امن وامان اور معاشی ترقی

مصنف : كامران امين

سلسلہ : پاکستانیات

شمارہ : اكتوبر 2026

پاكستانيات

امن وامان اور معاشی ترقی

كامران امين

چند روز پہلے چین میں بیٹریاں بنانے والی ایک بڑی سرکاری کمپنی کے ایک اعلیٰ عہدے دار پاکستان آئے۔ وہ اس امکان کا جائزہ لینے آئے تھے کہ پاکستان میں اپنے مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر بیٹریوں کی مقامی اسمبلی کا ایک صنعتی یونٹ قائم کیا جا سکتا ہے۔وہ چند دن کراچی میں رہے۔ میری بھی ان سے ملاقات ہوئی۔ لیکن کراچی پہنچنے کے فوراً بعد انہیں جس سیکیورٹی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، اس نے شاید اس پورے منصوبے کی سمت ہی بدل دی۔بلٹ پروف گاڑی اور پولیس کی وین کے بغیر باہر نہیں نکلنا، کہاں جانا ہے اور کہاں نہیں جانا، مقامی لوگوں سے ملاقات کے لیے بھی سیکیورٹی اجازت، اور ہر قدم پر ایک غیر معمولی نوعیت کا حفاظتی حصار۔وہ دن کراچی میں بڑی مشکل سے گزار سکا۔ میری ملاقات ہوئی تو چھوٹتے ہی کہا یار بہت مشکل ہے پاکستان میں آنا اور یہاں کام کرنا :"اگر میرے ساتھ یہ صورتحال ہے تو میرے وہ کارکن جو یہاں آ کر کام کریں گے، ان کا کیا ہوگا؟ وہ کہاں رہیں گے؟ کیسے سفر کریں گے؟ اور کس طرح آزادانہ زندگی گزاریں گے؟"خیر پھر وہ لاہور گیا، لیکن وہاں بھی سیکیورٹی سے متعلق تقریباً ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

آج وہ لاہور سے دبئی روانہ ہو چکے ہیں۔ اب اس کا منصوبہ یہ ہے کہ وہ جو اسمبلی لائن پاکستان میں لگانا چاہتا تھا اب دبئی میں کسی جگہ لگے گی۔ یعنی ایک شخص پاکستان آیا تھا سرمایہ کاری کرنے کے ارادے سے، لیکن واپس جاتے ہوئے وہ صرف کاروباری معاہدوں تک محدود ہو گیا۔

سرمایہ کاری؟شاید اب کسی اور ملک میں ہوگی۔یہ صرف ایک کمپنی کی کہانی نہیں۔

یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا سوال ہے۔آخر سرمایہ کار پاکستان کیوں نہیں آ رہا؟

چین پر امریکی محصولات (Tariffs) بڑھنے کے بعد کئی چینی کمپنیوں نے اپنی پیداوار دوسرے ممالک میں منتقل کرنے کے امکانات تلاش کیے۔ میں اُس وقت حیران ہوتا تھا کہ ان میں سے زیادہ کمپنیاں پاکستان کیوں نہیں آ رہیں؟پاکستان جغرافیائی لحاظ سے قریب ہے، ایک بڑی مارکیٹ ہے، افرادی قوت موجود ہے اور کئی شعبوں میں صنعتی امکانات بھی ہیں۔ لیکن جب آپ زمینی حقیقت دیکھتے ہیں تو جواب کچھ حد تک سامنے آتا ہے۔

سرمایہ کار صرف زمین اور مارکیٹ نہیں دیکھتا، وہ ماحول دیکھتا ہے۔اسے یہ یقین چاہیے کہ:وہ محفوظ رہے گا،اس کے ملازمین محفوظ رہیں گے،اس کا کاروبار بلاتعطل چل سکے گا،

بجلی مناسب قیمت پر ملے گی،قانون واضح اور قابلِ اعتماد ہوگا،اور اسے ہر قدم پر غیر معمولی رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ہمارے ہاں مسئلہ صرف سیکیورٹی کا نہیں۔

بجلی کی قیمتیں، کاروباری غیر یقینی، پٹرول اور توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ، پالیسیوں کا عدم تسلسل، عدالتی و انتظامی پیچیدگیاں اور مجموعی طور پر غیر یقینی ماحول بھی سرمایہ کار کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔سرمایہ کار منافع ضرور دیکھتا ہے، لیکن اس سے پہلے وہ خطرہ دیکھتا ہے۔اور جہاں خطرہ بہت زیادہ ہو، وہاں اچھی سے اچھی پیشکش بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔

حکومت سے ایک سادہ سی گزارش-ایس آئی ایف سی (SIFC) اور دیگر حکومتی ادارے دنیا بھر میں جا کر سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دیتے ہیں۔یہ کوشش اپنی جگہ ضروری ہے۔لیکن شاید ہمیں ایک بنیادی سوال بھی خود سے پوچھنا چاہیے:

کیا ہم صرف سرمایہ کار کو پاکستان آنے پر آمادہ کریں، یا پہلے پاکستان کو ایسا ملک بنائیں جہاں سرمایہ کار آنا چاہے؟میرا خیال ہے فارمولا بہت سادہ ہے۔ملک میں داخلی امن بہتر کریں۔قانون کی حکمرانی مضبوط کریں۔انصاف کو قابلِ رسائی بنائیں۔توانائی کی قیمتیں کاروبار کے قابل بنائیں۔پالیسیوں میں تسلسل لائیں۔اور کاروبار کے لیے غیر ضروری رکاوٹیں ختم کریں۔پھر شاید ہمیں دنیا بھر میں جا کر لوگوں سے یہ کہنے کی ضرورت نہ پڑے کہ:"پاکستان آئیں، یہاں سرمایہ کاری کریں۔"لوگ خود آئیں گے۔اور صرف غیر ملکی ہی نہیں، پاکستانی بھی اپنا سرمایہ پاکستان میں لگانے پر اعتماد کریں گے۔اصل سرمایہ کاری صرف فیکٹریاں نہیں لگاتی،اعتماد فیکٹریاں لگاتا ہے۔اگر کسی سرمایہ کار کو اپنے سرمائے کے ساتھ اپنی جان، اپنے ملازمین اور اپنے مستقبل کی بھی فکر لاحق ہو جائے تو پھر وہ سرمایہ کاری کے لیے کوئی اور جگہ تلاش کرے گا۔اس لیے پاکستان کو دنیا سے سرمایہ مانگنے سے پہلے دنیا کو ایک محفوظ، پُرامن، منصفانہ اور کاروبار دوست پاکستان دکھانا ہوگا۔اور شاید یہی وہ کام ہے جس پر حکومت، سیکیورٹی اداروں، انتظامیہ اور سیاسی قیادت سب کو ایک صفحے پر آ کر توجہ دینی چاہیے۔