تاريخ
آدھی رات کا لائل پور
جب صبح کا سفر رات ہی سے شروع ہو جاتا تھا.
آج سفر کا وقت آتا ہے تو آدمی موبائل پر الارم لگا دیتا ہے، کپڑے بیگ میں ڈالتا ہے اور یہ سوچ کر سو جاتا ہے کہ صبح اٹھ کر نکل جائیں گے۔مگر ایک زمانہ تھا جب صبح کا سفر، اصل میں پچھلی رات ہی سے شروع ہو جاتا تھا۔اگر صبح پانچ بجے کی ٹرین پکڑنی ہوتی تو سفر کا پہلا قدم شام ڈھلتے ہی اٹھ جاتا۔ گھر میں ایک عجیب سی ہلچل شروع ہو جاتی۔کوئی بستر بند تیار کرنے لگتا، کوئی کپڑے نکال کر رکھتا، کوئی بچوں کے کپڑوں کا خیال کرتا، کوئی کھانے کی پوٹلی تیار کرنے بیٹھ جاتا اور کسی کو یاد آتا کہ راستے کے لیے پانی کا انتظام بھی تو کرنا ہے۔
یوں لگتا جیسے ابھی سفر شروع نہیں ہوا، مگر پورا گھر پہلے ہی"سفر پر نکل چکا ہو۔"
سب سے اہم مرحلہ تھا سامان کی فہرست۔ایک شخص یاد کرتا، دوسرا تصدیق کرتا، تیسرا کہتا:“ارے، وہ چیز رکھ لی؟”پھر کسی کو یاد آتا:“دوا بھی ساتھ رکھ لینا!”“بچوں کا سویٹر؟”“ٹکٹ کہاں رکھے ہیں؟”“پیسے الگ سنبھال کر رکھنا!”اور یوں ایک چھوٹی سی بات پورے گھر کی اجتماعی ذمہ داری بن جاتی۔فہرست لکھی بھی جاتی، پڑھ کر سنائی بھی جاتی اور پھر ذہن میں دہرا دہرا کر یاد بھی کی جاتی۔ بظاہر لگتا کہ اب کوئی چیز رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔لیکن سفر کے بعد منزل پر پہنچ کر اکثر وہی آواز سنائی دیتی:“ہائے! وہ فلاں چیز تو گھر ہی رہ گئی!”تب سب ایک دوسرے کو دیکھتے اور حیران ہوتے کہ اتنی احتیاط، اتنی فکر، اتنی بار گنتی کے باوجود آخر وہ چیز رہ کیسے گئی؟
مگر سفر کی رات کی اصل کہانی سامان سے بھی زیادہ دلچسپ ہوتی تھی۔گھر میں اعلان ہو جاتا:“دیکھو، صبح تین بجے سب نے اٹھ جانا ہے!”یہ اعلان بظاہر بچوں کے لیے ہوتا، مگر اس کے بعد نیند بڑوں سے بھی روٹھ جاتی۔کسی کو فکر ہوتی کہ کہیں آنکھ نہ لگ جائے۔کسی کو خدشہ ہوتا کہ الارم نہ بجا۔کسی کو یہ ڈر کہ ٹرین چھوٹ نہ جائے۔اور بعض ایسے ہوتے جو سوچتے سوچتے ساری رات ہی جاگتے رہتے۔وہ بار بار گھڑی دیکھتے۔“ابھی گیارہ بجے ہیں…”پھر کچھ دیر بعد:“بارہ ہو گئے…”پھر ایک بجے، پھر ڈیڑھ، پھر دو…اور یوں جو شخص صبح تین بجے اٹھنے والا تھا، وہ رات بھر جاگ کر خود ہی صبح کا انتظار کرتا رہتا۔یہی وہ وقت تھا جب "آدھی رات کا لائلپور" بھی ایک الگ روپ اختیار کر لیتا تھا۔گھر کے اندر ہلکی ہلکی روشنی جل رہی ہوتی۔ کہیں بستر بند کی گرہیں مضبوط کی جا رہی ہوتیں، کہیں کپڑوں کی آخری گنتی ہو رہی ہوتی، کہیں رات ہی کو چائے بن رہی ہوتی۔بچے، جنہیں صبح جگانا تھا، بے خبر سو رہے ہوتے۔مگر ان کے ماں باپ جاگ رہے ہوتے۔کسی ماں کو فکر ہوتی کہ بچہ سفر میں بھوکا نہ ہو جائے، اس لیے وہ رات ہی کو پراٹھے یا روٹیاں لپیٹ رہی ہوتی۔ کوئی نمک مرچ کے ساتھ کچھ کھانے کی چیز الگ رکھ دیتا۔ پانی کی بوتل یا برتن بھر کر رکھ دیا جاتا۔پھر ٹکٹ کی فکر۔ٹکٹ شاید کسی خاص جگہ رکھے جاتے کہ صبح ڈھونڈنے نہ پڑیں۔
مگر یہی “خاص جگہ” کبھی کبھی اتنی خاص ثابت ہوتی کہ عین نکلنے کے وقت پورا گھر اسے ڈھونڈ رہا ہوتا۔“ٹکٹ کہاں ہیں؟”“تمہیں دیے تھے!”“مجھے کب دیے تھے؟”
اور پھر چند لمحوں کے لیے ایسا سناٹا چھا جاتا جیسے ٹرین نہیں، پوری دنیا ہی چھوٹنے والی ہو۔
آخرکار ٹکٹ کسی تکیے کے نیچے، کپڑوں کے درمیان یا کسی جیب سے برآمد ہوتے اور سب کے چہروں پر دوبارہ زندگی لوٹ آتی۔پھر وہ گھڑی آتی جب رات ختم ہونے سے پہلے ہی گھر میں صبح ہو جاتی۔کسی نے تین بجے آواز دی:“اٹھو! وقت ہو گیا ہے!”
گھر کے اندر سوئے ہوئے جسم جاگتے، بچوں کو کمبل سے نکالا جاتا، کوئی نیند میں آنکھیں ملتا، کوئی ناراض ہوتا، کوئی پوچھتا:“ابھی رات ہی تو ہے!”اور جواب ملتا:“ہاں، رات ہے… مگر ٹرین صبح پانچ بجے کی ہے!”اس کے بعد لائلپور کی سڑکوں پر بھی زندگی کے چھوٹے چھوٹے قافلے نمودار ہونے لگتے۔کہیں تانگہ بلایا جا رہا ہے۔کہیں رکشا وقت پر پہنچنے کا انتظار ہے۔کہیں کوئی رشتہ دار ساتھ جانے کے لیے جاگ اٹھا ہے۔کسی گھر سے بستر بند نکل رہا ہے، کسی کے ہاتھ میں ٹین کا صندوق ہے، کسی کے کندھے پر تھیلا اور کسی بچے کے ہاتھ میں وہ چھوٹی سی پوٹلی، جسے وہ شاید ساری رات اپنے سفر کا سب سے اہم سامان سمجھتا رہا تھا۔اور یوں آدھی رات کا لائلپور، جو چند گھنٹے پہلے خاموش تھا، صبح ہونے سے پہلے ہی جاگنے لگتا۔کچھ لوگ ڈیوٹی پر جا رہے ہوتے۔کچھ رات کی ڈیوٹی سے واپس آ رہے ہوتے۔
کچھ چائے کی تلاش میں ہوتے۔اور کچھ لوگ… سفر کے لیے نکل چکے ہوتے، حالانکہ صبح ابھی ہوئی ہی نہیں تھی۔ریلوے اسٹیشن کی طرف بڑھتے ہوئے ہر گھر کی اپنی ایک کہانی ہوتی۔کسی کو خوشی ہوتی کہ وہ اپنے گاؤں جا رہا ہے۔کسی کو فکر کہ رشتہ داروں سے ملنے پہنچنا ہے۔کسی کے لیے سفر ایک خوشی ہوتا اور کسی کے لیے مجبوری۔مگر سب میں ایک بات مشترک ہوتی:سفر صرف اس وقت شروع نہیں ہوتا تھا جب ٹرین چلتی تھی۔
سفر اس وقت شروع ہو جاتا تھا جب شام کو پہلا بستر بند باندھا جاتا، جب کسی نے پوچھا تھا:“سب سامان رکھ لیا؟”جب ماں نے رات کے کھانے کے بعد سفر کے لیے الگ پوٹلی بنائی تھی۔جب باپ نے جیب میں ٹکٹ رکھ کر دو بار ہاتھ سے ٹٹول کر تسلی کی تھی۔
اور جب کوئی شخص رات بھر اس خوف سے سو نہ سکا تھا کہ کہیں صبح پانچ بجے والی ٹرین چھوٹ نہ جائے۔شاید اسی لیے پرانے وقتوں کے سفر صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کا نام نہیں تھے۔وہ پورے گھر کا واقعہ ہوتے تھے۔ایک گھر جاگتا تھا۔ایک خاندان فکر کرتا تھا۔سامان باندھا جاتا تھا۔فہرستیں بنتی تھیں۔کچھ چیزیں بھولی بھی جاتی تھیں۔اور پھر…صبح کا سفر، آدھی رات ہی سے شروع ہو جاتا تھا۔آج بھی شاید کسی پرانے لائلپوری کے ذہن میں صبح پانچ بجے کی ٹرین کا ذکر آئے تو اسے سب سے پہلے چلتی ہوئی ٹرین یاد نہ آئے۔اسے شاید یاد آئے…رات کا وہ گھر۔بندھا ہوا بستر۔تیار کپڑے۔کھانے کی پوٹلی۔
بار بار گنی جانے والی چیزیں۔اور آدھی رات کو گھڑی دیکھتا ہوا وہ شخص…جو فکر کے مارے سو ہی نہیں سکا تھا۔کیونکہ اس زمانے میں ٹرین صبح چلتی تھی…مگر سفر رات ہی سے شروع ہو جاتا تھا۔
رات کو ہونے والی گھر کی آخری گنتی
پرانے زمانے کے گھروں میں رات صرف سونے کا نام نہیں تھی۔رات، دراصل، پورے گھر کو ایک بار پھر سنبھالنے، دیکھنے اور محفوظ کرنے کا وقت ہوتی تھی۔دن بھر کی بھاگ دوڑ ختم ہو جاتی، گلیاں خاموش ہونے لگتیں، دکانوں کے تختے بند ہو جاتے، چوپالوں اور تھڑوں پر بیٹھے لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ آتے، بچے کھیل کود کر تھک چکے ہوتے اور عورتیں باورچی خانے کا آخری کام سمیٹ رہی ہوتیں۔لیکن گھر کا ایک شخص ایسا بھی ہوتا تھا جس کی ڈیوٹی ابھی ختم نہیں ہوئی ہوتی تھی۔وہ گھر کا بزرگ ہوتا تھا۔
دادا، نانا، والد، چچا یا گھر کا کوئی ایسا ذمہ دار فرد جس کے نزدیک گھر کی حفاظت اور گھر والوں کی خیریت، نیند سے زیادہ اہم ہوتی تھی۔سب کے سو جانے کے بعد، وہ آہستہ آہستہ پورے گھر کا ایک آخری چکر لگاتا۔یہی تھا پرانے گھر کا اپنا "نائٹ چیک"۔
کوئی رجسٹر نہیں تھا، کوئی موبائل ایپ نہیں تھی، کوئی الارم سسٹم نہیں تھا، کوئی سی سی ٹی وی نہیں تھا، مگر اس بزرگ کی نظر پورے گھر کے ہر کونے کا حساب رکھتی تھی۔وہ دیکھتا:بچے کہاں سوئے ہیں؟کوئی بچہ ابھی تک صحن میں تو نہیں پڑا؟کسی کو بخار تو نہیں؟
کوئی چھوٹا بچہ الٹ پلٹ ہو کر چادر سے باہر تو نہیں نکل آیا؟چھوٹے بچوں کے پاس جا کر چادر درست کرنا، کسی کے سر کے نیچے تکیہ سیدھا کرنا اور کسی کے پاؤں پر دوبارہ چادر ڈال دینا بھی اسی رات کی ذمہ داری تھی۔پھر نظر دروازے پر جاتی۔باہر والا دروازہ بند ہے؟کُنڈی لگی ہے؟کُنڈی کے ساتھ تالا بھی لگا ہے؟دروازہ اندر سے ٹھیک طرح اڑا ہوا ہے؟کھڑکی کا پٹ کھلا تو نہیں رہ گیا؟آج کے زمانے میں شاید یہ سب معمولی باتیں محسوس ہوں، مگر اُس دور میں رات کی خاموشی، سنسان گلیاں اور دور کہیں بھونکتے ہوئے کتوں کی آوازیں گھر کے بزرگ کو ہر چھوٹی بات یاد دلاتی رہتی تھیں۔پھر وہ صحن میں آتا۔باہر کی بتی بجھی ہے یا نہیں؟اگر بتی جل رہی ہو تو فوراً سوچتا:"صبح تک یونہی جلتی رہی تو بجلی ضائع ہوگی۔"اور اگر بتی بجھی ہو تو کبھی یہ اطمینان بھی کرتا کہ صحن کا کوئی حصہ بالکل اندھیرے میں تو نہیں رہ گیا۔پھر پانی کی باری آتی۔نل بند ہے یا نہیں؟کہیں پانی ٹپک تو نہیں رہا؟کہیں نل کھلا رہ جانے کی وجہ سے صبح تک پانی ضائع تو نہیں ہو جائے گا؟
گھر میں پانی کی اہمیت وہ لوگ جانتے تھے جنہوں نے پانی کو نل کے ذریعے ہمیشہ دستیاب چیز نہیں سمجھا تھا۔اس لیے رات کو سونے سے پہلے پانی کے مٹکے بھرنا، گھڑے کا ڈھکن درست کرنا، غسل خانے کے لیے پانی رکھنا اور صبح کے استعمال کا انتظام کرنا بھی گھر کے معمول کا حصہ تھا۔اور پھر ایک ایسی فکر جس کا آج کے گھروں میں تصور بھی مشکل ہے:
"رات کو کسی کو حاجت ہو گئی تو پانی کہاں سے آئے گا؟"اس لیے ٹنکی، مٹکے یا بالٹی میں مناسب پانی موجود ہے یا نہیں، یہ بھی رات کے آخری معائنے کا حصہ ہوتا تھا۔کبھی کبھی بزرگ کی نظر باورچی خانے کی طرف پڑ جاتی۔وہاں اگر برتن ابھی تک جمع پڑے ہوں تو آواز آتی:"یہ برتن ابھی تک نہیں دھلے؟"باقی سب اپنے بستروں میں جا چکے ہوتے، مگر ذمہ دار بزرگ کبھی خود ہی ہاتھ دھو کر برتن مانجھنے شروع کر دیتا۔اسے معلوم تھا کہ صبح ہونے سے پہلے کام ختم کرنا ضروری ہے۔رات کا گھر صاف ہو، چولہا بجھا ہوا ہو، راکھ مناسب جگہ پر ہو اور باورچی خانہ صبح کے لیے تیار ہو۔پھر اچانک ایک اور خیال آتا:چولہا واقعی بجھ گیا ہے؟کوئلہ یا لکڑی اندر سے سلگ تو نہیں رہی؟راکھ میں کوئی چنگاری باقی تو نہیں؟پرانے گھروں میں آگ کا خطرہ کوئی معمولی بات نہیں تھا۔اسی لیے ایک دفعہ نہیں، کبھی کبھی دو دفعہ چولہا دیکھنا بھی ضروری سمجھا جاتا تھا۔پھر گھر کا بزرگ دیوار کے ساتھ لگے بجلی کے میٹر کی طرف دیکھتا۔ایک نظر میٹر پر پڑتی۔سوچتا:"کہیں آج ریڈنگ کچھ زیادہ تو نہیں ہوگئی؟"وہ زمانہ ایسا تھا کہ یونٹوں کا حساب بھی گھر کے بجٹ کا حصہ ہوتا تھا۔مہینے کے آخر میں بل کا خوف الگ، اور میٹر کی تیز رفتاری کی فکر الگ۔اسی لیے رات کے اس "نائٹ چیک" میں گھر کے خرچ کا ایک خاموش حساب بھی شامل ہوتا تھا۔مگر اس سارے چکر کے دوران ایک سوال ایسا تھا جو باقی سب سوالوں پر بھاری پڑ جاتا:"بیٹا ابھی تک گھر کیوں نہیں پہنچا؟"گھر کا وہ جوان لڑکا جو دوستوں کے ساتھ گیا تھا، بازار گیا تھا، کسی شادی یا محفل سے واپس آنا تھا، وہ ابھی تک کیوں نہیں آیا؟گھر کے سب لوگ سو چکے تھے، مگر ایک بزرگ کی آنکھ دروازے پر لگی رہتی۔وہ کبھی صحن میں آتا۔کبھی دروازے تک جاتا۔کبھی گلی میں جھانکتا۔پھر واپس آ جاتا۔اور دل میں یہی کہتا:"بس خیر سے آ جائے۔"دور کہیں سائیکل کی گھنٹی سنائی دیتی تو دل چونک جاتا۔قدموں کی آواز آتی تو دروازے کی طرف نگاہ اٹھتی۔اور جب بالآخر وہ لڑکا دروازہ کھٹکھٹاتا تو اندر سے ایک نیم غصے، نیم محبت بھری آواز آتی:"اتنی دیر کردی! گھر میں کسی کو فکر بھی ہے یا نہیں؟"
لڑکا شاید مسکرا کر اندر آ جاتا۔گھر کے دوسرے لوگ اپنی نیند میں مگن رہتے۔کسی کو اندازہ بھی نہ ہوتا کہ اس کی واپسی کا انتظار کون کر رہا تھا۔یہی تو تھا پرانے گھر کا اصل "سکیورٹی سسٹم"۔نہ کوئی الارم۔نہ سینسر۔نہ کیمرہ۔صرف ایک ذمہ دار انسان کی بیدار آنکھ۔پرانے گھر کی رات میں ذمہ داری تقسیم نہیں ہوتی تھی، احساس تقسیم ہوتا تھا۔
آج ہم اپنے گھروں میں ہر کام کو کسی نہ کسی مشین، ایپ، سوئچ یا خودکار نظام کے حوالے کر چکے ہیں۔مگر پہلے گھر کا نظام مشینوں سے نہیں، لوگوں کی عادتوں اور ذمہ داری کے احساس سے چلتا تھا۔کوئی چیز اپنی جگہ پر نہ ہو تو کسی کو معلوم ہوتا تھا۔پانی کم ہو تو کسی کو فکر ہوتی تھی۔بتی جل رہی ہو تو کسی کی نظر پڑ جاتی تھی۔دروازہ کھلا ہو تو کسی کے دل کو سکون نہیں ملتا تھا۔اور گھر کا کوئی فرد باہر ہو تو کسی کی نیند مکمل نہیں ہوتی تھی۔خاص طور پر گھر کے بزرگ کا یہ اصول بڑا مضبوط تھا:"جب تک سب ٹھیک نہ ہو، سونا نہیں۔"
وہ بزرگ گھر کے آخری آدمی نہیں ہوتے تھے۔وہ دراصل گھر کے "آخری نگہبان" ہوتے تھے۔
آدھی رات کا لائلپور-یہ سب کچھ اُس لائلپور کی راتوں کا حصہ تھا جہاں شہر ابھی اپنے جدید شور سے بہت دور تھا۔گھروں کی دیواریں اینٹوں کی تھیں۔دروازے لکڑی کے تھے۔چھوٹے چھوٹے روشن دان تھے۔صحن گھروں کی زندگی کا مرکز تھے۔گرمیوں میں لوگ چھتوں پر چارپائیاں بچھاتے تھے۔کسی کے پاس ہاتھ کا پنکھا تھا، کسی کے پاس کپڑے کا بنا پنکھا، کسی کے پاس صرف یہ امید کہ رات کو ذرا سی ہوا چل جائے۔کسی چھت پر بچے سو رہے تھے۔کسی چھت پر عورتیں آخری باتیں کر رہی تھیں۔کسی صحن میں مٹی کا گھڑا رکھا تھا۔کسی کمرے میں لالٹین کی مدھم روشنی باقی تھی۔اور کسی گلی کے آخری گھر میں ایک بزرگ ابھی تک جاگ رہا تھا۔رات کافی گزر چکی ہوتی۔شہر خاموش ہوتا۔دور کہیں کسی کتے کے بھونکنے کی آواز آتی۔کبھی کسی سائیکل کی گھنٹی سنائی دیتی۔کبھی کسی دیر سے واپس آنے والے مسافر کے قدموں کی چاپ۔اور ان سب آوازوں کے درمیان پرانے گھر کے اندر ایک خاموش نظام چل رہا ہوتا:دروازہ بند ہے؟کُنڈی لگی ہے؟تالا ٹھیک ہے؟چولہا بجھا ہے؟پانی بھرا ہے؟نل بند ہے؟باہر کی بتی بجھی ہے؟برتن دھلے ہیں؟
بچہ سو گیا ہے؟باہر گیا ہوا بیٹا واپس آیا ہے؟صبح کے لیے پانی موجود ہے؟میٹر کی ریڈنگ ٹھیک ہے؟اور آخر میں:"اب سو جائیں۔ سب خیریت سے ہیں۔"یہ جملہ شاید کبھی بولا نہیں جاتا تھا، مگر گھر کے بزرگ کے آخری چکر کا یہی مطلب ہوتا تھا۔اس نائٹ چیک میں محبت بھی تھی، تربیت بھی۔آج ہمیں وہ چیکنگ محض احتیاط محسوس ہوتی ہے۔مگر دراصل یہ ایک خاموش تربیت بھی تھی۔بچے دیکھتے دیکھتے سیکھتے تھے کہ گھر صرف وہ جگہ نہیں جہاں ہم سوتے ہیں۔گھر ایک ذمہ داری ہے۔گھر کا دروازہ بند کرنا بھی ذمہ داری ہے۔پانی بچانا بھی ذمہ داری ہے۔چولہا بجھانا بھی ذمہ داری ہے۔گھر والوں کی واپسی کا انتظار کرنا بھی ذمہ داری ہے۔بزرگ کا کام صرف یہ نہیں تھا کہ وہ سب کو ڈانٹے۔وہ خود کام کرکے دکھاتا تھا۔برتن باقی رہ گئے تو خود دھو دیے۔نل کھلا رہ گیا تو خود بند کیا۔چادر ہٹ گئی تو خود درست کردی۔دروازہ چیک کیا۔پانی بھر دیا۔اور کسی کے انتظار میں جاگنا پڑا تو جاگتا رہا۔یہی وجہ تھی کہ گھر کے بچے بڑے ہو کر بھی گھر کے کام کو محض "کسی اور کی ذمہ داری" نہیں سمجھتے تھے۔وہ جانتے تھے:رات کے آخری چکر میں سب کا حصہ ہے۔
آج کے زمانے میں "نائٹ چیک" کہاں گیا؟اب دروازہ ریموٹ سے بند ہو سکتا ہے۔
بتی خودکار طریقے سے بند ہو سکتی ہے۔پانی کی موٹر ٹائمر سے چل سکتی ہے۔کیمرہ گھر کے باہر کی خبر دے سکتا ہے۔موبائل ایک بٹن سے بتا سکتا ہے کہ کون کہاں ہے۔مگر ایک چیز اب بھی کسی مشین کے پاس نہیں:گھر کے بزرگ کی وہ بے غرض فکر۔وہ فکر جس میں کوئی تنخواہ نہیں تھی۔کوئی ڈیوٹی روسٹر نہیں تھا۔کوئی الاؤنس نہیں تھا۔کوئی تعریف نہیں تھی۔صرف ایک احساس تھا:"یہ میرا گھر ہے، اس کے سب لوگ میرے ذمہ ہیں۔"
اسی لیے پرانے زمانے کے گھروں کی راتیں آج سے مختلف تھیں۔وہاں اندھیرا زیادہ تھا، مگر اپنائیت بھی زیادہ تھی۔سہولتیں کم تھیں، مگر توجہ زیادہ تھی۔روشنی کم تھی، مگر ایک دوسرے کے لیے انتظار زیادہ تھا۔اور شاید اسی لیے اُس زمانے میں ایک بزرگ کا رات کا آخری چکر پورے گھر کو یہ احساس دے دیتا تھا کہ:"سب سو جاؤ، گھر جاگ رہا ہے۔"
آدھی رات کا لائلپور — وہ وقت جب گھر سو جاتے تھے، مگر ایک دل جاگتا رہتا تھا۔
پرانے لائلپور کی راتوں میں بہت کچھ ایسا تھا جو اب تقریباً ختم ہو چکا ہے۔چھتوں پر بچھی چارپائیاں۔مٹی کے گھڑے کا ٹھنڈا پانی۔ہاتھ کے پنکھے۔صحن میں بچھے بستر۔کھلے روشن دان۔لالٹین کی مدھم روشنی۔گلی میں آہستہ آہستہ بجھتے قدم۔اور سب سے بڑھ کر…
گھر کے ایک بزرگ کی وہ آواز:دروازہ دیکھا؟" "پانی بھر لیا؟" "چولہا بجھا دیا؟" "باہر کی بتی بند ہے؟""اور… بیٹا ابھی تک کیوں نہیں آیا؟"پھر سب کچھ ٹھیک ہونے کے بعد وہ شخص بھی آخرکار اپنے بستر پر جاتا۔گھر میں گہری خاموشی اترتی۔چھت پر سوئے بچوں کی سانسوں کی آواز آتی۔کہیں مچھر دانی ہل رہی ہوتی۔کہیں چارپائی کی رسی چرچراتی۔کہیں دور سے ریل گاڑی کی دھیمی سی آواز آتی۔اور لائلپور کی رات ایک اور دن کو اپنے اندر سمیٹ لیتی۔یہ تھا پرانے گھر کا "نائٹ چیک"۔اور شاید یہی وہ چھوٹی سی روایت تھی جس نے بڑے بڑے گھروں کو صرف اینٹوں اور لکڑی کا مجموعہ نہیں بننے دیا تھا۔انہیں "گھر" بنایا تھا۔آدھی رات کا لائلپور صرف ایک شہر کی رات نہیں تھی؛یہ ایک ایسے گھرانے کی کہانی تھی، جس میں سب سو سکتے تھے، مگر گھر کا ذمہ دار بزرگ تب تک نہیں سوتا تھا جب تک اسے یقین نہ ہو جائے کہ سب خیریت سے ہیں۔یہی تھی گھر کی آخری گنتی۔اور شاید محبت اور ذمہ داری کی بھی-
سنا ہے تیری محفل میں رتجگہ ہے!
جب ایک گھر کی خوشی، پورے محلے کی خوشی ہوا کرتی تھی-
لائلپور کی راتوں نے ایسے ایسے تہوار، میلوں اور بیاہ شادیوں کے دن دیکھے ہیں جن کا تصور آج کی نسل شاید پوری طرح نہ کر سکے۔وہ زمانہ کچھ اور تھا۔شادی صرف ایک گھر کا معاملہ نہیں ہوتی تھی۔نہ مہمانوں کی فہرست بنتی تھی، نہ دعوت ناموں کی گنتی ہوتی تھی، نہ یہ سوال اٹھتا تھا کہ کس کو بلانا ہے اور کس کو نہیں۔محلے کے کسی ایک گھر میں شادی ہوتی تو گویا پورے محلے کے گھر میں شادی ہو گئی۔جس نے سن لیا، وہ شریک ہو گیا۔
جس کا دل چاہا، آ گیا۔جو دور کا رشتہ دار تھا، وہ کئی دن پہلے ہی آ پہنچتا، اور جو پڑوسی تھا، اسے کسی دعوت کی ضرورت ہی نہیں ہوتی تھی۔وہ جانتا تھا کہ اس گھر میں شادی ہے،اس لیے اس گھر میں اس کا بھی حق ہے، اس کی بھی ذمہ داری ہے اور اس کی بھی خوشی ہے۔یہی تو وہ زمانہ تھا جب لائلپور کے محلے صرف گلیاں نہیں، ایک دوسرے سے جڑے ہوئے خاندان ہوا کرتے تھے۔شادی سے پہلے ہی گھر آباد ہو جاتا تھا-شادی کی تاریخ جوں جوں قریب آتی، گھر میں رونق بڑھنے لگتی۔دور دراز کے رشتہ دار کئی دن پہلے پہنچ جاتے۔ کوئی چارپائی سنبھال لیتا، کوئی صحن میں بستر بچھا لیتا، کوئی بچوں کو ساتھ لے کر آتا اور کوئی مدد کے لیے ایک آدھ دن پہلے ہی پہنچ جاتا۔صبح سے رات تک گھر میں لوگوں کی آمد و رفت لگی رہتی۔پھر وہ پرانے لائلپور کے گھر!آج کے چھوٹے چھوٹے گھروں اور محدود جگہوں میں رہنے والوں کے لیے شاید اس زمانے کے گھروں کا تصور بھی عجیب ہو۔بڑے بڑے دروازے۔کشادہ ڈیوڑھیاں۔لمبے چوڑے صحن۔ دروازے سے اندر داخل ہوں تو یوں محسوس ہوتا جیسے گھر ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔مردان خانہ کہیں، زنان خانہ کہیں۔اور درمیان میں اتنا بڑا صحن کہ ایک طرف کئی عورتیں کام کر رہی ہیں، دوسری طرف بچے کھیل رہے ہیں، کہیں چارپائیاں بچھی ہیں اور کہیں دیگیں چڑھی ہوئی ہیں۔ان وقتوں کے گھروں کے صحن میں ایک گھنا شیشم یا شہتوت کا درخت ہوتا تھا۔اس کا سایہ صرف دوپہر کی دھوپ سے بچانے کے لیے نہیں ہوتا تھا۔شادی بیاہ کے دنوں میں وہ درخت بھی جیسے اس جشن کا حصہ بن جاتا تھا۔اسی کے نیچے مٹی کا "تنور" گاڑ دیا جاتا۔
تنور میں ہر وقت "تاؤ"(حرارت) رہتا۔آگ کبھی پوری طرح بجھتی ہی نہیں تھی۔روٹیاں پکتی رہتیں۔سالن کے دیگچے چڑھے رہتے۔ایک شخص ابھی کھانا کھا رہا ہے، دوسرا کچھ دیر بعد بیٹھ رہا ہے، کوئی رات گئے آیا ہے، اسے بھوک لگ گئی تو اس نے خود روٹی لی اور سالن کے ساتھ کھانا شروع کر دیا۔نہ کھانے کا کوئی مقرر وقت تھا، نہ کسی نے کسی کو روکنا تھا۔جسے جب بھوک لگی، وہ کھانے میں شریک ہو گیا۔شادی کا گھر صرف دولہا دلہن کا گھر نہیں ہوتا تھا، وہ چند دنوں کے لیے ایک ایسی دنیا بن جاتا تھا جہاں زندگی چوبیس گھنٹے جاری رہتی۔رات ڈھلتی، محفل جاگ اٹھتی۔دن بھر کی مصروفیات کے بعد جب عشاء کی نماز ہو جاتی، تب اصل محفلوں کا وقت شروع ہوتا۔عورتیں اپنے کام سمیٹ کر ایک جگہ جمع ہونے لگتیں۔کہیں ڈھولک نکل آتی۔کہیں تالیوں کی لے شروع ہو جاتی۔کسی نے گیت چھیڑا تو دوسری آواز نے اس کا ساتھ دے دیا۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سادہ سا صحن ایک زندہ، جاگتی ہوئی محفل میں بدل جاتا۔شادی کے گیت ۔ بولیاں۔ہنسی مذاق۔نوک جھونک۔پرانے قصے۔کسی کی چھیڑ چھاڑ۔کسی کی برجستہ بات۔
اور پھر وہ گانے، جن میں صرف آواز نہیں، اس زمانے کی پوری زندگی بولتی تھی۔کبھی کوئی گا اٹھتا:ساقیا آج مجھے نیند نہیں آئے گی… “سنا ہے تیری محفل میں رت جگا ہے…”
ہو گاؤ ترانے من کے آشا آئی دلہن بن کے-ناچو ناچو من کی تال پہ،چھم چھم-پھر محفل میں کون چھوٹا اور کون بڑا؟اس کی کوئی تمیز نہیں رہتی تھی۔بڑی بوڑھیاں بھی جوانی کے دنوں کو بھول نہیں پاتیں۔کوئی ڈھولک کی تھاپ پر ہاتھ چلاتی۔کوئی شرارت سے اٹھ کھڑی ہوتی۔کوئی ہنستے ناچتے کمریا مٹکانے لگتی۔اور پھر پورا صحن قہقہوں سے بھر جاتا۔
وہاں کسی کو اس بات کی فکر نہیں ہوتی تھی کہ کون دیکھ رہا ہے۔نہ کوئی کیمرے کے سامنے اداکاری کرتا تھا اور نہ کسی کو تصویر خراب ہونے کی پریشانی ہوتی تھی۔جس کے جی میں جو آیا، اس نے کر دیا۔جس کے دل میں برسوں سے کوئی گیت تھا، اس نے گا دیا۔جس کے دل میں خوشی تھی، وہ ناچ اٹھی۔اور جس کے اندر کوئی دبی ہوئی تھکن یا دکھ تھا، شاید وہ بھی اس ہنسی، گیت اور شور میں کچھ دیر کے لیے نکل جاتا۔یہ صرف شادی کا جشن نہیں تھا۔یہ "زندگی کی بھڑاس نکالنے کا بھی ایک بہانہ تھا۔" گلی محلہ بھی سو نہیں پاتا تھا۔رات آہستہ آہستہ آدھی رات میں داخل ہو جاتی۔لیکن شادی والا گھر ابھی جاگ رہا ہوتا۔
پھر آدھی رات تک گلی محلے کے وہ عورتیں بھی آن پہنچتیں جو دن بھر اپنے کاموں میں مصروف رہتی تھیں۔کوئی دروازے پر آ کر آواز دیتی۔کوئی خاموشی سے صحن میں داخل ہو جاتی۔کوئی آتے ہی پوچھتا:“کھانا بچا ہے یا نہیں؟”اور جواب اکثر یہی ہوتا:“بہت ہے، آ جاؤ!”کہیں قورمہ پک رہا ہوتا۔کہیں نہاری۔کہیں سری پائے۔کہیں حلیم کی دیگ میں چمچہ چل رہا ہوتا۔نان،تافتان،شیرمال پوری اور حلوے کی خوشبو صحن سے نکل کر گلی تک پھیل جاتی۔اور میٹھے کا تو اپنا ہی جہان تھا۔ملائی کے دونے۔برفی۔جلیبیاں۔امرتی۔رس گلے۔چم چم اور جانے کتنی ایسی چیزیں جن کے نام سنتے ہی آج بھی پرانے وقتوں کی خوشبو محسوس ہونے لگتی ہے۔سب چیزیں گھر میں بنتیں،، مگر سب کے پیچھے ایک ہی جذبہ ہوتا:
خوشی کو اکیلے نہیں کھانا، بانٹنا ہے۔رت جگے صرف جاگنے کا نام نہیں تھے-آج “رت جگا” سن کر شاید ذہن میں صرف شادی سے پہلے کی ایک رسمی تقریب آتی ہو۔مگر اس زمانے کے رت جگے کچھ اور ہی ہوتے تھے۔یہ چند گھنٹوں کا پروگرام نہیں تھا۔یہ پوری رات کی زندگی تھی۔رات ڈھلتی تھی، گیت بدلتے تھے۔کچھ عورتیں تھک کر ایک طرف بیٹھ جاتیں۔کچھ کو پھر بھی نیند نہیں آتی۔بچے پہلے تو محفل میں گھومتے پھرتے، پھر کسی چارپائی یا گود میں سو جاتے۔اور بڑے…بڑے تو جیسے اس رات کو ختم ہی نہیں ہونے دینا چاہتے تھے۔کسی گھر سے ڈھولک کی تھاپ آ رہی ہوتی۔کہیں شہنائی کی آواز۔
کہیں گیت۔کہیں قہقہے۔اور گلی کے دوسرے گھروں کے لوگ بھی ان آوازوں سے واقف ہوتے۔شاید کوئی بوڑھا شخص کروٹ بدلتے ہوئے کہتا ہو:“لگدا اے، آج فلاں دے گھر ویاہ اے… اج تے رات لمبی اے!”اور پھر مسکرا کر دوبارہ لیٹ جاتا۔کیونکہ اس زمانے میں شادی کا شور بھی اکثر محلے کی اپنی خوشی سمجھا جاتا تھا۔ جب ایک بیٹی کی شادی پورے محلے کی ذمہ داری ہوتی تھی-مگر ان شادیوں کی سب سے خوبصورت بات صرف کھانا، گانا یا رت جگا نہیں تھا۔اصل خوبصورتی وہ انسانی رشتہ تھا جسے شاید آج سب سے زیادہ یاد کرنے کی ضرورت ہے۔جب کسی گھر میں بیٹی کی شادی ہوتی تو اس کے ماں باپ فکرمند نہیں ہوتے تھے۔جوں جوں شادی کا وقت قریب آتا، محلے کے لوگ اپنی اپنی حیثیت اور بساط کے مطابق کچھ نہ کچھ جہیز کا سامان لے کر آنا شروع کر دیتے۔کوئی برتن دے گیا۔کوئی بستر۔کوئی کپڑا۔کوئی چارپائی۔کوئی صندوق۔کوئی ضرورت کی چھوٹی بڑی چیز۔کسی نے نقد رقم دے دی۔کسی نے کہا:“میرے پاس یہی ہے، بیٹی کے کام آ جائے گا۔”اور پھر کبھی ایسا بھی ہوتا کہ جہیز کی ایک ہی چیز دو دو، تین تین یا اس سے بھی زیادہ ہو جاتی۔کیونکہ دینے والوں نے ایک دوسرے سے مشورہ نہیں کیا ہوتا تھا۔ہر شخص اپنے دل اور اپنی استطاعت کے مطابق کچھ لے آیا ہوتا تھا۔کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اس کا نام کہاں لکھا جائے گا۔کس نے کتنا دیا، اس کا حساب کون رکھے گا۔اور نہ ہی کسی نے اس انتظار میں ہاتھ روکا کہ پہلے کوئی باقاعدہ فہرست بنے۔بس ایک بیٹی کی شادی تھی۔اور پورا محلہ اس کا سہارا بن گیا تھا۔یہ وہ وقت تھا جب جہیز نمائش نہیں، ضرورت کی چیزیں اکٹھی کرنے کا ایک اجتماعی تعاون بھی ہوا کرتا تھا۔یہ فرق شاید سب سے زیادہ گہرا ہے۔ایک گھر کا دکھ بھی سب کا دکھ تھااسی معاشرتی زندگی کا دوسرا رخ بھی تھا۔
جس طرح کسی ایک گھر کی شادی پورے محلے کی خوشی ہوتی، اسی طرح کسی گھر کا غم بھی اکیلا نہیں رہتا تھا۔اگر کسی کے گھر کوئی مصیبت آ گئی، لوگ خود پہنچ جاتے۔کسی کو بلانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔کسی کے ہاں خوشی ہوئی تو لوگ شریک۔کسی کے ہاں دکھ آیا تو لوگ شریک۔شاید اسی لیے پرانے لائلپور کے محلے صرف اینٹوں، گلیوں اور مکانوں سے نہیں بنتے تھے۔وہ ایک دوسرے کی ضرورت سے بنتے تھے۔وہاں پڑوسی صرف ساتھ والے گھر کا آدمی نہیں ہوتا تھا۔وہ مشکل وقت کا رشتہ دار بھی ہوتا تھا۔آدھی رات کے لائلپور میں رت جگوں میں چھپی ہوئی تاریخ۔لائلپور کی اس زندگی کا بڑا حصہ کسی سرکاری ریکارڈ میں نہیں ملے گا۔کسی تاریخ کی کتاب میں شاید یہ تفصیل نہ ہو کہ کس صحن میں کس شیشم کے درخت کے نیچے تنور جلتا تھا۔کس شادی میں کتنی راتیں ڈھولک بجی۔
کس بوڑھی اماں نے کس گیت پر ٹھمکا لگایا۔کس بچے نے آدھی رات کو جا کر جلیبی مانگی۔
اور کس پڑوسی نے بغیر بلائے آ کر شادی کے گھر میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔یہ تاریخ کاغذوں میں محفوظ نہیں ہوئی۔یہ لوگوں کی یادوں میں محفوظ رہی۔اور شاید اب بھی کسی بوڑھے لائلپوری کے ذہن میں کہیں وہ رات زندہ ہو۔ایک کشادہ صحن۔شیشم یا شہتوت کا گھنا سایہ۔تنور میں دہکتی آگ۔پکتی ہوئی روٹیاں۔دیگوں سے اٹھتی خوشبو۔ملائی کے دونے۔جلیبیاں اور برفیاں۔چارپائیوں پر بیٹھے مہمان۔بچوں کی دوڑ۔ڈھولک کی تھاپ۔گیتوں کی آواز۔اور آدھی رات کے بعد بھی جاگتا ہوا پورا محلہ۔یہ سب کچھ کسی کتاب میں مکمل طور پر نہیں مل سکتا۔یہ نہ کسی تصویر میں پورا سما سکتا ہے، نہ کسی سرکاری دستاویز میں۔یہ صرف یادوں کے ان دریچوں میں ملتا ہے جہاں"آدھی رات کا لائلپور"
اب بھی جاگ رہا ہے۔جہاں کسی ایک گھر سے ڈھولک کی آواز آتی ہے…گلی کے لوگ آہستہ آہستہ جمع ہوتے ہیں…کوئی کھانا کھا رہا ہے، کوئی گیت گا رہا ہے…کوئی ہنس رہا ہے، کوئی ناچ رہا ہے…اور کسی کو اس بات کی فکر نہیں کہ رات کتنی گزر چکی ہے۔کیونکہ اس رات،ایک گھر میں شادی نہیں ہو رہی تھی۔پورا محلہ جاگ رہا تھا۔اور شاید لائلپور کی اصل پہچان بھی یہی تھی:کسی ایک گھر کی خوشی، سب کی خوشی تھی…اور کسی ایک گھر کا دکھ، سب کا دکھ۔یہی وہ زمانہ تھا جو کتابوں سے زیادہ،آدھی رات کے رت جگوں میں زندہ ہے۔