حاجبوں کے واقعات

مصنف : محمد عثمان بخاری

سلسلہ : ادب

شمارہ : جولائی 2011

 ٭ ایک حاجی نے فجر کی نماز کے بعد طواف شروع کیا اور ظہر تک طواف ہی کرتا رہا۔ اْسکا خیال تھا کہ سارے لوگ ایک ساتھ ہی طواف شروع اور ایک ساتھ ہی ختم کرتے ہیں۔ اْسے حیرت اس بات پر تھی کہ وہ نوجوان ہونے کے باوجود تھک چکا تھا جبکہ باقی لوگ ابھی تک ویسے ہی ذوق و شوق سے طواف کر رہے تھے۔ ٭ یہ واقعہ میرے دوست نے سنایا جس نے دو سال قبل حج کیا تھا۔ اْس نے دیکھا کہ حرم شریف میں عورتوں کا ایک گروہ، جو شکل و صورت سے روسی نظر آتی تھیں، اپنے ہم وطن کی قیادت میں (جو عربی پڑھنا جانتا تھا) طواف کرتے ہوئے وہی کچھ دہرا رہی تھیں جو کچھ اْن کا ہم وطن کتاایک ب سے دیکھ کر پڑھ رہا تھا، اور وہ آدمی جو کچھ حاشیئے پر لکھا ہوا تھا وہ بھی دعائیں سمجھ کر پڑھ رہا تھا، آدمی کہتا تھا (یہ کتاب) عورتیں دہراتی تھیں (یہ کتاب)، آدمی کہتا تھا (ریاض میں چھپی) اور عورتیں کہتی تھیں (ریاض میں چھپی)۔ ٭ایک دوست کہتے ہیں کہ میں حرم مکی شریف میں نماز ادا کر رہا تھا، شدید اژدہام کی وجہ سے ایک حاجی نے میرے سامنے سے گزرنے کی کوشش کی تو میں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اْسے روکنا چاہا، حاجی نے بڑی محبت سے میرا ہاتھ پکڑ کر اور نہایت گرمجوشی سے مصافحہ کر ڈالا اور کہا آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔٭صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے ایک حاجی نے کیمرے کو سعی کی فلم بناتے ہوئے دیکھا، تو اْس نے نہایت جوش و خروش کے ساتھ کیمرے کے سامنے ہاتھ ہلانا شروع کردیئے تاکہ اْسکی تصویر واضح نشانی کے ساتھ بن جائے۔ اور پھر تھوڑی دیر کے بعد لوگوں کا ایک جمگٹھا سا ہی لگ گیا ور سب کے سب یہ سمجھ کر کہ شاید یہ بھی کوئی حج کی عبادت ہے اور کیمرے کے سامنے ہاتھ ہلانے لگ گئے۔

(مرسلہ ،محمد عثمان بخاری ،لاہور)

٭٭٭

٭ ایک دن چاند نے سورج سے پوچھا" تم مشرق سے نکلتے ہو تو بڑی آب و تاب میں ہوتے ہو، تمھاری کرنوں کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے جیسے تم خوشی سے مسکرا رہے ہو". لیکن مغرب میں تمہیں کیا ہوتا ہے تم مرجھائے ہوئے پھول کی طرح لگتے ہو یا پریشان حال مسافر کی طرح اداس...سورج بولا" مجھے مشرق کی عادتیں اچھی لگتی ہیں، ماں باپ کا ادب بڑوں کا احترام شرم و حیا اور پردہ، اس لیے خوش ہوتا ہوں اور مسکراتا ہوں! مگر مغرب کی بے شرمی دیکھ کر ڈوب جاتا ہوں. چاند نے پوچھا تم مغرب کے ملکوں میں بھی تو نکلتے ہو.سورج کہنے لگا" وہاں میں اپنے چہرے پر دھند کا نقاب ڈال لیتا ہوں۔

(مرسلہ ، محمد عثمان بخاری، لاہور)