کٹے پھٹے رشتے……

مصنف : سید عمر فاران بخاری

سلسلہ : ادب

شمارہ : اگست 2010

            ایک چھوٹے شہر کے چھوٹے اور غریب گھر میں پیدا ہونے والا بچہ کب بچپن سے گزر کر لڑکپن اور پھر کب نوجوانی اور وہاں سے پھر کب پختہ عمر کو پہنچتا ہے ، معلوم ہی نہیں ہو پاتا۔ سو میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ نجانے کب چپکے سے بچپن رخصت ہوا اور لڑکپن آیا ۔ نہ وہ جذبے جوان ہوئے اور نہ وہ خواہشیں اور ہوتیں بھی تو کیسے ، شاید مجھ پر لڑکپن اور جوانی بھی نہیں آئے…… بہت کم عمری میں چھت چھین لی گئی۔ یہ وہ وقت تھا کہ اگر بچے کی گڑیا کے لیے ایک عدد گھر میسر نہ ہوتو وہ منہ بسورتا ہے لیکن میری تو حقیقت میں چھت چھن گئی ، سو کون سی شرارتیں اور کون سا بچپن ۔ یونہی مشکلات سہتے سہتے ، خود کی اور اپنی ماں کی مظلومیت پہ کڑھتے کڑھتے ایک روز اچانک چھوٹے سے شہر سے نکل کر مجھے لاہور کے ہنگاموں میں آنا پڑا جہاں امی کے تایا کے گھر کے سرونٹ کوارٹر میں جگہ ملی ۔ جو زخم وہاں لگے وہ پھر کبھی بھر نہ سکے ۔ ان سے آج بھی ٹیسیں اٹھتی ہیں ۔ یہاں امی کو ان کے تایا نے ایک ملازمہ سے زیادہ کچھ نہ جانا ۔ گلبرگ سے سائنس کالج کا فاصلہ سائیکل پہ طے کرکے آتا او رجاتا مگر کبھی محسوس نہ ہوا کہ پڑھنے کی لگن تھی مگر یہاں زندگی کا تلخ ترین تجربہ ہوا کہ امیر لوگوں کے کوارٹروں میں ان کے غریب اقربا کیسے پرورش پاتے ہیں ، آج بھی یہ سوچتا ہوں تو روح چھلنی ہو جاتی ہے…… خیر جیسے تیسے یہ ایام بھی بیت ہی گئے ۔ میں شروع ہی سے وظیفہ لے کر پڑھتا رہا مگر اس کے باوجود سب کے طعنے سننے پڑتے…… امی کی تایا زاد تو شاید مجھے انسان ہی نہ جانتی تھیں ۔پھر اللہ نے میری ماں کی دعائیں سن لیں اور مجھے سٹیٹ بنک میں ملازمت مل گئی۔ یوں ہمارے دن پھر گئے۔ دن کیا پھرے کہ سب کی آنکھیں بھی پھر گئیں ۔ وہ جو کبھی مجھے بات بات پہ طعنے دیتے تھے ، اب آگے پیچھے پھرنے لگے اور پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا ، اللہ نے اتنا دیا کہ آج دوسروں کی ضرورتیں پوری کر کے دل خوشی سے بھر جاتا ہے ۔ وہی امی کی تایا زاد بہن جس کی نظر میں ہمارے لیے صرف حقارت تھی وہ خود میرے گھر آنے لگی اور پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب اس نے مجھے اپنے سکول میں پرنسپل بنانے کی خواہش ظاہر کر دی اور میں ہکا بکا یہ سوچتا رہ گیا کہ آج میں اتنا معتبر کیسے ہو گیا……!

 ٭٭٭

            میرے نانا کا بھرپور جوانی ہی میں انتقال ہو گیا۔ وہ بڑے زمیندار تھے ۔ ان کی دو شادیاں تھیں۔ پہلی شادی میں سے میری امی اور ماموں ہیں جبکہ وفات سے کچھ دیر قبل انہوں نے دوسری شادی کی جس سے ان کی ایک بیٹی ہے ۔ نانا کے انتقال کے بعد ان کی دوسری بیوی کا بھی انتقال ہو گیا لہذا ان کی بیٹی کو بھی میری نانی ہی نے نہایت چاؤ سے پالا۔ نانی بھی جلد ہی ساتھ چھوڑ گئیں۔ میری امی نے اپنے چھوٹے بھائی اور بہن کو اپنی اولاد کی طرح پالا ۔ شادی کے بعد بھی میرے ابا نے کبھی اس پر اعتراض نہ کیا بلکہ وہ تو بہت خوش تھے کیونکہ ان کی کوئی بہن نہ تھی ۔ انہوں نے بھی خالہ کو بھائی او رباپ دونوں کا پیار دیا۔ خالہ کی شادی بھی میری اماں اور ابا نے نہایت فراخدلی سے کی ۔ اماں نے تو جائیداد بھی برابر اپنی بہن کو دے دی۔ یوں ہمارا بھی اپنی خالہ سے بہت پیار رہا مگر پھر نجانے انہیں کیا ہوا کہ سب ہی بدل گیا…… آج تک حیران ہوں کہ ایسے بھی ہو سکتا ہے ، وہ خالہ جو کہ ماں کے بعد ہماری کل کائنات تھی ، کیا وہ بھی ایسا کر سکتی ہے؟ آج تک اس بات پر یقین نہیں آیا مگر حقائق سے تو انکار ممکن نہیں۔ خالہ نے اپنی بیٹی کے لیے امی سے میرا رشتہ مانگا تو امی نے انکار کر دیا۔ بس انکار ہونا تھا کہ خالہ نے سارے آداب و لحاظ بھلا ڈالے اور ایک طرف تو ہمارے اوپر مقدمے کر ڈالے تو دوسری جانب نہایت ہی بھونڈے طریقے سے یہ رشتہ ختم کر ڈالا۔ دکھ اور تکلیف تو اس بات کی ہے کہ آخر رشتہ ختم کرنے کا کیا یہی طریقہ تھا کہ وہ میرے بھائی پر چوری کا الزام لگا دیتیں……؟ کجا کہ وہ احسان کا بدلہ احسان سے چکاتیں……

 ٭٭٭

            والدین نے اپنے انتہائی ذہین لخت جگر کو دور دراز سے لاہور بھیجا کہ ہمارا بیٹا ایک دن بڑا آدمی بنے گا۔ لاہور میں بچے کے ماموں رہتے تھے جو کہ ایک سرکاری سکول میں استاد تھے۔ بچہ انتہائی ذہین تھا۔ ماں باپ نہایت خوش تھے کہ ماموں کے پاس رہے گا ، کوئی تکلیف نہ ہو گی اور بچہ میٹرک میں شاندار کامیابی حاصل کر لے گا۔ ادھر ماموں کا بھی ایک بیٹا بالکل اسی کا ہم عمر تھا جو کہ کافی نکما تھا۔ ماموں کے گھر میں بھانجے کے لیے کوئی جگہ نہ بن سکی اور وہ بے چارہ مسجدوں میں دھکے کھاتا رہا ۔ ماموں نے اس حسد میں کہ میرا بھانجا کہیں آگے نہ بڑھ جائے ، بھانجے کے سارے راستے ہی مسدود کر دیے۔ جب نویں کے داخلوں کا وقت آیا تو ماموں نے سکول میں اس کے استاد سے کہہ دیا کہ اس کا داخلہ نہیں جانا چاہیے کجا یہ کہ اس کی حوصلہ افزائی کرتے ، اب وہ بے چارہ دربدر تو ہے ہی ساتھ میں پڑھائی چھوٹ جانے کا غم اسے رلاتا رہتا ہے ۔

 ٭٭٭

            ہمارے اپنے گھر میں جو ہوا ، وہ بھی ٹوٹے دل سے پیش خدمت ہے۔ اماں جب بیاہ کر آئیں تو انہیں اپنے بچوں کے ساتھ پلے پلائے بچے بھی مل گئے۔ ابو کو ہمیشہ شوق رہا کہ میرے بھانجے بھتیجے پڑھ جائیں۔ ابو سے پہلے ابو کے خاندان میں کوئی خواندہ نہ تھا۔ اسی مطمع نظر سے ابا نے اپنے بھتیجوں ،بھانجوں اور بھانجیوں کو اپنے گھر میں نہیں بلکہ اپنے دل میں جگہ دی۔ اور کیا کہنے ہمارے اماں کے…… اماں نے تو دل وجان سے ان کو چاہا ، ان کو پیار کیا ، ان کو پالا ، ان کے نخرے اٹھائے ، ان کی فرمائشیں پوری کیں، اماں تو گویا ان میں یوں مدہوش ہوئیں کہ کوئی اپنے بیٹوں میں نہ ہو…… اماں نے تو پیار ، الفت، محبت اور جانثاری کے سارے ہی پھول ان بچوں کو بڑا کرنے اور قابل بنانے میں صرف کر دیے ۔ ان کے اتنے نخرے ، اتنے مان، اتنے ناز تو ان کی اپنی ماؤں نے نہیں برداشت کیے مگر کیا کیجیے کہ آج کل گنگا الٹی بہتی ہے ۔ گنگا الٹی بہتی ہے تو اماں کو یہ شوق چرایا کہ ان پہ جان نثار کر دی حالانکہ اماں ان میں سے نہ تو کسی کی پھوپھو تھیں اور نہ ہی کسی کی خالہ …… ایک ممانی یا چچی کا اتنا ایثار ، ناقابل یقین ہے ۔ خیر الٹی گنگا بہتی رہی اور بہتی ہے ۔ وہی بچے جب جوان ہوئے تو انہوں نے اس خدمت کا خوب حق ادا کیا۔ اتنے چرکے لگائے کہ آج ہمارے دل جلے ہوئے ہیں اور کوئی دیکھے تو ہر وقت دھواں اٹھتا رہتا ہے۔ سب کی زبان سے یہی سنا کہ یہ ہماری ماں ہے مگر منہ زبانی ۔ آج وہ یہاں کا راستہ ہی بھول چکے ہیں۔ یہ دروازے آج بھی ان کے لیے کھلے ہیں مگر ان کھلے دروازوں سے آنے والے اب نجانے کہاں ہیں۔ ایک بھائی صاحب تو ایسے نکلے کہ کئی سال اماں کے ہاتھ کی روٹی کھانے اور اماں کا پیار پانے کے بعد جب یہاں سے گئے تو دوبارہ زندگی میں کبھی کلام تک نہ کیا اور ایک بھائی صاحب کے بلند و بانگ دعوے تو آج تک ہمارے کانوں میں گونجتے ہیں کہ میری ماں یہی ماں ہے نہ کہ وہ جس نے مجھے جنم دیا، میرے بھائی یہی بھائی ہیں اور ایک بار میں کہیں set ہو گیا تو نجانے کیا کیا کر دوں گا مگر اماں نے بھول کے زندگی میں انہیں ایک بار منع کیا کیا کہ ان کا غصہ آج تک نہ اترا …… میں تو حیران ہوں کہ بھلا ماں اپنے بچے کو کسی بات سے ٹوک دے تو کیا وہ اتنا غصہ کرتا ہے کہ وہ ناقابل معافی جرم بن جائے مگر ماں ہوتی تو پھر نہ ، آخر اماں بے چاری ممانی ہی رہیں ، ماں نہ بن سکیں…… مگر سلام ہو اس عظیم خاتون پہ کہ اس سب کے باوجود ان کے خلوص ، ان کے پیار میں کوئی کمی نہ آئی اور نہ انہوں نے کبھی شکایت کی۔

 ٭٭٭

            ایک بات واضح کر دوں کہ یہ سب الفاظ ایک ایسے شخص کے ہیں کہ جو کہ بذات خود ‘‘خاندان فوبیا’’ کا شکار ہے۔ میں نے اسی جرم کی اتنی بڑی سزا پائی کہ دوبارہ یاد کرنے کا حوصلہ نہیں۔ کچھ روز پہلے سر راہ ایک موٹر سائیکل پر نظر پڑی جس کے پیچھے ایک بڑی تختی لگی ہوئی تھی اور اس پر لکھا تھا کہ ‘‘ ایک کتا پالنا ایک رشتہ دار پالنے سے کہیں بہتر ہے کہ بہرحال وہ وفادار ہوتا ہے۔’’ اوپر بیان کی گئیں تو بہت کم مثالیں ہیں اور یہ سب کی سب ان لوگوں سے متعلقہ ہیں جو کہ مجھ سے متعلق ہیں لہذا ان میں کوئی ابہام یا کوئی exageration نہیں۔ میں تو حیران ہوں کہ ہماری ‘‘مشر قیت’’ کہاں ہے؟ ہمارا ‘‘خاندانی نظام’’ کہاں ہے ؟ جب میں نے اس طرح کے کٹے پھٹے رشتے نبھانے کی کوشش کی تو سخت ہزیمت پائی ۔ اب اگر کوئی مجھ سے ایسے کٹے پھٹے رشتے نبھانے کا کہتا ہے تو مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیوں ایسے رشتے نبھاؤں ؟ مگر اماں کی دلیل وہی ہے کہ ‘‘اپنے ،اپنے ہوتے ہیں۔’’ کیا واقعی اب بھی ایسا ہوتا ہے ؟ فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں……

٭٭٭