ہمارے عمر

مصنف : ابوبکر قدوسی

سلسلہ : سیرت صحابہؓ

شمارہ : جولائی 2026

سيرت صحابہ

ہمارے عمر

ابوبكر قدوسی

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں لیے کمرے سے باہر نکل آئے ، وصیتیں سن کر کہہ رہے تھے کہ عمر نے اپنے بعد آنے والوں کو مشکل میں ڈال دیا ۔ سیدنا علی کی مراد تھی کہ حکمرانی کا جو یہ معیار قائم کر گئے اب بھلا اسے برقرار رکھنا کوئی آسان ہے ۔ اب یہی دیکھئیے نا کہ خلیفہ بنے تو امانت و دیانت کا یہ عالم رہا کہ ریاست کی ملکیت ایک کھجور بھی خود پر حرام رکھی ۔

ایک صاحب کہ سرکاری ڈیوٹی پر ہوتے تھے ، ایک روز دور دراز سے سفر کر کے اپنی کارگزاری کی بپتا سنانے خلیفہ کے پاس آتے ہیں ۔ خلیفۃ المسلمین کے پاس بیٹھے ہیں ، گفتگو کر رہے ہیں تو ان کی مہمان نوازی کو سیدنا عمر نے بیت المال سے کچھ کھجوریں پیش فرمائیں  وہ صاحب کھا رہے ہیں اور کھاتے کھاتے سیدنا عمر کو کہتے ہیں کہ : " امیر المومنین ! آپ بھی تو کھائیے نا " سیدنا عمر نے دھیرے سے انکار کر دیا تو اس پر وہ صاحب بولے : " ہم تو بیت المال کے جانوروں کا دودھ بھی پیتے ہیں ، ان کی سواری بھی کرتے ہیں ، گوشت بھی کھا لیتے ہیں " تو آپ نے فرمایا کہ : " میرا اور تمہارا معاملہ الگ ہے تم لوگ بیت المال کے لیے محنت کرتے ہو ، صدقات کی وصولی کے لیے قریہ قریہ پھرتے ہو ، دھوپ اور موسم کی سختی برداشت کرتے ہو ، تم گویا ان جانوروں کی دم کے ساتھ لگے رہتے ہو ، تم اگر ان کے دودھ اور سواری سے فائدہ اٹھاؤ تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ لیکن میں یہاں مدینے میں بیٹھے بیٹھے یوں بیت المال کا مال کھانے کا کیا حق رکھتا ہوں".

اب خود ہی دیکھیے کہ لاکھوں مربع میل کا ایک حاکم خود پر بیت المال کی کھجور کا استحقاق نہیں سمجھتا تو کیا یہ حکمرانی کا مشکل ترین معیار نہیں؟ ۔عالم یہ تھا کہ اک بار بیمار ہو گئے اور بیماری میں طبیب نے آ کر دیکھا تو عرض کیا کہ : " حضور تھوڑا سا شہد کھائیے کہ آپ کے درد کا درماں اس میں رکھا ہے ۔۔" اب امیر المومنین اور خلیفۃ المسلمین کے گھر میں نہ تو شہد تھا اور نہ اتنی رقم کہ شہد خرید پاتے ۔ دوسری طرف بیت المال میں شہد کا ایک بڑا برتن بھرا پڑا تھا ، مگر عمر اس سے بلا اجازت استعمال کرتے تو کیسے کرتے کہ ان کی لغت میں یہ ناممکنات سے تھا۔ مسجد نبوی میں چلے آئے اور منبر پر بیٹھے ، لوگوں کو طلب کیا ۔ ممکن ہے لوگ اس گمان میں چلے آئے ہوں کہ امیر المومنین نے بلایا ہے کوئی معرکہ درپیش ہوگا کہ مشاورت چاہیے یا ریاست کا کوئی بڑا کام ہوگا ، سو مشورہ کرنا چاہتے ہیں ۔

اور یہاں امیر المومنین کہہ رہے ہیں کہ : " لوگو ! معاملہ یہ پیش آیا کہ طبیب نے کہا ہے شہد استعمال کر لو اور شہد بیت المال میں ہے میرے پاس موجود نہیں ۔ اگر آپ سب مجھے اجازت دیں تو میں استعمال کر لوں کیونکہ یہ تم لوگوں کا مال ہے یہ رعایا کا مال ہے آپ لوگوں کی اجازت کے بغیر میں کیسے استعمال کر سکتا ہوں ۔۔"

سیدنا عمر فاروق کی ریاست کے مال ، اور بیت المال کے اسباب کے لیے دیانت داری کے واقعات انسان کو حیران کر دیتے ہیں ۔ اب یہی دیکھئیے کہ ایک بار 10 ہزار درہم کی ضرورت آن پڑی تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف کو کہلا بھیجا ، انہوں نے معذرت کر لی اور ساتھ پیغام بھیجا کہ بیت المال سے لے لیجئے ۔ سیدنا عمؓر کو یہ بات اچھی نہ لگی لیکن بیت المال سے بھی رقم نہ لی ، جیسے تیسے اپنی ضرورت پوری کر لی یا صبر کر لیا ۔ایک روز راہ چلتے ان سے ملاقات ہو گئی شکوہ کیا اور کہا کہ :" عبدالرحمن ! آپ سے تو اس لیے مانگ لیے تھے کہ زندگی کی اس ڈور کا کیا پتہ کب کٹ جائے ، سو آپ میرے ورثاء سے یہ رقم مطالبہ کر کے حاصل کر سکتے ہیں اور اگر میں نے بیت المال سے لی اور اس بیچ میری موت آگئی تو مسلمانوں نے میرے ورثا سے [ میرے لحاظ میں ] کبھی مطالبہ نہیں کرنا ۔

اور وہ دن تو بہت عجیب تھا مدینے میں سخت گرمی پڑ رہی تھی ، چلچلاتی دھوپ تھی اور لوگ اپنے گھروں میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔ سیدنا عثمان غنی کا گھر تھوڑا فاصلے پر کھلی اور اونچی جگہ تھا ۔ بالا خانے پر بیٹھے دیکھا کہ ایک شخص تیز تیز یوں چلتا آ رہا ہے کہ گویا دوڑ رہا ہو ۔ خود کلامی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ " بھلا یہ شخص گھر میں آرام کرتا اس گرمی میں اچانک کیا ضرورت اس کو باہر نکال لائی " ۔چلچلاتی دھوپ میں بھاگنے والا مسافر قریب چلا آ رہا تھا ، اب سیدنا عثمان کی آنکھوں نے جب شناخت پائی تو سیدنا عثمان حیرت سے اٹھے ، باہر بھاگے اور کہا : " امیر المومنین ! کیا ہوا کہ آپ اس گرمی میں یوں تپتی ریتوں پر پھر رہے ہیں " فرمایا: " بیت المال سے دو اونٹ نکل گئے ہیں ان کو ڈھونڈ رہا ہوں کہ ایسا نہ ہو کہ گم ہو جائیں اور روز قیامت عمر کا مقدر گم ہو جائے میں بھلا کیا جواب دے پاؤں گا ۔۔ " سیدنا عثمان حیران و پریشان کہنے لگے کہ : " حضرت ! آپ آئیے ، تھوڑی دیر سائے میں بیٹھیے ، ٹھنڈا پانی پئیں ، میرے غلام تلاش کر دیتے ہیں " وہاں بھی عمر تھے وہ بھلا کہاں یہ بات مانتے ، رساں لہجے میں کہنے لگے کہ : " عثمان آپ کو اپنا یہ سایہ مبارک ہو ، بیت المال کے مال کی نگرانی میری ذمہ داری ہے ، سو یہ کام مجھے ہی کرنا ہے" سیدنا عثمان بے اختیار کہنے لگے۔ " من احب ان ینظر الی القوی الامین فلینظر الی ھذا " جو کسی مضبوط و قوی امانت دار کو دیکھنا چاہتا ہے تو سیدنا عمر کو دیکھ لے ۔واقعی سیدنا علی نے بے سبب تو نہیں کہا تھا کہ آپ نے اپنے بعد آنے والے خلفاء کے لیے بہت مشکل کر دیا سب کچھ ۔آج کوئی حکمران بنتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس کی سات نسلیں سنور گئیں ، ہوتا بھی یہ ہے کہ کمزور مالی حیثیت کے لوگ جب اقتدار کی ہوا کو بھی چھو جائیں تو ان کے رنگ ڈھنگ بدل جاتے ہیں ۔۔۔ لیکن یہاں کیا عالم تھا؟

ایک بار سیدنا عمر کے سسر کسی ضرورت کے تحت تشریف لائے اور کہا بیت المال سے مجھے اتنا قرض تو دے دیجئے ، سیدنا عمر نے ان کا مطالبہ سنا تو غصّے میں آگئے اور کہنے لگے کہ : " یہ بیت المال کا مال کیا میرے ذاتی تصرف کی شے ہے کہ میں اس کو اپنے اعزہ و اقارب پہ نچھاور کرنا شروع کر دوں ؟ " اور صاف چٹا انکار کر دیا پھر اپنے ذاتی وسائل سے جو ممکن ہو سکتا تھا ان کو رقم دی ۔اور بیت المال کے مال سے اپنی ذات اور اپنے گھر والوں کے تصرف کے معاملے میں تو ان کی احتیاط انتہا کو پہنچی ہوئی تھی ۔ ابو موسی اشعری کہ خود جلیل القدر صحابی رسول تھے ، ایک روز بیت المال کی صفائی کر رہے ہیں اور اس کے صفائی کے بیچ میں ایک درہم زمین پر گرا پڑا دیکھا -درہم کہ سب سے چھوٹی اکائی ، اکیلا ہو تو بے حیثیت ۔ اتفاق دیکھیے کہ اسی وقت سیدنا عمر کا ایک چھوٹا بچہ ادھر سے گزر رہا تھا ۔ ابو موسی نے چھوٹا بچہ جان کے درہم ان کے ہاتھ پکڑا دیا ۔ اب بچہ درہم پا کے خوشی خوشی گھر کو چلا ۔آگے ابا حضور کھڑے ہیں بچے کے ہاتھ میں درہم دیکھا تو چونک اٹھے پوچھا : " کہاں سے لیا ؟ " بچے نے ماجرا کہہ سنایا ۔ بچے کا بازو پکڑا ، گویا بھاگتے ہوئے بیت المال کو چل دیے ۔ ابو موسی ادھر ہی موجود تھے ، سیدنا عمر نے غصے سے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ،گویا تم چاہتے ہو کہ امت محمدیہ کا ہر ہر فرد [ روز قیامت ] اس ایک درہم کا مجھ سے سوال کرے ؟ ۔اور پھر وہ درہم اٹھا کر بیت المال کے اسباب میں رکھ دیا ۔

بات اعزہ و اقارب کی چل نکلی تو پھر سیدنا عبداللہ بن عمر کا یہ قصہ کیونکر ذکر نہ ہو ۔ اچھا پہلے عبداللہ بن عمر کو جان تو لیجیے کہ کیا نابغہ روزگار تھے ۔ عبداللہ کہ محض سیدنا عمر فاروق کے بیٹے ہی نہ تھے ، خود بھی عظیم الشان صحابی رسول ، اپنے وقت کے بڑے عالم تھے ، گویا باپ امیر المؤمنین تھا تو بیٹا امیر المؤمنین فی العلم تھا ۔ سیدنا عمر فاروق کہا کرتے تھے کہ میری ساری اولاد ، میرا مال ، میرا اسباب اور میرے عیال سب میری زندگی میں رخصت ہو جائیں تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ لوں گا لیکن میری خواہش ہے کہ عبداللہ میرے بعد بھی دیر تک جیئے کہ :جگ تے تو جیویں --تے تیری آس تے میں جیواں

لائق فرزند باپ کا فخر ہوتا ہے ، باپ کی طاقت ہوتی ہے اور باپ کا بازو ہوتا ہے ، اور عبداللہ محض عالم نہ تھے معاملہ فہمی میں بھی کمال کو پہنچے ہوئے تھے سو یہی سبب تھا کہ جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ زخمی ہو جاتے ہیں تو بعض اصحابِ رسول آپ کو یہ رائے بھی دیتے ہیں کہ :" عبداللہ کو خلیفہ نامزد کر دیجئے کہ ہماری نظر میں وہ اس کے اہل بھی ہیں اور ہم ان پر اعتماد بھی کرتے ہیں " ۔ ان کی یہ بات سیدنا عمؓر کے مزاج کے بھی خلاف تھی لیکن پھر بھی سیدنا عمر فاروق نے یہ کہا تھا کہ :" مجھ پر خلافت کا بوجھ پڑ گیا یہی کیا کم ہے کہ آل عمر کی گردنوں پر بھی دوسروں کا بوجھ دیا جائے ۔ ۔

یہاں تھوڑی دیر کے لیے رک جائیے ، عبداللہ بن عمر کا قصہ پھر بیان کرتے ہیں ، سوچیے ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے ؟ مذہبی سیاست ہو یا دنیاوی سیاست سب وراثت کا بٹوارا ہوئی پڑی ہیں ۔ یہ آپ کی قومی اسمبلی کے ممبران اور وزیر ، مشیر ، ان کے اکثر دادا ، پردادا بھی اسی اسمبلی کا حصہ تھے ۔ لیکن عبداللہ بن عمر کے لیے تجویز بھی پیش ہوتی ہے تو سیدنا عمر اس کو رد کرتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ امارت اور خلافت اعزاز نہیں ہے بلکہ جواب دہی ہے کہ روز قیامت ایک ایک فرد کا حساب دینا ہو گا کہ کسی سے زیادتی و ظلم تو نہیں ہو گیا ۔

ہاں تو اس روز قصہ یوں ہوا کہ عبداللہ دل خراب کر بیٹھے ، کہ بھلے جو بھی تھا عبداللہ اس خلیفہ کے بیٹے تھے کہ جن کی سلطنت آج کے سعودی عرب ، یمن ، کویت ، قطر ، متحدہ عرب امارات ، سلطنت عمان ، عراق ، شام، لبنان ،فلسطین،اردن ، مصر ، ایران اور اس کے علاوہ کئی ریاستوں پر پھیلی ہوئی تھی ۔۔ گویا دسیوں بادشاہتوں کے بادشاہ ۔ ایک روز مال غنیمت آیا تو تمام اہل مدینہ کو وظائف دیے گئے ۔ عبداللہ بن عمر کو کچھ کم ملا تو دل خراب کر بیٹھے ، پاس سے یاروں نے بھی کہا ۔۔ " ہاں نا یار ، یہ بھلا کیا بات ہوئی۔۔۔۔۔" سو دکھی دل سے ابا کے پاس آئے ۔۔ شکوہ کیا کہ : " مجھے تو آپ نے اسامہ بن زید سے بھی نیچے رکھ چھوڑا ، ان کو بھی دو ہزار دینار بھیجے اور مُجھے صرف ڈیڑھ ہزار " سیدنا عمر نے گویا محبت پاش نگاہوں سے محبوب بیٹے کو دیکھا: " جان پدر ! میں نے اپنی محبت کو پیچھے رکھ چھوڑا اور رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو ترجیح دی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ اسامہ بن زید کو تم سے زیادہ پیار کرتے تھے ، سو لازم تھا کہ محبت رسول سے عمر کی محبت سے بڑھ کر پیار کیا جائے اور ترجیح دی جائے " ۔

عمر کہ عمر بھر رسول کی محبتوں کی بنیاد پر فیصلے کرتے رہے ، آپ کے غلام اسلم بیان کرتے ہیں کہ : " جب جب کوئی عمدہ پھل آتے اور امیر المومنین کا جی چاہتا کہ کھایا جائے تو سب سے پہلے امہات المؤمنین ، ازواجِ مطہرات کے حصے کے برتن بناتے اور پھر باری باری ان کے گھر بھجواتے لیکن ۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہلیہ کا حصہ روکے رکھتے ، اور جب سب کا حصہ ان کو بھیج دیتے تو پھر آخر میں ان سیدہ کو بھیجتے " ۔ جانتے ہیں وہ کون تھیں اور کیوں ان کی باری آخر میں آتی ؟؟ ۔حالانکہ وہ بھی تو ام المؤمنین تھیں ، مومنوں کی ماں تھیں لیکن وہ خود سیدنا عمر کی بیٹی بھی تھیں ، یہ سیدہ حفصہ تھی ، جن کو سب سے آخر میں حصہ دیا کرتے ۔ اسلم کہتے ہیں کہ اس عمل سے سیدنا عمر فاروق کا مقصود یہ ہوتا کہ اگر کچھ نقصان ہوتا ہے اور کم رہ جاتا ہے تو وہ اپنی بیٹی کے حصے میں آئے دوسری امہات کو ایک ذرہ بھی کم نہ جائے ۔۔

کوئی ایک بات ہو تو بیان کیجیے ، کوئی ایک قصہ ہو تو کہیے ۔۔ایک روز فیصلہ کیا کہ جو اول اول مہاجرین تھے یقیناً وہ معزز و مکرم بھی بڑھ کے تھے سو ان سب کا وظیفہ مقرر کر دیا جائے ۔ ہر ایک کے حصے میں چار ہزار درہم آئے اور عبداللہ بن عمر کی باری آئی تو ان کو ساڑھے تین ہزار دیے ۔ کسی نے سوال کیا کہ حضرت سب کو چار ہزار اور عبداللہ کو ساڑھے تین ہزار ، یہ بھی تو اولین مہاجروں میں سے تھے ان کو پانچ سو کم کیوں دیے ۔ تو سلطنتوں کے بادشاہ نے کہا تھا کہ : " عبداللہ نے تو اپنے ماں باپ کے ساتھ ہجرت کی تھی" یعنی احتیاط اور دیانت کا یہ عالم ہے کہ اپنے بیٹے کی ہجرت کو اپنی ہجرت کے تحت شمار کیا اور ان کا حصہ کم کر دیا۔۔پھر یہی عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں ۔کہ وہ جلولاء کی جنگ میں شریک ہوئے کہ جو 16 ہجری کو سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کی امارت میں لڑی گئی اور ایرانیوں کو شکست دی گئی۔ اس تاریخی جنگ سے مجاہدین واپس لوٹے تو بے بہا مال غنیمت ساتھ تھا ۔ اسی مال غنیمت میں بہت سی بکریاں بھی تھیں جو چالیس ہزار درہم میں عبداللہ بن عمر نے خرید لیں ، اب یہ کیسے ہو کہ اتنا اسباب امیر المومنین کے بیٹے کے گھر میں آئے اور امیر المومنین چپکے پڑے رہیں ؟ ۔۔ مال و اسباب سے بے نیاز عمر کہاں برداشت کرتے ، سو عبداللہ بن عمر کے پاس جا پہنچے ۔محبت سے پاس بلایا اور کہا :" عبداللہ ! اگر مجھے آگ میں ڈال دیا جائے اور تم سے پوچھا جائے کہ : ہاں بھئی عبداللہ ! اپنے باپ عمر کو فدیہ دے کر چھڑوا لے جاؤ ، تو کیا تم مجھے اس آگ سے آزاد نہ کرواؤ گے ؟

عبداللہ کی جانے بلا کہ کاہے کی تمہید باندھی جا رہی ہے ۔ اور عبداللہ کہ صاحبِ علم ہی نہ تھے صاحبِ تقوی بھی تھے ، اپنے وقت کے امام ، بے ساختہ کہا :" اللہ کی قسم ! میں تو آپ کو ہر ہر اذیت دینے والی چیز سے چھڑانے کے لیے اپنے مال اور اپنی جان کا صدقہ بھی دے دوں " سیدنا عمر کا چہرہ گویا دمک اٹھا ایسے ہی تو نہیں کہا تھا عبداللہ كے بارے کہ " عبداللہ جیتا رہے ، میری عمر جیتا رہے " ۔ عبداللہ کا جواب سنا تو امیر المومنین نے بیٹے کو کہا کہ : " عبداللہ ! وہ جو بکریاں تم جلولاء سے خرید کے لے آئے ہو میں نہیں سمجھتا کہ تم کو ان کی درست قیمت ادا کرنی پڑی ہے ، لوگوں نے تمہیں اس لیے رعایت کی کہ رسول اللہ کے قریبی صحابی کے بیٹے بھی ہو ، امیر المومنین کے فرزند بھی، سو انہوں نے تم کو بہت سستا مال دیا ہے ۔ میں مسلمانوں کا امیر ہوں اور میری ذمہ داری ہے اس لیے میں تمہاری ان بکریوں کو ازسر نو بازار میں نیلام کے لیے رکھوں گا اور تم کو اتنا ہی نفع دوں گا جتنا مدینے کے دوسرے تاجروں کو حاصل ہوا ہے ۔ پھر سیدنا عبداللہ بن عمر کی تمام بکریاں بازار میں پیش کی گئیں اور فروخت کے بعد ان کا اصل زر ان کو واپس کر دیا گیا اور دوسرے تاجروں سے پوچھا گیا کہ ان کو کتنے فیصد نفع حاصل ہوا ہے سو اسی شرح سے نفع عبداللہ کو دیا گیا ۔ اب جو رقم بچ رہی وہ تمام مجاہدین میں برابر تقسیم کر دی گئی ۔۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

کل آپ نے محبت رسول کی بات پڑھی کہ کس طرح سیدنا عمر اپنی محبتوں پر رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبتوں ترجیح دیا کرتے ، تو اس روز بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔ ہوا یوں کہ عراق فتح ہوا اور مال غنیمت مدینے میں آیا ، اس میں موتیوں کی ایک خوبصورت ڈبیا بھی تھی ۔ اب موتی بھلا تقسیم ہوں تو کیونکر ؟ ۔موتی توڑا گویا دل توڑا ، سو سیدنا عمر نے دائیں بائیں بیٹھے اصحابِ رسول سے کہا کہ : " اگر آپ سب لوگ اجازت دیں تو میں اس ڈبیا کو ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ [ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ] کو بھجوا دوں کہ وہ رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھیں ۔ اصحاب رسول کہ رسول مکرم ﷺ کی خوشی میں خوش ، رسول ﷺ کے غم سے غمزدہ ، رسول ﷺ کے اشارہ ابرو پر جان قربان کرنے والے ، سو رسول ﷺ کی محبتوں کا ذکر آتا تو انکار کی مجال کسے ، انکار کون کرے ؟؟ ۔سب نے کہا کہ " ضرور ایسا ہی کیجیے" ۔ سو سیدنا عمر فاروق نے موتیوں کی وہ ڈبیا ام المومنین سیدہ عائشہ کو بھجوا دی۔ اب دیکھیے کہ خود سیدنا عمر کی اپنی بیٹی بھی ام المومنین تھیں ، لیکن ان کو علم تھا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اولین محبت سیدہ عائشہ ہیں ۔لیکن اپنے رشتوں کے حوالے سے تو وہ سوچ ہی نہیں سکتے تھے کہ کچھ اضافی سلوک کیا جائے یہی سبب ہے کہ ایک بار سیدنا عمر کے پاس کچھ مال آیا ، ام المومنین سیدہ حفصہ بھی خبر پا کر چلی آئیں اور فرمایا کہ : " اللہ تعالی نے اعزہ و اقارب کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور میں بھی تو آپ کی بیٹی ہوں آپ کے اقربا میں سے ہوں " لیکن دوسری طرف بھی زمانے کا عالی دماغ عمر تھے ۔ فرمانے لگے :؛" یقیناً اعزہ و اقارب کے ساتھ حسن سلوک کا حکم ہے لیکن ان کا حق میرے ذاتی مال پر تو ہو سکتا ہے یہ تو امت کا مال ہے جو بیت المال میں جائے گا اور سب کے حصے میں آئے گا سب کا حق ہوگا بطور عزیز تمہارا کوئی حق نہیں ہے " ۔ پھر کسی درجہ ڈانٹتے ہوئے کہا افسوس تم نے اپنے باپ کو ہی ورغلانا چاہا میرے پاس سے چلی جاؤ ۔۔۔" اب وہ بھی دیکھیے کہ ایک بار مال غنیمت میں عالی شان قسم کے حلے [ لباس کی ایک قسم جس میں تہہ بند اور اوپری چادر ایک ہی رنگ کی ہوتی ہے ] آئے اور آپ نے وہ سب تقسیم کر دیے لیکن ایک بہترین اور قیمتی حلہ بچ گیا ۔ سیدنا عمر فرماتے ہیں کہ : " یہ میں اس شخص کو دوں گا کہ جو خود بھی مہاجر ہو اور اس کا باپ بھی مہاجر ہو "

پاس بیٹھے لوگوں نے سنا تو کہنے لگے " یہ عبداللہ بن عمر کو دے دیجیے کہ وہ اس صفت پر پورے اترتے ہیں انہوں نے بھی ہجرت کی تھی اور آپ نے بھی ہجرت کی" ۔ سیدنا عمر فاروق بے ساختہ کہنے لگے کہ : " نہیں نہیں میں نے اپنا خاندان تو مراد نہیں لیا تھا اس کے حقدار سعید بن عتاب ہیں ۔" اور یوں یہ عالی شان حلہ سیدنا عتاب کو دے دیا ۔

ایک روز سیدنا عمر نے چاہا کہ بیت المال سے وظیفہ پانے والوں کی ایک فہرست مرتب کر دی جائے سو اس واسطے ایک رجسٹر وہاں رکھوا دیا اب مرحلہ تھا کہ اس ترتیب سے لکھا جائے۔ جب کبھی کسی خاندان کا کوئی بڑا بلند منصب پر چلا جاتا ہے تو اس کے خاندان کے لیے گویا وہ باعثِ فخر ہو جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے منصب سے امیدیں بھی بندھ جاتی ہیں اور آس ہو جاتی ہے کہ کبھی کسی وقت ہمیں کوئی ضرورت آن پڑی تو اس منصب سے ہمیں نفع حاصل ہوگا ۔ سو اس روز بھی یہی ہوا کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے قبیلہ " عدی" کے کچھ لوگ آپ کے پاس چلے آئے اور آ کے کہنے لگے کہ : " اپ تو رسول مکرم کے خلیفہ ہیں ، ابوبکر صدیق کے جانشین ہیں تو اپنا نام بطور امیر المومنین سب سے اوپر کیوں نہیں لکھتے " لامحالہ اگر سیدنا عمر کا نام بطور امیر المومنین سب سے اوپر لکھا جاتا تو پھر ان کے متعلقین کا نام بھی ان کے ساتھ لکھا جاتا ۔ جیسے آج کل آپ " نادرا " کے دفتر میں شناختی کارڈ یا اپنے خاندان کے کوائف کا اندراج کرواتے ہیں تو جب سربراہ کا نام لکھا جاتا ہے تو اس کے نیچے اس کے اہل خانہ اور خاندان کا نام درج ہوتا ہے سو اسی سبب قبیلہ عدی کے لوگوں نے چاہا کہ سیدنا عمر کا نام سب سے اوپر لکھا جائے اور سیدنا عمر تو گویا اڑتی چڑیا کے پر گن لیتے تھے ، مومن کی بصیرت کی گویا انتہا تھے ، پل بھر میں جان گئے کہ یہ کیا چاہتے ہیں ۔ غصے سے بولے کہ : " تم چاہتے ہو کہ سب سے پہلے میرا نام آئے اور میری وجہ سے تم لوگوں کی بھی شروع کے لوگوں میں حصہ داری ہو جائے ۔خدا کی قسم ! ایسا نہیں ہوتا ہو سکتا تمہارا نام تب لکھا جائے گا جب تمہاری باری آئے گی چاہے رجسٹر اور دفتر کے آخری فرد تم ہی کیوں نہ ہو " ۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرکاری مال میں اپنی اور اپنی ذات کے لیے اس قدر احتیاط کرتے تھے کہ شاید ہی کوئی اس معیار پر پورا اتر پائے ۔ ایک بار بحرین سے کچھ خوشبو آئی جو مشک اور عنبر پر مشتمل تھی ، گھر بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ" کوئی سمجھدار خاتون ہوتی تو اس کو میں کہتا کہ اس خوشبو کو یکساں وزن کر کے مسلمانوں میں برابر بانٹ دے " ۔ آپ کی اہلیہ سیدہ عاتکہ پاس بیٹھی تھیں ، سنا تو کہنے لگیں کہ : " مجھے دیجئے میں اچھے طور پر اس کو وزن کر کے برابر بانٹ دیتی ہوں " اس پر سیدنا عمر کہنے لگے : "نہیں تمہیں اس کی اجازت نہیں ؟".وہ کچھ حیران ہو کے کہتی ہیں کہ : " ہیں ! مجھے کیوں نہیں "۔اب سیدنا عمر کی احتیاط دیکھیے ، کہتے ہیں : " تم اگر وزن کرو گی تو خوشبو تمہاری انگلیوں کو بھی لگے گی اور بھلے تم اس کو صاف کرنے کے لیے اپنے کپڑوں یا گردن پر مل لو تو کچھ نہ کچھ حصہ تمہیں زیادہ آ جائے گا اور یہ مجھے اپنے اہل خانہ کے لیے ہرگز پسند نہیں "۔

میں نے پہلے لکھا نا کہ سیدنا علی نے بے سبب نہیں کہا تھا کہ : " عمر آپ نے اپنے بعد آنے والے خلفاء کو بہت مشکل میں ڈال دیا ۔۔"

سلطنتوں کا مالک ، لاکھوں مربع میل کا حکمران ، اور مدینے میں بیٹھ کر ہزاروں میل دور مملکت کے ایک ایک گوشے کے معاملے پر نظر لیکن اس کے باوجود عالم یہ تھا کہ چھوٹی سے چھوٹی شے کا بھی پورا پورا حساب ۔۔ایک بار کہیں سے عود چلا آیا ، یہ اتنا کم تھا کہ مدینے کے لوگوں میں اس کی تقسیم مشکل تھی ۔ ذہانت کے بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ اس کو خانہ کعبہ بھجوا دیا جائے ، اور بیت اللہ شریف کو خوشبو سے خوب بسا دیا جائے اور پھر سب مسلمان اس خوشبو سے یکساں مستفید ہوں ۔ مسند احمد میں روایت ہے کہ سیدنا عمر نے ایک بار تین بار قسم کھا کر فرمایا : " کہ کوئی شخص اس مال کا کسی دوسرے سے زیادہ حقدار نہیں اور خدا کی قسم میں خود بھی کسی سے زیادہ حقدار نہیں ہوں مسلمانوں کا ہر ہر فرد اس مال میں برابر کا حصے دار ہے "  

کم کم ہوں گے کہ جو رات کو نکلتے تھے ، دبے پاؤں چلتے تھے ، کبھی غصہ جو کھا جاتے تھے اور گاہے مسکرا کے بات کرتے تھے ....تاریخ نے ان کو سب سب لکھ لیا ، وہ بھی ایسے ہی تھے - حکمران ایسے کہ آدھ دنیا کی حکومت پاؤں تلے دھری رہتی تھی اور خود کسی پتھر کو سرہانہ بنا سو رہتے تھے - اس دن بھی تو ایسا ہی ہوا تھا کہ دور سمندروں سے ورے ، ہاں دور پار کا پردیسی آیا - پہلے تو مدینے کو دیکھ کے حیران تھا کہ : یہ وہ کچی بستی ہے کہ جس کے مکین ہم پر راج کرتے ہیں ، جس کے ہم باج گزار ہیں ، ہم کہ لرزتے ہیں اور یہ کہ جزیہ لیتے ہیں ۔۔پھر پوچھتا پوچھتا مسجد نبی تک آن پہنچا - آدھی دنیا کے حاکم کا پوچھا کہ دربار کہاں ہے؟ "اکھیاں" پھٹ نہ جاتی تو کیا کرتیں ؟اس کو عادت کہ قیصر کے دربار کو دیکھ دیکھ عمر گذری ، یہاں یہ جواب کہ کون سا دربار ، کہاں کا دربار ؟؟کوئی دربار وربار نہیں بھائی ادھر ...جب نماز کو آتے ہیں تو ادھر ہی بیٹھ جاتے ہیں اور تم لوگوں کی قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں -"اچھا ابھی ملیں گے کہاں ؟" حیرتوں کے بیچ اس نے پوچھا -

"مدینے کے جوار میں نکل جاؤ ، دوپہر ڈھل رہی ہے کسی دیوار کے سائے میں آرام کرتے مل جائیں گے "پردیسی بستی کو دیکھنے اور خلیفہ کو کھوجنے نکلا - ایک دیوار تلے پتھر کو سرہانہ بنائے ایک طویل القامت ، بہت خوب صورت سا انسان آرام کر رہا تھا - ایک گذرنے والے نے ہولے سے اشارہ کیا کہ۔۔۔یہ رہی تمھاری تلاش

بڑھیا کی عمر بیت چلی تھی ، مسافر نے احوال پوچھے ، رو دی - بڑھاپے کا سیاپا کرنے لگی - کچھ حالات کی خرابی اور کچھ شکوے کرنے کی عمر - سب جگ سے ناراض بڑھیا داستان لے بیٹھی - مسافر نے تحمل سے داستان سنی ، واپس مدینے آیا اور مقدور بھر سامان خورو نوش لیا - کندھے پر رکھا ، ساتھ غلام چلا اصرار کہ" سامان مجھے دے دیجئے ، اٹھائے لیتا ہوں "

ادھر اک جملہ اور خاموشی کہ :"قیامت کے روز بھی میرا بوجھ اٹھا لو گے ؟"سامان بڑھیا کے سامنے جا ڈھیر کیا - تشکر کے آنسو لفظ بن کے بڑھاپے کے منہ سے نکلے ، دامن پھیلا کے بول اٹھی کہ کاش تو عمر کی جگہ ہمارا خلیفہ ہوتا - مسافر کی آنکھیں چھلک اٹھیں بس یہی کہا اور چل دیئے کہ کل آپ خلیفہ کے پاس آنا ، مجھے ادھر ہی پائیں گی -بڑھیا نے اگلے روز تجسس کے مارے تلاش کی تو مسافر کو عمر بنا دیکھا ، دل نے کہا کہ ۔۔۔ یہ رہی تمھاری تلاش -

دور دیا ٹمٹما رہا تھا ، شاید کسی کی آس کا دیا کہ گاہے جلے ، بجھے اور پھر روشن ہو جائے - خیمے کے باہر مسافر اداس اور تنہا بیٹھا - تنہائی سی تنہائ - سوچیں کہ کیوں سفر کو نکلا - اندر خاتون درد زہ میں مبتلاء - بچے کی ولادت کا وقت --- نہ کوئی ساتھی خاتون نہ مدد گار - اجنبی بستی کے جوار میں بیٹھا بستی کی دور ہوتی روشنیوں کو تکا کیے لیکن بے کار - سوچیں کہ عمر کی بستی ہے لیکن اس کو کیا خبر ہمارے حال کی -اندھیرے میں ایک سایہ ابھرا ، قریب آیا - گو شفقت بھرا لہجہ تھا لیکن تنہائ نے مزاج کی شگفتگی بھی چھین لی  تھی- سوال کے جواب میں بھی الجھ بیٹھا کہ جاؤ بھائی اپنی راہ لو - ممکن ہے اجنبی کے ساتھ کوئی خاتون ہوتی تو وہ یوں نہ الجھتا ، لیکن ایک اکیلا خالی ہاتھ کا اجنبی مرد اس کی ایسے میں کیا مدد کر سکتا تھا ، سو الجھتا نہ تو کیا کرتا ؟اجنبی بھی مگر تکرار پہ مصر تھا - اسے بتاتے ہی بنی - اجنبی خاموشی سے واپس ہو لیا - اسے عجیب سا لگا ، کچھ تو کہا ہوتا -امید تو بندھ جاتی ، تسکین تو ہو جاتی

وعدہ نہ وفا کرتے ، وعدہ تو کیا ہوتا -مایوسی نے امید کے ساتھ مل کے عجیب رنگ کر دیا تھا

کچھ ہی دیر میں دو سائے اندھیرے کی دیوار سے پھوٹے - قریب آئے تو اجنبی کے ساتھ خاتون بھی تھی - ساتھ میں سامان ضرورت - آنے والی خاتون نے آتے ہی چولہا چڑھا دیا ، ہوا میں پکتے روغن کی ہلکی ہلکی خوش بو اور ویرانے میں ملنے والے ساتھ نے اس کو پرسکون کر دیا - اس کے دماغ میں کچھ دیر پہلے خیال آیا تھا کہ کاش بستی کے حکمران ہمارے خلیفہ کو خبر ہوتی کہ کوئی اجنبی اس اجنبی دیار میں ، حد نگاہ تک کے غبار میں ، اس کو یاد کر رہا ہے -اب مگر سب بھول گیا تھا ، بس ہلکا سا شکوہ کہ ان سے تو یہ اجنبی اچھا ، بس ہلکا سا خیال کہ جو نوک زبان تک نہ آیا ، دماغ میں آیا اور چلا گیا -کچھ ہی دیر میں اندر سے خاتون کی آواز آئی :"امیر المومنین ، ساتھی کو خوش خبری دیجئے کہ اللہ نے بیٹا دیا ہے "

امیر المومنین ؟امیر المومنین ؟بیٹا بھول گیا ، خوش خبری کی کچھ خبر نہ رہی ، گبھراہٹ نے آن لیا -اجنبی مگر شفقت بھری مسکان سے کہہ رہا تھا -" ساتھی ، گھبرا کیوں رہے ہو ، عمر کو تم نے نوکر اسی لیے تو رکھا ہوا ہے کہ تمھاری خبر گیری کرے "-دور اندر سے آواز آ رہی تھی -......یہ رہی تمھاری تلاش