يہ بھی پاكستان ہے

مصنف : سہيل احمد

سلسلہ : پاکستانیات

شمارہ : اگست 2026

پاكستانيات

يہ بھی پاكستان ہے

سہيل احمد

دو دن پہلے ہمارا سکھر سے لاہور جانے کا پروگرام بنا۔ سب کچھ بالکل ٹھیک چل رہا تھا، لیکن جیسے ہی ہم سکھر موٹر وے پر چڑھنے لگے، اچانک ہماری گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا۔ جس سڑک پر ہم تھے، وہ جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی۔ اوپر سے تقریباً 50 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید گرمی، نہ آس پاس کوئی پنکچر کی دکان، نہ کوئی مکینک، اور نہ ہی کوئی ایسی امید کہ اب آگے کیا ہوگا۔ہم نے لوگوں سے پوچھتے پوچھتے گاڑی کو آہستہ آہستہ چلانے کی کوشش کی، لیکن کچھ ہی دیر بعد گاڑی نے مکمل جواب دے دیا۔ اب ہم سخت دھوپ میں بے بس کھڑے تھے۔ ساتھ فیملی بھی تھی، ایک چھوٹا بچہ بھی تھا جسے بھوک اور پیاس لگ رہی تھی، اور ہمیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس مشکل سے کیسے نکلیں۔اسی دوران ہماری نظر ایک چھوٹی سی دکان پر پڑی، جہاں ایک نہایت سادہ، مسکراتے ہوئے بزرگ محمد شکور بابا  سموسے، پکوڑے، دہی بڑے اور چنا چاٹ فروخت کر رہے تھے۔ یہ دکان سانگڑا گاؤں، سکھر کے قریب تھی۔ہم نے صرف اتنا پوچھا:“بابا جی! یہاں قریب کوئی پنکچر کی دکان ہے؟انہوں نے ہماری بات سنی، ہمارے چہرے دیکھے، اور فوراً بولے:“بیٹا! پہلے پریشان ہونا چھوڑو، اس سایہ میں آ کر بیٹھو۔انہوں نے ہمیں اپنی دکان کے پاس ٹھنڈی چھاؤں میں بٹھایا، پھر اپنے گھر سے ٹھنڈا پانی لا کر پلایا۔ ہمارے چہروں سے پریشانی صاف نظر آ رہی تھی۔ہم نے کہا:“بابا جی! ہمیں صرف کسی پنکچر والے کا پتا بتا دیں، باقی ہم خود سنبھال لیں گے۔بابا جی مسکرائے اور بولے:“پہلے کچھ کھا لو، بھوکے پیٹ پریشانی اور بھی بڑی لگتی ہے۔ہم نے عرض کی:“بابا جی! ہمارے پاس پیسے ہیں، آپ فکر نہ کریں، بس ہمیں کوئی پنکچر والا مل جائے۔وہ خاموشی سے اپنے گھر چلے گئے۔ چند منٹ بعد واپس آئے تو ان کے ہاتھ میں تین پلیٹیں گھر کے بنے ہوئے دال چاول تھے۔انہوں نے کہا:“بیٹا! تم تین لوگ ہو، ایک پلیٹ کیسے کافی ہوگی؟ پہلے سکون سے کھانا کھاؤ۔یقین کریں زندگی میں بے شمار ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کا کھانا کھایا، لیکن اس دن بابا جی کے گھر کے بنے ہوئے دال چاولوں کا ذائقہ آج بھی دل میں زندہ ہے۔ شاید اس لیے کہ ان میں مصالحوں سے زیادہ محبت، خلوص اور انسانیت شامل تھی۔ ہر نوالہ اپنی ماں کے ہاتھ کے کھانے کی یاد دلا رہا تھا۔ہم ابھی سکون سے کھانا کھا ہی رہے تھے کہ ایک شخص پنکچر کا سامان اٹھائے ہمارے پاس آ گیا۔ پہلے تو ہمیں سمجھ نہیں آئی، پھر معلوم ہوا کہ بابا جی خاموشی سے اپنے گھر جا کر اپنے رشتہ دار، جو پنکچر کا کام کرتے تھے، انہیں فون کر چکے تھے۔انہوں نے وہیں موقع پر گاڑی کا ٹائر کھولا، پنکچر لگایا، اور صرف 200 روپے مزدوری لے کر اپنا کام مکمل کر دیا۔میں نے حیرت سے بابا جی سے پوچھا: “بابا جی! آپ کے پاس پنکچر والے کا نمبر کیسے تھا؟بابا جی مسکرا کر بولے: “بیٹا! یہاں پہلے بھی کئی مسافر ایسے ہی مشکل میں پھنس چکے ہیں۔ اس لیے میں نے چند لوگوں کے نمبر محفوظ کر رکھے ہیں تاکہ جب بھی کوئی مجبور مسافر آئے، اس کی مدد کر سکوں۔یہ سن کر دل واقعی بھر آیا۔جب ہم نے دال چاول اور پانی کے پیسے دینے چاہے تو بابا جی نے بار بار انکار کر دیا۔ وہ بار بار یہی کہتے رہے: “مسافر اللہ کی رحمت ہوتے ہیں، ان کی خدمت کرنا ہمارا فرض ہے۔

بابا جی خود بہت سادہ زندگی گزار رہے تھے، مگر دل کے اتنے امیر تھے کہ ان کی دولت کا اندازہ لگانا ممکن نہیں تھا۔آخرکار ہم نے اپنی خوشی سے ان کے ہاتھ میں کچھ رقم رکھ دی۔ انہوں نے کئی بار لینے سے انکار کیا، لیکن ہماری محبت دیکھ کر قبول کر لی اور ڈھیروں دعاؤں کے ساتھ ہمیں رخصت کیا۔ہم دوبارہ اپنے سفر پر روانہ ہوئے اور اللہ کے فضل و کرم سے خیریت کے ساتھ لاہور پہنچ گئے، لیکن راستے میں ملنے والے محمد شکور بابا جی کی محبت، خلوص اور انسانیت شاید زندگی بھر نہیں بھولیں گے۔آج جب ہر طرف خود غرضی، نفرت اور مطلب پرستی کی باتیں سننے کو ملتی ہیں، تو ایسے لوگ یقین دلاتے ہیں کہ انسانیت ابھی ختم نہیں ہوئی۔ایسے لوگ کسی اخبار کی سرخی نہیں بنتے، نہ ہی سوشل میڈیا پر مشہور ہونے کے لیے نیکیاں کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی لوگ اس دنیا کی اصل خوبصورتی ہیں۔