لُعبت چین

مصنف : مولانا عبدالحلیم شرر

سلسلہ : ناول

شمارہ : مارچ 2008

قسط ۔۱

ہم مولانا عبدالحلیم شرر کا ایک غیر معروف ناول جو عام طور سے دستیاب نہیں، قارئین کی دلچسپی کے لیے شروع کر رہے ہیں۔ اس میں اگرچہ ہم نے مناسب حذف و ترمیم کی ہے لیکن پھر بھی ان قارئین کے لیے ناگوار ہو سکتا ہے جو سوئے حرم کو ایک روایتی قسم کا مذہبی پرچہ سمجھتے ہیں،ان سے ہم پیشگی معذرت خواہ ہیں۔ گزارش یہ ہے کہ ناول کی رومانویت سے صرف نظر کرتے ہوئے اس کی اقساط پڑھتے جائیے ، امید ہے ناول کے آخر تک پہنچتے ہوئے آپ مصنف مرحوم کے پیغام کو پالیں گے۔ مولانا کا تعارف جناب خضر حیات ان الفاظ میں کرواتے ہیں۔

اردو ادب میں مغربی اصناف اور اسالیب فن کا تعارف کرانے والوں میں عبدالحلیم شرر کا نام نمایاں نظر آتا ہے ۔ شرر ۱۸۶۰ میں لکھنو میں پیدا ہوئے اور ۱۹۲۶ میں لکھنو ہی کی خاک کا پیوند ہوئے۔ اس طرح ان کی تخلیقی زندگی کا زمانہ اواخر انیسویں صدی اوراوائل بیسویں صدی کو محیط ہے۔ یہ زمانہ مسلمانا ن ہند کی تاریخ میں اپنی سیاسی ابتری کے ساتھ ساتھ ادبی زرخیزی کے لیے بھی یادگار حیثیت رکھتا ہے۔ ریاست و حکومت کے ہاتھ سے چلے جانے کے بعد مسلمان من حیث القوم مالی ، ذہنی ،تعلیمی اور نفسیاتی پسماندگی کا شکار ہو چکے تھے۔ قوم کے باشعور طبقے میں اس حالت زار سے اوپر اٹھنے کے لیے ، اورقوم کو اوپر اٹھانے کے لیے تحریک پیدا ہوئی ۔ ایک طرف سرسید اور حالی نے تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے سعی و جدوجہد کی تو دوسری طرف مسلمانوں کی ولولہ انگیز تاریخ کے ذریعہ قوم کی نفسیاتی پستی کو دورکرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس دوسرے طبقے میں عبدالحلیم شرر کا نام ممتاز حیثیت کا حامل ہے۔انہوں نے اسلامی تاریخی ناولوں کے ذریعے قوم کو یاد دلایا کہ ان کی تاریخ کن ولولہ انگیز اور تحیر خیز واقعات سے بھر پور ہے۔

عبدالحلیم شرر کے والد کا نام حکیم تفضل حسین تھا وہ تاج دار اودھ نواب واجدعلی شاہ کے ملازم تھے۔ جب انگریزوں نے نواب واجد علی شاہ کو معزو ل کر کے کلکتہ میں نظر بند کر دیا تو حکیم صاحب موصوف بھی نواب صاحب کے ساتھ کلکتہ آ گئے اور یہیں اقامت پذیر ہو گئے۔ شرر اس وقت نو سال کے تھے یہاں انہوں نے اپنے والد اور بعض دوسرے علما س عربی ، فارسی ،منطق اورطب کی تعلیم حاصل کی ۔ فن شاعری میں علی نظم طباطبائی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ پھر وہ لکھنو چلے آئے اورمزیدتعلیم حاصل کرنے کے ساتھ انگریزی زبان میں بھی اچھی دست گاہ پیدا کر لی ۔

 منشی نول

۱۸۸۰ میں منشی نول کشور نے انہیں ‘اودھ اخبار ’ کا نائب مدیر بنا دیا۔ اس اخبار میں انہوں نے مشہور بنگالی ادیب بنکم چندر چٹر جی کے ایک تاریخی ناول ‘‘درگیش نند فی’’ کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا۔ یہیں سے انہیں اردو میں اسلامی تاریخ کو بنیاد بنا کرطبعزاد ناول لکھنے کا خیال آیاچنانچہ اسی سال انہوں نے اپنا رسالہ ‘دل گداز ’ جاری کیا تو اس میں اپنا پہلا تاریخی ناول ‘‘ ملک العزیز ورجنا’’ قسط وار شائع کیا۔اس کے بعد انہوں نے ‘‘حسن انجلینا’’ اور ‘‘منصور موہنا’’ لکھے جو بے حد مقبول ہوئے ۔

۱۸۹۳ میں شرر نواب وقار الملک کے لڑکے کے اتالیق بن کر انگلستان گئے ۔ وہاں انہوں نے فرانسیسی زبان بھی سیکھی اورانگریزی تہذیب وادب کا مشاہدہ و مطالعہ کیا۔ انگلستان سے واپسی کے بعد وہ مستقل طور پر لکھنو میں قیام پذیر ہو گئے اورتصنیف و تالیف کے کاموں میں ہمہ تن مصروف ہو گئے ۔ سوانحی اورتاریخی تصانیف کے ساتھ ساتھ انہوں نے تقریباً پچاس ناول اور ڈرامے لکھے ۔ علاوہ ازیں ان کے تحریر کردہ مقالات و مضامین کا مجموعہ ‘‘مقالات شرر’’ کے نام سے آٹھ جلدوں میں شائع ہو چکا ہے۔

مولانا شرر کو تاریخ سے اور اس میں بھی خصوصیت سے اسلامی تاریخ سے بے حد دلچسپی تھی ۔ ان کے زیادہ تر ناولوں کا تانا بانا اسلامی تاریخ پر مبنی ہے ۔اس طرح انہوں نے اپنے تئیں اس بات کی کوشش کی کہ اپنے تاریخی ناولوں میں امت مسلمہ کے شان دار ماضی اور تہذیبی وسیاسی عروج کی داستانیں سنا کر انہیں خواب غفلت سے جگائیں اور ان میں عمل کا جوش اور ولولہ پیدا کریں۔ اپنی تحریر میں دلچسپی اور چاشنی پیدا کر نے کے لیے انہوں نے تاریخ کے ساتھ عشق و محبت کے کبھی حقیقی اور کبھی فرضی واقعات کو بھی زیب داستان کیا اور اس طرح ان کے تاریخی ناول رومانی قصوں کی کشش اپنے اندر سموئے ایک ایسی فضا تخلیق کرتے ہیں جس کا تاریخ سے بعض اوقات بہت کم تعلق رہ جاتا ہے۔

شررکے مشہور ناولوں میں ‘‘ملک العزیز ورجنا ’’ اور ‘‘منصور موہنا’’ کے علاوہ ‘‘حسن انجلینا’’ ‘ فلورا فلورنڈا’ شوقین ملکہ ’ مقدس نازنین، بابک خرمی ، ایام عرب اور فردوس بریں قابل ذکر ہیں۔ آخر الذکر ناول کو بقول ڈاکٹر قمر رئیس فنی تکمیل کے اعتبار سے کامیاب ترین کہا جا سکتا ہے ۔ تمام نقادوں نے اس ناول کے پلاٹ کی دل کشی اور کردار نگاری کو خوب سراہا ہے۔

زیرنظر ناول ‘‘لعبت چین’’شرر کا غیر معروف ناول ہے مگر اس میں بھی ایک اہم پیغام پوشید ہ ہے اس لیے ہم اسے ہدیہ قارئین کر رہے ہیں۔

عجیب و غریب دعوت نوروز

جشن نوروز کا پہلا دن اورصبح کا وقت ہے ۔ترک و تاجیک نوجوان جنہوں نے سردی کی شدت کم ہوتے ہی سمور کے جبے اُتار ڈالے ہیں،سادے اور سبک کرتے پہن کر نکلے ہیں اور دریا کے کنارے طلوع آفتاب کا جلوہ دیکھ رہے ہیں۔وہ اپنے اس معبود کے آگے سرجھکا کے ہاتھ جوڑ کے اور سجدے کرکے حق عبادت ادا کر رہے ہیں۔انہی میں ملے ہوئے چند غریب الوطن موحدان عرب ہیں جنہوں نے یہیں دریا کے کنارے دوگانہ فجر ادا کیا ہے اور اب دریا کے کنارے کنارے ٹہل کے بعض آہستہ آہستہ قرآن پاک کی وہ سورتیں پڑھ رہے ہیں جو انہیں یاد ہیں اور بعض پیغمبر بشیر و نذیرپر عقیدت سے درود بھیج رہے ہیں۔ وہ اپنے ان وظائف کے ساتھ سمرقند کے آفتاب پرستوں کے طریقہ عبادت کو دیکھ دیکھ کر متعجب ہوتے ہیں۔

ان عربوں میں ایک نہایت ہی خوش رو نوجوان ہے جس کی چال ڈھال سے بہادرانہ رعب و داب، وضع و قطع سے سرداری کی شان و آن بان اور چہرے سے جلال آمیز حسن و جمال نمایاں ہے۔اس سے اس کے ایک رفیق نے کہا ‘‘میں تو ان آفتاب پرست مشرکوں سے عاجز آگیا (ایک ٹھنڈی سانس بھرکے) دیکھئے کب اس کفرستان سے نجات ملتی ہے اور ان آفتاب پرست مشرکوں سے پیچھا چھوٹتا ہے’’۔

یہ سن کر خوبرو نوجوان نے کہا: ‘‘قدامہ یہ نہ کہو ہم یہاں سے جانے کے لیے نہیں بلکہ یہیں جینے اور یہیں مرنے کے لیے آئے ہیں۔ والد نے مجھے اس لیے نہیں بھیجا ہے کہ واپس جاؤں، میں اس لیے آیا ہوں کہ ان لوگوں میں توحید کی تبلیغ کروں انہیں میں اپنی دنیا بناؤں اور پُرفتن خلافت اسلام کے جھگڑوں سے نجات پاؤں’’۔ قدامہ: ‘‘تو پھر ان لوگوں سے ملئے، ربط و ضبط بڑھایئے۔موسیٰ: ( یہی نوجوان موسیٰ ان غریب الوطن عربوں کا سردار ہے) ‘‘میں تو طرخون کا احسان مند ہوں۔ ابا جان کے حکم سے دریائے جیحون کے اس پار آیا تو جس شہر یا گاؤں سے گزرا لوگوں سے امان کی درخواست کی مگر کسی نے سماعت نہ کی۔ خصوصاً بادشاہ بخارا کی بے حمیتی کا تو مجھے زندگی بھر صدمہ رہے گا جس نے صاف کہہ دیا کہ تم چند بے خانماں آفاقیوں کو میں اپنے یہاں جگہ نہیں دے سکتا۔ اس کے بعد خوش نصیبی سے میں سمرقند میں پہنچا اور یہاں کے فرمان روا طرخون نے فوراً اپنی حمایت میں لے لیا۔ اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ میرا حوصلہ کس قدر بڑھ گیا ہے ہم اس کی عنایت کو کبھی نہیں بھول سکتے’’۔

یہ کہنے کے بعداس نے کہا ‘‘آفتاب نکل آیا، چلو معمول کے مطابق طرخون سے ملیں جو صبح کو ہمارا منتظر رہا کرتا ہے’’۔ یہ کہتے ہی یہ سب عرب روانہ ہوکے دم بھر میں آبادی کے اندر داخل ہوئے اور اس بڑی سڑک پر چل کھڑے ہوئے جو دریا کے کنارے سے سیدھی طرخون کے قصر کوگئی ہے۔

یہاں موسم گرما کا مختصر زمانہ ہر شخص کے لیے رحمت الٰہی ہوتا ہے جس کی مسرت ہر زن و مرد کے چشم و آبرو سے ظاہر ہونے لگتی ہے اور اس سے بھی زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ آج نوروز کا دن ہے جو ان لوگوں کی سب سے بڑی عید ہے۔

موسیٰ، قدامہ اور ان کے ہمراہی عرب خراماں خراماں ایک چوراہے پر پہنچے جو شہر سمرقند کی آبادی کا مرکز تھا۔اس چوراہے کے بیچوں بیچ میں ایک نہایت ہی پُرتکلف بنگلہ نما کوشک نظر آئی جو آج ہی تیار ہوئی ہے۔ یہ بانس اور سرو کی لکڑیوں کے ٹھاٹھ باندھ کے اور ان پر رنگ برنگ کے زرنگار کپڑے منڈھ کے نہایت ہی خوبصورتی اور نزاکت سے بنائی گئی ہے۔ چاروں طرف دروازوں پر خوشنما محرابیں بنی ہوئی ہیں جن میں زرنگار پردے بندھے ہیں۔ چھتوں اور در و دیوار پر بوقلمون پھولوں کے ہار ڈال کے یہ کوشک ایک نہایت ہی پُرکلف حجلہ عروسی بنا دی گئی ہے۔ اندر نہایت ہی تکلف سے دیبا و حریر کا فرش ہے۔ گلدانوں پر پھولوں کے گلدستے سجے ہوئے ہیں۔ درمیان میں شاہانہ دسترخوان بچھا ہوا ہے جس پر انواع و اقسام کے کھانے چنے ہیں۔

یہ دیکھ کے نوجوان موسیٰ کو سخت حیرت ہوئی۔ اپنے دوست قدامہ سے کہا: ‘‘یہ تو عجیب سامان نظر آیا۔ معلوم ہوتا ہے شاہ طرخون نے کسی کی دعوت کی ہے مگر کتنی جلدی یہ کوشک بن کے تیار ہوگئی۔ کل صبح تک یہاں کچھ نہ تھا’’۔ یہ کہہ کے اس کوشک کے ایک دروازے کے پاس گیا اور اندر جھانک کے دیکھا تو نظر آیا کہ ایک منقش نقرئی چوکی پر ایک پری جمال نازین ارغوانی لباس عروسی پہنے سر سے پاؤں تک مرصع طلائی زیور سے آراستہ اور موسم بہار کے رنگ برنگ پھولوں سے سجی دسترخوان کے ایک سمت بیٹھی ہے جیسے کسی وعدہ پر آنے والے کا انتظار کررہی ہے۔ اس کے پیچھے کنیزیں دست بستہ کھڑی ہیں گویا اس کا حکم بجا لانے کے لیے تیار ہیں۔

موسی نے کہا ،قدامہ! یہ تو معلوم ہوتا ہے جنت الفردوس کا خیمہ ہے اور اس میں وہ سامنے حور مقصور بیٹھی ہوئی ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ ہے کیا؟ کس لیے یہ سامانِ ضیافت کیا گیا ہے اور یہ نازنین کون ہے؟قدامہ! ‘‘افسوس اس وقت مالک بن عوف اسلمی ساتھ نہ ہوئے۔ وہ ہوتے تو ضرور کسی سے پوچھتے’’۔موسیٰ: ‘‘ کسی کو بھیج کے انہیں بلواؤ اور تاکید کرو کہ وہ باہر کی آمدورفت میں ہمیشہ ساتھ رہا کریں۔ وہی اکیلے ترکی زبان سمجھتے ہیں اورہم بغیر ان کے کسی سے بات نہیں کرسکتے’’۔

جیسے ہی موسیٰ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے ہمراہیوں میں سے ایک شخص دوڑ کر عربی لشکرگاہ سے مالک کو بلا لائے ۔ موسیٰ اس کی صورت دیکھ کر بہت خوش ہوا اور کہا ‘‘ذرا مقامی لوگوں سے دریافت تو کرو کہ یہ کوشک کس نے بنائی ہے؟ کس لیے بنائی گئی ہے؟ کس کی دعوت کا سامان ہے اور یہ ماہ پیکر جو اس کے اندر بیٹھی ہے، کون ہے؟

مالک نے ان ترکوں سے جو قریب کھڑے تھے کچھ دیر تک ترکی زبان میں گفتگو کی پھر موسیٰ سے کہا: یاامیر! یہ عجیب واقعہ ہے جسے سن کے آپ تعجب کریں گے۔ ان لوگوں کے بیان سے معلوم ہوا کہ یہاں سمرقند میں مدت دراز سے معمول چلا آتا ہے کہ شہر کے سب سے بڑے پہلوان و شہسوار اور وزیر و سپہ سالار کی دعوت کے لیے اہلِ شہر کی طرف سے ہرنوروز کو یہ حجلہ عروسی بنا کے آراستہ کیا جاتا ہے اس میں تمام الوان نعمت دسترخوان پر چنے جاتے ہیں۔ اور شہر بھر میں جو لڑکی سب سے خوبصورت ہوتی ہے عام اس سے کہ وہ کسی بڑے سے بڑے رئیس و سردار کی بیٹی ہو،عروسی لباس پہنا کے مرصّع زیور سے آراستہ کرکے اور پھولوں سے سجا کے بٹھادی جاتی ہے تاکہ وہ بہادر شہسوار آئے اور اپنی جانبازیوں کے صلہ میں اہل شہر کی یہ دعوت قبول کرے مگر وہ اسی وقت ان چیزوں کو لے سکتا ہے جبکہ اور کوئی ان پر تصرف کرنے کی جرأت نہ کرسکے۔ چنانچہ طلوع آفتاب سے غروب کے وقت تک یہ سامان یونہی اس حجلہ عروسی میں رکھا رہتاہے اور دن بھر جب اور کوئی دعویدار پیدا نہیں ہوتا تو شام کو وہ آکے کھانا کھاتا ہے اور اس نازنین کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے لیکن اگر دن کو کوئی بہادر رقیب پیدا ہوگیا اور اس نے یہ جرأت کی کہ اس نازنین کے پہلو میں بیٹھے تو فوراً سال گزشتہ کے کامیاب مدعی شجاعت کو خبر کی جاتی ہے۔ وہ آکے اس سے مقابلہ کرتاہے اور جنگ میں جو کامیاب ہو وہی اس حجلہ عروسی، اس ماہ پارہ اور ان الوان نعمت کا حقدارہوتا ہے اور سال بھر کے لیے شہر کا سردار اور شاہ طرخون کا وزیراعظم قرار پاتا ہے’’۔

یہ سن کے موسیٰ نے کہا: ‘‘اگرچہ ہماری نظر میں یہ رسم عجیب و غریب ہے مگر بات نہایت ہی معقول و دلچسپ ہے’’۔ یہ کہتے ہی بغیر کسی سے مشورہ کیے اور بلاتامل وہ اس حجلہ عروسی میں گھس گیااور اس نازنین کے پہلو میں بیٹھ گیا۔اس کی یہ جرات دیکھتے ہی تماشائیوں میں ایک ہنگامہ محشر بپا ہوگیا۔ لوگ گھبرا گھبرا کے اسے گھورنے، باہم سرگوشیاں کرنے اور اِدھر اُدھر دوڑنے لگے اور موسیٰ کے ہمراہی عرب بھی اپنے سردار کی اس بیباکی و خودرائی پر حیران ہوگئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ دیکھئے اس کا انجام کیا ہوتا ہے؟

سب اسی اندیشے میں تھے کہ کیا دیکھتے ہیں طرخون کا سپہ سالاراور وزیراعظم نوشگین زرہ پہنے پورے ہتھیار لگائے گھوڑے کو سرپٹ دوڑاتا ہوا آیا اور کوشک کے دروازے پر باگ روک کے ترکی زبان میں چلّایا: ‘‘اے بے باک و شوریدہ سر عرب مرد ہے تو باہر آ اور میری تلوار کا مزہ چکھ۔ مالک بن عوف نے فوراً دوڑ کے موسٰی کو خبر کی اور وہ مسکراتا ہوا باہر آیا۔ اپنے ایک رفیق کا نیزہ لے کر نوشگین کے سامنے ڈٹ کے کھڑا ہوگیا اور ڈانٹ کے کہا: ‘‘لے اپنا حربہ کر’’۔ اس کا ترجمہ مالک نے نوشگیں کو بتایا تو اس نے کہا: تمہارا ناتجربہ کار سردار شرارت و شوریدہ سری کے ساتھ بیوقوف بھی ہے جو بغیر زرہ پہنے ایک نیزہ ہاتھ میں لے کے پیدل میرے سامنے کھڑا ہوگیا ہے۔ اس سے کہو کہ ہم ایسی بزدلی کی لڑائی نہیں لڑتے اسے اجازت ہے کہ اپنے خیمے میں جا کے زرہ پہن لے۔ جس اسلحہ پر ناز ہو اس کولے لے۔ اپنے بہترین گھوڑے پر سوار ہو اور شہر کے باہر میدان میں چل کے مجھ سے مقابلہ کرے۔ جہاں تمام اہلِ شہر اور خود شاہ طرخون ہماری سپہ گری کا تماشا دیکھیں گے’’۔

جب اس مضمون کو موسیٰ سمجھا تو کہا: ‘‘میں تمہاری شرطوں کو خوشی سے منظور کرتا ہوں’’ موسیٰ زرہ اور سامانِ جنگ سے آراستہ ہوا۔ ہتھیار لگائے نکل کے اپنے عزیز گھوڑے جوالہ پر سوار ہوا اور دونوں حریف ہمدم و ہمراز دوستوں کی طرح گھوڑے سے گھوڑا ملائے شہر کے باہر دریائے زرافشاں کے کنارے ایک وسیع میدان میں آئے جہاں ہزارہا خلقت جمع تھی اور خود شاہ طرخون بھی آکے موجود ہوگیا تھا اس لیے کہ آناً فاناً میں تمام اہلِ شہر کو خبر ہوگئی تھی اور سب کو معلوم تھا کہ یہی میدان جانباز بہادروں کی جولانگاہ اور سربکف حریفوں کا مقرر شدہ اکھاڑہ ہے۔

اس میدان میں پہنچتے ہی دونوں حریف جدا ہوکے مقابل کھڑے ہوگئے اور اس انتظار میں کہ شہر کے تمام لوگ جمع ہوجائیں جو ہر طرف سے جوق در جوق چلے آتے تھے۔ جب خوب مجمع ہوگیا تو نوشگیں نے اشارہ کیا کہ ‘‘لے اب مقابلہ کے تیار ہوجاؤ’’۔ موسٰی اپنا نیزہ اس کی طرف جھکا کر کھڑا ہوگیا مگر نوشگیں نے بجلی کی طرح جھپٹ کے نیزے پر تلوار ماری اور اشارہ کیا کہ نیزہ دور کی لڑائی ہے مرد ہو تو شمشیر زنی کا جوہر دکھاؤ۔موسی نے برابر آکے نوشگیں کے سر پر تلوار ماری جس سے سر تو بچ گیا مگر خود کٹ کے بیکار ہوگیا۔ اب دونوں میں نہایت ہی شدت سے تلوار چل رہی تھی اور گھوڑوں کی چلت پھرت کے ساتھ تلواروں کی برق دشی سے کئی منٹ تک ایسا عجیب و پُرلطف آتش بازی کا سماں بندھا رہا کہ دیکھنے والے دونوں کی سپہ گری پر تعجب کر رہے تھے۔ یہ سماں اس وقت ختم ہوا جب دونوں تلواریں ٹوٹ گئیں مگر قبل اس کے کہ موسیٰ کسی اور اسلحے پر ہاتھ ڈالے نوشگیں نے گرز اُٹھا کے موسیٰ کے سر پر اس زور سے مارا کہ خود پچک گیا اس کی نوک ٹوٹ گئی اور موسیٰ اگرچہ زخمی نہیں ہوا مگر سخت چوٹ کھائی۔ گھبرا کے پیچھے ہٹا ۔ نوشگیں کو اپنی اس ضرب پر اس قدر ناز تھا کہ سمجھا ہٹنے کے بعد یہ غش کھا کے گھوڑے سے گرا جاتا ہے۔ وہ اسی انتظار میں تھا کہ موسیٰ نے اپنے آپ کو سنبھالا اور برق دشی کی پھرتی سے کمان میں تیر جوڑ کے ایک ایسا تیر مارا جو کمان سے نکلتے ہی نوشگیں کی آنکھ میں پیوست ہوگیا۔ ایک کراہ کے ساتھ اس نے تیر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر چاہا کہ آنکھ سے کھینچ کے نکالے کہ یکایک موسٰی کا نیزہ اس کے سینے پر پڑا جوزرہ کو توڑ کے پار نکل گیا اور نوشگیں نے اسی طرح تیر کو پکڑے ہوئے زمین پر گر کر جان دے دی۔

یہ دیکھتے ہی عربوں نے بڑے جوش سے نعرہ مسرت بلند کیا۔ طرخون اور سارے تورانی اور زابلستانی سناٹے میں آگئے اور موسیٰ نے بغیر اس کے کہ کسی سے بات کرے خوشی کے نعرے بلند کرنے والے عربوں کے جھرمٹ میں شہر کی راہ لی۔ سیدھا اس حجلہ عروسی میں پہنچا۔ تمام عرب رفیقوں کو دسترخوان پر ساتھ بٹھایا، کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد مہ جبیں کو لے کے اپنی فرودگاہ میں آیا۔وہ اس غریب الوطنی میں ایسی ماہ طلعت کے مل جانے پر بے انتہا مسرور تھا۔

٭٭٭

کس کی دلہن اور کون لے گیا؟

گزشتہ واقعات سے اگرچہ موسیٰ اپنی کامیابی و خوش نصیبی پر نازاں اور اس کے تمام عربی نژاد رفقا محظوظ و مسرور تھے۔ مگر ترکوں خصوصاً شاہ سمرقند طرخون کو نہایت ہی صدمہ تھا۔ وہ لوگ حرفِ شکایت زبان پر تو نہ لاسکتے تھے۔ رسوم مروجہ کے مطابق ہر شخص کو یہ حق حاصل تھا کہ سمرقند کے سپہ گر اعظم کو قتل کر کے نوروز کی دعوت اور حسینۂ ماہ طلعت کو جیت لے مگر یہ امر سب کو شاق تھا کہ اس آفاقی شخص نے اس سپہ سالار کو قتل کرڈالا جو بادشاہ کا دست راست رعایا کا پشت پناہ اور سارے توران کا نامورمرد تھا۔ چنانچہ سب اس فکر میں تھے کہ کوئی موقع پیدا کر کے عربوں اور ان کے نوجوان سردار سے نوشگیں کے خون کا انتقام لیں اور یہ نہ ہوسکے تو کسی بہانے ان کو ذلیل کر کے اپنے شہر سے نکال باہر کریں۔

نوشگیں کے مارے جانے کے دس پندرہ روز بعد طرخون اپنے محل میں بیٹھا تھا۔ نامور سرداران توران جمع تھے اور طرخون کے ولی عہد ارسلان کی شادی کا تذکرہ تھا جو اسی ہفتہ میں کاشغر کے فرماں روا بیقرا اولتان کی شہزادی نوشین کے ساتھ ہونے والی تھی۔ دلہن کا حسن و جمال سارے ترکستان میں مشہور تھا اور تورانیوں کو یقین تھا کہ اس سے زیادہ خوبصورت لڑکی سارے توران میں نہیں ہے۔ منگنی کی رسم سردارانِ سمرقند ارسلان کو ساتھ لے جاکے کاشغر میں انجام دے چکے تھے اور اب شہزادی اپنے خاندان کے لوگوں اور کاشغر کے معززین کے ساتھ دو روز بعد سمرقند پہنچنے والی تھی تاکہ وہ آخری رسم شادی بھی تکمیل کو پہنچ جائے جس کا مغلوں اور تاتاریوں میں عام رواج تھا اور اصلی عقد نکاح اسی سے عبارت ہوتا تھا۔ اس رسم کی تعمیل اکثر دلہا کے گھر پر ہوا کرتی اور دلہنیں منزلوں کا سفر کرکے اپنے عزیزوں کے ساتھ سسرال کے شہر میں آیا کرتی تھیں۔

وہ رسم یہ تھی کہ دلہن عروسانہ لباس اور زیور پہن کے ہتھیار لگاتی، پھر گھوڑے پر سوار ہوکے کسی وسیع میدان میں جاتی اور شمشیر برہنہ کھینچ کے کھڑی ہوجاتی۔ اس کے بعد دولہا اور اس کے بہت سے رقیب مسلح گھوڑوں پر سوار ہوکے مقابلہ پر جاتے۔ سب کے سب تلواریں کھینچ کے دلہن پر حملہ کرتے اور ہر نوجوان کوشش کرتا کہ اس کوزندہ پکڑ کے اس کے گھوڑے پر سے کھینچ لے اور لے بھاگے۔ دلہن ان سے دُور بھاگتی اور اپنے آپ کو ان کی گرفت سے بچاتی اور کوئی قریب پہنچ جاتا تو اسے تلوار سے مارتی اور سختی سے مقابلہ کرتی۔ اس لڑائی میں حریف نوجوان بھی دلہن تک پہنچنے میں ایک دوسرے کے مزاحم ہوتے جس میں ہمیشہ دو ایک جان سے مارے جاتے یہاں تک تو اصل دلہا اور سب برابر رہتے مگر دلہن کے قریب پہنچنے میں دلہا کو اتنی مدد ملتی تھی کہ بظاہر تو وہ اس پر بھی حملے کرتی اور اسے بھی پاس آنے سے روکتی مگر اوروں کی آنکھ بچا کے یہ کوشش کرتی کہ لڑتے ہی لڑتے اوروں کی گرفت سے بچ کے اس نوجوان کی گرفت میں آجائے جس سے منگنی ہوچکی ہے اور اس کا اصل دلہا ہے مگر ظاہر میں یہی نظر آتا ہے کہ یہ سب نوجوانوں سے یکساں طریقے پر مزاحمت کرتی اور بھاگتی ہے اور کسی کے پنجے میں نہیں آنا چاہتی۔

دلہا اور دلہن دونوں کے لیے یہ سخت آزمائش کا مقام ہوتا تھا، کبھی ایسا بھی ہوجاتا کہ اس میدان میں دلہا دلہن دونوں کی مرضی کے خلاف کوئی اور نوجوان دلہن کو جیت لیتا اور ایسی صورت میں منگنی کالعدم ہوجاتی اور لڑکی اس کی دلہن ہوجاتی جو اس کو معرکہ میں کھینچ کے اپنے گھوڑے پر بٹھا لیتا۔

دونوں کے خاندانوں بلکہ ساری قوم کے لیے بھی یہ نہایت نازک اور اندیشہ ناک موقع ہوا کرتاتھا اور جب تک دلہن اپنے اصلی دلہا کے آغوش میں نہ پہنچ جاتی دونوں کے دل بیم و رجا کے تفکرات سے دھڑکتے رہتے اور ان سے زیادہ ان کے عزیزوں اور دوستوں کی حالت ہوتی۔ چنانچہ طرخون کو بھی اس کا دھڑکا لگا ہوا تھا۔ خصوصاً اس لیے کہ شہزادی نوشین کے سیکڑوں عاشق جانباز تھے اور اس کا فرزند ارسلان اس نازنین پر فریفتہ تھااور اس کے شوق میں دیوانہ ہو رہا تھا۔انہی اندیشوں کا خیال کرکے طرخون نے اپنے امرا سے کہا: ‘‘اس رسم میں جو نوجوان ارسلان کے رقیب بن کے میدان میں جائیں ان میں خیال رکھا جائے کوئی نوشین کا عاشق اور اصلی رقیب نہ ہو، سب دکھانے کے لیے مقابلہ کریں اور سب کی کوشش یہی ہو کہ نوشین ارسلان کے آغوش میں آجائے’’۔ایک امیر: ‘‘بے شک یہی ہونا چاہیے بس اس کا لحاظ رکھا جائے کہ رقیبوں میں کوئی غیر نہ ہو، سب سمرقند کے ہوں’’۔

طرخون: ‘‘ کیا یہ ممکن ہے کہ نوشین کی صورت دیکھ کے سمرقند کا کوئی نوجوان اس پر فریفتہ ہوجائے اور ارسلان سے چھین کے اس کو لے کر بھاگنے کی کوشش کرے’’۔دوسرا سردار: ہمیں یقین ہے کہ ہمارے شہر کے نوجوانوں میں سے کوئی شہزادہ ارسلان کے ساتھ بے وفائی اور دغابازی نہ کرے گا’’۔طرخون: ‘‘لیکن اگر کوئی نوجوان بغیر اس کے کہ ہم منتخب کریں خود سے مقابلہ کو کھڑا ہوجائے تو تم کیا کرو گے۔ کسی کو اس سے روکنے اور منع کرنے کا حق ہے’’۔

دوسرا سردار: ‘‘روکنے کا حق تو نہیں ہے مگر یہ ہوسکتا ہے کہ اس سے ذرا بھی بدنیتی ظاہر ہو تو اور سب رقیب جو ہمارے جانے بوجھے اور ہمارے بس کے ہوں گے مقابلے کے وقت اتفاق کرلیں اور اس دشمن رقیب کو قتل کرڈالیں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہم یہ انتظام کریں گے کہ بھروسے کے رقیب منتخب کیے جائیں۔ وہ نہایت ہی شہ زور، تنومند اور فنون جنگ میں کمال رکھنے والے ہوں گے اور ان کی یہ متفقہ کوشش ہو گی کہ ہر غیر رقیب کو چاہے کیسا ہی بہادر اور جوانمرد ہو دنیا سے ناپید کردیں’’۔

طرخون: ‘‘اگر تم کو اس پر بھروسہ ہے تو اس رسم کے بہانے ہمارا ایک اورمطلب بھی حاصل ہوسکتا ہے۔ رقیبوں میں ہم اس سرکش عرب موسیٰ کو بھی شامل کر لیں وہ کسی اور کو نوشین تک نہ پہنچنے دے گا اور اگر خود اس نے دلہن کا قصد کیا تو سب مل کے اسے قتل کرڈالیں گے بلکہ یہ کوشش کی جائے گی کہ چاہے وہ لڑکی کی طرف رخ کرے یا نہ کرے ،رقابت کے بہانے سب مل کے اس کا خاتمہ کردیں۔اس طرح ہمیں یہاں نوشگیں کا بدلہ مل جائے گااور ہمارے معزز رئیس سمرقند بہرام کی بیٹی قتلق خانم اپنے ناجنس مالک کے پنجہ ستم سے چھوٹ جائے گی’’۔

بہرام: (جو اس دربار میں موجود تھا) ‘‘خدا حضور کو صد سال تک سلامت بااقبال رکھے۔ اس سے بہتر کوئی تدبیر میری مظلوم بیٹی کی رہائی کی نہیں ہوسکتی۔ میں نے یہ سمجھ کر اسے قوم کے حوالے کردیا تھا کہ بہادر نوشگیں کی محبوبہ بنے گی جس سے اچھا شوہر کسی عورت کو نصیب نہ ہوسکتا تھا مگر قسمت نے بیوفائی کی نوشگیں مارا گیا اور وہ ایسے کے پالے پڑ گئی جو نہ اس کی زبان سمجھتا ہے اور نہ وہ اس کی زبان سمجھتی ہے۔ ہزار میل جول ہومگر زندگی بھر ناآشنا رہیں گے اور غریب قتلق اپنی قسمت پر روئے گی’’۔

طرخون: ‘‘ہاں ہاں یہی ہونا چاہیے۔ تم لوگ اس کا انتظام کرو اور ایسے بیس توانا جانباز نوجوان چھانٹ لو جو کبھی کسی سے مغلوب نہ ہوئے ہوں اور اپنے بس کے ہوں ان پر بھروسہ کیا جائے ۔ان کو یہ سمجھا دیاجائے کہ خوبصورت نوشین میرے بیٹے ارسلان کے سوا کسی اور کے ہاتھ نہ جانے پائے اور دوسرے یہ کہ عرب نوجوان موسیٰ اس میدان سے زندہ واپس نہ آئے’’۔بہرام: ‘‘تو حضور موسیٰ کو خبر کردی جائے کہ رسم شادی میں شہزادی کے رقیبوں میں وہ بھی رکھے گئے ہیں’’۔طرخون: ‘‘یہ غضب نہ کرنا، وہ بڑا ہوشیار ہے سمجھ جائے گا کہ یہ میرے قتل کی تدبیر ہورہی ہے ۔جس دن یہ رسم ادا ہوگی اس روز ہم اسے سیر کے بہانے میدان میں لے جائیں گے اور عین اس موقع پر باتوں باتوں میں اس کو ابھار دیں گے کہ مرد ہو تو اس مقابلہ میں تم بھی شریک ہوجاؤ، اسے اپنی شجاعت پر اس قدر ناز ہے کہ فوراً آمادہ ہوجائے گا’’۔

 امراء سمرقند نے دربار سے واپس آتے ہی جس قسم کے نوجوان بتائے گئے تھے چھانٹنا شروع کیے۔ اس میں انہیں زیادہ زحمت نہیں پیش آئی۔ اس لیے کہ ارسلان سے نوجوانانِ شہر کو اس قدر محبت تھی اور موسیٰ کی دشمنی کی آگ سب کے سینوں میں اس شدت کے ساتھ بھڑک رہی تھی کہ جس نے ان مقاصد کو سنا تیار ہوگیا اور دو روز کے اندر بیس ایسے نوجوان پہلوان منتخب ہوگئے کہ جس نے ان کی صورت دیکھی یقین کرلیا کہ یہ اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ دوسرے دن شام کو بادشاہ طرخون نے ان کا معائنہ کیا۔ ان کی شہسواری و شمشیرزنی کو خوب اچھی طرح آزمایا اور پسند کر کے اپنا اطمینان ظاہر کیا۔

ادھر لعبتِ چین شہزادی نوشین اپنی ماں بھائیوں اورعزیزوں کے ساتھ بڑے کروفر سے چار سو میل کی مسافت طے کر کے سمرقند میں آگئی۔ دلہن والوں کا پڑاؤ شہر کے باہر دریائے زرافشاں کے کنارے اسی میدان میں ہوا جہاں چند روز ہوئے موسیٰ اور نوشگیں میں مقابلہ ہوا تھا۔

 جب مسافرانِ کاشغر خوب آرام لے چکے اور سستا چکے تو اس مخصوص رسم شادی کا دن قرار پایا ۔انتظار اور بیم و رجا کے ہزاروں ہچکولوں کے بعد امتحان اور مقابلے کا دن آگیا اور صبح تڑکے ہی دُور دُور کے لوگ آکے اسی میدان میں جمع ہوئے جو لڑکی والوں کے پڑاؤ کے سامنے تھا۔ طرخون اپنے ارکان دولت اور معزز مہمان عرب کو ساتھ لے کے آیا کہ بیٹے کی جوانمردی و کامیابی کا تماشا اپنی پُرشوق آنکھوں سے دیکھے۔ موسیٰ بن عبداللہ بن خازم کو وہ خاص طور سے بلوا کے اپنے ساتھ لایا اور اس سے اس رسم کی مفصل کیفیت بیان کی۔ موسیٰ نے اس کی باتوں کو حیرت سے سنا اور کہا: یہ رسم گرچہ نہایت ہی شریفانہ اور سپہ گرانہ ہے مگر خطرے سے خالی نہیں۔طرخون: ‘‘بے شک اس میں خطرہ ہے اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اصلی دلہا اپنی دلہن کے وصال سے محروم رہ جاتا ہے مگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان نشیب و فراز زمانہ کی سختیاں جھیلنے، ایسی مصیبتوں کے برداشت کرنے اور اس قسم کے امتحانوں میں استقلال دکھانے کے عادی رہیں’’۔موسیٰ: ‘‘تو کیا ہر شخص کو اس میں شریک ہونے کا اختیار ہے اور جو چاہے مسلح ہوکے دعویٰ رقابت کردے؟’’ طرخون: ‘‘ہرشخص شریک ہوسکتا ہے اور اگر کامیاب ہوجائے تو ہم اس کی قدر کرتے اور اس کی بہادری کے معترف ہوتے ہیں’’۔موسیٰ: (مسکرا کے) اگر آپ کے فرزند کا معاملہ نہ ہوتا تو اس مقابلے میں مَیں بھی شریک ہوتا’’۔طرخون: ‘‘آپ کا جی چاہتا ہو تو ارسلان کے رقیبوں میں شریک ہوجائیں۔ اس میں ہمارے اکثر دوستوں اور معزز خیراندیشوں کے لڑکے شریک ہیں ہم ان کی شرکت سے خوش ہیں۔ ہماری قوم بہادر ہے اور ایسی بہادری کے معاملوں میں ناانصافی نہیں کرتی’’۔موسٰی: ‘‘مگر مجھے مناسب معلوم نہیں ہوتا کہ کوئی ایسا کام کروں جس میں ذرا بھی آپ کی یاآپ کے صاحبزادے کی دل شکنی کا اندیشہ ہو’’۔ طرخون: ‘‘ہماری دل شکنی نہیں ہوسکتی اگر آپ مقابلے میں جیت گئے تو سمجھیں گے کہ کاشغرکی شہزادی آپ کی قسمت میں لکھی تھی۔ ارسلان کو کوئی اور دلہن مل جائے گی اور جو ملے گی اس کو وہ یونہی ہتھیلی پر سر رکھ کے حاصل کرسکے گا’’۔

بہرام: (جو بادشاہ کے قریب ہی کھڑا تھا) ‘‘اور اکیلے آپ کے نہ ہونے سے کیا ہوگا یہ جتنے نوجوان رقیب بن کے میدان میں نکلنے والے ہیں ان سب سے یہی اندیشہ ہے کہ ان میں سے جو غالب آگیا شہزادی کاشغر کا مالک ہوگا اور شہزادہ ارسلان منہ دیکھ کے رہ جائیں گے’’۔طرخون: ‘‘بیشک مجھے آپ کے نہ شریک ہونے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا اور نہ کسی اور کے جیت جانے پر مجھے ملال کرنے کی کوئی وجہ ہے۔ آپ کا جی چاہتا ہو تو ضرور شریک ہوں’’۔ موسیٰ: ‘‘میرا دل بے شک چاہتا ہے اور اگر آپ سچے دل سے یہ کہتے ہیں کہ میرے غالب آنے سے آپ کو ملال نہ ہوگا تو میں بڑے شوق سے ان رقیبوں کے گروہ میں شریک ہونے کو تیار ہوں’’۔ طرخون: ‘‘آپ کی آمادگی سے میں خوش ہوا اور میرے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ میرے بیٹے کے رقیبوں میں ایک نامور اور بہادر عرب نوجوان بھی تھا تو جایئے زرہ بکتر اور اسلحہ جنگ سے آراستہ ہوکر آیئے’’۔

موسیٰ: ‘‘بہت اچھا، کہہ کے جانے کو تھا کہ طرخون نے ارسلان اور اپنے کاشغری سمدھی کو بلا کے اس سے ملا دیا اور بآواز بلند کہا۔ ‘‘بڑی خوشی کی بات ہے کہ رقیبوں کے گروہ میں بہادر نوجوان عرب موسیٰ بھی شریک ہوں گے’’۔ سب نے اس پر ایک خوشی کا نعرہ بلند کیا اور موسیٰ نے اپنے پڑاؤ میں جاکے لباس جنگ پہنا، ہتھیار نکالے اور اپنے برق رفتار عربی گھوڑے جوالہ پر سوار ہوکر واپس آگیا’’۔

 تمام لوگ جمع ہوچکے تھے۔ طرخون اور اس کا سمدھی شاہ کاشغر اپنے گھوڑوں پر سوار پہلو بہ پہلو کھڑے تھے۔ انہی کے قریب سارے غریب الوطن عربوں کا مجمع تھا۔ اتنے میں حسب دستور قدیم سب نوجوانوں نے قریب آکے دونوں بادشاہوں کو سلام کیا۔ شہزادی پر حملہ کرنے کی اجازت حاصل کی اور ادب سے رخصت ہوکے بیچ میدان میں جاکھڑے ہوئے۔ شہزادی نوشین میں اور ان میں تقریباً پانچ سو گز کا فاصلہ تھا اور وہ اپنی چار سہیلیوں کے ساتھ جو گھوڑوں پر سوار اس کے ہمراہ تھیں خوف اور گھبراہٹ کی نگاہوں سے ان سب کو دیکھ رہی تھیں کہ یکایک ان سب نے اس کی طرف گھوڑوں کی باگیں اُٹھا دیں اور وہ بھی اپنے صبارفتار گھوڑے کو ایڑ لگا کے بھاگی۔ بڑی دیر تک تعاقب ہوتا رہا۔ شہزادی بجائے اور کسی طرف بھاگنے کے اسی میدان میں چکر کاٹ رہی تھی اور حملہ آور نوجوانوں کا غول اس کے پیچھے تھا مگر شہزادی کا گھوڑا اس قدر تیز تھا کہ دونوں کی مسافت بجائے کم ہونے کے بڑھتی جاتی تھی۔ موسیٰ نے ابھی تک کوئی خاص کوشش نہیں کی تھی وہ ہمراہی رقیبوں کی کارروائیوں کو دیکھتا اور ان کے ساتھ جا رہا تھا۔ ابھی تک اس نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی تھی کہ وہ کسی پر حملہ یا اپنے رقیبوں سے علیحدہ ہوکے شہزادی نوشین کی طرف بڑھتا اور اس کے قریب پہنچنے کی کوشش کرتا۔ ناگہاں ہمراہیوں میں سے ایک نے بے وجہ اس پر تلوار کا وار کیا جو شانے پر پڑا مگر اس کے فوراً چونک کر ہٹنے سے وارخالی گیا۔ ساتھ ہی طیش میں آکے اس نے اس نوجوان حریف پر جو ایک ہاتھ مارا تو تلوار شانے سے جگر تک کاٹ گئی اور وہ زمین پر گر کر تڑپنے لگا۔ اپنے ایک ساتھی کو گرتے دیکھ کے اوروں نے ارادہ کیا کہ اس پر جھپٹیں مگر اس نے ان کے تیور پہچان کے گھوڑے کو اس زور سے ایڑ بتائی کہ عربی گھوڑا کود کے بھاگا اور کوئی اس کی گرد کو نہ پاسکا۔ اب موسیٰ حریفوں کے غول سے الگ ہوکر پلٹ پڑا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ بجائے شہزادی کے پیچھے ہونے کے اس کے سامنے نمودار ہوا۔ حریف جو ابھی تک شہزادی کے تعاقب ہی میں چلے آتے تھے یہ دیکھ کے کہ موسیٰ دوسری طرف سے مہ جبیں نوشین تک پہنچنا چاہتا ہے۔ گھبرا کے اپنے گھوڑوں کو چابکیں مارنے لگے کہ قریب پہنچیں۔ اُدھر شہزادی نے جو دیکھا کہ میں دونوں طرف سے گھری ہوئی ہوں، بیچ سے کٹ کے گھوڑے کو بڑے زور سے دوسری طرف بھگایا اور اس کا گھوڑا اس قدر تیز تھا کہ سہیلیاں پیچھے رہ گئیں اور ارسلان اور دوسرے رقیبوں سے بھی زیادہ فاصلہ ہوگیا مگر موسیٰ کے گھوڑے جوالہ کی گرد کو ترکستان کا کوئی گھوڑا نہیں پاسکتا تھا۔ اس نے اسے للکار کے جو شہزادی کے پیچھے ڈالا تو دم بھر میں پاس تھا۔ نوشین نے بے بسی کے معشوقانہ ڈھیلے ہاتھوں کی طرح تلواریں مارنا شروع کیں کمزور ہاتھ کے وار ایک نامور سورما پر کیا اثرکرتے؟ موسیٰ نے اپنی تلوار سے اس کی تلوار پر ایک ایسا وار کیا کہ تلوار نازک انگلیوں سے چھوٹ کر دُور جاپڑی اور ایک جھپٹ میں اس نے بڑھ کر شہزادی کو پکڑلیااور کھینچ کے اپنے گھوڑے پر بٹھا لیا۔ تلوار کے اشارے سے اپنے حریفوں کو آگاہ کیا کہ ‘‘اب خبردار قدم نہ بڑھانا، امتحان رقابت کا فیصلہ ہوچکا۔ شہزادی میری ہوچکی اور اب اسے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا’’۔ مگر کون سنتا تھا سب اس فکر میں تھے کہ اگر مقابلے میں ہار گئے تو عربی حریف کو یہیں گھیر کے قتل کرڈالیں اور میدان سے زندہ واپس نہ جانے دیں۔ موسیٰ: ‘‘تو معلوم ہوتا ہے کہ تم سب مجھ سے لڑنا چاہتے ہو۔ میں اس کے لیے بھی تیار ہوں مگر شہزادی کو کسی حفاظت کی جگہ پہنچا دوں تو مقابلہ کروں’’۔ یہ کہتے ہی اس نے جوالہ کو پھر للکارا جو ایک تیر کی طرح اُڑتا ہوا سیدھااس طرف چلا جدھر دونوں ترکی بادشاہ بیٹھے اس مقابلہ کا تماشا دیکھ رہے تھے۔ حریفوں نے اس کا تعاقب کیا جن کی طرف اس نے پلٹ کے دیکھا اور ہنس کے کہا: ‘‘تم لاکھ کوڑے مارو تمہارے گھوڑے جوالہ کی گرد کو بھی نہیں پاسکتے’’۔ اور یہی ہوا۔ وہ سب پیچھے رہ گئے اور موسیٰ طرخون کے قریب جاپہنچا اور اپنے عرب رفیقوں سے کہا: ‘‘شہزادی کو لے جاکر خیمے میں لٹاؤ اور ہوش میں لاؤ لڑائی کی ہیبت سے بیہوش ہوگئی ہے’’۔ فوراً قدامہ بڑھ کے قریب آیا۔ فتح پر مبارک باد دی پھر شہزادی کو اس کے گھوڑے سے اٹھا کے اپنے گھوڑے پر لیا اور قیام گاہ کی راہ لی۔

اس کے بعد موسیٰ نے طرخون سے کہا: ‘‘میں آپ کے کہنے سے رقیبوں میں شامل ہوا اور خدا نے ایسا کامیاب کیا کہ کسی کو میری جیت میں شبہ کرنے کی بھی جرأت نہیں ہوسکتی مگر آپ کے فرزند اور دیگر مقابلہ کرنے والے رقیب مجھ سے لڑنا چاہتے ہیں۔ میں اس کے لیے بھی تیار ہوں مگر آپ کو آگاہ کرتا ہوں کہ آپ کی رسم اور آپ کے فرمانے کے مطابق اب کسی کو مجھ سے لڑنے کا حق باقی نہیں رہا ہے’’۔طرخون: ‘‘بے شک تم جیتے’’۔موسیٰ: ‘‘تو یا مجھے اجازت دیجیے کہ ان لوگوں سے مقابلہ کر کے اپنی جوانمردی دکھاؤں یا ان سب کو سمجھایئے کہ اس لعبتِ چین کو تو ہاتھ سے کھو چکے اب اپنی زندگی سے بھی ہاتھ نہ دھوئیں۔ مجھے سب سے زیادہ پاس و لحاظ آپ کے صاحبزادے شہزادہ ارسلان کا ہے’’۔

طرخون کواس واقعہ کا بے حد صدمہ ہوا۔ جی چاہتا تھا کہ موسیٰ کو زندہ چبا جائے مگر زور نہ چلتا تھا۔ دل میں یہ بھی سمجھتا تھا کہ اب اگر رقیبوں میں لڑائی ہوئی تو ارسلان کی جان کی خیر نہیں۔ سب کوجو قریب آچکے تھے ہاتھ کے اشارے سے روکا اور کہا: ‘‘بس اب رک جاؤ، رسم نکاح کا تصفیہ ہوگیا اور شہزادی نوشین جس کی دلہن ہونے والی تھی ہوگئی۔ اب لڑنے سے کیا فائدہ؟ اگرچہ مجھے حد درجہ کا ملال ہے مگر اپنے ذاتی جوش سے قوم مغل کی آزادی اور ترک و تاجیک کی انصاف پسندی کو نہیں چھوڑ سکتا’’۔

ارسلان: ‘‘ابا جان! یہ عرب اپنی ذاتی بہادری سے نہیں بلکہ اپنے گھوڑے کی وجہ سے کامیاب ہوگیا ورنہ کس کی مجال تھی کہ شہزادی کو اس کے گھوڑے پر سے اُٹھا لے جاتا؟ میں جب تک خود مقابلہ نہ کروں گا چین نہ لوں گا۔ طرخون: ‘‘اب یہ بے کار ہے سمجھ کہ نوشین تمہاری قسمت میں نہ تھی اور اپنے لیے اور دلہن ڈھونڈو’’۔ ارسلان: ‘‘آہ! یہ ناممکن ہے جس دل میں نوشین نے جگہ کرلی اس میں کسی اور لڑکی کو ہرگز جگہ نہیں مل سکتی۔ میں اسی کو لوں گا اور نہ ملی تو اپنی جان دے دوں گا، رقیب سے لڑوں گا۔ آپ نے نہ لڑنے دیا تو خود اپنے ہاتھ سے اپنا سینہ چاک کرڈالوں گا اور یہ بھی نہ ہوسکا تو زہرکھا کے ہمیشہ کے لیے سوجاؤں گا’’۔ طرخون: ‘‘تمہارے دل میں بے شک ایساہی جوش ہوگا مگر اس وقت خاموش ہو رہو۔ بعد میں دیکھا جائے گا’’۔الغرض طرخون کے حکم سے ارسلان اور سب رقیب سردھنتے اور سینہ کوبی کرتے واپس گئے۔ تمام تماشائیوں نے جو اس واقعہ سے غمزدہ ہورہے تھے کمال ناکامی و شکست دلی سے گھروں کی راہ لی۔ بادشاہ طرخون اور کاشغر کا بادشاہ بھی بادل صد چاک اپنی قسمت پر روتے اور آنسو بہاتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو سدھارے اور موسیٰ نے بھی دونوں بادشاہوں سے رخصت ہوکے اپنے خیمہ کا رخ کیا۔

موسیٰ اپنے خیمے میں پہنچا تو شہزادی نوشین کو ہوش میں پایا مگر خائف و سہمگیں تھی۔ چہرے پر حسرت برس رہی تھی اور حیران تھی کہ ان لوگوں کے ساتھ کیسے نباہ ہوگا جن کا نہ ایک لفظ میں سمجھتی ہوں نہ میرا کوئی لفظ وہ سمجھتے ہیں۔ مالک بن عوف سلمی بار بار ترکی زبان میں اس کا مزاج پوچھتا اور اسے تسلی دیتا تھا مگر وہ وقف حیرت اور مبہوت تھی اور ایک حرف بھی زبان سے نہ نکالتی تھی۔ موسی نے کہا،فی الحال مہ جبین قتلق خاتم ان کے پاس بٹھا دی جائیں جو اب مجھ سے مانوس ہوچکی ہیں۔ بعض بعض عربی الفاظ بھی سمجھ لیتی ہیں وہ ان کی دلدہی اور تسلی و تشفی کریں گی اور ان کو ہم لوگوں سے کچھ نہ کچھ مانوس ضرور کریں گی’’۔ یہ کہتے ہی موسیٰ نے قتلق خانم کو بلا کر نوشین کے پاس بٹھا دیا اور سب لوگوں کو لے کر خیمے سے نکل آیا کہ تنہائی میں دونوں کھل کے بات چیت کرسکیں۔

باہر نکلا تھا کہ ایک سپاہی نے لاکے شاہ طرخون کا خط دیا۔ اسے کھول کر دیکھا تو عربی دان منشی سے لکھوایا گیا تھا اور عربی میں تھا۔ پڑھا تومضمون یہ تھا کہ ‘‘آپ کی بہادری میں شک نہیں آپ بہادر بھی ہیں اور خوش نصیب بھی۔ مگر آپ کی خوش نصیبی و شجاعت نے اہل سمرقند کو اس قدر صدمہ پہنچایا جس کو وہ برداشت نہیں کرسکتے۔ میں نے محض اس خیال سے کہ سلطنت عرب سے دوستانہ تعلقات پیدا ہوں آپ کو یہاں رکھ لیا تھا اور آپ کے ہم قوم و ہم مذہب دشمنوں سے آپ کو امان دی تھی مگر آپ نے یہاں آتے ہی عین نوروز کے دن ہمارے سب سے بڑے بہادر شہسوار اور ہردلعزیز سردار نوشگیں کو قتل کرڈالا اور ایسے عنوان سے کہ کسی کو سوا دل میں بغض رکھنے کے زبان سے کچھ کہتے نہیں بن پڑتا۔ جس کا دوسرا ناگوار یہ اثر ہوا کہ سمرقند کے رئیس اعظم بہرام کی بیٹی قتلق خانم آپ کی لونڈی ہوگئی۔ اس کے غم میں اس کا باپ خون کے آنسو بہا رہا ہے اور اُف نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد آج کا واقعہ پیش آیا جس میں پہلے آپ نے ایک نوجوان مارڈالا اور اس کے بعد میرے بیٹے کی معشوقہ اور اس کی منگیتر دلہن کو اڑا لے گئے۔ مجھے اس پر اعتراض کرنے یا اس کی شکایت کرنے کا حق نہیں اس لیے کہ میں نے ہی آپ کو رقیبوں میں شریک ہونے کا مشورہ دیا تھا اور اطمینان دلایا تھا کہ اگر آپ جیت گئے تو مجھے ملال نہ ہوگا مگر اس وقت میرا ہرگز یہ خیال نہ تھا کہ اس مقابلے میں آپ غالب آئیں گے اس کا انجام یہ ہوا کہ شاہِ کاشغر اور میرے تعلقات نازک ہوگئے جو اپنی بیٹی کے غم میں خون کے آنسو رو رہا ہے اور اس کے پڑاؤ میں کہرام مچا ہوا ہے۔ میرا بیٹا آپ کی جان لینے اور اپنی دینے کو تیار ہے اور ہزار سمجھاتا ہوں اپنے اس ارادے سے باز نہیں آتا۔ اسی واقعہ کے سبب سے سمرقند کا ہر شخص آپ کے خون کا پیاسا ہو رہا ہے۔ ان تمام کا نتیجہ یہ ہے کہ اب آپ کا یہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں ہے لہٰذا میں نے جو آپ سے اپنے یہاں امان دینے کا وعدہ کیا تھا اسے واپس لیتا ہوں اور آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ آج ہی رات کو میرا شہر خالی کرکے چلے جایئے اور صبح سے پہلے قلمرو سے باہر ہوجائیے ورنہ آپ کو یہاں کے لوگوں سے ضرر پہنچ جائے گا اور اس کے انجام میں میرے اور سلطنت اسلام کے والی خراسان کے تعلقات خراب ہوں گے’’۔

یہ خط پڑھ کے موسٰی نے کہا: ‘‘طرخون کے شریف النفس ہونے میں شک نہیں اور جو مجبوریاں وہ ظاہر کر رہا ہے حق بجانب ہیں لیکن وہ جانتا ہے کہ میں نے ایسا قصور نہیں کیا جس پر کوئی مجھے الزام دے سکے۔ بہرحال اب یہاں سے جانا ہی مناسب ہے’’۔ فوراً کوچ کا حکم دے دیا۔ خیمے ڈیرے اُکھڑنے اور خچروں پر لدنے لگے۔ تمام ہمراہیوں نے جن کی تعداد چار سو بہادرانِ عرب سے زیادہ تھی جھٹ پٹ سفر کاسامان کیا اور آدھی رات سے پہلے مع دونوں عورتوں قتلق اور لعبتِ چین نوشین کے چل کھڑے ہوئے اور صبح کو اہل سمرقند نے دیکھا عربوں کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔ (جاری ہے)

٭٭٭