس نے جیب سے ایک نقشہ نکالا ۔اسے پھیلاتے ہوئے بولا ‘‘مسٹر فیڈم ! اس وقت تمہارا رخ شمال کی طرف ہے ۔یہاں سے45 ڈگری کے زاویے کے ساتھ موڑ کاٹو اور اپنا رخ ٹھیک مغرب کی طرف کر لو اور چلتے رہو۔’’

             ‘‘آپ کہاں جانا چاہتے ہیں ؟’’ملاح نے کسی خوفناک اندیشے کے تحت بے یقینی کی کیفیت میں پوچھا ۔ ‘‘تمہیں اس سے کوئی سرو کار نہیں ہونا چاہئے’’ اگلے چوبیس گھنٹے اسی سمت چلتے رہو۔ اس کے بعد خود ہی معلوم ہو جائے گا کہ تمہیں کہاں جانا ہے!’’

             ‘‘مگر اس طرح تو ہم خطرناک علاقے...’’ اس کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے بل غضبناک ہو کر پلٹا اور اس کے بالوں کو دائیں ہاتھ سے کھینچ کر گردن دوہری کر دی ۔پھر اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا ‘‘اس سے آگے ایک لفظ بھی تمہاری زبان سے نکلا تو گلا کاٹ دوں گا ...غور سے سنو سور کی اولاد !! یہ فیری کہاں جارہی ہے ... یہ راز صرف تمہارے اور ہمارے درمیان رہنا چاہئے ۔ کسی مسافر تک اس کی بھنک بھی پڑ گئی تو کتے کی موت مارے جاؤگے!’’

             ملاح نے تمام زندگی اس قدر خطر ناک آنکھوں کا سامنا نہ کیا تھا او رنہ یوں کسی نے اسے دھمکی تھی ۔ اس کے غصے پر خوف نے غلبہ پا لیا ۔بل کی آنکھوں میں ایک دفعہ جھانکنے کے بعد اس نے نظریں جھکالیں تو بل نے اس کے بال چھوڑ دیے۔ پھر اس نے کلارک کو اشارہ کیاتو اس نے بندوق کی نال اس کی کنپٹی پر لگائی اور پھنکارتے ہوئے بولا ‘‘چلو ’جس رخ کی طرف تم سے کہا گیا ہے ’ ادھر موڑو۔’’ملاح عجیب مخمصے میں تھا ۔وہ زندگی کی پچاس بہاریں دیکھ چکا تھا اور پرانے خیالات پر یقین رکھنے والا شخص تھا ۔ اسے جس راستے کی طرف چلنے کا حکم دیا گیا تھا وہ اس کے علم کے مطابق انتہائی خطر ناک تھا ۔وہ اس خطہ سمندر کے متعلق مشہور کہانیوں اور روایتوں پر خاصا یقین رکھتا تھا ۔اس کا ذہن ماؤف ہو کر رہ گیا۔یہ سوچ کر اس نے فیری کا رخ کلارک کے حکم کے مطابق موڑنا شروع کر دیا کہ کہا نہ ماننے کی صورت میں موت بندوق سے گولی بن کر نکلے گی اور کھیل ختم ہو جائے گا۔اس کی فرمانبرداری پر بل اور کلارک دونوں کے چہروں پر کامیابی کی مسکراہٹ پھیل گئی۔ فیری کا رخ جب مکمل طور پر مغرب کی سمت ہو گیا تو بل نے اطمینان کا سانس لیا اور کلارک سے کسی خفیہ زبان میں چند لفظ کہہ کر کیبن سے باہر نکل آیا ۔اس کے جانے کے بعد کچھ دیر بوجھل سی خاموشی چھائی رہی ’پھر کلارک ہی نے اسے توڑا ‘‘شاید تمہارے دل میں بر مودا مثلث کا خوف سمایا ہوا ہے...’’ ملاح نے فوراً اس کی بات کاٹی‘‘تو گویا تمہیں معلوم ہے کہ فیری جس راستے پر جارہی ہے وہ نادیدہ خطرات سے اٹا ہوا ہے ۔’’

             ‘‘مسٹر فیڈم ! کیا تمہارے اطمینان کے لیے یہ کافی نہیں کہ ہم خود بھی تمہارے ساتھ جارہے ہیں؟ اور یہ کھیل ہم نے اس لیے نہیں کھیلا کہ ہم ہلاک ہو جائیں ’’۔ملاح کو کلارک کا یہ نرم رویہ غنیمت محسوس ہوا۔ اس نے بات بڑھاتے ہوئے کہا ‘‘میرے خیال میں آپ برمودا مثلث کی تاریخ زیادہ نہیں جانتے ۔ بحراوقیانوس کا یہ حصہ دنیا کے خطرناک ترین بحری راستوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے...’’کلارک نے اس کی بات کاٹی اور کہا ‘‘ہمیں معلوم ہے برمودا مثلث دنیا کا پراسرار بحری علاقہ ہے یہاں درجنوں بحری جہاز اور کشتیاں عملے سمیت غائب ہو چکی ہیں ۔لیکن یہ سب ماضی کے قصے ہیں ۔’’

             ‘‘ماضی کے قصے...’’ملاح نے کسی قدر درشتی کے ساتھ کلارک کا جملہ اچکا ۔‘‘یہ آپ کس خوش فہمی میں مبتلا ہیں مسٹر کلارک!یہ سارے واقعات جن کا ابھی آپ ذکر کر رہے تھے ’ اس جدید دور میں وقوع پذیر ہوئے ہیں ۔ اور آج تک ان کی کوئی تو جیہہ پیش نہیں کی جاسکی ۔ اس کے با وجود آپ انہیں کوئی اہمیت نہیں دے رہے۔’’

             ‘‘بہت اہمیت دی ہے ’بہت اہمیت !اسی لیے تو ہم نے یہاں کے متعدد چکر لگائے ہیں ۔پچھلے کئی برسوں میں اس نام نہاد پراسرار جگہ سے متعدد جہاز گزرے ہیں لیکن کسی قسم کوئی حادثہ پیش نہیں آیا ۔ ہمیں یقین ہے کہ اب کوئی خطرہ نہیں رہا۔تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ۔یقین رکھو’ہم اپنی منزل پر بالکل محفوظ پہنچیں گے ۔ اور اگر تم ہمارے اعتماد پر پورا اترے تو میں بل سے تمہاری سفارش کروں گا ۔ہو سکتا ہے کہ وہ تمہیں باقاعدہ اپنے گروہ میں شامل کر لے۔’’کلارک نے گویا اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا۔ ملاح نے خوفزدہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا ۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس سے بنا کر رکھنا ان مجرموں کی مجبوری ہے۔ وھیل ہاؤس میں اس کے دونوں جونیئر ساتھیوں کو وہ ہلاک کر چکے تھے۔ اسے یقینا عمر رسیدہ اور تجربہ کار سمجھ کر زندہ رکھا گیا تھا ۔ آہستہ آہستہ اس کے بدترین اندیشوں اور خوفناک اندازوں پر خوش فہمی کی پرچھائیوں نے ڈیرے ڈال دیے ۔ اس نے وقتی طور پر حالات سے سمجھوتہ مناسب سمجھا’لیکن برمودا مثلث کا خوف بار بار اسے بے یقینی کے بھنور میں جا دھکیلتا۔

٭٭٭

 فلپ کی پٹی کرنے کے دوران بلال نے اپنی تمام رام کہانی اسے مختصر الفاظ میں سناڈالی ۔ ماحول پر اداسی چھا چکی تھی ۔ فلپ کا اندازہ درست ثابت ہوا تھا کہ اسے بلال سے ایک نادر کہانی مل سکتی ہے۔ لیکن اس خوشی کے جلو میں وہ دکھ کے کانٹوں کی کسک بھی محسوس کر رہا تھا ۔دراصل تیسری دنیا کے مسائل سے اسے کبھی واسطہ نہیں رہاتھا ۔ جرائم کی جس دنیا میں اس نے زندگی بسر کی تھی اس میں ایسی صورت حال شاذ ہی پیش آئی تھی کہ کسی نے اصولوں کے خاطر’اپنی عزت نفس کی حفاظت میں تکلیفوں اور محرومیوں سے پنجہ آزمائی کی ہو اور نہ امریکی معاشرے میں کسی ایسے بد نصیب سے اسے ملنے کا اتفاق ہوا تھا کہ جس کی ماں باپ ’بہن بھائی ...سارے خاندان کو خود ان کے محافظوں نے ہلاک کر ڈالا ہو...تیسری دنیا میں جال و مال کے عدم تحفظ کی یہ تصویر اس کی سمجھ سے بالاتر تھی ۔ بے اختیارایک سوال پھسل کر اس کی زبان پر آگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے)