معاذبن جبلؓ اور ابو عبیدہ بن جراحؓ کی بے مثال دوستی، محبت اور موت کا سفر

مصنف : حنظلہ الخلیق

سلسلہ : سیرت صحابہؓ

شمارہ : اكتوبر 2026

سيرت صحابہ

معاذبن جبلؓ اور ابو عبیدہ بن جراحؓ کی بے مثال دوستی، محبت اور موت کا سفر

حنظلہ خليق

(انسانی اقدار کی بلندی، ایثار کے جذبوں سے بنی قرونِ اولیٰ کی انمول داستان--﴿أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ﴾: القرآن

• اسلامی تاریخ کے ابتدائی زمانے کو اگر صرف فتوحات، معرکوں اور سلطنتوں کی تاریخ سمجھ لیا جائے تو اس عہد کی اصل روح نگاہ سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ وہ زمانہ دراصل ایسے انسانوں کی تشکیل کا زمانہ تھا جن کے لیے ایمان محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ تعلق، ذمہ داری، وفا، ایثار اور محبت کا دوسرا نام تھا۔ انہی روشن کرداروں میں دو نام ایسے ہیں جنہیں ایک ساتھ پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ دو الگ مزاج کے انسان کس طرح ایک ہی مقصد، ایک ہی عہد اور ایک ہی محبت میں باہم گھل سکتے ہیں: معاذ بن جبلؓ اور ابو عبیدہ بن الجراحؓ۔ ایک علم، فقہ اور فہمِ دین کا چراغ تھا، دوسرا امانت، قیادت، شجاعت اور انسانی وفا کی تصویر۔ ایک کے لبوں پر علم کی روشنی تھی، دوسرے کے کردار میں امانت کی خاموش عظمت۔ اور پھر تاریخ نے ان دونوں کو مدینہ سے شام تک، میدانِ جنگ سے وبائے عمواس تک، زندگی کی رفاقت سے موت کی دہلیز تک ایک ہی داستان کے دو کردار بنا دیا۔

رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر اپنے اصحاب کے اندر چھپی ہوئی خصوصیات کو پہچانا اور ان کی قدر افزائی فرمائی۔ حضرت ابو عبیدہؓ کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا:

«لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ، وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ.»“ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے، اور اس امت کے امین ابو عبیدہ بن الجراح ہیں۔”

یہ چند الفاظ ان کی پوری زندگی کا تعارف بن گئے۔ ابو عبیدہؓ ان اولین مسلمانوں میں تھے جنہوں نے مکہ کی سختیوں کے باوجود اسلام کا دامن تھاما، ہجرت کی، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بڑے بڑے معرکے دیکھے اور پھر شام کی وسیع سرزمین میں اسلامی لشکروں کی قیادت کی۔ ان کے لیے قیادت جاہ و جلال نہیں، ایک ایسی ذمہ داری تھی جس میں سب سے پہلے اپنے لوگوں کا حق آتا تھا۔

دوسری طرف معاذ بن جبلؓ تھے، انصاری خزرجی نوجوان، جنہیں رسول اللہ ﷺ نے علم اور فہم کی غیر معمولی صلاحیت کے سبب ممتاز فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ کی ان سے محبت محض رسمی تعلق نہ تھی۔ ایک موقع پر آپ ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:«يَا مُعَاذُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ.»“اے معاذ! اللہ کی قسم، میں تم سے محبت کرتا ہوں، اللہ کی قسم، میں تم سے محبت کرتا ہوں۔”پھر آپ ﷺ نے فرمایا:

«فَلَا تَدَعْ أَنْ تَقُولَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ.»“پس ہر نماز کے بعد یہ کہنا نہ چھوڑنا: اے اللہ! اپنے ذکر، اپنے شکر اور اپنی بہترین عبادت پر میری مدد فرما۔”

یہ محبت ایک اور منظر میں اور بھی زیادہ قریب محسوس ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں گدھے پر سوار تھے اور معاذؓ آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھے تھے۔ راستہ چل رہا تھا، سواری آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی اور اس خاموش سفر میں رسول اللہ ﷺ نے معاذؓ سے ایک ایسا سوال کیا جس نے ان کی پوری زندگی کا رخ متعین کردیا:«يَا مُعَاذُ، أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ، وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ؟»“اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے اور اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟”معاذؓ نے عرض کیا:«اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ.»“اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔”آپ ﷺ نے فرمایا:

«حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَلَّا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا.»“بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ جو شخص اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے، اللہ اسے عذاب نہ دے۔”

یہ محض ایک حدیث کا منظر نہیں تھا۔ ایک طرف سفر کی سادگی تھی، ایک گدھے کی پشت پر بیٹھا ہوا شاگرد، آگے بیٹھا ہوا نبی ﷺ، اور درمیان میں ایسا علم جس نے معاذؓ کو آنے والی پوری زندگی کے لیے تیار کردیا۔

پھر یہی معاذؓ یمن کی طرف بھیجے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں وہاں تعلیم، دعوت اور فیصلوں کی ذمہ داری سونپی۔ مدینہ سے دور جاتے ہوئے وہ اپنے ساتھ محض چند احکام نہیں لے کر گئے تھے؛ وہ رسول اللہ ﷺ کی صحبت، محبت اور تربیت اپنے اندر لے کر گئے تھے۔ محبت کا یہ بھی ایک عجیب اصول ہے کہ محبوب ہمیشہ اپنے پاس نہیں رکھتا؛ کبھی اسے دور بھیجتا ہے تاکہ وہ دوسروں کے لیے روشنی بن جائے۔نبی علیہ السلام کی تربیت کا اثر تھا کہ آپ رضی اللہ کی زبان سے حکمت و علم جاری ہوا۔ کہتے ہیں:إِيَّاكَ وَزَيْغَةَ الْحَكِيمِ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَتَكَلَّمُ عَلَى لِسَانِ الْحَكِيمِ بِكَلِمَةِ الضَّلَالَةِ، وَإِنَّ الْمُنَافِقَ قَدْ يَقُولُ كَلِمَةَ الْحَقِّ فَتَلَقَّوَا الْحَقَّ عَمَّنْ جَاءَ بِهِ."حکیم کی لغزش سے بھی خبردار رہو، کیونکہ کبھی شیطان کسی حکیم کی زبان سے گمراہی کی بات کہلوا دیتا ہے، جبکہ کوئی منافق بھی کبھی حق بات کہہ سکتا ہے۔ اس لیے حق جس کے پاس سے بھی آئے، اسے قبول کرو، کیونکہ حق پر ایک نور ہوتا ہے۔"

پھر کہتے ہیں -فَاحْذَرُوا زَيْغَتَهُ وَلَا يَصُدَّنَّكُمْ عَنْهُ، فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَفِيءَ وَأَنْ يُرَاجِعَ الْحَقَّ، وَإِنَّ الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ مَكَانَهُمَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنِ ابْتَغَاهُمَا وَجَدَهُمَا--"تو اس لغزش سے بچو، لیکن اس شخص سے مکمل طور پر منہ نہ موڑو، کیونکہ ممکن ہے وہ جلد ہی اپنی غلطی سے رجوع کرکے حق کی طرف لوٹ آئے۔ علم اور ایمان قیامت تک باقی رہیں گے، جو انہیں تلاش کرے گا وہ انہیں پائے گا۔": [جامع بيان العلم وفضله]

معاذؓ کی زندگی میں اس محبت کا ایک نہایت دردناک پہلو اس وقت سامنے آتا ہے جب ان کے بیٹے کی وفات ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو ایک تعزیتی خط لکھا ، جس میں غم کو دبانے کے بجائے اسے ایک وسیع انسانی حقیقت میں بدل دیا گیا ہے:«فَإِنَّ أَنْفُسَنَا وَأَمْوَالَنَا وَأَهْلِينَا وَأَوْلَادَنَا مِنْ مَوَاهِبِ اللَّهِ وَعَوَارِيْهِ الْمُسْتَوْدَعَةِ، نَتَمَتَّعُ بِهَا إِلَى أَجَلٍ مَعْدُودٍ، وَيَقْبِضُهَا بِوَقْتٍ مَعْلُومٍ، ثُمَّ افْتَرَضَ عَلَيْنَا الشُّكْرَ إِذَا أَعْطَى، وَالصَّبْرَ إِذَا ابْتَلَى.»

“ہماری جانیں، ہمارے مال، ہمارے اہل و عیال اور ہماری اولاد اللہ کی عطائیں اور اس کی امانتیں ہیں۔ ہم ایک مقررہ مدت تک ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں، پھر وہ انہیں ایک معلوم وقت پر واپس لے لیتا ہے۔ اس نے ہم پر یہ ذمہ داری رکھی ہے کہ عطا کرے تو شکر کریں اور آزمائے تو صبر کریں۔”

اس عبارت میں ایک باپ کے دکھ کو مٹانے کی کوشش نہیں کی گئی؛ بلکہ اسے سمجھنے کا ایک راستہ دیا گیا ہے۔ اولاد سے محبت اپنی جگہ، جدائی کا درد اپنی جگہ، مگر انسان کو یہ احساس بھی دیا گیا کہ جسے وہ اپنا سمجھتا ہے، وہ دراصل ایک امانت ہے۔ محبت کا مطلب ملکیت نہیں؛ امانت کی قدر کرنا ہے۔

مدینہ کے یہ مناظر وقت کے ساتھ شام کے میدانوں میں پہنچے۔ اب گدھے کی پشت پر بیٹھا ہوا معاذؓ نہ تھا، اب گھوڑوں کی ٹاپیں تھیں۔ اب رسول اللہ ﷺ کی آواز قریب سے سنائی نہیں دیتی تھی، اب لشکر کے شور میں قائد کی آواز سننی پڑتی تھی۔ شام کی زمین پر جنگوں کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ اجنادین، فحل، دمشق اور دوسری مہمات کے درمیان ابو عبیدہؓ ایک مرکزی قائد کے طور پر ابھرے، اور معاذؓ ان لوگوں میں تھے جن کے علم، فہم اور ثابت قدمی پر لشکر اعتماد کرتا تھا۔

جنگ کا منظر کچھ یوں تھا کہ صبح کے وقت میدان پر دھند اور گرد کا پردہ ہوتا، پھر آہستہ آہستہ جھنڈے دکھائی دینے لگتے۔ دور رومی لشکر کی صفیں ایک دیوار کی مانند کھڑی ہوتیں۔ مسلمان اپنی صفوں میں کھڑے ہوتے۔ گھوڑے زمین کھرچتے، زرہیں دھوپ میں چمکتیں، تیر انداز اپنی کمانیں سنبھالتے اور سپاہی اپنے ساتھی کے چہرے کو آخری مرتبہ دیکھ لیتا، جیسے معلوم نہ ہو کہ شام تک دونوں میں سے کون باقی رہے گا۔ایسے ہی کسی لمحے ابو عبیدہؓ لشکر کے سامنے کھڑے ہوتے اور آواز بلند ہوتی:«عِبَادَ اللَّهِ، انْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ.»“اے اللہ کے بندو! اللہ کے دین کی مدد کرو، اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط کر دے گا۔”پھر صفیں آگے بڑھتیں۔ شور اچانک بلند ہوجاتا۔ پہلے تیر آتے، پھر گھوڑے دوڑتے، پھر دونوں لشکروں کی صفیں ایک دوسرے میں مدغم ہوجاتیں۔ کہیں تلواریں ٹکراتیں، کہیں نیزے گھوڑوں کے سینوں کے قریب سے گزرتے، کہیں ایک زخمی سپاہی کو دو ساتھی پیچھے کھینچتے اور کہیں ایک پرچم گرتے گرتے دوبارہ اٹھ جاتا۔ جنگ کے ایسے لمحوں میں قیادت صرف حکم دینے کا نام نہیں رہتی؛ قائد کو اپنے لوگوں کے درمیان موجود رہنا پڑتا ہے، ان کے خوف کو دیکھنا پڑتا ہے، ان کے زخم دیکھنے پڑتے ہیں، اور انہیں یہ احساس دلانا پڑتا ہے کہ وہ اکیلے نہیں۔

یرموک میں یہی منظر اپنی انتہا کو پہنچا۔ رومی سلطنت کی عظیم قوت سامنے تھی اور مسلمان لشکر کو ایک ایسے معرکے کا سامنا تھا جس میں کئی دنوں کی مسلسل لڑائی، تھکن، گرد، خون اور انتظار جمع ہوچکا تھا۔ تاریخی روایت میں ہے کہ ابو عبیدہؓ نے معاذؓ کو میمنہ کی ذمہ داری دی، جبکہ لشکر کے دوسرے حصوں کی ذمہ داریاں بھی مقرر کی گئیں۔معاذؓ میمنہ میں اپنے آدمیوں کے درمیان تھے۔ ان کے سامنے صفیں تھیں، پیچھے اپنے لوگ، اور ہر طرف جنگ کا شور۔ کبھی حملہ تیز ہوتا، کبھی صفیں پیچھے ہٹتیں، پھر دوبارہ سنبھل جاتیں۔ گھوڑوں کی ہنہناہٹ، زخمیوں کی آوازیں، زمین پر پڑتی تلواریں اور بلند ہوتے تکبیری نعرے سب ایک ہی شور میں گھل جاتے۔ ایسے وقت میں معاذؓ کا علم اور ابو عبیدہؓ کی قیادت دو الگ چیزیں نہ رہتی تھیں؛ ایک لشکر کو سمت دیتی تھی اور دوسری اسے اندر سے مضبوط کرتی تھی۔

ابو عبیدہؓ کی شخصیت کا کمال یہ تھا کہ وہ فتح کے ہنگامے میں بھی اپنے آپ کو لشکر سے الگ نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے لیے یہ لوگ محض فوج نہ تھے۔ وہ وہی لوگ تھے جن کے ساتھ انہوں نے شام کی راہوں میں سفر کیا تھا، جن کے ساتھ انہوں نے جنگیں دیکھی تھیں، جن کے ساتھ راتیں خیموں میں گزاری تھیں اور جنہوں نے اپنے ساتھیوں کو اپنے سامنے گرتے دیکھا تھا۔پھر وہ وقت آیا جب جنگوں سے زیادہ سخت ایک دشمن شام میں اترا۔ یہ تلوار نہیں تھی، وبا تھی۔ طاعونِ عمواس نے شام کے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہزاروں انسان بیمار ہوئے، لشکر کمزور پڑنے لگا اور موت خیموں کے اندر داخل ہوگئی۔ عمر بن خطاب رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کو جب صورتِ حال کا علم ہوا تو انہوں نے ابو عبیدہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کو ایک خط لکھا:«أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ قَدْ عَرَضَتْ لِي إِلَيْكَ حَاجَةٌ أُرِيدُ أَنْ أُشَافِهَكَ بِهَا، فَعَزَمْتُ عَلَيْكَ إِذَا نَظَرْتَ فِي كِتَابِي هَذَا أَلَّا تَضَعَهُ مِنْ يَدِكَ حَتَّى تُقْبِلَ إِلَيَّ.»

“اما بعد! میرے سامنے تمہارے بارے میں ایک ضرورت پیش آئی ہے جسے میں چاہتا ہوں کہ تم سے بالمشافہ کہوں۔ میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ جب میرا یہ خط تمہارے ہاتھ پہنچے تو اسے ہاتھ سے نہ رکھنا، یہاں تک کہ تم میری طرف چلے آؤ۔”

ابو عبیدہؓ سمجھ گئے کہ عمرؓ انہیں وبا سے نکالنا چاہتے ہیں۔ مگر وہ اپنے لوگوں کو چھوڑ کر کیسے آتے؟ ان کا جواب آیا:«يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي قَدْ عَرَفْتُ حَاجَتَكَ إِلَيَّ، وَإِنِّي فِي جُنْدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، لَا أَجِدُ بِنَفْسِي رَغْبَةً عَنْهُمْ، فَلَسْتُ أُرِيدُ فِرَاقَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِيَّ وَفِيهِمْ أَمْرَهُ وَقَضَاءَهُ، فَخَلِّنِي مِنْ عَزْمَتِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَدَعْنِي فِي جُنْدِي.»

“اے امیر المؤمنین! میں آپ کی ضرورت کو سمجھ گیا ہوں۔ لیکن میں مسلمانوں کے ایک لشکر میں ہوں اور میرا دل ان سے الگ ہونے کو نہیں چاہتا۔ میں ان سے جدا نہیں ہونا چاہتا، یہاں تک کہ اللہ میرے اور ان کے بارے میں اپنا فیصلہ فرما دے۔ پس اے امیر المؤمنین! مجھے اپنے اس حکم سے آزاد کردیجیے اور مجھے اپنے لشکر ہی میں رہنے دیجیے۔”

یہی وہ اصل عبارت ہے جس کے مفہوم کو بعض تاریخی تحریروں میں زیادہ آزاد انداز سے یوں بیان کیا جاتا ہے کہ “جن لوگوں نے میرے ساتھ خونریز جنگیں لڑی ہیں، میں انہیں موت کے منہ میں چھوڑ کر نہیں آؤں گا۔” مگر ابو عبیدہؓ کے محفوظ تاریخی جواب میں اصل الفاظ «لَا أَجِدُ بِنَفْسِي رَغْبَةً عَنْهُمْ» ہیں۔ اور شاید یہی الفاظ اس پورے مفہوم کو زیادہ گہرا بنا دیتے ہیں: “میرا دل ان سے الگ ہونے کو نہیں چاہتا۔”عمرؓ نے خط پڑھا تو رو پڑے۔ روایت میں آتا ہے کہ لوگوں نے پوچھا:«يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَاتَ أَبُو عُبَيْدَةَ؟»

“اے امیر المؤمنین! کیا ابو عبیدہ وفات پاگئے؟”عمرؓ نے جواب دیا:«لَا، وَكَأَنْ قَدْ.»

“نہیں، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اب ان کی موت قریب ہی ہے۔”

چند ہی دنوں بعد وہی ہوا جس کا عمرؓ کو اندیشہ تھا۔ ابو عبیدہؓ بیماری کی زد میں آئے۔ لوگوں کے سامنے کھڑے ہوئے اور فرمایا:«أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رَحْمَةٌ بِكُمْ، وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ، وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، وَإِنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ يَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَقْسِمَ لَهُ حَظَّهُ.»“اے لوگو! یہ بیماری تمہارے لیے رحمت ہے، تمہارے نبی کی دعا کا اثر ہے اور تم سے پہلے صالحین کی موت ہے؛ اور ابو عبیدہ اللہ سے دعا کرتا ہے کہ وہ اس بیماری میں اس کا حصہ بھی مقرر فرما دے۔”

ابو عبیدہؓ کے بعد لوگوں کی ذمہ داری معاذؓ نے سنبھالی۔ یوں ایک دوست کے جانے کے بعد دوسرا اسی صف میں کھڑا تھا۔ معاذؓ نے بھی لوگوں کے سامنے وہی حقیقت بیان کی:

«أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رَحْمَةٌ بِكُمْ، وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ، وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، وَإِنَّ مُعَاذًا يَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَقْسِمَ لِآلِ مُعَاذٍ حَظَّهُمْ.»“اے لوگو! یہ بیماری تمہارے لیے رحمت ہے، تمہارے نبی کی دعا کا اثر ہے اور تم سے پہلے صالحین کی موت ہے؛ اور معاذ اللہ سے دعا کرتا ہے کہ معاذ کے گھر والوں کے لیے بھی اس میں ان کا حصہ مقرر فرما دے۔”

پھر آزمائش خود ان کے گھر میں داخل ہوئی۔ ان کے بیٹے عبدالرحمنؓ اس وبا میں وفات پاگئے۔ اس کے بعد معاذؓ خود بھی بیمار ہوئے۔ روایت میں ہے کہ جب ان کی ہتھیلی میں طاعون کا اثر ظاہر ہوا تو وہ اسے دیکھتے اور کہتے:«مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِمَا فِيكَ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا.»

“مجھے یہ پسند نہیں کہ تیرے اندر جو کچھ ہے، اس کے بدلے مجھے دنیا کی کوئی چیز ملے۔”

ابو عبیدہؓ کی جدائی کا داغ ابھی تازہ ہی تھا کہ طاعون نے معاذؓ کے گھرانے پر دستک دے دی۔ ان کی دو بیویاں اور ایک نوجوان بیٹا یکے بعد دیگرے اس وبا کا شکار ہو کر خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ معاذؓ نے ان تمام صدمات کو انتہائی صبر اور شکر کے ساتھ برداشت کیا۔ بالآخر وہ وقت بھی آ پہنچا جب معاذ بن جبلؓ کو خود طاعون نے آ گھیرا۔ موت کی اس دہلیز پر جہاں انسان خوف اور بے بسی کا شکار ہوتا ہے، اس جلیل القدر عالم اور عاشقِ رسول ﷺ کا انداز ہی جدا تھا۔ کتبِ تراجم میں ان کے آخری لمحات کی جو منظر کشی کی گئی ہے، وہ انسانی شعور کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ جب انہیں طاعون کا دانہ نکلا اور موت کے آثار نمایاں ہونے لگے تو ان کی زبان پر یہ دلگداز اور وجد آفرین عربی کلمات جاری تھے:

«مَرْحَبًا بِالْمَوْتِ، زَائِرٌ مُغِبٌّ، حَبِيبٌ جَاءَ عَلَى فَاقَةٍ-“موت کو خوش آمدید! یہ وہ ملاقاتی ہے جو طویل عرصے بعد آیا ہے، اور وہ محبوب ہے جو شدید طلب اور حاجت کے وقت پہنچا ہے۔”پھر انہوں نے آسمان کی طرف دیکھ کر مناجات کی کہ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں دنیا میں درخت لگانے اور نہریں کھودنے کے لیے زندہ نہیں رہنا چاہتا تھا، بلکہ گرمیوں کے روزے رکھنے، راتوں کو عبادت کرنے اور علماء کی مجالس میں تیرے ذکر کے لیے جینا چاہتا تھا۔ یوں علم و عمل کا یہ آفتاب، اپنے محبوب دوست کی وفات کے چند ہی دن بعد، اسی شام کی سرزمین پر ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔

یہاں آکر دونوں دوستوں کی داستان ایک عجیب خاموشی میں داخل ہوجاتی ہے۔ ابو عبیدہؓ پہلے گئے، معاذؓ ان کے بعد۔ زندگی میں ایک نے دوسرے کے ساتھ شام کے میدان دیکھے تھے؛ موت میں بھی دونوں ایک ہی وبا کی سرزمین میں رہ گئے۔ ایک نے عمرؓ کے بلانے پر اپنے لشکر سے جدا ہونے سے انکار کیا؛ دوسرے نے اسی لشکر کی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لی اور پھر اپنے بیٹے اور اپنی جان دونوں کو اسی آزمائش میں کھو دیا۔

یہ دوستی ہمیں انسانی تعلق کی ایک ایسی صورت دکھاتی ہے جس میں محبت محض قربت کا نام نہیں رہتی۔ عام محبت کہتی ہے: “تم میرے پاس رہو۔” گہری محبت کہتی ہے: “جہاں تمہاری ضرورت ہے، میں وہاں تمہارے ساتھ رہوں گا۔” ابو عبیدہؓ کے الفاظ «لَا أَجِدُ بِنَفْسِي رَغْبَةً عَنْهُمْ» میں اسی محبت کی گہرائی ہے۔ وہ اپنے لوگوں کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے، کیونکہ ان کے لیے قیادت کا مطلب ان لوگوں سے بلند ہوجانا نہیں تھا؛ ان کے ساتھ کھڑے رہنا تھا۔

اور معاذؓ کی پوری زندگی محبت کے اسی تصور کو دوسری سمت سے دکھاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے قریب رکھا، ان سے محبت کا اظہار کیا، سفر میں اپنے پیچھے بٹھایا، علم سکھایا، پھر یمن بھیج دیا۔ یعنی محبت کو محض جذبات نہیں رہنے دیا؛ اسے اعتماد اور ذمہ داری میں بدل دیا۔ یہی وجہ ہے کہ معاذؓ جہاں گئے، وہاں اپنے محبوب استاد ﷺ کی تربیت کا عکس بن کر گئے۔

انسانی محبت کی سب سے بلند صورت شاید یہی ہے کہ آدمی دوسرے انسان کو اپنے قبضے میں رکھنے کے بجائے اس کی آزادی، ذمہ داری اور دکھ میں شریک ہوجائے۔ دوستی کا اصل امتحان خوشی میں نہیں، مصیبت میں ہوتا ہے۔ میدانِ جنگ میں ساتھ کھڑا ہونا ایک مرحلہ ہے، مگر وبا میں بھی ساتھ نہ چھوڑنا اس سے آگے کی منزل ہے۔ ابو عبیدہؓ اور معاذؓ کی داستان اسی آخری منزل تک پہنچتی ہے۔

ان کے درمیان روزمرہ کی گفتگو کے کتنے الفاظ تاریخ نے محفوظ کیے، یہ الگ سوال ہے؛ مگر ان کی زندگی نے ایک دوسرے کے بارے میں جو سب سے بڑی گفتگو کی، وہ ان کے اعمال نے کی۔ یرموک کے میدان میں ایک قائد اپنے لشکر کے ساتھ تھا اور ایک عالم اپنے لوگوں کے درمیان؛ عمواس میں ایک نے اپنے لشکر کو چھوڑنے سے انکار کیا اور دوسرے نے اس کے بعد اسی جماعت کی ذمہ داری اٹھائی۔ پھر دونوں نے ایک ہی سرزمین میں موت کا سامنا کیا۔

اسی لیے معاذ بن جبلؓ اور ابو عبیدہ بن الجراحؓ کی دوستی کو صرف دو صحابہ کی دوستی کہنا اس کے معنی کو محدود کردینا ہے۔ یہ دراصل اس عہد کی انسانی اخلاقیات کا ایک روشن نمونہ ہے جس میں علم شجاعت سے جدا نہیں تھا، قیادت خدمت سے جدا نہیں تھی، محبت ذمہ داری سے جدا نہیں تھی، اور موت زندگی کی وفاداری کا آخری امتحان تھی۔

مدینہ سے یمن، یمن سے شام، شام کے میدانوں سے یرموک، یرموک سے عمواس اور عمواس سے آخرت تک یہ سفر ہمیں بتاتا ہے کہ بعض رفاقتیں وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں؛ وہ وقت کو معنی دے جاتی ہیں۔ ان دونوں کی رفاقت کا اصل حسن شاید اسی سادگی میں تھا۔ یہ ایسی دوستی نہ تھی جس کے لیے ہر روز کوئی واقعہ درکار ہو۔ بعض رشتے روزمرہ کی زندگی میں خاموشی سے پروان چڑھتے ہیں اور تاریخ کو ان کی خبر اس وقت ہوتی ہے جب زندگی کا آخری باب سامنے آتا ہے۔ معاذؓ کے لیے رسول اللہ ﷺ کی محبت ایک چراغ بنی، ابو عبیدہؓ کے لیے اپنے ساتھیوں کی محبت ایک عہد بنی، اور دونوں کی زندگیوں نے مل کر یہ دکھایا کہ انسان کی عظمت صرف اس بات میں نہیں کہ وہ کتنا بڑا منصب حاصل کرتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنے ساتھ چلنے والوں کے دکھ میں کس حد تک شریک ہوتا ہے۔

کتبِ تراجم اور علمِ حدیث کی رو سے، ابو عبیدہؓ کی مصروفیاتِ جہاد اور جلد وفات کے باعث ان سے مروی احادیث کی تعداد 14 کے لگ بھگ ہے، جبکہ معاذ بن جبلؓ سے 157 احادیث مروی ہیں جو ان کی علمی وسعت، کثرتِ مجالستِ نبوی ﷺ اور دین کی گہری سمجھ بوجھ کا صریح ثبوت ہیں۔

محبت کا آخری فلسفہ شاید یہی ہے کہ آدمی دوسرے کی زندگی کو اپنی زندگی سے کمتر نہ سمجھے۔ جب یہ احساس پیدا ہوجائے تو دوست صرف دوست نہیں رہتا، امانت بن جاتا ہے؛ ساتھی صرف لشکر کا فرد نہیں رہتا، اپنے وجود کا حصہ بن جاتا ہے؛ اور پھر جدائی صرف ایک شخص کی موت نہیں رہتی، انسان کے اپنے اندر بھی ایک جگہ خالی ہوجاتی ہے۔ ابو عبیدہؓ اور معاذؓ کی داستان اسی خالی جگہ کی داستان ہے، ایک ایسی رفاقت جس کا اختتام موت پر ہوا، مگر جس کا معنی موت کے بعد بھی باقی رہا۔

اور شاید اسی لیے ان دونوں کا آخری سفر ان کی پہلی ملاقاتوں سے زیادہ روشن ہے۔ زندگی میں دوست بہت ملتے ہیں، مگر وہ دوست نایاب ہوتے ہیں جو انسان کے ساتھ میدانِ جنگ میں کھڑے ہوں، مصیبت میں ساتھ رہیں، اقتدار میں بھی دل نہ بدلیں، اور موت کے دروازے تک وفاداری کو اپنے ساتھ لے جائیں۔ معاذ بن جبلؓ اور ابو عبیدہ بن الجراحؓ اسی نایاب انسانی رفاقت کے دو نام ہیں، ایک دوسرے کے ہم سفر، ایک دوسرے کے ہم درد، ایک ہی مقصد کے رفیق، اور آخرکار شام کی مٹی میں ایک ہی عہد کے امین۔

ــــــ آخر میں ہم "مستدرک حاکم" سے ایک روایت لکھتے ہیں ، جب جناب ابو عبیدہ کی وفات ہوئی تو کیا منظر تھا اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے آپ کی شخصیت اور اپنی محبت کو کیسے بیان کیا :جب ابو عبیدہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ پر طاعون کی بیماری کا حملہ شدید ہوا تو انہوں نے کہا: “اے معاذ! لوگوں کو نماز پڑھاؤ۔” چنانچہ معاذ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ پھر ابو عبیدہ بن الجراح رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وفات پاگئے۔اس کے بعد معاذ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا:«يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تُوبُوا إِلَى اللَّهِ مِنْ ذُنُوبِكُمْ تَوْبَةً نَصُوحًا، فَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ لَا يَلْقَى اللَّهَ تَائِبًا مِنْ ذَنْبِهِ إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ.»

“اے لوگو! اپنے گناہوں سے اللہ کے حضور سچی اور خالص توبہ کرو۔ اللہ کا بندہ جب اپنے گناہ سے توبہ کرکے اپنے رب کے سامنے حاضر ہوتا ہے تو اللہ کے ذمے ہے کہ وہ اسے بخش دے۔”پھر معاذ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نے فرمایا:«إِنَّكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فُجِعْتُمْ بِرَجُلٍ، وَاللَّهِ مَا أَزْعُمُ أَنِّي رَأَيْتُ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ عَبْدًا قَطُّ أَقَلَّ غَمْزًا، وَلَا أَبَرَّ صَدْرًا، وَلَا أَبْعَدَ غَائِلَةً، وَلَا أَشَدَّ حُبًّا لِلْعَاقِبَةِ، وَلَا أَنْصَحَ لِلْعَامَّةِ مِنْهُ، فَتَرَحَّمُوا عَلَيْهِ رَحِمَهُ اللَّهُ.»“اے لوگو! آج تم ایک ایسے شخص کی جدائی سے دوچار ہوئے ہو جس کا کوئی بدل نہیں۔ اللہ کی قسم! میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں نے اللہ کے بندوں میں کبھی ایسا شخص دیکھا ہو جو دل کے کینے اور عیب جوئی سے اس قدر پاک ہو، سینے کے اعتبار سے اس قدر صاف ہو، لوگوں کے لیے چھپی ہوئی برائی کا سبب بننے سے اس قدر دور ہو، انجامِ خیر کی اتنی فکر رکھنے والا ہو اور عام لوگوں کے لیے اس سے بڑھ کر خیر خواہ ہو۔ پس اس کے لیے رحمت کی دعا کرو، اللہ اس پر رحم فرمائے۔”پھر فرمایا:«ثُمَّ أَصْحِرُوا لِلصَّلَاةِ عَلَيْهِ، فَوَاللَّهِ لَا يَلِي عَلَيْكُمْ مِثْلُهُ أَبَدًا.»“پھر کھلے میدان میں نکلو تاکہ اس کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے۔ اللہ کی قسم! اب کبھی اس جیسا شخص تمہاری سرپرستی نہیں کرے گا۔”چنانچہ لوگ جمع ہوگئے۔ ابو عبیدہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کا جنازہ باہر لایا گیا اور معاذ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ آگے بڑھے اور ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ جب جنازہ قبر تک پہنچا تو معاذ بن جبل رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عمرو بن العاص رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اور ضحاک بن قیس قبر میں اترے۔ انہوں نے ابو عبیدہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کو لحد میں اتارا، پھر قبر سے باہر آگئے اور ان پر مٹی ڈالنے لگے۔جب قبر پر مٹی ڈالی جا رہی تھی تو معاذ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نے اپنے اس رفیقِ زندگی کو آخری بار مخاطب کیا:«يَا أَبَا عُبَيْدَةَ، لَأُثْنِيَنَّ عَلَيْكَ وَلَا أَقُولُ بَاطِلًا أَخَافُ أَنْ يَلْحَقَنِي بِهَا مِنَ اللَّهِ مَقْتٌ.»“اے ابو عبیدہ! میں تمہاری خوبیاں بیان کروں گا، مگر کوئی ایسی بات نہیں کہوں گا جو باطل ہو اور مجھے اندیشہ ہو کہ اس کے سبب اللہ کی ناراضی میرے حصے میں آجائے۔”پھر انہوں نے کہا:«كُنْتَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ مِنْ: وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا، وَمِنْ: الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا، وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا، وَمِنْ: وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَامًا.»“اللہ کی قسم! جہاں تک میں تمہیں جانتا ہوں، تم ان لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے: ‘جو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتے ہیں’؛ اور ان لوگوں میں سے تھے ‘جو زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں، اور جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو سلام کہہ کر گزر جاتے ہیں’؛ اور ان لوگوں میں سے تھے ‘جو خرچ کرتے وقت نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل، بلکہ ان دونوں کے درمیان اعتدال کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔’”پھر معاذ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نے اپنے دوست کی شخصیت کا آخری نقش کھینچا:«وَكُنْتَ وَاللَّهِ مِنَ الْمُخْبِتِينَ الْمُتَوَاضِعِينَ، الَّذِينَ يَرْحَمُونَ الْيَتِيمَ وَالْمِسْكِينَ، وَيُبْغِضُونَ الْخَائِنِينَ الْمُتَكَبِّرِينَ.»“اور اللہ کی قسم! تم ان عاجز اور فروتن لوگوں میں سے تھے جن کے دل اللہ کے سامنے جھکے رہتے ہیں؛ جو یتیم اور مسکین پر رحم کرتے ہیں اور خیانت کرنے والوں اور تکبر کرنے والوں سے نفرت رکھتے ہیں۔”